Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي صَلَاةً لَا يُكْمِلُهَا · حديث 3741

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَكْتُبُونَ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ نَقَصَ مِنْ صَلَاتِهِ الرُّبْعُ، وَنَقَصَ فُلَانٌ الشَّطْرَ وَزَادَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا "

3741 - طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : فرشتے اولاد آدم کے اعمال نوٹ کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں : فلاں شخص نے اپنی نماز میں ایک چو تھائی کمی کر دی فلاں نے نصف کر دی اور فلاں نے اتنا اضافہ کر دیا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the man praying a prayer that he does not complete · Hadith 3741

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ · حديث 8813

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، ذَكَرَهُ - قَالَ: لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ أَمْ لَا - قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ بِأَهْلِ عَرَفَةَ يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا، غُبْرًا، ضَاحِينَ، فَلَا يُرَى أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنْ يَوْمِئِذٍ، وَلَا يُغْفَرُ فِيهِ لِمُخْتَالٍ "

8813 – قاسم بن ابو بزہ بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ حدیث اُنہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے یا نہیں وہ فرماتے ہیں: بےشک اللہ تعالیٰ اہل عرفہ پر فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور یہ فرماتا ہے : تم میرے بندوں کی طرف دیکھو ! یہ بکھرے ہوئے بال اور غبار آلود ہو کر دھوپ کا سامنا کر کے میری بارگاہ میں آئے ہیں۔

إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي مَلَائِكَتَهُ بِأَهْلِ عَرَفَةَ ← لَا أَدْرِي أَرَفَعَهُ أَمْ لَا ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، ذَكَرَهُ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the merit of Hajj · Hadith 8813

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ · حديث 8830

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَالْآخَرُ مِنْ ثَقِيفٍ، فَسَبَقَهُ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلثَّقَفِيِّ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ، سَبَقَكَ الْأَنْصَارِيُّ»، فَقَالَ: الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أُبَدِّئُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَخَا ثَقِيفٍ، سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنَا أَخْبَرْتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ» قَالَ: فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ تَفْعَلَ قَالَ: «فَإِنَّكَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ صَلَاتِكَ، وَعَنْ رُكُوعِكَ، وَعَنْ سُجُودِكَ، وَعَنْ صِيَامِكَ، وَتَقُولُ مَاذَا لِي فِيهِ؟» قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَالَ: " فَصَلِّ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ وَنَمْ وَسَطَهُ قَالَ: فَإِنْ صَلَّيْتَ وَسَطَهُ فَأَنْتَ إِذًا قَالَ، فَإِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَرَكَعْتَ، فَضَعْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مِفْصَلِهِ، وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ [ص:16] قَالَ: وَصُمِ اللَّيَالِي الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ " ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ: «سَلْ عَنْ حَاجَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ» قَالَ: «فَذَاكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ» قَالَ: " فَإِنَّكَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ خُرُوجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَجِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ وُقُوفِكَ بِعَرَفَةَ، وَتَقُولُ مَاذَا لِي فِيهِ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَتَقُولُ: مَاذَا لِي فِيهِ " قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ قَالَ: " فَأَمَّا خُرُوجُكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ وَطْأَةٍ تَطَأُهَا رَاحِلَتُكَ، يَكْتُبُ اللَّهُ لَكَ حَسَنَةً، وَيَمْحُو عَنْكَ سَيِّئَةً، وَأَمَّا وَقُوفُكَ بِعَرَفَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْزِلُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقَوُلُ: هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاءُوا شُعْثًا غُبْرًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، يَرْجُونَ رَحْمَتِي وَيَخَافُونَ عَذَابِي، وَلَمْ يَرَوْنِي، فَكَيْفَ لَوْ رَأُونِي، فَلَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ مِثْلُ أَيَّامِ الدُّنْيَا، أَوْ مِثْلُ قَطْرِ السَّمَاءِ ذُنُوبًا غَسَلَهَا اللَّهُ عَنْكَ، وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ، فَإِنَّهُ مَذْخُورٌ لَكَ، وَأَمَّا حَلْقُكَ رَأْسَكَ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَسْقُطُ حَسَنَةً، فَإِذَا طُفْتَ بِالْبَيْتِ، خَرَجْتَ مِنْ ذُنُوبِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ "

8830 - حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: دو آدمی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اُن میں سے ایک انصاری تھا اور دوسرا ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا انصار ی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پہلے پہنچ گیا تو نبی اکرمﷺ نے ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے فرمایا:اے ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص ! انصاری تم سے ثبقت لے گیا ہے ۔ تو انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اسے پہل کرنے کا موقع دیتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ثقیف قبیلہ سے تعلق رکھنے والے شخص! تم اپنی ضرورت کے بارے میں دریافت کرو اور اگر تم چاہو تو تم جس بارے میں دریافت کرے کے لیے آئے ہو میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں۔ اُس نے عرض کی: اگر آپ ایسا کر دیتے ہیں تو یہ چیز مجھے زیادہ پسند ہو گی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اپنی نماز کے بارے میں اپنے رکوع کے بارے میں اپنے سجدے کے بارے میں اور اپنے روزے رکھنے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے ہو تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں یہ پتا چلے کہ تمہیں اس کا کیا اجر ملے گا ؟ اُس شخص نے عرض کی: جی ہاں! اُس ذات کی قسم جس نے آپ کے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم رات کے ابتدائی حصہ میں اور اس کے آخری حصہ میں نماز ادا کرو اور درمیانی حصہ میں سو جاؤ لیکن اگر تم درمیانی حصہ میں نماز ادا کر لیتے ہو تو یہ بھی ٹھیک ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو رکوع میں جاؤ اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھو اور اُنگلیوں کو کشادہ رکھو اور پھر اپنے سر کو اُٹھاؤ یہاں تک کہ ہر عضو اپنے جوڑ پر واپس جائے جب تم سجدہ کرو تو اپنی پیشانی زمین پر جما کر رکھو ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم چمکدار راتوں میں روزے رکھو یعنی تیرہ چودہ اور پندراہ تاریخ کا روزہ رکھو ۔ پھر آپ انصاری کی طرف متوجہ ہوئے آپ نےفر مایا: تم اپنی ضروریات کے بارے میں دریافت کرو لیکن اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس بارے میں بتا دیتا ہوں ! اُس نے عرض کی: مجھے یہ بات زیادہ پسند ہو گی! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے ہو کہ تمہارے گھر سے نکل کر بیت اللہ کی طرف آنا اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تم عرفہ میں وقوف کرنے کے حوالے سے دریافت کرنے کے لیے آئے ہو کہ اس کا تمہیں کیا اجر ملے گا اور تم جمعرات کو کنکریاں مارے کے بارے میں دریافت کرنے کے بارے میں آئے ہو کہ مجھے اس کا اجر ملے گا اُس نے عرض کی : جی ہاں! اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کو ہمراہ مبعوث کیا ہے !۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جہاں تک تمہارے اپنے گھر سے نکلنے کا تعلق ہے کہ بیت الحرام تک جانے کا قصد ہو کہ تمہار ی اونٹنی کے اُٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال میں ایک نیکی نوٹ کرے گا تمہارے ایک گناہ کو مٹا دے گا جہاں تک تمہارے عرفہ میں وقوف کرنے کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اُن لوگوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میرے بندے جو بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود جسم کو لے کر آئے ہیں دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت کی اُمید رکھتے ہیں میرے عذاب سے ڈرتے ہیں اُنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے تو ان کا یہ حال ہے اگر یہ دیکھ لیں تو کیا ہو گا !

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ مُجَاهِدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the merit of Hajj · Hadith 8830

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ · حديث 8832

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَوْمٌ إِبْلِيسُ فِيهِ أَدْحَرَ، وَلَا أَدْهَقَ، وَلَا هُوَ أَغْيَظَ لَهُ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، مِمَّا يَرَى مِنْ نُزُولِ الرَّحْمَةِ، وَتَجَاوُزِ اللَّهُ تَعَالَى عَنِ الْأُمُورِ الْعِظَامِ، إِلَّا مَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ». قِيلَ: وَمَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ»

8832 - حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا ہے : کوئی بھی د ن ایسا نہیں ہے جس دن میں ابلیس عرفہ کے دن سے زیادہ رسوا غمگین اور غضبناک ہوتاہو کیونکہ وہ اس دن میں رحمت کو نازل کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کرنے کو دیکھتا ہے یا پھر ابلیس غزوہ بدر کے دن غضب نازل ہوا تھا : عرض کی گئی : اُس نے غزوہ بدر کے دن کیا دیکھا تھا ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اُس نے حضرت جبرائیل کو دیکھا تھا کہوہ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں۔

طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the merit of Hajj · Hadith 8832

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ حُسْنِ الصَّوْتِ · حديث 4175

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ، وَزَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ، أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ، أَوْ أُهْدِيَ زُقَاقًا فَهُوَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ»

4175 - حضرت براء بن عازب راویت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت نازل کرتے تھے تم اپنی آواز کے ذریعہ قرآن کو آراستہ کرو اور جو شخص عطیہ کے طور پر دودھ دیتا ہے یا دے دیتا ہے چاندی کے سکے دیتا ہے یا مشکیزہ دیتا ہے تو یہ ایک غلام کے آواز کرنے کی مانند ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ، ← طَلْحَةَ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Good sound door · Hadith 4175

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ بُنْيَانِ الْكَعْبَةِ · حديث 9090

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَّارٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: " لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ كَانَ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ، يَسْمَعُ كَلَامَ أَهْلِ السَّمَاءِ وَدُعَاءَهُمْ، فَأَنِسَ إِلَيْهِمْ، فَهَابَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْهُ حَتَّى شَكَتْ إِلَى اللَّهِ فِي دُعَائِهَا وفِي صَلَاتِهَا فَأَخْفَضَهُ اللَّهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَلَمَّا فَقَدَ مَا كَانَ يَسْمَعُ مِنْهُمِ اسْتَوْحَشَ، حَتَّى شَكَى إِلَى اللَّهِ فِي دُعَائِهِ وَفِي صَلَاتِهِ، فَوَجَّهَهُ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ مَوْضِعَ قَدَمِهِ قَرْيَةً، وَخُطْوَتِهِ مَفَازَةً حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَكَّةَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ يَاقُوتَةً مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ، فَكَانَتْ عَلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ الْآنَ، فَلَمْ يَزَلْ يُطَافُ بِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ الطُّوفَانَ فَرُفِعَتْ تِلْكَ الْيَاقُوتَةُ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ فَبَنَاهُ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ} [الحج: 26] "

9090 – عطا ء بن ابی رباح بیا ن کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اُتارا تو اُ ن کے پاؤں زمین میں تھے اور اُن کا سر آسمان میں تھا وہ اہل آسمان کا کلام اور اُن کی دعائیں سن سکتے تھے وہ اُن سے مانوس تھے پھر فرشتوں کو اُن سے ہیبت محسوس ہوئی تو اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی دعا اور اپنی نماز کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کا قد زمین کی طرف چھوٹا کر دیا حضرت آدم جو باتیں پہلے سنا کرتے تھے جب وہ اُنہیں سنائی نہیں دی تو اُنہیں وحشت محسوس ہوئی تو اُنہوں نے اپنی نماز اور دعا میں اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کا رُخ مکہ کی طرف کیا تو اُن کا ایک قدم ایک بستی پر پڑتا تھا اور ایک قدم میں وہ درمیان کا ویرانہ طے کر لیتے تھے اسی طرح وہ مکہ پہنچ گئے اللہ تعالیٰ نے جنت کے یا قوتوں میں سے ایک یا وقت کو نازل کیا و ہ اُس جگہ پر موجود تھا جہاں اب بیت اللہ ہے اس جگہ کا مسلسل طواف ہوتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے طوفان نوح کو نازل کیا تو وہ یا قوت اُٹھا لیا گیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو مبعوث کیا تو اُنہوں نے اس کی تعمیر نو کی ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ کا تعین کر دیا ۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سَوَّارٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the Kaaba · Hadith 9090

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ بُنْيَانِ الْكَعْبَةِ · حديث 9092

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " قَالَ آدَمُ: أَيْ رَبِّ، مَا لِي لَا أَسْمَعُ أَصْوَاتَ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ: خَطِيئَتُكَ، وَلَكِنِ اهْبِطْ إِلَى الْأَرْضِ، فَابْنِ لِي بَيْتًا ثُمَّ احْفُفْ كَمَا رَأَيْتَ الْمَلَائِكَةَ تَحُفُّ بِبَيْتِي الَّذِي فِي السَّمَاءِ فَيُزْعَمُ أَنَّهُ بَنَاهُ مِنْ خَمْسَةِ أَجْبُلٍ: حِرَاءِ، وَمِنْ لُبْنَانَ، وَالْجُودِيِّ، وَمِنْ طُورِ زِيتَا، وَطُورِ سَيْنَاءَ، وَكَانَ رُبْضُهُ مِنْ حِرَاءَ، فَكَانَ هَذَا بِنَاءُ آدَمَ ثُمَّ بَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرِهِ

9092 – عطا ء بیان کرتے ہیں: حضرت آدم نے عرض کی: اے میرے پروردگار! کیا وجہ ہے کہ میں فرشتوں کو آواز نہیں سن پاتا ؟ تو پروردگار نے فرمایا: اس کی وجہ تمہاری خطا ء ہے تم زمین پر اُتر جاؤ اور میرے لیے گھر بناؤ اور پھر تم اس کا طواف کرو جس طرح تم نے فرشتوں کو آسمان میں موجود میرے گھر کا طواف کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ تو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ حضرت آدم نے پانچ پہاڑوں سے مٹی لے کر اُسے تعمیر کیا : کوہ حرا ء کوہ لبنان کوہ جودی کوہ طور زیتا کوہ طور سینا خانہ کعبہ کی بنیا د کوہ حرا ء سے لیے گئے اور یہ حضرت آدم کی تعمیر تھی اُس کے بعد حضرت ابراہیم نے اس کی تعمیر کی ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سعید بن مسیب اور دیگر حوالوں سے منقول ہے۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the Kaaba · Hadith 9092

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ بُنْيَانِ الْكَعْبَةِ · حديث 9096

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " وَضَعَ اللَّهُ الْبَيْتَ مَعَ آدَمَ، أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ وَكَانَ مَهْبِطُهُ بِأَرْضِ الْهِنْدِ، وَكَانَ رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ، وَرِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ، فَكَانَتِ الْمَلَائِكَةُ تَهَابُهُ، فَنُقِصَ إِلَى سِتِّينَ ذِرَاعًا فَحَزِنَ آدَمُ إِذْ فَقَدَ أَصْوَاتَ الْمَلَائِكَةِ وَتَسْبِيحَهُمْ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ اللَّهُ: يَا آدَمُ إِنِّي قَدْ أَهْبَطْتُ لَكَ بَيْتًا فَطُفْ بِهِ كَمَا يُطَافُ حَوْلَ عَرْشِي، وَصَلِّ عِنْدَهُ كَمَا يُصَلِّي عِنْدَ [ص:94] عَرْشِي فَخَرَجَ إِلَيْهِ آدَمُ فَمُدَّ لَهُ فِي خَطْوِهِ، فَكَانَ بَيْنَ كُلِّ خُطْوَةٍ مَفَازَةٌ فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ الْمَفَاوِزُ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَتَى آدَمُ إِلَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ، وَمِنْ بَعْدِهِ الْأَنْبِيَاءُ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَبَانُ: «أَنَّ الْبَيْتَ أُهْبِطَ يَاقُوتَةً وَاحِدَةً أَوْ دُرَّةً وَاحِدَةً.» قَالَ مَعْمَرٌ: " وَبَلَغَنِي أَنَّ سَفِينَةَ نُوحٍ طَافَتْ بِالْبَيْتِ سَبْعًا حَتَّى إِذْ أَغْرَقَ اللَّهُ قَوْمَ نُوحٍ رَفَعَهُ، وَبَقِيَ أَسَاسُهُ، فَبَوَّأَهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَبَنَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ: {وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ} [الحج: 26] ". الْآيَةُ

9096 - معمر نے قتادہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے ساتھ بیت اللہ کو بھی اُتارا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو زمین پر اُتارا تھا وہ ہند کی سر زمین پر اُترے تھے اُن کا سر آسمان میں تھا اور اُن کے پاؤں زمین میں تھے فرشتے اُن سے ہیبت زدہ ہو گئے تو اُن کا قد چھوٹا کر کے ساٹھ گزر کر دیا گیا حضرت آدم اس بات پر بہت غمگین ہوئے کیونکہ اب اُنہیں فرشتوں کی آوازیں اور تسبیح سنائی نہیں دیتی تھیں اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم!میں تمہاری طرف ایک گھر نازل کر نے لگا ہوں تم اُس کا طواف کرو جس طرح میرے عرش کے ارد گرد طواف کیا جاتا ہے اور تم اُس کے قریب نماز ادا کرو جس طرح میرے عرش کے قریب نماز ادا کی جاتی ہے تو حضرت آدم اُس کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئے اُن کا ایک قدم اتنا طویل ہوتا تھا کہ وہ ایک قدم کے ساتھ پورا بیابان عبور کر لیتے تھے اسی طرح وہ تمام بیابان عبور کرتے رہے یہاں تک کہ بیت اللہ کے پاس آگئے پھر اُنہوں نے اس کا طواف کیا اور اُن کے بعد دیگر انبیا نے بھی اس کا طواف کیا ۔ معمر بیان کرتے ہیں: ابان نے یہ بات بیان کی ہے : خانہ کعبہ کو ایک یا قوت کے طور پر یا ایک موتی کے طور پر اُتارا گیا ۔ معمر بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت نوح کی کشتی نے خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کیا یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو ڈبو دیا تو بیت اللہ کو اُٹھا لیا صرف اس کی بنیاد رہ گئی پھر حضرت ابراہیم کو اس کی تعمیر کا موقع ملا تو اُنہوں نے اُس کے بعد اس کی تعمیر کی ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ کا تعین کر دیا ۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the Kaaba · Hadith 9096

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ · حديث 9173

قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنِ ابْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ قَالَا: «النَّظَرُ إِلَى الْبَيْتِ عِبَادَةٌ، وَتُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ، وَتُصَلِّي عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ»، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:136]

9173 - مجاہد کے صاحبزادے نے عطا ء اور مجاہد کا یہ قول نقل کیا ہے : بیت اللہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور اس کی وجہ سے آدمی کے نامہ اعمال میں نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں اور آدمی جب تک بیت اللہ کی طرف دیکھتا رہتا ہے فرشتے مسلسل اُس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔

عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُجَاهِدٍ، ← ابْنُ مُجَاهِدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door to the vision of the house · Hadith 9173

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمَدِينَةِ · حديث 17153

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ إِلَّا شَيْءٌ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمَا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ اللَّهِ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ» وَيَقُولُ: «الصَّرْفُ وَالْعَدْلُ التَّطَوُّعُ وَالْفَرِيضَةُ»

17153 - ابراہیم تیمی نے اپنے والد کے حوالےسے حضرت علی کا یہ قول نقل کیا ہے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور وہ چیز ہیں جو اس صفیحے میں مذکور ہیں اور وہ یہ ہیں کہ مدینہ منورہ عیر سے لے کر ثور تک حرم ہے جو شخص یہاں کوئی بدعت پیدا کر ے گا یا بدعتی کو بنا دے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرےگا اور ج وشخص اپنے آقاؤ کی اجازت کے بغیر نسبت ولاء قائم کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ کےچ نام پر دی ہوئی پناسہ یکساں حیثیت رکھتی ہے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Drink Book › The gate of the sanctuary of the city · Hadith 17153

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْعُقُولِ ‹ بَابُ شِبْهِ الْعَمْدِ · حديث 17203

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي عَمِيَّا رَمْيًا بِحَجَرٍ أَوْ ضَرْبًا بِسَوْطٍ أَوْ بِعَصَا، فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ وَمَنْ قُتِلَ اعْتِبَاطًا فَهُوَ قَوَدٌ لَا يُحَالُ بَيْنَهُ، وَبَيْنَ قَاتِلِهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ، وَبَيْنَ قَاتِلِهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا»

17203 - طاؤس نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : جوو شخص پتھر لگنے سے یا لاٹھی یا عصا لگنے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی اور جس شخص کو گھات لگا کرمارا جائے تو اس پر قصاص لازم ہو گا اس کے اور اس کو قتل کرنے والے کے درمیان حائل نہیں ہو ا جائے گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الحسن بن عمارة ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Minds › Chapter of the likeness of the pillars · Hadith 17203

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْكَلَامِ عِنْدَ الْفَجْرِ · حديث 4798

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَ الْفَجْرِ وَهُمْ مُسْتَنِدُونَ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَقَالَ: «تَأَخَّرُوا عَنِ الْقِبْلَةِ، لَا تَحُولُوا بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ وَبَيْنِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ»

4798 - قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عبداللہ فجر کے وقت تشریف لائے لوگ اپنی پشت قبلہ کی طرف ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اُنہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے قبلہ سے منہ موڑا ہوا ہے تم فرشتوں اور قبلہ کے درمیان رکاوٹ نہ بنو کیونکہ یہ فرشتوں کی نماز ہے ۔

الْقِبْلَةِ، لَا تَحُولُوا بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ وَبَيْنِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ» ← جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَ الْفَجْرِ وَهُمْ مُسْتَنِدُونَ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَقَالَ: «تَأَخَّرُوا ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ وَمَعْمَرٌ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to speaking at dawn · Hadith 4798

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْكَلَامِ عِنْدَ الْفَجْرِ · حديث 4799

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَسْجِدَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَرَأَى قَوْمًا قَدِ اسْتَنَدُوا ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ وَاستقْبَلُوا النَّاسَ، فَقَالَ: «لَا تَحُولُوا بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ وَبَيْنَ صَلَاتِهَا، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ»

4799 - قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود فجر کی نماز سے پہلے مسجد میں تشریف لائے تو وہاں آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ اُنہوں نے پشت قبلہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی ہے اور لوگوں کی طرف زُخ کیا ہوا ہے تو حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم فرشتوں اور اُن کی نماز کے درمیان رکاوٹ نہ بنو کیونکہ یہ فرشتوں کی نماز ہے ۔

أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to speaking at dawn · Hadith 4799

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّطَوُّعِ قَبْلَ الصَّلَاةُ وَبَعْدَهَا · حديث 4806

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَمَنْ يُطِيقُهُ؟ قَالَ: قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا نُطِيقُ مِنْهُ مَا أطَقْنَا قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ، فَإِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَطَلَعَتْ وَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الْعَصْرِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِمَا بِتَسْلِيمٍ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى وَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الظُّهُرِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ صَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِالتَّسْلِيمِ كَمَا فَعَلَ فِي الْأَوَّلِ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِتَسْلِيمٍ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهُرِ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ [ص:64] ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَا فَيَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ»

4806 - عاصم بن ضمرہ حضرت علی کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ہم نے اُن سے دریافت کیا: آپ ہمیں نبی اکرمﷺ کی نفل کے بارے میں بتائیے ! تو اُنہوں نے فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ ہم نے اُن سے عرض کی : آپ ہمیں بتائیے ! ہم اس میں سے جتنی طاقت رکھیں گے اُس پر عمل کر لیں گے ۔ تو اُنہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہونے کے بعد بلند ہو جاتا ہے اور اُس کی مقدار اس طرح ہوتی تھی جتنی عصر کے وقت ہوتی ہے تو نبی اکرمﷺ دو رکعات ادا کرتے تھے ان کے درمیان مقرب فرشتوں انبیا ء کرام اور اُن کی پیروی کرنے والے مؤمنوں اور مسلمانوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے تھے پھر آپ ایسے ٹھہرے رہتے تھے یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا تھا اور سورج کی مثال مشرق میں اُس طرح ہوتی تھی جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے۔ تو نبی اکرمﷺ چار رکعات ادا کرتے تھے جن کے درمیان آپ سلام بھیجتے تھے جس طرح آپ پہلی نماز میں کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا تو نبی اکرمﷺ اُٹھ کر چار رکعات ادا کرتے تھے جن کے درمیان آپ نقرب فرشتوں انبیا ء کرام اور اُن کی پیروی کرنے والے مؤمن مردوں اور مسلمانوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے تھے آپ ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے آپ اُن میں بھی اسی طرح فصل کرتے تھے پھر آپ عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے اور اس کی مانند فصل کرتے تھے ۔

نُطِيقُ مِنْهُ مَا أطَقْنَا ← قلْنَا لَهُ ← وَمَنْ يُطِيقُهُ؟ ← تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ ← قلْنَا لَهُ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ؛ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on volunteering before and after prayer · Hadith 4806

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّطَوُّعِ قَبْلَ الصَّلَاةُ وَبَعْدَهَا · حديث 4807

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ تَطَوُّعًا بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ مَا كَانَ يُطِيقُ» قَالُوا: عَلَى ذَلِكَ حَدِّثْنَا، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يقُلْ يَفْصِلُ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ قَالَ: «وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهُرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا فَهَذِهِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

4807 –عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے حضر ت علی بن ابو طالب سے نبی اکرمﷺ کی دن کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے فرمایا: تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے جس کی طاقت نبی اکرمﷺ رکھتے تھے۔ اُن لوگوں نے عرض کی : ا س کے باوجود آپ ہمیں بیان کیجیے ! اُس کے بعد راوی نے سفیان ثوری کی نقل کروہ روایت کی مانند روایت ذکر کی ہے البتہ اُنہوں نے اس میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ مقرب فرشتوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات اور آُس کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے تو یہ سولہ رکعات ہو جاتی ہیں ۔

مِثْلَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يقُلْ يَفْصِلُ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ ← عَلَى ذَلِكَ ← «إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ مَا كَانَ يُطِيقُ» ← صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ تَطَوُّعًا بِالنَّهَارِ، ← سَأَلْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on volunteering before and after prayer · Hadith 4807

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ · حديث 5036

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعِهَا وَخِمَارِهَا وَإِزَارِهَا، وَأَنْ تَجْعَلَ الْجِلْبَابَ أَحَبُّ إِلَيَّ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ دِرْعُهَا وَخِمَارُهَا رَقِيقًا أَحَدُهُمَا؟ قَالَ: فَالْجِلْبَابُ إِذًا عَلَى ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ الْمَلَائِكَةِ أَنَّهَا مَعَهَا، قُلْتُ: دِرْعُهَا إِلَى الرُّكْبَتَيْنِ قَالَ: لَا حَتَّى يَكُونَ سَابِغًا كَثِيفًا قَالَ: وَلْتَأْتَزِرِ الْإِزَارَ وَتَشُدُّ بِهِ عَلَى حَقْوَيْهَا

5036 - ابن جریح عطا ء کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں عورت قمیض چادر اور تہبند میں نما زادا کرے گا اور اگر وہ اوپر مزید چادر لے لیتی ہے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔ میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر اُس کی قمیض یا چادر میں سے کوئی ایک چیز باریک ہو ؟ اُنہوں نے فرمایا: تو ایسی صورت میں اُس عورت کو بڑی چادر اوپر لیٹی پڑے گی اور یہ اُس کے ساتھ موجود فرشتوں کی وجہ سے ہو گا ۔ میں نے دریاافت کیا: اگر اُس کی قمیض گھٹنوں تک آتی ہو؟ تو اُنہوں نے جواب د یا : جی نہیں ! جب وہ لمبی اور موٹی نہیں ہوتی ورنہ پھر عورت کو تہبند لے کر اُسے اپنے زیریں جسم پر باندھنا پڑے گا ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Door in how much a woman prays from clothes · Hadith 5036

مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُكَفِّرُ الْوُضُوءُ وَالصَّلَاةُ · حديث 150

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمُصَلِّي ثَلَاثُ خِصَالٍ تَتَنَاثَرُ الرَّحْمَةُ عَلَيْهِ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى عَنَانِ السَّمَاءِ، وَتَحُفُّ بِهِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى أَعْنَانِ السَّمَاءِ، وَيُنَادِي مُنَادٍ لَوْ عَلِمَ الْمُنَاجِي مَنْ يُنَاجِي مَا انْفَتَلَ»

حسن بصری نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نماز کو تین خصو صیات حاصل ہوتی ہیں ایک یہ کے اُس کے پاؤں سے لے کر آسمان تک رحمت اُس پر نازل ہوتی رہتی ہے دوسرا یہ کہ آسمان کے کناروں تک فرشتےاپنے پروں کے ذریعے اُسے ڈھانپ لیتے ہیں اور ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے کہ اگر مناجات کرنے والے شخص کو یہ پتا چل جائے کہ وہ کس کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہے ؟ تو وہ اسے کبھی ختم نہ کرے ۔

الْحَسَنِ، ← رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter of what expiates ablution and prayer · Hadith 150

مسند بزار · مُسْنَدُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‹ وَمِمَّا رَوَى يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ، عَنْ عَمَّارٍ · حديث 1402

1402 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي ثُمَامَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: نا حَمَّادُ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: نا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ، فَخَلَّقُونِي بِالزَّعْفَرَانِ، فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي، وَقَالَ: «اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ» ، فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَحَّبَ بِي، وَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ، وَلَا الْمُتَضَمِّخِ بِالزَّعْفَرَانِ»

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَبد الله بن أبي ثمامة الأنصاري،

Musnad e Bazzar · The chain of custody of Ammar bin Yasser, may God be pleased with him › And from what was narrated by Yahya bin Omar, from Ammar · Hadith 1402

مسند بزار · مُسْنَدُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ‹ أَوَّلُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى · حديث 3069

3069 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيُّ؟» ، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانٍ ابْنُ أُخْتِنَا، قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ» [ص:74]، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا عَنْ أَبِي مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَأَبُو كِنَانَةَ رَوَى عَنْهُ زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ، حَدِيثَيْنِ هَذَا أَحَدُهُمَا وَالْآخَرُ رَفَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ وَغَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَرْفَعُهُ

Musnad e Bazzar · The chain of authority of Abu Musa, may God be pleased with him › The first hadith of Abu Musa · Hadith 3069

مسند بزار · مُسْنَدُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رضی اللہ عنہ ‹ مُسْنَدُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 3224

3224 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُوبَةَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ [ص:190] الْأَوَّلِ» ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ إِلَّا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُوبَةَ الْمَرْوَزِيُّ،

Musnad e Bazzar · The chain of narration of Nu'man ibn Bashir, may God be pleased with him › The chain of narration of Nu'man ibn Bashir on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 3224

chevron_left Previous
1…383940…694
Next chevron_right