مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ فِتْنَةِ الْقَبْرِ · حديث 6752
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَلَمَّا أُدْخِلَ قَبْرَهُ أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: إِنَّا جَالِدُوكَ مِائَةَ جَلْدَةٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَالَ: فَذَكَرَ صَلَاتَهُ وَصِيَامَهُ وَجِهَادَهُ قَالَ: فَخَفِّفُوا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَشَرَةٍ، ثُمَّ سَأَلَهُمُ حَتَّى خَفَّفُوا عَنْهُ حَتَّى أَتَى إِلَى وَاحِدَةٍ فَقَالُوا إِنَّا جَالِدَوكَ جَلْدَةً وَاحِدَةً لَا بُدَّ مِنْهَا فَجَلَدُوهُ جَلْدَةً اضْطَرَمَ قَبْرُهُ نَهَارًا، وَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: فِيمَ جَلَدُونِي هَذِهِ الْجَلْدَةَ؟ قَالُوا: «إِنَّكَ بُلْتَ يَوْمًا ثُمَّ صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ، وَسَمِعْتَ رَجُلًا يَسْتَغِيثُ مَظْلُومًا فَلَمْ تُغِثْهُ»
6752 - عمرو بن شرجیل بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا جب اُسے اُس کی قبر میں اُتارا گیا تو فرشتے آئے اُنہوں نے دریافت کیا: ہم تمہیں اللہ کے عذاب میں سے ایک سو کوڑے لگائیں گے تو وہ شخص اپنی نماز روزے اور جہاد کا ذکر کرے گا فرشتہ اُس میں تخفیف کرتے جائیں گے یہاں تک کہ ایک کو زرہ جائے گا پھر فرشتے یہ کہیں گے اب ہم تمہیں ایک کوڑا تو ضرور لگائیں گے اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں ہے ۔ تو وہ فرشتے جب اُسے ایک کوڑا لگائیں گے تو اُس کی قبر دن کے وقت تاریک ہو جائے گی اور اُس پر سختی طاری ہو جائے گی جب اُسے ہوش آئے گا تو وہ دریافت کرے گا: ان لوگوں نے یہ کوڑا مجھے کیوں لگایا تھا؟ وہ فرشتے جواب دیں گے: ایک دن تم نے پیشاب کرنے کے بعد نماز ادا کر لی تھی اور وضو نہیں کیا تھا اور تم نے ایک شخص کو ظلم کے خاف مدد مانگتے ہوئے سنا تھا اور تم نے اُس کی مدد نہیں کی تھی۔
عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door of the grave trial · Hadith 6752
