Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ · حديث 2001

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً، وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ». يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: " وَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] ". قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ قَتَادَةُ: «يَشْهَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ»

حضرت ابو ہریرہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: با جماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے سے پچس گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے رات اور د ن کے فراشتے صبح کی نماز میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ چاہو تو یہ آیت تلاوت کرو: اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت سے حاضری ہوتی ہے ۔قتادہ بیا کرتے ہیں: یعنی رات اور دن کے فرشتے ساتھ ہوتے ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the virtue of prayer in a congregation · Hadith 2001

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ · حديث 2004

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْبَصِيرِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهَدَ فُلَانٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ [ص:524]، قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَالْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا، أَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ ابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاتُكَ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَصَلَاتُكَ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا أَكْثَرُ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ»

حضرت اُبی بن کعب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا : کیا فلاح موجود ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ! وہ موجود نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : منافقین کے لیے سب سے زیادہ بوجھل نماز عشا ء ا ر فجر کی نماز ہیں اگر تمہیں یہ پتا چل جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر وثواب ہو گا تو وہ ان دونوں میں ضرور شریک ہوں خواہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں اور پہلی صف کی مثال فرشتوں کی صف کی مانند ہے اگر تمہیں یہ پتا چل جائے کہ اس کی کتنی فضیلت ہے تو تم تیزی سے اس کی طرف جاؤ با جماعت نماز ادا کرنا تنہا نماز ادا کرنے سے پچس گناہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور تمہارا دو آدمیوں کے ساتھ نماز ادا کرنا تمہارے ایک آدمی کے نماز ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے تو یہ چیز الہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی ہی محبوب ہو گی ۔

نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ [ص:524]، قَالَهَا ثَلَاثًا، ← اَشَاھِدٌ فُلَانٌ؟ ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ الْفَجْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْبَصِيرِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the virtue of prayer in a congregation · Hadith 2004

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ · حديث 6266

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَمْشِي خَلْفَهَا» قَالَ: وَحُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُنْهَى مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ أَنْ يَسْلُكَ عَنْ طَرِيقِهَا

6266 - حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: فرشے جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔راوی بیا ن کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے یہ بات مجھے بتائی گئی ہے کہ جو شخص جنازہ میں شریک ہوتا ہے اُسے اس بات سے منع کیا جاتا ہے کہ وہ جنازہ کے راستہ سے ہٹ کر چلے۔

طَرِيقِهَا ← ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُنْهَى مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ أَنْ يَسْلُكَ ← وَحُدِّثْتُ ← «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَمْشِي خَلْفَهَا» ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← رَجُلٌ: ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door to the walk in front of the funeral · Hadith 6266

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ وَقْتِ الصُّبْحِ · حديث 2179

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ} [الإسراء: 78] قَالَ: «هُوَ الصُّبْحُ» قُلْتُ: {كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] قَالَ: «يَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَالْخَيْرُ»

ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا :فجر کی تلاوت اس سے کیا مراد ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : اس میں فرشتے شریک ہوتے ہیں اور بھلائی موجود ہوتی ہے ۔

«يَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَالْخَيْرُ» ← «هُوَ الصُّبْحُ» قُلْتُ: {كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ} [الإسراء: ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the morning time · Hadith 2179

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ · حديث 2210

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا زَالَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَلَا يَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ "

حضرت ابو ہریرہ یان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کا انتطار کرتا رہتا ہے وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا رہتا ہے فرشتے اُس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے ! اے اللہ! تو اس پر رحم کر ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the one who waits for prayer · Hadith 2210

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنِ انْتَظَرَ الصَّلَاةَ · حديث 2211

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ، مَا دَامَ يَنْتَظِرُهَا، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ، مَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ: وَمَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: «فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ»

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: آدمی اُس وقت تک نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ نماز کا نتطار کرتا ہے اور جب تک آدمی مسجد میں موجود رہتا ہے فرشتے اُس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے ! اے اللہ! تو اس پر رحم کر ! ایسا اُس وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ شخص بے وضو نہیں ہوتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضر موت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے دریافت کیا : اے حضرت ابو ہریرہ! حدیث سے مراد کیاہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ہوا خارج ہونا ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the one who waits for prayer · Hadith 2211

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصُّفُوفِ · حديث 2431

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ صُدُورَنَا فِي الصَّلَاةِ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا، فِيقُولُ: " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ - أَوْ قَالَ: الصُّفُوفِ -. وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ لَبَنٍ، أَوْ أَهْدَى زُقَاقًا فَهُوَ عَدْلُ رَقَبَةٍ "

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نماز میں یہاں سے لے کر وہاں تک ہمارے سینوں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : صفیں درست رکھو اس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آجائے گا بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس فرشتے پہلی صفوں پر پہلی صفوں والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو شخص چاندی یا دودھ عطیہ کے طور پر دیتا ہے یا کسی کو راستہ بتاتا ہے تو یہ غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔

كَانَ النَّبِيُّ يَمْسَحُ صُدُورَنَا فِي الصَّلَاةِ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا، ← الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← مَنْصُورٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The classroom section · Hadith 2431

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصُّفُوفِ · حديث 2432

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَصُفُّونَ خَلْفِي كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عَنْدَ رَبِّهِمْ؟» قَالُوا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عَنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْمُقَدَّمَةِ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»

حضرتے جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے پیچھے اُس طرح صفیں قائم کیوں نہی کرتے ؟ جس طرح فرشتے اپنے پروردگا ر کی بارگاہ میں بناتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی : فرشتے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں صفیں کیسے بناتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ آگے والی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف کو سیدھا رکھتے ہیں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ← مُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The classroom section · Hadith 2432

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصُّفُوفِ · حديث 2434

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «لِتَرَاصَّوْا فِي الصَّفِّ، أَوْ يَتَخَلَّلُكُمْ أَوْلَادُ الْحَذَفِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصُّفُوفَ»

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں: یا تو تم اپنی صفیں ٹھیک رکھو شیطان تمہارے درمیان نہ آجائےبےشک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اُن لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو صفیں درست رکھتے ہیں۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The classroom section · Hadith 2434

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 2449

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ»

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے پہلی صفوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← مَنْصُورٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the merit of the first row · Hadith 2449

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 2450

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَا: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ»

ابو صالح اور علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے عشا ء کی نماز ادا کی پھر آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے پہلی صفوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔

إنَّ اللَّهَ وَمَلاَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ. ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ ← أَبِي صَالِحٍ، وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the merit of the first row · Hadith 2450

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 2451

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ يَقُولُ: «أَحَقُّ الصُّفُوفِ بِالْإِتْمَامِ أَوَّلُهَا، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ»

یحییٰ بن جعدہ بیان کرتے ہیں: مکمل کیے جانے کی زیادہ حقدار پہلی صف ہوتی ہے بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے پہلی صفوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔

«أَحَقُّ الصُّفُوفِ بِالْإِتْمَامِ أَوَّلُهَا، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ» ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the merit of the first row · Hadith 2451

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ · حديث 2454

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، أَوْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَتَقَدَّمُونَ الصُّفُوفَ بِصَلَاتِهِمْ»، يَعْنِي الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ

2454 - حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اُن لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو نمازوں میں آگے کی صفوں پر ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد پہلے والی صف ہے ۔

«إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَتَقَدَّمُونَ الصُّفُوفَ بِصَلَاتِهِمْ»، يَعْنِي الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ← رَجُلٌ: ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، أَوْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the merit of the first row · Hadith 2454

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ كَيْفَ يَقُولُ الْإِمَامُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُكَبِّرَ؟ · حديث 2466

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ: «كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِذَا قَلَّ النَّاسُ جَعَلَهُمْ مِنْ وَرَاءِ الْمَقَامِ»، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنْسَانٌ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ مِنْ وَرَاءِ الْمَقَامِ مَنْ لَوْ جَعَلَهُمْ حَوْلَ الْبَيْتِ لَطَافُوا بِهِ صَفًّا، وَلَكِنْ فِيهِ فَرَجٌ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: " أَمَّا هُوَ: {وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ} [الزمر: 75]، كَأَنَّهُ يَقُولُ: حُفُوفُهُمْ صُفُوفُهُمْ حَوْلَ الْبَيْتِ أَحَبُّ إِلَيَّ "

عطا ء بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر کا یہ معمول تھا جب لوگوں کی تعداد کم ہوتی تھی تو وہ اُنہیں مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑا کر دیتے تھے اس حوالے سے اُن پر اعتراض کیا گیا ۔ ایک شخص نے عطا ء سے کہا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر مقام ابراہیم کے پرے وہ لوگ ہوں کہ اگر آپ اُنہیں بیت اللہ کے اردگرد کر دیں تو وہ صف بنا کر بیت اللہ کا طواف کر لیں لیکن اس میں کشادگی ہوگی تو آپ کے نزدیک کونسی صورت حال زیادہ پسندیدہ ہے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا: جہاں تک اس کا تعلق پے اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے ارد گرد ننگے پاؤں ہوتے ہیں۔ گویا کہ وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اُن کے بیت اللہ کے گرد ننگے پاؤں صفیں بنا لینا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Bab How does the imam say if he wants to say takbeer? · Hadith 2466

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ فَضْلِ مَنْ وَصَلَ الصَّفَّ، وَالتَّوَسُّعُ لِمَنْ دَخَلَ الصَّفَّ · حديث 2470

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِي يُصَلِّي فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ»

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے اُن لوگوں پر رحمت نازل کرتے ہیں جو پہلی صف کو ملا کر رکھتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the merit of the one who joined the row, and the expansion of the one who entered the row · Hadith 2470

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى وَلَدِ الزِّنَا وَالْمَرْجُومِ · حديث 6630

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ بِالْمَدِينَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ إِلَى بَنِي الْحَارِثِ فَرَأَى جِنَازَةً عَلَى خَشَبَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقِيلَ: عَبْدٌ لَنَا فَكَانَ عَبْدَ سُوءٍ مَسْخُوطًا جَافِيًا قَالَ: «أَكَانَ يُصَلِّي هَذَا؟» فَقَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «أَكَانَ يَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ارْجِعُوا فَأَحْسِنُوا غُسْلَهُ وَكَفَنَهُ وَدَفْنَهُ»

6630 – ابو بکر بن عبداللہ بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے مدینہ منورہ میں لوگوں کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا : کہ نبی اکرمﷺ سوار ہو کر بنو حارث کی طرف گئے آپ نے لکڑیوں پر ایک جنازہ دیکھا تو دریافت کیا: یہ کس کا ہے ؟ بتایا گیا کہ یہ ہمارے ایک غلام کا ہے یہ ایک برا غلام تھا جس کی پیٹائی ہوتی تھی اور جو جفا کرنے والا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ نماز ادا کرتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ اعتراف کرنا تھا کہ حضرت محمد اللہ کے سول ہیں؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تو فرشتے میرے اور اس کے درمیان حائل ہیں تم لوگ واپس جاؤ اور اسے اچھی طریقہ سے غسل دے کر کفن دے کر دفن کرو۔

بالمدينة ← أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of Prayer for the Child of Adultery and the Coroner · Hadith 6630

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى وَلَدِ الزِّنَا وَالْمَرْجُومِ · حديث 6631

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زُهَيْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِالْبَقِيعِ عَبْدًا أَسْوَدَ يَحْمِلُ مَيِّتًا فَقَالَ: «لِمَنْ يَحْمِلُهُ؟ مَا هَذَا؟» قَالُوا: عَبْدٌ لِفُلَانٍ قَالَ: «فَمَا هُوَ» قَالُوا: أَخْبَثُ النَّاسِ وَأَسْرَقُهُ وَآبَقُهُ وَأَحْزَبُهُ فِي أَشْيَاءَ مِنَ الشَّرِّ يَذْكُرُونَهَا مِنْهُ، فَقَالَ: «عَلَيَّ بِسَيِّدِهِ» فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَذَكَرَ نَحْوًا مِمَّا ذُكِرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ يُصَلِّي؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ آنِفًا» فَدَعَا حَدَّادًا فَنَزَعَ حَدِيدَةً، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَغُسِّلَ ثُمَّ كَفَّنَهُ مِنْ عِنْدَهِ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ

محمد بن زبیر بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے بقیع ایک سیاہ فام شخص کو دیکھا جس کی میت اُٹھا کر لائی جا رہی تھی نبی اکرمﷺ نے کندھا دینے والے لوگوں سے دریافت کیا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: فلاں شخص کا غلام ہے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اسے کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ سب سے زیادہ برا شخص ہے سب سے زیادہ چور تھا سب سے زیادہ بھگوڑا تھا اور ا س میں اور بھی بہت خرابیاں پائی جاتی تھیں لوگوں نے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کے آقا کو میرے پاس لے آؤ! نبی اکرمﷺ نے اُس سے غلام کے بارے میں دریاف کیا تو اُس نے بھی وہی چیز یں ذکر کیں جو پہلے ذکر ہو چکی تھیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ نماز ادا کرتا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اُس ذات کی قسم ہے جس کے دست قدرر میں میری جان ہے ! ابھی فرشتے میرے اور اس کے درمیان موجود ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے لوہار کو بلایا لوہا الگ کر وایا پھر آپ نے اُس غلام کے بارے میں حکم دیا تو اُسے غسل دیا گیا اور نبی اکرمﷺ کی طرف سے کفن دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ نے اُص کی نماز جنازہ ادا کی ۔

مُحَمَّدِ بْنِ زُهَيْرٍ، ← عَنْبَسَةَ بْنِ سُهَيْلٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of Prayer for the Child of Adultery and the Coroner · Hadith 6631

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّبْرِ وَالْبُكَاءِ وَالنِّيَاحَةِ · حديث 6693

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ مُجَدَّعًا، قَدْ مُثِّلَ بِهِ قَالَ: فَأَكْبَبْتُ أَبْكِي عَلَيْهِ وَالْقَوْمُ يُعَزُّونَنِي، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَانِي وَلَا يَنْهَانِي، حَتَّى رُفِعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ حَوْلَهُ حَتَّى رُفِعَ» قَالَ: فَكَانَ عَلَى أَبِي دَيْنٌ، وَكَانَ الْغُرَمَاءُ يَأْتُونَ النَّخْلَ فَيَنْظُرُونَهُ فَيَسْتَقِلُّونَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَجِدَّ فَآذِنِّي» قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَذَهَبَ مَعِي، حَتَّى قَامَ فِيهِ فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ: فَقَضَيْتُ مَا كَانَ عَلَى أَبِي، وَفَضَلَ لَنَا طَعَامٌ كَثِيرٌ

6693 – محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ کو بیان کرتے ہوئے سنا :میرے والد غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے اُنہیں نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا اور نبی اکرمﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا اُن کا ناک کاٹا گیا تھا اور اُن کے جسم کا مثلہ کیا گیا تھا۔ حضرت جابر کہتے ہیں: میں روتے ہوئے اُن پر جھکنے لگا تو لوگوں نے مجھے منع کیا نبی اکرمﷺ دیکھتے رہے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں کیا یہاں تک کہ میرے والد کی میت کو اُٹھا لیا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اس کی میت کو اُٹھایا نہیں گیا فرشتے مسلسل اس کے ارد گرد رہے۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں: میرے والد کے ذمہ کچھ قرض تھا اور اُن کے قرض خواہ آنے لگے اور ےقاضا کرلے لگے اُن کے نزدیک کھجور وں کی پیداوار کم تھی تو نبی اکرمﷺ نے حضرت جابر سے فرمایا: جب تم کھجوریں اُتار نے لگے تو مجھے اطلاع دے دینا۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ میرے ساتھ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ وہاں کھڑے ہوئے آپ نے برکت کی دعا کی تو میں نے اپنے والد کے ذمہ تمام قرض ادا کر دئیے اور پھر بھی ہمارے پاس بہت سا اناج بچ گیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Door of patience, weeping and mourning · Hadith 6693

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّبْرِ وَالْبُكَاءِ وَالنِّيَاحَةِ · حديث 6702

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ص:565] ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ بِهَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ بِرَيْحَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ وَبِرِيطَةٍ، وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ سُبْحَانَ اللَّهِ قَدْ جَاءَ الْيَوْمُ مِنَ الْأَرْضِ رِيحٌ طَيِّبَةٌ وَنَسَمَةٌ طَيْبَةٌ، فَلَا يَمُرُّ بِبَابٍ إِلَّا فُتِحَ لَهُ، وَلَا بِمَلَكٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ، وَشَيَّعَهُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنَ فَيَسْجُدُ لَهُ قَبْلَ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ بَعْدَهُ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الشُّهَدَاءِ فَيَجِدُهُمْ فِي رِيَاضٍ خَضِرٍ وَثِيَابٍ مِنْ حَرِيرٍ عِنْدَ ثَوْرٍ وَحُوتٍ يُلْغَثَانِ كُلَّ يَوْمٍ لَغْثَةً لَمْ يُلْغَثَا بِالْأَمْسِ مِثْلَهَا فَيَظَلُّ الْحُوتُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَإِذَا أَمْسَى وَكَزَهُ الثَّوْرُ بِقَرْنِهِ فَذَكَّاهُ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي لَحْمِهِ طَعِمُ كُلِّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ وَيَلْبَثُ الثَّوْرُ [ص:566] نَافِشًا فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَصْبَحَ غَدًا عَلَيْهِ، ثُمَّ الْحُوتُ فَوَكَزَهُ بِذَنَبِهِ فَذَكَّاهُ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي لَحْمِهِ طَعْمَ كُلِّ ثَمَرَةٍ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُونَ إِلَى مَنَازِلِهِمْ بُكْرَةً وَعَشِيًّا يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَإِذَا تُوُفِّي الْمُؤْمِنُ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ بِرَيْحَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ وَخِرْقَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ تُقْبَضُ فِيهَا نَفْسُهُ، وَيُقَالُ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبُّكِ عَلَيْكِ غَيْرُ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رَائِحَةٍ وَجَدَهَا أَحَدُ قَطُّ بِأَنْفِهِ، وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ سُبْحَانَ اللَّهِ قَدْ جَاءَ الْيَوْمُ مِنَ الْأَرْضِ رِيحٌ طَيْبَةٌ وَنَسَمَةُ كَرِيمَةٌ فَلَا تَمُرُّ بِبَابٍ إِلَّا فُتِحَ لَهَا وَلَا بِمَلَكٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهَا وَشَيَّعَهُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنَ فَتَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَهُ وَيَسْجُدُ بَعْدَهُمْ، ثُمَّ يُدْعَى مِيكَائِيلُ فَيُقَالُ: اذْهَبْ بِهَذِهِ النَّفْسِ فَاجْعَلْهَا مَعَ أَنْفُسِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى أَسْأَلَكَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى قَبْرِهِ، فَيُوَسَّعُ عَلَيْهِ سَبْعِينَ طُولُهُ وَسَبْعِينَ عَرْضُهُ، وَيُنْبَذُ لَهُ فِيهِ فِيهِ رَيْحَانٌ، وَيُسْتَرُ بِحَرِيرٍ، فَإِنْ كَانَ مَعَهُ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كُسِيَ نُورُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْءٌ جُعِلَ لَهُ نُورٌ مِثْلَ الشَّمْسِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْعَرُوسِ لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا تُوُفِّيَ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ بِخِرْقَةٍ مِنْ بِجَادٍ أَنْتَنُ مِنْ كُلِّ نَتْنٍ وَأَخْشَنُ مِنْ كُلِّ خَشِنٍ، فَيُقَالُ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ وَلَبِئْسَ مَا قَدَّمْتِ لِنَفْسِكِ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رَائِحَةٍ وَجَدَهَا أَحَدٌ قَطُّ بِأَنْفِهِ [ص:567]، ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فِي قَبْرِهِ فَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ثُمَّ يُرْسَلُ عَلَيْهِ حَيَّاتٌ كَأَنَّهَا أَعْنَاقُ الْبُخْتِ يَأْكُلُ لَحْمَهُ، وَيُقَيَّضُ لَهُ مَلَائِكَةٌ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ لَا يَسْمَعُونَ لَهُ صَوْتًا وَلَا يَرَوْنَهُ فَيَرْحَمُوهُ، وَلَا يَمُلُّونَ إِذَا ضَرَبُوا، يَدْعُونَ اللَّهَ بِأَنْ يُدِيمَ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى النَّارِ "

6702 - حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتےہی اُس کے تما گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اُس کی طرف جنت کے پھول اور چادر کے ہمراہ دو فرشتوں کو بھیجتا ہے اور پھر فرشتے آسمان پر یہ کہہ رہے ہوتے ہیں :سبحان اللہ!آج زمین کی طر ف سے کتنی پاکیزہ خوشبو اور کتنی پاکیزہ جان آرہی ہے اور شہید کی روح آسما ن کے جس بھی دروازہ سے گزرتی ہے تو وہ دروازہ اُس کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور جس بھی فرشتہ کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ فرشتہ اُس کے لیے دعائے رحمت کرتا ہے اور کچھ فرشتے اُس کے ساتھ بھی دیتے ہیں یہا ں تک کہ اُسے رحمٰن کی بارگاہ میں پیش کر دیا جاتا ہے تو وہ شہید فرشتوں سے پہلے پروردگار کی بار گاہ میں سجدہ کرتا ہے اور فرشتے اُس کے بعد سجدہ کرتے ہیں پھر اُسے شہدا ء کی طرف لے جائے جانے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اُن شہداء کو سر سبز باغات اور ریشمی کپڑوں میں پاتا ہے وہاں بیل اور مچھلیاں ہوتی ہیں وہ مچھلی جنت کی نہر میں ہوتی ہیں جب شام ہوتی ہے تو وہ بیل اپنے سینگ کے ذریعہ اُس کا شکار کرتا ہے پھر وہ شہدا ء اُس شہید کے لیے اُس بیل کو ذبح کرتے ہیں وہ لوگ اُس کا گوشت کھاتے ہیں پھر وہ لوگ اُس کے گوشت میں جنت کی ہر نہر کو خوشبو کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں اور وہ بیل گھوم پھر رہا ہوتا ہے جب اگلا دن آتا ہے تو وہ لوگ اُسکا گوشت کھاتے ہیں وہ اُس کے گوشت میں جنت کے ہر پھل کا مزہ محسوس ہوتا ہے پھر وہ صبح و شام اپنی رہائشی جگہوں کا جائزہ لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کی قیامت قائم ہو جائے اور جب مؤمن انتقال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت کے پھول اور جنت کے کپڑے کے ہمراہ دو فرشتوں کو اُس کی طرف بھیجتا ہے وہ اس میں اس کی جان کو لپیٹ لیتے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے : اے پاکیزہ جان ! تم راحت اور آرام کی طرف روانہ ہو جاؤ تمہارا پرورگار تم پر غضب نازل نہیں ہو گا اور تم ایسی حالت میں نکلو کہ تمہاری خوشبو سے عمدہ ہو جسے کوئی بھی شخص اپنی ناک کے ذریعہ محسوس کر سکتا ہے اور آسمانوں پر فرشتے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں :اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ! آج زندگی کی طرف سے پاکیزہ جان ذٓآرہی ہو ! وہ روح جس بھی دروازہ کے پاس سے گزرتی ہے اُس کے لیے وہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور جس بھی فرشتے کے پاس سے گزرتی ہے وہ فرشتہ اُس کے لیے دعائے رحمت کرتا ہے کچھ فرشتے اُس کے ساتھ چلتے ہیں یہاں تک کہا ُسے رحمٰن کی بارگاہ میں لایا جاتا ہے تو فرشتے اُس سے پہلے سجدہ کر لیتے ہی اور وہ روح اُن کے بعد سجدہ کرتی ہے پھر حضرت میکائیل کو بلایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے : اس جان کو لے جاؤ اور اسے مؤمنین کی جانوں کے ساتھ رکھ دو یہاں تک کہ قیامت کے دن میں تم سے ان کے بارے میں دریافت کروں گا پھر اُس کی قبر کے بارے میں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اُس کے لیے وہ ستر گز لمبی اور ستر گز چوڑی ہو جاتی ہے اور اُس جان کے لیے اُس قبر میں خوشبو رکھ دی جاتی ہے اور ریشم کا بستر بچھایا جاتا ہے اگر اُس شخص کو قرآن آتا ہو تو اُس کا نور اُسے پہنا دیا جاتا ہے اور اگر اُس کے ساتھ کچھ بھی نہ ہو تو اُس کے ساتھ ایسا نور رکھا جاتا ہے جو سورج جیسا ہوتا ہے اور اُس کی مثال دلہن کی طرح ہوتی ہے جسےصرف وہی شخص بیدار کرتا ہے جو اُس کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ جب کافر انتقال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کھردرے کپڑے کے ہمراہ دو فرشتے اُ س کی طرف بھیجتا ہے جو سب سے زیادہ بدبو دار اور سب سے زیادہ بدبو دار کھردرے ہوتے ہیں پھر یہ کہا جاتا ہے :اے خبیث روح ! تم بالکل نکل آؤ! تم نے اپنے لیے جو کچھ آگے بھیجا ہے وہ بہت برا ہے ۔ تو وہ یوں نکلتی ہے جیسے بدتیرین بدبو دار کوئی چیز ہوتی ہے جسے کوئی شخص اپنے ناک کے ذریعہ محسوس کر سکتا ہے پھر اُس کی قبر کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے تو وہ اُس پر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اُس کی پسلیاں ایک دوسرے میں جڑ جاتی ہیں پھر اُس پر سانپ مسلط کر دیئے جاتے ہیں جو بختی اونٹوں کی گردنوں جتنے موٹے ہوتے ہیں وہ اُس کا گوشت کھاتے ہیں پھر ایسے فرشتے اُس کی پیٹائی کرتے ہیں جو گو نگے بہرے اور اندھے ہوتے ہیں وہ اُس کی کوئی آواز نہیں سنتے وہ اُسے دیکھتے نہیں ہیں کہ اُنہیں اُس پر رحم آجائے اور وہ اُس کی پیٹائی کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ یہی کام کرتے رہیں یہاں تک کہ اُسے جہنم کی طرف لے جایا جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ص:565] ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Door of patience, weeping and mourning · Hadith 6702

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ فِتْنَةِ الْقَبْرِ · حديث 6737

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةٍ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَهُوَ يَلْحَدُ لَهُ، فَقَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَأَنَّ وُجُوهَهَا الشَّمْسُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ [ص:581]، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ قَالُوا: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُوهُ فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا نُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يَأْتِيَهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ طَيِّبُ الرِّيحِ حَسَنُ الثِّيَابِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَنُعَيْمٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: أَنْتَ بَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ بَطِيئًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ وَبَابٌ مِنَ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ أَنْزَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا، فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ قَالَ: رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ، كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، فَيُقَالُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَتْ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شَدَّادٌ يَنْتَزِعُونَ رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَبِيرُ الشِّعْبِ مِنَ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ وَيُنْتَزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ، فَإِذَا خَرَجَ رُوحُهُ لَعَنَهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ أَهْلُ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ أَنْ لَا يُعْرَجَ بِرُوحِهِ قِبَلَهُمْ [ص:582]، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا: رَبَّنَا هَذَا عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: أَرْجِعُوهُ إِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ: فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْتَهِرُهُ انْتِهَارًا شَدِيدًا، فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ، فَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمَّ أَبْكَمَ فِي يَدِهِ مِرْزَبَّةٌ لَوْ ضَرَبَ بِهَا جَبَلًا كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَيُمَهَّدُ لَهُ فِرَاشٌ مِنَ النَّارِ " قَالَ مَعْمَرٌ، وَسَمِعْتُهُ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ قَالَ: يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ

6737 –حضرت براء بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہوئے نبی اکرمﷺ قبر کے پاس بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے اردگر د بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوتے ہیں میت کے لیے لحد تیار کی جا رہی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا:جب مؤمن آخرت کی طرف آتا ہے اور دنیا سے لاتعلق ہو جاتا ہے تو فرشتے اُس پر نازل ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کے چہرے سورج کی طرح چمکدار ہوتے ہیں اُن میں سے ایک کے پاس خوشبو اور کفن ہوتی ہے اور وہ حد نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں یہاں تک کہ جب مؤمن کی روح نکلتی ہے تو ہر فرشتہ آسمان اور زمین کی طرف موجود و ہوتا ہے او ر ہر فرشتہ آسمان میں موجو د ہوتا ہے وہ اس کی روح کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اُس روح کے لیے جنت کے دروازہ کھول دئیے جاتے ہیں ہر دروازہ پر تعینات فرشتہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اُس مؤمن کی روح اُن لوگوں کی طرف سے اوپر جائے جب اُ ن لوگوں کی طرف سے روح اوپر جاتی ہے تو وہ فرشتے یہ کہتے ہیں :اے میرے پروردگار! یہ تیرا فلاں بندہ ہے ! تو پروردگار فرماتا ہے : اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں نےان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں نے ان لوگوں کو اُس مٹی سے پیدا کیا ہے اور اسی میں میں انہیں واپس لوٹادوں گا اور اس میں سے ہی نہیں دوبارہ اُٹھاؤں گا ۔ تو مؤمن اپنے ساتھیوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے جب وہ اُسے چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں۔ پھر کوئی اُس کے پاس آتا ہے اور دریافت کرتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہی؟ تو جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی حضر ت محمد ﷺ ہیں تو یہ وہ آخری آزمائش ہوتی ہے جو مؤمن کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ تو وہ مؤمن بندہ یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی حضرت محمد !ﷺہیں ۔ تو فرشتہ اُس سے کہتا ہے :تم سچ کہہ رہے ہو! پھر ایک او ر شخص اُس کے پاس آتا ہے جس کا چہرہ خوبصورت ہوتا ہے اور خوشبو اچھی ہوتی ہے کپڑے عمدہ ہوتے ہیں وہ اُس سے کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی عزت افزائی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کی خوشخبرہ قبول کرو! تو بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی بھلائی کی خوشخبری دے ! تم کون ہو؟ تو وہ جواب دیتا ہے : میں تمہارا نیک عمل ہوں اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری میں بڑے تیز تھے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سست تھے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا ء کرے ! پھر اُس کے لیے جنت کا دروازہ اور جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اُسے یہ کہا جاتا ہے اگر تم اللہ تعالیٰ ی نافرمانی کرتے تو تمہار ا ٹھکانہ یہ ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہاں بھیج دینا تھا۔ جب وہ بندہ جنت کی نعمتوں کو دیکھتا ہے تو عرض کرتا ہے : میرے پروردگار ! تو جلدی سے قیامت کو قائم کر دے تاکہ میں اپنے بال بچوں کی طرف واپس جا سکوں تو یہ کہا جاتا ہے : تم سکون سے رہو! جب کافر شخص دنیا سے لاتعلق ہوتا ہے اور آخرت میں آتا ہے تو فرشتے سخت ترین حالت میں سختی کے ساتھ اُس کی روح نکالتے ہیں جس طرح روئی میں نے نکالا جاتا ہے اور وہ اُس کی رگو ں سے اُس کی جان کو کھینچ لیتے ہیں جب اُسکی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان میں موجود او ر آسمان میں موجود ہر فرشتہ اُس پر لعنت کرتا ہے آسمان کے دروازہ بند کر دئیے جاتے ہیں ہر دروازہ کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُس کی روح اُن کی طرف سے اوپر نہ جائے جب اُسکی روح اوپر جاتی ہے تو فرشتہ کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! یہ تیراہ فلاں بندہ ہے ! تو پروردگار فرماتا ہے : تم اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے ان لوگوں کے ساتھ عہد کیا تھا کہ میں انہیں اس زمین سے پیدا کروں گا اور ا س میں انہیں لوٹا دوں گا اور دوبارہ اس میں سے ہی اُٹھاؤں گا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: تو وہ اپنے ساتھیوں کی جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے جب وہ لوگ اُسے چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں ۔ پھر ایک فرشتہ اُس کے پاس آتا ہے اور دریافت کرتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارا نبی کون ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ تو فرشتہ اُسے سختی سے ڈانٹتے ہوئے کہتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارا نبی کو ن ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے : مجھے نہیں معلوم ! تو فرشتہ کہتا ہے : نہ ہی تمہیں معلوم ہے اور نہ ہی تم نے تلاوت کی ہے ۔ پھر ایک اور شخص اُسکے پاس آتا ہے جسکے کپڑے انتہائی برے ہوتے ہیں اور انتہائی بدبودار ہوتا ہے وہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طر ف سے بےعزتی اور ہمشہ رہنے والے عذاب کی خبر قبول کرو! تو وہ بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ تمہیں بھی بری خبر دے ! تم کون ہو ؟ وہ جواب دیتا ہے : میں تمہارا برا عمل ہوں تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری میں سست تھے اور اُس کی نافرمانی میں بڑے تیز تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بری جزاء دی ہے ۔ پھر اُس شخص پر اندھے اور بہرے فرشتہ مسلط کیے جاتے ہیں جن کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے اگر وہ گرز کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے وہ فرشتہ وہ گرز اُس بندہ پر مارتا ہے تو وہ بندہ ایسے چینخ مارتا ہے جیسے انسانوں اور جنابت کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے پھر اُس بندہ کے لیے جہنم کے دروازہ کھول دئیے جاتے ہیں اور اُس کے لیے جہنم کا بسترہ بچھا دیا جاتا ہے ۔

الْبَرَاءِ، ← زَاذَانَ ← المِنْهَالِ بْنِ عُمَرَ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door of the grave trial · Hadith 6737

chevron_left Previous
1…363738…694
Next chevron_right