Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ عِظَمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ · حديث 5569

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: " ذَلِكَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ نَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ فَسَارَ فِيهِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ أُخْرَى، فَاسْتَوَى جَالِسًا فَعَطَسَ فَأَلْقَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: رَحِمَكَ اللَّهُ

5569 - عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: جس دن میں سورج طلوع ہوتا ہے اُس میں سب سے بہتر جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم کو پیدا کیا گیا اسی دن میں قیامت قائم ہو گی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور اُن میں روح کو پھونکا تو وہ ان میں سرایت کر گئی پھر اُس نے اُن میں دوسری مرتبہ پھونکا تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اُنہیں چھینک آئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی زبان پر الحمد للہ رب العا لمین کے کلمات جاری ہوئے تو فرشتوں نے کہا: اللہ عتالیٰ تم پر رحم کرے!

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › Chapter of bones on the day of Friday · Hadith 5569

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ السَّاعَةِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ · حديث 5580

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ عَنْ تِلْكَ السَّاعَةِ فَقَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَخَلَقَهُ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا وَطَيِّبِهَا وَخَبِيثِهَا، وَلِذَلِكَ كَانَ فِي وَلَدِهِ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالطَّيِّبُ وَالْخَبِيثُ، فَأَسْجَدَ لَهُ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَهُ جَنَّتَهُ، فَلِلَّهِ مَا أَمْسَى ذَلِكَ الْيَوْمُ حَتَّى عَصَاهُ فَأَخْرَجَهُ مِنْهَا»

5580 – حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے اس گھڑی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا کیا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام روئے زمین سے پیدا کیا تھا جس میں سرخ بھی تھی سیاہ بھی تھی پاکیزہ بھی تھی خراب بھی تھی یہی وجہ ہے کہ اُن کی اولاد میں سے کوئی سیاہ فارم ہوتا ہے کوئی پاکیزہ ہوتا ہے کوئی خراب ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے انہیں سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں ٹھہرایا تو اُس دن کی شام وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں وہاں سے نکال دیا ۔

تِلْكَ السَّاعَةِ ← ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door of the hour on a Friday · Hadith 5580

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ السَّاعَةِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ · حديث 5581

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَبَا عَبَّاسٍ، السَّاعَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ مَرَّاتٍ، خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ فِي آخِرِ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فَخَلَقَهُ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا وَطَيِّبِهَا وَخَبِيثِهَا وَحَزْنِهَا وَسَهْلِهَا، فَلِذَلِكَ فِي وَلَدِهِ الطَّيِّبُ وَالْخَبِيثُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْكَنَهُ جَنَّتَّهُ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَهُ، وَعَهِدَ إِلَيْهِ عَهْدًا فَنَسِيَ فَسُمِّيَ الْإِنْسَانَ، فَلِلَّهِ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْهَا»

5581 - سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا : اے ابو عباس! جمعہ کے دن میں جس گھڑی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُنہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اُن تمام روئے زمین سے حاصل ہونے والی مٹی کے ذریعہ پیدا کیا جس میں سرخ سیاہ پاکیزہ خراب سخت نرم مٹی شامل تھی یہی وجہ ہے کہ اُن کی اولاد میں کوئی پاکیزہ ہوتا ہے کوئی خرا ب ہوتا ہے کوئی سفید فام ہوتا ہے کوئی سیاہ فام ہوتا ہے کوئی نرم ہوتا ہے کوئی سخت ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اُن میں اپنی روح پھونکی اور اُنہیں اپنی جنت میں ٹھہرایا اور فرشتوں کو حکم دیا تو اُنہوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے عہد لیا پھر وہ بھول گئے تو اُن کا نام انسان رکھا گیا اس دن میں سورج غروب ہونے تک وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رہے یہاں تک کہ اللہ تعایٰ نے اُنہیں وہاں سے نکال دیا۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَبَا عَبَّاسٍ، السَّاعَةُ الَّتِي تُذْكَرُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door of the hour on a Friday · Hadith 5581

مصنف عبدالرزاق · كتاب فضائل القرآن ‹ بَابُ تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَفَضْلِهِ · حديث 5999

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيْتُ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ يَكْثُرُ خَيْرُهُ، وَيُوَسَّعُ عَلَى أَهْلِهِ، وَيَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَيَهْجُرُهُ الشَّيَاطِينُ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَا يُقْرَأُ فِيهِ يُضَيَّقُ عَلَى أَهْلِهِ، وَيَقِلُّ خَيْرُهُ، وَيَهْجُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَيَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَيُثَوَّرُ فِيهِ يُضِيءُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا يُضِيءُ النَّجْمُ الْأَرْضَ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَيُصَلَّى فِيهِ كَمَا [ص:370] يَتَرَاءَى أَهْلُ الدُّنْيَا الْكَوْكَبَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ

5999 - حضرت عبدالرحمٰن بن ثابت روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اُس میں بھلائی زیادہ ہوتی ہے اور اُس کے اہل خانہ کو زیادہ رزق عطا ء کیا جاتا ہے وہاں فرشتے موجود ہوتے ہیں شیاطین اُس گھر میں سے دور ہو جاتے ہیں اور وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ اہل خانہ کے لیے تنگ ہوتا ہے ا ُس میں بھلائی کم ہوتی ہے فرشتے اُس سے لاتعلق رہتے ہیں شیاطین وہاں حاضر رہتے ہیں اور جس گھر میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور اُس میں اس کے معانی پر بحث کی جاتی ہے تو اُس کی روشنی اہل آسمان کے لیے یوں ہوتی ہے جس طرح ستارے کی روشنی اہل زمین کے لیے ہوتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تاریکی میں مسجد کی طرف چل کر آنے والوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور کی خوشخبری دے دو۔ معمر بیان کرتے ہیں: میں نے اہل مدینہ میں سے ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اہل آسمان اُس گھر کو اہتمام سے دیکھتے ہیں جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور جس میں نماز ادا کی جاتی ہے جس طرح دنیا میں رہنے والے لوگ آسمان میں موجود ستارے کو دیکھتے ہیں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← لَيْثٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Virtues of the Qur’an › Chapter on teaching the Qur’an and its virtue · Hadith 5999

مصنف عبدالرزاق · كتاب فضائل القرآن ‹ بَابُ تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَفَضْلِهِ · حديث 6024

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَعَدُوا عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ عَلَيْهِ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ لِي سُورَةَ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ إِنَّهُ كَانَ يَقُومُ عَلَيْنَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ بَطْنِهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ عَلَيْهِ إِنَّهُ أَوْعَى فِيَّ سُورَةَ الْمُلْكِ، فَسُمِّيَتِ الْمَانِعَةَ "

6024 - حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہوا عذاب کے فرشتے آئے اور اُس کے سرہانے آکر بیٹھے تو سر نے کہا: تم اس پر کوئی قابو نہیں پا سکتے کیونکہ یہ میری خاطر سورہ ملک کی تلاوت کرتا تھا وہ فرشتے اُس کے پاؤں کے پاس آکر بیٹھ گئے تو پاؤں نے کہا: تم اس پر قابو نہیں پا سکتے کیونکہ یہ ہم پر کھڑا ہو کر سورہ ملک کی تلاوت کرتا تھا فرشتے اُسے پیٹ کے پاس آکر بیٹھے تو پیٹ نے کہا : تم اس پر قابو نیں پاسکتے کیونکہ اس نے میرے اندر سورہ ملک کو محفوظ کیا تھا تو اس سورت کو رکاوٹ کا نام دیا گیا ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ مَاتَ رَجُلٌ فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَعَدُوا عِنْدَ رَأْسِهِ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Virtues of the Qur’an › Chapter on teaching the Qur’an and its virtue · Hadith 6024

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ · حديث 6050

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ فَسَمِعَ بُكَاءً مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحْضُرُ الْمَيِّتَ فَتُؤَمِّنَ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُهُ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَشْخَصُ لِلرُّوحِ» وَأَغْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سَلَمَةَ

حضرت قبیصہ بن ذؤیب بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضرت ابو سلمہ کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھے نبی اکرمﷺ نے پردہ کے پیچھے سے رونے کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا : فرشتے میت کے قریب موجود ہوتے ہیں تو اہل خانہ جو کہتے ہیں فرشتے اُس پر آمین کہتے ہیں۔ بینائی روح کے پیچھے جاتی ہے ۔ پھر نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو سلمہ کی آنکھیں بند کر دیں۔

«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحْضُرُ الْمَيِّتَ فَتُؤَمِّنَ عَلَى مَا ← بُكَاءً مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door to unclean the dead · Hadith 6050

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْمَرْءِ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، وَحُرُوفِ الْمَيِّتِ إِلَى الْقِبْلَةِ · حديث 6065

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، سَمِعْتُهُ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ وَجَّهُوا آدَمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، ثُمَّ غَمَّضُوهُ»

حسن بصری فرماتے ہیں: جب آدمی کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے اُس کا رُخ کعبہ کی طرف پھیر دیتے ہیں پھر وہ اُس کی آنکھیں بند کر تے ہیں۔

«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ وَجَّهُوا آدَمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، ثُمَّ غَمَّضُوهُ» ← الْحَسَنِ، ← أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door to washing a person when death comes to him, and the letters of the dead to the qiblah · Hadith 6065

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْمَوْتِ · حديث 6066

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوِ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ»

سیدہ اُم سلمہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی میت یا مریض کے پاس موجود ہو تو تم بھلائی کی بات کرو کیونکہ تم جو کہتے ہو فرشتے اُس پر آمین کہتے ہیں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of words at death · Hadith 6066

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْمَوْتِ · حديث 6067

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، وَوَافَقَ دُخُولَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُرُوجُ نَفْسِهِ، فَسَمِعَ بُكَاءً فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحْضُرُ الْمَيِّتَ»، أَوْ قَالَ: «أَهْلَ الْبَيْتِ، فَيُؤَمِّنُوا عَلَى دُعَائِهِمْ»، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ذُنُوبَهُ، وَأَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَأَعْظِمْ نُورَهُ، وَأَضِئْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، اللَّهُمَّ ارْفَعْ دَرَجَةَ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَهُ رَبَّ الْعَالَمِينَ» [ص:394]، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْبَصَرَ شَخَصٌ لِلرُّوحِ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى شُخُوصِ عَيْنَيْهِ؟»

6067 - ابو قلابہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضرت ابو سلمہ کے پاس تشریف لائے جو بیمار تھے نبی اکرمﷺ داخل ہوئے تو اسی دوران اُن کی جان نکل گئی آپ نے رونے کی آواز سنی تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بارے میں صرف بھلائی کر دعا کرنا کیونکہ فرشتے میت کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ گھر والوں کے پا موجود ہوتے ہیں اور وہ گھر والوں کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ دعا کی : اے اللہ! تو اس کے گناہوں کی مغفرت کر دے ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے ! اس کے نور کو زیادہ کر دے ! اس کے لیے اس کی قبر کو روشن کر دے ! اے اللہ! ہدایت یا فتہ لوگوں میں ابو سلمہ کے درجہ کو بلند کر دے اور پیچھے رہنے والوں میں اُن کا کارساز بن جا! اے تمام جہانوں کے پروردگار ! تو اس کی مغفرت کر دے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بینائی روح کے پیچھے جاتی ہے کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو کہ اس کی آنکھیں اوپر کی طرف اُٹھی ہوئی ہیں۔

بكاء ← وَافَقَ دُخُولَ النَّبِيِّ خُرُوجُ نَفْسِهِ، ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of words at death · Hadith 6067

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّعْزِيَةِ · حديث 6073

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ صِحِيفَةً مَرْبُوطَةً بِقِرَابِ صَفْوَانَ أَوْ بِسَيْفِهِ، وَإِذَا فِيهَا: هَذَا مَا سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ رَبَّهُ: " أَيْ رَبِّ، مَا جَزَاءُ مَنْ يَبُلُّ الدَّمْعُ وَجْهَهُ مِنْ خَشْيَتِكَ؟ قَالَ: «صَلَوَاتِي»، فَقَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ يُصَبِّرُ الْحَزِينَ ابْتِغَاءً لِوَجْهِكَ؟ قَالَ: «أَكْسُوهُ ثِيَابًا مِنَ الْإِيمَانِ يَتَبَوَّأُ بِهَا الْجَنَّةَ وَيَتَّقِي بِهَا النَّارَ» قَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ [ص:396] يَسُدُّ الْأَرْمَلَةَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ؟ قَالَ: وَمَا يَسُدُّ؟ قَالَ: يَرْوِيهَا أُقِيمُهُ فِي ظِلِّي وَأُدْخِلُهُ جَنَّتِي " قَالَ: فَمَا جَزَاءُ مَنْ تَبِعَ الْجِنَازَةَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ؟ قَالَ: «يُصَلِّي مَلَائِكَتِي عَلَى جَسَدِهِ وَيُشَيِّعُ رُوحَهُ» قَالَ: وَكَانَ فِيهِ عِيَادَةُ الْمَرِيضِ فَنَسِيتُهَا قَالَ: فَأَتَى يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ فَأَخَذَهَا مِنِّي

6073 – عثمان بن اسود بیان کرتے ہیں: اُمیہ بن صفوان نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے حضرت صفوان کے مشکیزہ یا تلوار کے ساتھ ایک صفیحہ بندھا ہوا دیکھا اُس میں یحریر تھا : یہ وہ چیز ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنے پروردگار سے مانگی تھی اُنہوں نے کہا تھا : اے میرے پروردگار ! اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جس کا چہرہ تیری خشیت کی وجہ سے آنسوؤں سے تر ہو جائے ؟ تو پر ور دگار نے فرمایا: میری رحمت ! حضرت ابراہیم نے سوال کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کے حصول کے لیے غمگین شخص کو صبر کی تلقین کرتا ہے ؟ تو پروردگا رنے فرمایا: میں اُسے ایمان کا لباس پہناؤں گا جس کے ذریعہ وہ جنت میں ٹھکانہ حاصل کرے گا اور جس کے ذریعہ جہنم سے بچ جائے گا ۔ حضرت ابراہیم نے دریافت کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کی خاتر بیوہ عورتوں کی دیکھ بھال کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے اُستاد سے دریافت کیا: لفظ یسد کا کیا مطلب ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اُن کی دیکھ بھال کرنا ۔ میں اپنے سایہ رحمت میں اُس کی دیکھ بھال کروں گا اور اُسے اپنی جنت میں داخل کروں گا ۔ حضرت ابراہیم نے دریافت کیا: اُس شخص کی اجزا کیا ہو گی ؟ جو تیری رضا کے حصول کی خاطر جنازہ کے ساتھ جائے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا: میرے فرشتے اُس کے جسم پر رحمت نازل کریں گے اور اُس کی روح کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں: اس روایت میں بیمار شخص کی عیادت کرنے والے شخص کی اجزا کا بھی ذکر تھا لیکن وہ بات میں بھول گیا پھر یحییٰ بن سعدہ آئے تو اُنہوں نے یہ روایت مجھ سے حاصل کی۔

عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The section of condolences · Hadith 6073

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 6086

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ آدَمُ رَجُلًا أَشْعَرَ طُوَالًا آدَمَ، كَأَنَّهُ نَخْلَةٌ سَحُوقٌ، وَإِنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْوَفَاةُ نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ بِحَنُوطِهِ وَكَفَنِهِ مِنَ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا مَاتَ غَسَّلُوهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ ثَلَاثًا، وَجَعَلُوا فِي الثَّالِثَةِ كَافُورًا، وَكَفَّنُوهُ فِي وِتْرِ ثِيَابٍ، وَحَفَرُوا لَهُ لَحْدًا وَصَلَّوْا عَلَيْهِ»، وَقَالُوا: هَذِهِ سُنَّةُ وَلَدِ آدَمَ مِنْ بَعْدِهِ

6086 - حضرت اُبی بن کعب نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حضرت آدم گندمی رنگت کے آدمی تھے اُن کے بال زیادہ تھے اور قد بھی لمبا تھا یوں جیسے وہ کھجور کا لمبا درخت ہوتے ہیں جب اُن کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرشتے جنت سے اُن کو لگانے والی خوشبو اور اُن کا کفن لے کر نازم ہوئے جب اُن کا انتقال ہوا تو فرشتوں نے اُنہیں پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعہ تین مرتبہ غسل دیا اور تیسری مرتبہ اُس میں کافور شامل کر لیا فرشتوں نے اُنہیں طاق تعداد میں کفن دیا اور اُن کے لیے لحد تیار کی اور اُن کی نماز جنازہ ادا کی۔ علما فرماتے ہیں: حضرت آدم کے بار اُن کی اولاد میں یہی معمول ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door to the washing of the dead · Hadith 6086

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ · حديث 6088

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: «نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ حِينَ حَضَرَ آدَمَ الْوَفَاةُ، فَلَمَّا رَآهُمْ عَرَفَهُمْ، فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ وَبَنُوهُ يَنْظُرُونَ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ [ص:401]، قَالَ: وَقَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ غَيْرَ ثَابِتٍ يَقُولُ: ثُمَّ قَالُوا: «هَذِهِ سُنَّةُ وَلَدِكَ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي الْمَيِّتِ يُغَسَّلُ، قَالَ: «يُوضَعُ خِرْقَةٌ عَلَى وَجْهِهِ، وَأُخْرَى عَلَى فَرْجِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَضِّئَهُ كَشَفَ الْخِرْقَةَ الَّتِي عَلَى وَجْهِهِ، فَيُوَضِّئَهُ بِالْمَاءِ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغَسِّلُهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ مَنْ رَأْسِهِ إِلَى قَدَمِهِ، يَبْدَأُ بِمَيَامِنِهِ، وَلَا يَكْشِفُ الْخِرْقَةَ الَّتِي عَلَى فَرْجِهِ، وَلَكِنَّهُ يَُلُّف عَلَى يَدِهِ خِرْقَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْسِلَ فَرْجَهُ، فَيَغْسِلَ مَا تَحْتَ الْخِرْقَةِ الَّتِي عَلَى فَرْجِهِ بِمَاءٍ، وَإِذَا غَسَّلَهُ مَرَّتَيْنِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ، غَسَّلَهُ مَرَّةً ثَالِثَةً بِمَاءٍ فِيهِ كَافُورٌ، وَالْمَرْأَةُ كَذَلِكَ، فَإِذَا َفَرَغَ الْغَاسِلُ اغْتَسَلَ بِالْمَاءِ شَيْءٌ مِنْ كَافُورٍ وَشَيْءٌ مِنْ سِدْرٍ هُشِّمَ أَوْ وَرَقٍ، يَبْدَأُ بِلِحْيَةِ الْمَيِّتِ قَبْلَ رَأْسِهِ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: «رَأَيْتُهُ غَسَّلَ مَيِّتًا فَجَفَّفَ رَأْسَهُ بِالْمِجْمَرِ»

6088 - ثابت بنانی بیان کرتے ہیں: جب حضرت آدمی کی وفات کا قریب آیا تو فرشتے نازل ہوئے جب حضرت آدم نے اُنہیں دیکھا تو اُنہیں پہچان لیا اُن فرشتوں نے حضرت آدم کی روح کو قبض کیا اُنہیں غسل دیا اُنہیں کفن دیا اُن کی نماز جنازہ ادا کی اُن کو دفن کیا جبکہ حضرت آدم کے بچے یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ معمر بیان کرتے ہیں: میں نے ثابت کے علاوہ لوگوں کویہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے پھر ان فرشتوں نے یہ کہا: یہ آپ کی اولاد کے لیے سنت ہے ۔ ابن سیرین میت کو غسل دینے کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ایک کپڑا اُس کے چہرے پر رکھا جائے گا اور دوسرا کپڑا اُس کی شرمگاہ پر رکھا جائے گا جب آدمی میت کو غسل کرواے کا ارادہ رکے گا تو اُس کے چہرے پر موجود کپڑے کو ہٹا دے گا پھر اُسے وضو کروائے گا جس طرح نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے پھر وہ میت کے سر سے لے کر پاؤں تک اُسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعہ دھوئے گا وہ دائیں طرف کے اعضا ء سے آغاز کرتا ہے لیکن جب وہ اُسکی شرگاہ کو دھونے کا ارادہ کرے گا تو اپنے ہاتھ پر ایک کپڑا لپیٹ کر اُس کپڑے کے نیچے سے دھو دے گا جو اُسکی شرگاہ پر موجود ہے اور اُسے پانی کے ذریعہ دھوئے گا جب آدمی اُسے د مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعہ غسل دیدے گا تو تیسری مرتبہ پانی کے ذریعہ غسل دیدے گا جس میں کافور ملا ہوا ہو گا خاتون کا حکم بھی اسی طرح ہے جب غسل دینے والا فارغ ہو گا تو وہ کافور والا کچھ پانی لے کر بیری کے پتے لے کر اُنہیں ملائے گا اور میت کے سر سے پہلے میت کی داڑھی پر لگائے گا ۔ معمر ایوب کے بارے میں نقل کرتے ہیں: میں نے اُنہیں ایک میت کو غسل دیتے ہوئے دیکھا تو اُنہوں نے میت کے سر کو انگیٹھی کے ذریعہ خشک کیا۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The door to the washing of the dead · Hadith 6088

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ وَقْعَةُ حُنَيْنٍ · حديث 9741

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ ـ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: بَيْضَاءَ ـ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نَعَامَةَ الْجُذَامِيُّ قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارَ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْكِضُ بَغْلَتَهُ نَحْوَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ: وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا، وَهُوَ لَا يَأْلُو [ص:380] مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمْرَةِ» قَالَ: وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمْرَةِ؟ قَالَ: فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةَ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا، يَقُولُونَ: يَا لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ، وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ، فَاقْتَتَلُوهُمُ وَالْكُفَّارُ، فَنَادَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصُرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ» قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ: «انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا، وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا، حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ يَوْمَئِذٍ كَانَ عَلَى الْخَيْلِ، خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ أَزْهَرَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ، وَرَجَعَ [ص:381] الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ، يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ وَيَقُولُ: «مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ؟» فَمَشَيْتُ ـ أَوْ قَالَ فَسَعَيْتُ ـ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا غُلَامٌ مُحْتَلِمٌ أَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ؟ حَتَّى دُلِلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا خَالِدٌ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤَخِّرَةِ رَحْلِهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَى يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ آلَآفِ سَبْيٍ مِنِ امْرَأَةٍ وَغُلَامٍ، فَجَعَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ هَوَازِنُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُهُمْ، وَقَدْ سُبِيَ مَوَالِينَا، وَنِسَاؤُنَا، وَأُخِذَتْ أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَمَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْقَوْلِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، إِمَّا الْمَالُ، وَإِمَّا السَّبْيُ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا إِذَا خَيَّرْتَنَا بَيْنَ الْمَالِ وَبَيْنَ الْحَسَبِ فَإِنَّا نَخْتَارُ الْحَسَبَ ـ أَوْ قَالَ: مَا كُنَّا نَعْدِلُ بِالْحَسَبِ شَيْئًا ـ فَاخْتَارُوا نِسَاءَهُمْ وَابْنَاءَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُوا مُسْلِمَيْنَ أَوْ مُسْتَسْلِمِينَ، وَإِنَّا قَدْ خَيَرْنَاهُمْ بَيْنَ الذَّرَارِيِّ وَالْأَمْوَالِ فَلَمْ يَعْدِلُوا بِالْأَحْسَابِ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ تَرُدُّوا لَهُمْ أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكْتُبَ عَلَيْنَا حِصَّتَهُ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى [ص:382] نُعْطِيَهُ مِنْ بَعْضِ مَا يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ» قَالَ: فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَأْمُرُوا عُرَفَاءَكُمْ فَلْيَرْفَعُوا ذَلِكَ إِلَيْنَا» فَلَمَّا رُفِعَتِ الْعُرَفَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّاسَ قَدْ سَلَّمُوا ذَلِكَ، وَأَذِنُوا فِيهِ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَوَازِنَ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ وَخَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءً كَانَ أَعْطَاهُنَّ رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ أَنْ يَلْبَثْنَ عِنْدَ مَنْ عِنْدَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَبَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَخُيِّرَتْ فَاخْتَارَتْ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا وَتَرَكَتْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَكَانَ مُعْجَبًا بِهَا، وَأُخْرَى عِنْدَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَاخْتَارَتْ أَهْلَهَا قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَسَمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ بَعْدَمَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الْحِجَّةِ قَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسَلِّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ» قَالَ [ص:383]: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ نَفَرًا الْمُنْذِرَ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ الْمُعْنِقُ لَيَمُوتَ، وَفِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ وَأَبَوْ أَنْ يُخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ قَالَ: فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَأَطَاعُوهُ فَاتَّبَعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ فَأَرْسَلُوهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمِنْ بَيْنِهِمْ؟» قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبَلَغَنِي أَنَّهُمْ لَمَّا دَفَنُوا الْتَمَسُوا جَسَدَ عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، فَيَرَوْنَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ دَفَنَتْهُ

زہر ی بیان کرتے ہیں: حضرت عباس بن عبدالمطلب کے صاحبزادے کثیر نے اپنے والد حضرت عباس کا یہ بیان نقل کیا ہے : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ صرف میں تھا اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب تھے ہم نبی اکرمﷺ کےساتھ رہے ہم آپ سے الگ نہیں ہوئے آپ اپنےسفید خچر پر سوار تھے جو فروہ بن نعامہ جذامی نے آپ کو تحفہ کے طور پر دیا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں: عبدالرحمٰن بن ازہر نے یہ بات نقل کی ہے : حضرت خالد بن ولید اُس دن گھڑ سواروں کے امیر تھے یعنی نبی اکرمﷺ کے گھڑ سواروں کے امیر تھے ۔ ابن ازہر بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو پسپا کر دیا تو میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ مسلمان اپنی رہائشی جگہوں کی طرف پلٹ کر جا رہے تھے تو نبی اکرمﷺ مسلمانوں کے درمیان چل رہے تھے اور دریافت کر رہے تھے : خالد بن ولید کی رہائشی جگہ کی طرف کون مجھےلے کر جائے گا ؟ راو ی کہتے ہیں: میں چلتا ہوا یا دوڑتا ہوا نبی اکرمﷺ کے سامنے آیا میں نے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت خالد کی رہائشی جگہ کی طرف کون رہنمائی کرے گا ؟ ہماری رہنمائی اُن کی طرف کی گئی تو خالد نے اپنے پالان کے پچھلے حصہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرمﷺ اُن کے پاس تشریف لائے نبی اکرمﷺ نے اُن کے زخم کاجائزہ لیا۔ زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھےیہ بات بتائی ہے : اُس موقع پر نبی اکرمﷺ نے چھ ہزار عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور آپ نے ابو سفیان بن حرب کو اُن کا نگران مقرر کیا۔ ب قبیلوں کے بڑے نبی اکرمﷺ کے سامنے پیش کیے گئے تو اُنہوں نے عرض کی: تمام لوگوں نے اس سے دست برداری اختیار کی ہے اور اس بات کی اجازت دی ہے کہ ہوازن قبیلہ کے لوگوں کو اُن کے بچہ اور عورتیں دیدیں ۔ البتہ نبی اکرمﷺ نے قریش کے کچھ افراد کو جو خواتین عطا ء کی تھیں آپ نے اُن خواتین کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو قریش کے اٗن افراد کے پاس رہیں اور اگر چاہیں تو اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائیں۔ زہر ی بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی اکرمﷺ نے مال غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا اُس کے بعد آپ نے غزوہ حنین سے واپسی پر جعرانہ سے عمرہ کیا پھر آپ مدینہ منورہ چلے گئے اُس سال حج کے موقع پر آپ نے حضرت ابو بکر کو امیر بنا کر بھیجا ۔زہری بیان کرتے ہیں: عروہ بن زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے : جب وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں واپس آئے تو نبی اکرمﷺ نے اُن سے دریافت کیا: کیا اُن لوگوں کے درمیان سے ؟ زہری بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : جب اُن لوگوں نے اُنہیں دفن کیا تو اُن لوگوں نے عامر بن فہیرہ کے جسم کو تلا ش کیا تو وہ اُنہیں نہیں مل سکا تو وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ فرشتوں نے اُنہیں دفن کر دیا ہو گا ۔

أبيه العباس ← كَثِيرِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The episode of Hanin · Hadith 9741

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابِ ‹ الصَّابِئُونَ · حديث 10206

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «الصَّابِئُونَ قَوْمٌ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَيُصَلُّونَ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَيَقْرَءُونَ الزَّبُورَ»

معمر نے قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے : صابی وہ لوگ ہوتے ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور زبور پڑھتے ہیں۔

«الصَّابِئُونَ قَوْمٌ يَعْبُدُونَ الْمَلَائِكَةَ، وَيُصَلُّونَ إِلَى الْقِبْلَةِ، وَيَقْرَءُونَ الزَّبُورَ» ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Book › The Sabeans · Hadith 10206

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَخَرَجَ مِنْهُ · حديث 1669

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ: مَا تَقُولُ إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالَ: «أَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَصَلَّى اللَّهُ، وَمَلَائِكَتُهُ عَلَى مُحَمَّدٍ»

سعید بن ذی حدان بیان کرتے ہیں:میں نے علقمہ سے دریافت کیا: جب آپ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو کیا پڑتھے ہیں؟ اُنہوں نے یہ جواب دیا : میں یہ پڑھتا ہوں: اے نبی ! آپ پر سلام ہو ! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اُ س کی برکتیں نازل ہوں: اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے حضرت محمد پر درود نازل کریں۔

سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ: مَا تَقُولُ إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ ← سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ؛ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of what he says when he enters the mosque and leaves it · Hadith 1669

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي بِإِقَامَةٍ وَحْدَهُ · حديث 1951

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِذَا كَانَ الرَّجُلُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَأَذَّنَ، وَأَقَامَ وَصَلَّى صَلَّى مَعَهُ أَرْبَعَةُ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ أَرْبَعَةُ آلَافِ أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ»

1951 - حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: جب کوئی شخص بے آبوگیا جگہ پر موجود ہو پھر وہ اذان دے اقامت کہے اور نماز ادا کرے تو اس کے ساتھ چا ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← رَجُلٌ: ← مَنْصُورٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Man’s gate praying while standing by himself · Hadith 1951

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي بِإِقَامَةٍ وَحْدَهُ · حديث 1952

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَأَقَامَ صَلَّى مَعَهُ مَلَكَاهُ، وَإِذَا أَذَّنَ، وَأَقَامَ صَلَّى مَعَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ كَثِيرٌ»

1952 – طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص اقامت کہہ کر نماز ادا کرتا ہے تو اس کے ساتھ دو فرشتے نماز ادا کرتے ہیں اور جب کوئی شخص اقامت کہہ کر نماز ادا کرتا ہے تو اُس کے ساتھ بہت سے فرشتے نما ز ادا کرتے ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Man’s gate praying while standing by himself · Hadith 1952

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي بِإِقَامَةٍ وَحْدَهُ · حديث 1953

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: «إِذَا أَقَامَ الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ صَلَّى مَعَهُ مَلَكَاهُ، وَإِذَا أَذَّنَ، وَأَقَامَ صَلَّى مَعَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا شَهِدَ الْأَرْضَ»

1953 – مکحول فرماتے ہیں: جب کوئی شخص صرف اپنے لیے اقامت کہتا ہے تو اُس کے ساتھ دو فرشتے نما ز ادا کرتے ہیں اور جب وہ شخص اذان دے اور اقامت کہے تو اُس کے ساتھ زمین پر موجود تمام فرشتے نماز ادا کرتے ہیں۔

مَكْحُولٌ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Man’s gate praying while standing by himself · Hadith 1953

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصَلِّي بِإِقَامَةٍ وَحْدَهُ · حديث 1954

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: «مَنْ صَلَّى بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَأَقَامَ صَلَّى، عَنْ يَمِينِهِ مَلَكٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ مَلَكٌ وَمَنْ أَذَّنَ، وَأَقَامَ صَلَّى مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ»

1954 – سعید بن مسیب فرماتے ہیں: جو شخص بے آب و گیا ہ جگہ پر نماز ادا کرتے ہوئے اقامت کہے تو اُس کے دائیں طرف ایک فرشتہ نماز ادا کرتا ہے اور بائیں طرف ایک فرشتہ نماز ادا کرتا ہے اور جو شخص اذان بھی دے اور اقامت بھی کہے تو اُس کے ساتھ پہاڑوں جتنے فرشتے نماز ادا کرتے ہیں۔

يَمِينِهِ مَلَكٌ، ← «مَنْ صَلَّى بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَأَقَامَ صَلَّى، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Man’s gate praying while standing by himself · Hadith 1954

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ · حديث 1994

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَاطُ أَفْضَلُ الرِّبَاطِ الصَّلَاةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَلُزُوَمُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ، مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي، ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُحْدِثَ»

1994 – حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین تیاری پہلی نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ہے ذکر کی محافل میں شریک ہونا ہے جو بھی شخص نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھا رہے تو فرشتے اُسکے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ شخص بے وضو نہیں ہوتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← محمد بن أبي حميد ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of the Witnesses of the Congregation · Hadith 1994

chevron_left Previous
1…353637…694
Next chevron_right