Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ فِتْنَةِ الْقَبْرِ · حديث 6752

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ فَلَمَّا أُدْخِلَ قَبْرَهُ أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: إِنَّا جَالِدُوكَ مِائَةَ جَلْدَةٍ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَالَ: فَذَكَرَ صَلَاتَهُ وَصِيَامَهُ وَجِهَادَهُ قَالَ: فَخَفِّفُوا عَنْهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى عَشَرَةٍ، ثُمَّ سَأَلَهُمُ حَتَّى خَفَّفُوا عَنْهُ حَتَّى أَتَى إِلَى وَاحِدَةٍ فَقَالُوا إِنَّا جَالِدَوكَ جَلْدَةً وَاحِدَةً لَا بُدَّ مِنْهَا فَجَلَدُوهُ جَلْدَةً اضْطَرَمَ قَبْرُهُ نَهَارًا، وَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: فِيمَ جَلَدُونِي هَذِهِ الْجَلْدَةَ؟ قَالُوا: «إِنَّكَ بُلْتَ يَوْمًا ثُمَّ صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ، وَسَمِعْتَ رَجُلًا يَسْتَغِيثُ مَظْلُومًا فَلَمْ تُغِثْهُ»

6752 - عمرو بن شرجیل بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا جب اُسے اُس کی قبر میں اُتارا گیا تو فرشتے آئے اُنہوں نے دریافت کیا: ہم تمہیں اللہ کے عذاب میں سے ایک سو کوڑے لگائیں گے تو وہ شخص اپنی نماز روزے اور جہاد کا ذکر کرے گا فرشتہ اُس میں تخفیف کرتے جائیں گے یہاں تک کہ ایک کو زرہ جائے گا پھر فرشتے یہ کہیں گے اب ہم تمہیں ایک کوڑا تو ضرور لگائیں گے اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں ہے ۔ تو وہ فرشتے جب اُسے ایک کوڑا لگائیں گے تو اُس کی قبر دن کے وقت تاریک ہو جائے گی اور اُس پر سختی طاری ہو جائے گی جب اُسے ہوش آئے گا تو وہ دریافت کرے گا: ان لوگوں نے یہ کوڑا مجھے کیوں لگایا تھا؟ وہ فرشتے جواب دیں گے: ایک دن تم نے پیشاب کرنے کے بعد نماز ادا کر لی تھی اور وضو نہیں کیا تھا اور تم نے ایک شخص کو ظلم کے خاف مدد مانگتے ہوئے سنا تھا اور تم نے اُس کی مدد نہیں کی تھی۔

عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door of the grave trial · Hadith 6752

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ اللُّقَطَةِ ‹ بَابُ النُّهْبَةِ وَمَنْ آوَى مُحْدِثًا · حديث 18848

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا , أَوْ آوَى مُحْدِثًا , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ , وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْمُحْدِثُ؟ قَالَ: «مَنْ جَلَدَ بِغَيْرِ حَدٍّ أَوْ قَتَلَ بِغَيْرِ حَقٍّ»

18848 - معمر نے قتادہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › The loot door and whoever harbored a narrator · Hadith 18848

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ آمِينَ · حديث 2644

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7]، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:98]

2644 - حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب امام غیر المغضرب ولاالضالین پڑھ لیتے تھے تو آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ہوگا اُس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مافی ہو جائے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Amen door · Hadith 2644

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ · حديث 2884

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَفِي سُجُودِهِ: سُبُّوحًا قُدُّوسًا رَبَّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "

2884 – سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رکوع اور سجدہ میں یہ پڑھا کرتے تھے : انتہائی پاکی والا ہے ہر طرح سے پاک ہے وہ فرشتوں اور روح کا پروردگار ہے ۔

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of saying in kneeling and prostration · Hadith 2884

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ · حديث 2898

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: هَلْ بَلَغَكَ مِنْ قَوْلٍ يُقَالَ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ؟ قَالَ [ص:161]: " إِذَا لَمْ أَعْجَلْ وَلَمْ يَكُنْ مَعِي شَيْءٌ يَشْغَلُنِي فَإِنِّي أَقُولُ قَوْلًا إِذَا بَلَغْتَهُ فَهُوَ ذَلِكَ، أَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "، قُلْتُ: فَهَلْ بَلَغَكَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ شَيْئًا مِنْهُنَّ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَمَا تَتَّبِعُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» فَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَجَسَسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ وَسَاجِدٌ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكِ لَفِي آخَرٍ قَالَ: " أَمَّا {سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا} [الإسراء: 108] فَأَتَّبِعُ بِهَا الَّتِي فِي سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَأَمَّا سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَأُعَظِّمُ بِهِمَا اللَّهَ، وَأَمَّا سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ " فَبَلَغَنِي، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: " يَنْزِلُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَطْرَ اللَّيْلِ الْآخِرِ فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ: مَنْ [ص:162] يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ وَيَقُولُ الْمَلِكَ: سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْفَجْرُ صَعِدَ الرَّبُّ، فَأَتَّبِعُ قَوْلَ الْمَلَكَ: سُبْحَانَ الْمَلِكَ الْقُدُّوسِ، وَأَمَّا سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ " فَبَلَغَنِي " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ كَانَ كُلَّمَا مَرَّ قِسْمًا سَلَّمَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّمَاءَ السَّادِسَةَ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا مَلَكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَبَدَرَهُ الْمَلَكَ فَبَدَأَهُ بِالسَّلَامِ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَدِدْتُ لَوْ أَنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ السَّابِعَةَ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَمَا صَلَاتُهُ؟ قَالَ: يَقُولُ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَأَتَّبِعُ ذَلِكَ قَالَ: قُلْتُ: أُقَدِّمُ بَعْضَ ذَلِكَ قَبْلَ بَعْضٍ قَالَ: إِنْ شِئْتَ "

2898 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا آپ تک رکوع میں پڑھے جانے والے کلمات تک کوئی روایت پہنچی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! میں نے کہا: پھر آپ کیا پڑھتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا: اگر مجھے جلدی نہ ہو اور میرے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ ہو جو مجھے مشغول کر دے تو پھر میں ایک مخصوص دعا پڑھتا ہوں میں یوں پڑھتا ہوں: تو پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ تین مرتبہ پڑھتا ہوں ۔ ہمارا پروردگار ایک ہے اور ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔ یہ تین مرتبہ پڑھتا ہوں۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ تک یہ روایت پہنچی ہے ؟ کہ نبی اکرمﷺ ان کلمات میں سے کچھ رکوع میں پڑھا کرتے تھے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں ! میں نے کہا: پھر اس بارے میں آپ کس کی پیروی کرتے ہیں: اُنہوں نے جواب دیا: جہاں تک سبحانک وبحمدک لا الہٰ الا انت کاتعلق ہے تو ابن ابو ملیکہ نے سیدہ عائشہ کا یہ بیان مجھے بتایا ہے : ایک رات میں نے آپ ﷺ کو غیر موجود پایا تو میں نے یہ گمان کیا کے آپ اپنی کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں ۔ میں نے آپ ﷺ کو تلاش کیا تو آپ ﷺ رکوع سجدہ کے عالم میں تھے اور یہ پڑھ رہے تھے سبحانک وبحمدک لا الہٰ الا انت سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اور میں کیا سوچ رہی ہوں۔ عطا ء فرماتے ہیں جہاں تک ان کلمات کا تعلق ہے تو میں اس بارے میں سورہ بنی اسرائیل میں مذکور الفاظ کی پیروی کرتا ہوں۔ جہاں تک کا تعلق ہے تو میں ان دو کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرتا ہوں یہاں تک کہ جب صبح صادق ہو جاتی ہے تو پروردگار اوپر چلا جاتا ہے تو میں فرشتے کے ان کلمات کی پیروی کرتا ہوں۔ مجھ تک روایت پہنچی ہے جب نبی اکرم ﷺ کو معراج کروائی گئی تو آپ ﷺ جس بھی آسمان سے گزرتے تھے تو وہاں کے فرشتے آپ کو سلام کرتے تھے ۔ جب نبی اکرمﷺ چھٹے آسمان پر پہنچے تو حضرت جبرائیل نے آپ سے گزارش کی : یہ فرشتہ ہے آپ اسے سلام کیجیے لیکن اس فرشتے نے لپک کر نبی اکرمﷺ کو پہلے سلام کر دیا: تو نبی اکرمﷺ نےفرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ اس کے سلام کرنے سے پہلے میں اسے سلام کرتا جب آپ ﷺ ساتویں آسمان پر تشریف لے گئے تو حضرت جبرائیل آپ کی خدمت میں گزار ش کی : بے شک اللہ تعالیٰ صلوٰۃ پڑھ رہا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا ہو بھی صلوٰۃ پڑھتا ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کی صلوٰۃ کیا ہوتی ہے ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا: وہ یہ فر ماتا ہے : تو میں ان کلمات کی پیروی کرتا ہوں۔ میں نے دریافت کیا: کیا میں ان کلمات کو آگے پیچھے کر کے پڑھ سکتا ہوں؟ عطا ء نے جواب دیا: اگر تم چاہو ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of saying in kneeling and prostration · Hadith 2898

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ · حديث 2901

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " كُنْتُ أَسْمَعُ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَثِيرًا يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ "

2901 - عطا ء فرماتے ہیں: میں اکثر اوقات ابن زبیر کو سجدہ میں یہ پڑھتے ہوئے سنتا تھا : پاک ہے پاکی والا ہے جو فرشتوں کا اور روح کا پروردگار ہے میرے پروردگار کی رحمت اُس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے ۔

فِي سُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، سَبَقَتْ رَحْمَةُ رَبِّي غَضَبَهُ ← كُنْتُ أَسْمَعُ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَثِيرًا ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of saying in kneeling and prostration · Hadith 2901

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّشَهُّدِ · حديث 3064

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ» قَالَ: فَعَلَّمَهُمُ التَّشَهُّدَ [ص:201] فَقَالَ: " قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "

3064 - حضرت عبداللہ بن مسعو د بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرمﷺ کی اقتدا ء میں نماز ادا کرتے تھے تم لوگ یہ کہتے تھے: اللہ تعالیٰ پر سلام ہو حضرت جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائیل پر سلام ہو مقرب فرشتوں پر سلام ہو تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ نہ کہو کہ اللہ تعالیٰ پر سلام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا ء کرنے والا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو تشہد کی تعلیم دی آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ کلمات پڑھو : ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں اے نبی ! آپ پر سلام ہو ! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں نازل ہوں ! ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو ! یہاں ایک راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم یہ کلمات پڑھ لوگے تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام پہنچ جائے گا ۔ جبکہ ایک راوی نے اپنی روایت نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم یہ کلمات پڑھ لو گے تو ہر مقرب فرشتے مرسل نبی اور نیک بندے تک سلام پہنچ جائے گا ۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of Shahada · Hadith 3064

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 3116

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةٌ سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونَ عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»

3116 - حضرت عبداللہ بن مسعو د بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور میری اُمت کے طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زَاذَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the Prayer to the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 3116

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّسْلِيمِ · حديث 3140

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: لَيْسَ عَنْ يَمِينِي أَحَدٌ، وَعَنْ يَسَارِي أُنَاسٌ قَالَ: «فَابْدَأْ فَسَلِّمْ مَنْ عَلَى يَمِينِكَ مِنْ أَجْلِ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ سَلِّمْ عَلَى الَّذِي يَسَارَكَ»

3140 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: میرے دائیں طرف کوئی نہیں ہوتا اور بائیں طرف لوگ ہوتے ہیں۔ تو اُنہوں نے فرمایا: تم آغاز میں پہلے دائیں طرف سلام بھیجو اور وہ فرشتوں کو سلام کر دو پھر تم اپنے بائیں طرف موجود لوگوں کو سلام بھیجو ۔

يَسَارِي أُنَاسٌ ← يَمِينِي أَحَدٌ، ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: لَيْسَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Section of surrender · Hadith 3140

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا · حديث 7907

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ زَيْتًا، ثُمَّ قَالَ: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ»

7907 - حضرت انس بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ کے ہاں زیتون کا تیل کھایا تو ارشاد فرمایا: تمہارے ہاں روزہ دار لوگوں نے افطاری کی ہے اور تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا ہے اور تم لوگوں پر فرشتے نازل ہوئے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › The door of one who breaks the fast · Hadith 7907

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْأَكْلِ عِنْدَ الصَّائِمِ · حديث 7909

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں: جب روزہ دار شخص کے پاس سے کچھ کھایا جائے تو فرشتے اُس روزہ دار کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔

«الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ» ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← رَجُلٌ: ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter: Eating at the fasting person · Hadith 7909

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْأَكْلِ عِنْدَ الصَّائِمِ · حديث 7910

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَلِيلٍ النَّخَعيِّ قَالَ: «إِذَا أُكِلَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتْ مَفَاصِلُهُ» قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «إِذَا أُكِلَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتِ الْمَلَائِكَةُ»

7910 – یزید نخعی فرماتے ہیں: جب روزہ دار شخص کے پاس سے کچھ کھایا جائے تو اُس روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح پڑھتی ہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں: جب روزہ دار شخص کے پاس سے کچھ کھایا جائے تو فرشتے تسبیح پڑھتے ہیں۔

«إِذَا أُكِلَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتِ الْمَلَائِكَةُ» ← مُجَاهِدٍ ← الثَّوْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ الْأَسَدِيُّ، ← «إِذَا أُكِلَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتْ مَفَاصِلُهُ» ← يَزِيدَ بْنِ حَلِيلٍ النَّخَعيِّ ← ذَرٍّ الْهَمْدَانِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter: Eating at the fasting person · Hadith 7910

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْأَكْلِ عِنْدَ الصَّائِمِ · حديث 7911

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا لَيْلَى، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلْتَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ»

7911 - حبیب بن ابو ثابت لیلیٰ نامی ایک خاتون کے حوالے سے سیدہ اُم عمارہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا حاضرین میں سے کچھ صاحبان نے روزہ رکھا ہوا تھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب روزہ دار کی موجود گی میں کھانا کھایا جاتا ہے تو فرشتے اُس روزہ دار کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں ۔

النَّبِيُّ «إِذَا أَكَلْتَ عِنْدَ الصَّائِمِ سَبَّحَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ» ← أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا ← أُمِّ عُمَارَةَ، ← امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا لَيْلَى ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter: Eating at the fasting person · Hadith 7911

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ صِيَامِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ · حديث 7914

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ إِلَّا الْمُشَاحِنَيْنِ تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا "

حضر ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ہر پیر اور جمعرات کے دن آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایسے بندہ کی مغفرت کر دیتا ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے دو ناراض افراد کے فرشتے کہتے ہیں: ان دونوں کو رہنے دو جب تک یہ دونوں صلح نہیں کرتے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › Chapter of the Monday fasting · Hadith 7914

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ الْمَرْأَةِ تُصَلِّي وَلَيْسَ فِي رَقَبَتِهَا قِلَادَةٌ وَتَطَيُّبِ الرِّجَالِ · حديث 7936

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ: قَدِمَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَضَمَّخَهُ أَهْلُهُ بِالصُّفْرَةِ قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَبِي أَثَرُ الصُّفْرَةِ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ» قَالَ: فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَبِي أَثَرُهُ حَتَّى فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَهَبْتُ الثَّالِثَةَ، فَأَخَذْتُ نَشَفًا فَدَلَّكْتُ بِهَا جِلْدِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي قَدْ أَنْقَيْتُ جِلْدِي، ثُمَّ أَتَيْتُ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ اجْلِسْ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جِنَازَةَ كَافِرٍ بَخَيْرٍ، وَلَا جُنُبًا حَتَّى يَغْتَسِلَ، أَوْ يَتَوَضَّأَ، وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، وَلَا مُضُمَّخًا [ص:321] بِصُفْرَةٍ»

7936 – یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں: حضرت عمار بن یاسر آئے اُن کی اہلیہ نے اُنہیں زرد رنگ لگا دیا وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ! تم جاؤ اور دھو لو ۔ وہ کہتے ہیں:میں گیا میں نے دھو لیا جب میں واپس آیا تو مجھ پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا میں نے عرض کی : السلام علیک ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وعلیک السلام! تم جاؤ اور دھو لو ! وہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے دھو لیا پھر میں واپس آیا تو پھر بھی میرے پاس اُس کے نشان موجود تھے یہاں تک کہ میں نے چند مرتبہ ایسا کیا پھر جب میں تیسری مرتبہ آیا تو میں نے نوک دار سیاہ پتھر لیا اور اُس کے ذریعہ اپنی جلد کو مل کر صاف کیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ میں نے اپنی جلد کو صاف کر لیا ہے پھر میں آیا تو میں نے عرض کی: السلام علیکم ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وعلیک السلام ! تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: فرشتے کسی کافر کے جنازہ کے ساتھ کسی جنبی کے پاس جب تک وہ غسل نہیں کرتا یا وضو نہیں کرتا اور زرد رنگ کی خوشبو لگانے والے کے پاس کوئی بھلائی لے کر نہیں آتے ہیں۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › The door of a woman who prays, and there is no charm or kindness on her neck · Hadith 7936

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ جُلُوسِ الرَّجُلِ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ · حديث 3204

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الَّذِي ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ وَرَاءَ الْمَكْتُوبَةِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: قُلْتُ: أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَقُومَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ تَسْبِيحِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ: لَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى الْمَرْءِ مَا لَمْ يَقُمْ مَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ " قَالَ: «وَإِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي دُبُرِ الْمَكْتُوبَةِ»، قُلْتُ: أَتَسْتَحِبُّ أَنْ لَا تَتَكَلَّمَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَاللَّهِ، وَلَكِنْ مَا يَدَعُونَنَا»

3204 – ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: آپ نے فرض نماز کے بعد سبحان اللہ اللہ اکبر اور الحمد اللہ پڑھنے کے بارے میں جو تعداد ذکر کی ہے اسی پر اکتفا کرنا آپ کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے یا ہم اس سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا آپ کے نزدیک یہ چیز زیادہ پسندیدیہ ہے جب تک آپ نماز پڑھنے کے بعد تسبیح نہیں پڑھ لیتے اُس وقت تک نہ اُٹھیں ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیوں ؟ اُنہوں نے فرمایا: کیونکہ لوگ یہ کہتے ہیں: فرشتے اُس آدمی کے لیے مسلسل دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ آدمی اپنی جگہ سے کھڑا نہیں ہوجاتا جہاں اُس نے نماز ادا کی ہے اور جب تک وہ بے وضو نہیں ہو جاتا ۔ عطاء بیان کرتے ہیں: مجھے یہبات پسند ہے یہ ہر نماز کے بعد ہونا چاہیے ۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں ان کلمات کو پڑھنے سے پہلے آپ کسی کے ساتھ کلام نہ کریں؟ اُنہوںں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! لیکن لوگ ہمیں چھوڑتے نہیں ہیں۔

قُلْتُ: أَحَبُّ إِلَيْكَ ← نَعَمْ ← التَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ وَرَاءَ الْمَكْتُوبَةِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الَّذِي ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door for a man to sit in his sitting after prayer · Hadith 3204

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْوَلَاءِ ‹ بَابُ تَوَلِّي غَيْرِ مَوَالِيهِ · حديث 16305

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا»

16305 - سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کے ساتھ نسبت ولاء قائم کرے گااس پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Allegiance › The door of guarding others of his loyalists · Hadith 16305

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْوَلَاءِ ‹ بَابُ تَوَلِّي غَيْرِ مَوَالِيهِ · حديث 16306

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ جِرَانِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ عَلَى كَتِفَيْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ بِمِنًى يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

16306 - حضرت عمرو بن خارجہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی اونٹنی کے منہ کے نیچے موجود تھا اُس کا لعاب نیچے گر رہا تھا اور اس کا لعاب میرے کندھےپر آ رہا تھا میں نے نبی اکرمﷺ کو منیٰ میں خطبہ میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے لئے وصیت نہیں ہو گی بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ۔

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Allegiance › The door of guarding others of his loyalists · Hadith 16306

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْوَلَاءِ ‹ بَابُ تَوَلِّي غَيْرِ مَوَالِيهِ · حديث 16309

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنُّهُ قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى مَوْلَى قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِمْ فَعَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا» قَالَ وَيَقُولُ: " الصَّرْفُ وَالْعَدْلُ: التَّطَوُّعُ وَالْفَرِيضَةُ "

ابراہیم تیمی نے اپنے والد کے حوالےسے حضرت علی کا یہ قول نقل کیا ہے : جو شخص اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کی اور لوگوں کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: صرف اور عدل سے مراد نفل اور فرض عبادت ہے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Allegiance › The door of guarding others of his loyalists · Hadith 16309

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ أَيَّامِ الْعَشْرِ وَالتِّعْرِيفِ فِي الْأَمْصَارِ · حديث 8125

عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُهُ أَنَا، وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " قَالَ مَالِكٌ: وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَوْمٌ إِبْلِيسُ فِيهِ أَدْحَرُ، وَلَا ادْحَقُ، وَلَا هُوَ أَغْيَظُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، مِمَّا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ، وَتَجَاوُزِ اللَّهِ تَعَالَى عَنِ الْأُمُورِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ»، قِيلَ: وَمَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ»

8125 - حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : سب سے زیادہ فضیلت والی دعا عرفہ کے د ن کی دعا ہے اور سب سے افضل کلمہ جو میں نے پڑھا اور مجھ سے پہلے انبیا نے پڑھا وہ لا الہٰ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ پڑھنا ہے ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: کوئی بھی دن ایسا نہیں ہے جس میں شیطاب عرفہ کے دن میں زیادہ پرا گندہ حال پریشان ہوتا ہے کیونکہ وہ اُس دن رحمت نازل ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور اللہ کے بڑے بڑے امور درگزر کرنے کو دیکھتا ہے البتہ اُس چیز کا معاملہ مختلف ہے جو اُس نے غزوہ بدر کے دن دیکھی تھی۔

طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، ← زياد بن أبي زياد ← مَالِكٍ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the virtue of the ten days and the definition in the places · Hadith 8125

chevron_left Previous
1…373839…694
Next chevron_right