حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی تھا کہ آپ ایک جھونپڑی میں رہنے لگے تھے اور آپ بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے طور پر پتھر کے کھدے ہوئے ایک برتن میں کھاتے پیتے تھے جیسا کہ چوپائے اس برتن میں منہ لگا کر پانی وغیرہ پیتے ہیں ۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ساتھ ہم کلامی کے شرف سے سرفراز فرمایا ۔ آپ کی وفات کے واقعات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اپنے کسی کام کے لئے اس جھونپڑی میں سے باہر نکلے ۔ اس بات کا علم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کسی کو نہ تھا۔ آپ فرشتوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے وہ ایک قبر کھود رہے تھے۔ آپ نے ان کو پہچان لیا اور ان کی طرف چل دیئیے اور ان کے پاس آکر کھڑے ہوگئے ۔ یہ قبر کھود رہے تھے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قبر میں جو سبزہ ،خوبصورتی اورسجاوٹ دیکھی ، اس جیسی عمدگی کہیں نہ دیکھی تھی۔ آپ نے فرشتوں سے پوچھا : تم لوگ یہ قبر کس کے لئے کھود رہے ہو؟ فرشتوں نے کہا : ایک بندے کے لئے کھود رہے ہیں جو اپنے رب کی بارگاہ میں بہت عزت والا ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : وہ بندہ اپنے رب کی طرف سے ایسے مرتبے پر فائز ہے کہ میں نے آج تک ایسا مقام اور ٹھکانہ نہیں دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کی موت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے کچھ حجابات اٹھ گئے تھے۔ فرشتوں نے آپ سے کہا : اے صفی اللہ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ مقام و مرتبہ آپ کو ملے ؟ آپ نے فرمایا : بالکل چاہتا ہوں ۔ فرشتوں نے کہا : تو آپ اس میں اتر کر لیٹ جائیں اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو جائیں اور اتنے آرام سے سانس لیں کہ کبھی بھی اتنے آرام سے سانس نہ لیا ہو، چنانچہ آپ اس میں اتر کر لیٹ گئے اور اپنے رب کی جانب متوجہ ہو گئے اور اسی طرح سانس لینے لگے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمالی۔ پھر فرشتوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام دنیا سے بے رغبت اور آخرت میں دلچسپی رکھنے والے تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the death of Moses, peace be upon him · Hadith 4112
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور رسالت کےلئے حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام کو منتخب فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ نور اور حکمت جمع فرمائی اور اپنی طرف سے ان کے لئے زبور کا اضافہ فرمایا ۔ حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام نے ستر سال حکومت کی ۔ آپ نے لوگوں کو انصاف دلایا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علم و حکمت سے ان میں درست فیصلے فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ کا تابوت اٹھاتے تھے۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے علم اور نورکے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کے حلال کو نافذ فرماتے اور اس کے حرام سے روکتے رہے ۔حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی جانب وحی فرمائی کہ وہ اپنا ظاہر باطن تمام نور اور حکمت اپنے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو دے دیں ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4135
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی " اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آگئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ ( قریبی مرد رشتہ دار ) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے ، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہواور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ کر ۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے : اے میرے رب ! مجھے اپنے سے دے ستھری اولاد ، بے شک تو ہی دعا سننے والا ۔ اور کہا: اے اللہ ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی ۔ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے ، اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام اپنی نماز پڑھ رہے تھے ( یہ آواز دی ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا ۔ اور فرشتوں نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی ۔ توحضرت زکریا علیہ السلام ک وشک پیدا ہوگیا اور کہنے لگے : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے ، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4146
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بلند بانگ یمنی دیہاتی اپنی سرخ اونٹنی پر آیا ۔ اس نے مسجد کے دروازے پر اونٹنی کو بٹھایا اور اندر آگیا ۔ سلام کرکے بیٹھ گیا ۔ جب اس نے کام پورا کرلیا تو لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس دیہاتی کے پاس جو اونٹنی ہے یہ اس نے چوری کی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی گواہ ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : اے علی اگر گواہوں سے ثابت ہو جائے تو اس دیہاتی سے اللہ کا حق لے لو، اور اگر گواہوں سے ثابت نہ ہو تو اس کو واپس کردو ۔ وہ دیہاتی کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھا رہا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! اللہ تعالیٰ کے حکم کے لئے اٹھو۔ نہیں تو اپنی دلیل پیش کرو۔ تو دروازے کے باہر سے اونٹنی بولی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت و کرامت کے ساتھ بھیجا ہے، اس نے مجھے چرایا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی دوسرا میرا مالک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے دیہاتی ! تجھے اس ذات کی قسم ! جس نے اس کو تیرے حق میں گویائی بخشی ہے ، تو نے کیا دعا مانگی تھی؟ اس نے کہا : میں نے یہ دعا مانگی تھی: اے اللہ ! تو ایسا رب نہیں ہے کہ میں نے تجھے نیا بنایا ہے اور نہ ہی تیرے ساتھ کوئی دوسرا اللہ ہے جس نے ہماری تخلیق میں تیری مدد کی ہو اور نہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا رب ہے کہ ہم تیری ربوبیت میں شک کریں ، تو ہی ہمارا رب ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور تو اس بھی بلند و برتر ہے جو کہنے والے کہتے ہیں ۔ میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ تو محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بری فرما۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے عزت کے ساتھ بھیجا ہے، اے اعرابی : میں نے گلیوں کے کونوں پر فرشتوں کو تیری طرف جلدی جلدی آتے دیکھا ، وہ تیری اس دعا کو لکھ رہے تھے۔لہذا مجھ پر کثرت سے درودشریف پڑھا کر ۔ اس حدیث کے از اول تا آخر تمام راوی ثقہ ہیں اور اس یحییٰ بن عبداللہ المصری کے بارے میں جرح و عدالت کے حوالے سےمجھے معلومات نہیں ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4236
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4348
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر فخر ہوا۔ تو حضرت جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اللہ تعالی نے جعفر رضی اللہ عنہ کوخون سے رنگے ہوئے سرخ رنگ کے دو پر عطافرمائے ہیں وہ ان کے ساتھ ملائکہ کے ہمراہ پرواز کرتے رہتے ہیں ۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس حدیث کی متعد دسند یں موجود ہیں لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو فرشتوں نے آپ کو گھیر لیا۔ لوگوں کو ان کی موجودگی کا احساس تو ہوتا تھالیکن وہ نظرنہیں آرہے تھے۔ فرشتوں نے اہل خانہ کوسلام کے بعد کہا: بے شک اللہ تعالی ہر مصیبت پر سہارا دیتا ہے اور ہرفوت شدہ کا نعم البدل دیتا ہے۔ تم ان کو اللہ کے حوالے کر دو اور اس کی بارگاہ سے خیر کی امید رکھو ۔ کیونکہ محروم تو وہ ہے جوثواب سے محروم رہا۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت آیا تو ہم نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی نماز جنازہ کون پڑھائے؟ تو آپ رو پڑے ،اور ہم لوگ بھی رو پڑے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حوصلہ کر و ،اللہ تعالی تمہاری مغفرت فرمائے ،اورتمہارے نبی کے صدقے تمہیں جزائے خیر دے، جب تم مجھے غسل اور کفن وغیر ہ دے کر مجھے تیار کر چکوتو مجھے میری قبر کی لحد میں اتار دینا۔ پھر کچھ دیر کے بعد مجھے وہاں سے نکال لینا۔سب سے پہلے میرا جنازہ میرے دوست حضرت جبرائیل علیہ السلام پڑھیں گے، پھر حضرت میکائیل علیہ السلام پڑھیں گے، پھر حضرت اسرافیل علیہ السلام پڑھیں گے، پھر ملک الموت علیہ السلام ملائکہ کی جماعتوں کے ہمراہ میرا جنازہ پڑھیں گے، پھر سب سے پہلے میرے گھر والوں میں سے مردحضرات میرا جنازہ پڑھیں گے ، پھران کی عورتیں پھرتم جماعت در جماعت اورا کیلے اکیلے ( جیسے بھی بن پڑے) آتے رہنا۔لیکن روروکر ، چلا چلا کر اور چیخ و پکار کر کے مجھے تکلیف مت دینا۔ میرے جوصحا بہ موجودنہیں ہے ان کو میری طرف سے سلام پہنچادینا بے شک میں تم سب کو اس بات پر گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے ہر اس شخص کو سلام دیا ہے جو آج سے لیکر قیامت تک اسلام میں داخل ہوگا اور جو میرے دین میں میری پیروی کرے گا ۔اس سند میں جوعبد الملک بن عبدالرحمٰن ہیں یہ مجہول ہیں ، ان کی عدالت اور جرح کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے ۔ تا ہم باقی تمام راوی ثقہ ہیں ۔
محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: میں بدر کے کنوئیں سے پانی نکال رہا تھا کہ ایک اتنی سخت آندھی آئی کہ میں نے اس جیسی آندھی اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ پھر وہ ختم ہوگئی ، پھراسی طرح کی آندھی آئی کہ میں نے اس سے پہلے اس جیسی آندھی کبھی نہ دیکھی تھی ۔ پھروہ ختم ہوگئی ( تیسری مرتبہ) پھر اسی طرح سخت آندھی آئی کہ اس جیسی آندھی میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔ تو جو پہلی آندھی تھی وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ، جو ایک ہزار فرشتوں کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئےتھے ،اور دوسری آندھی حضرت میکائیل علیہ السلام تھے جوایک ہزار ملائکہ کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دہنی جانب نازل ہوئے ، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ہی تھے ۔اور تیسری آندھی حضرت اسرافیل علیہ السلام تھے جو ایک ہزارفرشتوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب نازل ہوئے۔اوراسی جانب والے دستے میں ،میں بھی تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دوچار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کیا ۔ وہ مجھ کو لے کر چل دیا۔ میں پیچھے کی جانب گرنے لگا تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچادیا۔ جب میں اپنے قدموں پر مضبوط ہو گیا تو میں نے اپنے یہ ہاتھ قوم میں ڈال دیئے حتی کہ( اپنے پہلوؤں کی جانب اشارہ کر تے ہوئےفرمایا ) یہ خون سے رنگین ہو گئے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4431
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4502
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، اس وقت نماز ( کی جماعت ) قائم تھی اور تین آدمی (الگ )بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک ’’ابو جحش الیثی‘‘ تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو،ان میں سے دو آدمی اٹھ کر نماز میں شامل ہوگئے جبکہ تیسرے ابو جحش نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوحجش ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو ، اس نے کہا: میں نہیں اٹھوں گاحتی کہ میرے پاس و ہ شخص آئے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اور جس کی پکڑ مجھ سے زیادہ سخت ہو، پھر وہ مجھے پچھاڑے، پھر میرا چہرہ مٹی میں خاک آلود کر دے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس کے قریب آیا، میں اس سے زیادہ طاقتور بھی تھا اور میری پکڑ بھی اس سے زیادہ سخت تھی ۔ میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا۔ اتنے میں حضرت عثان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے جھٹر کا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے سخت غصہ کی حالت میں نکل گئے ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آ پہنچے ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحفص !تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟ عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مسجد کے دروازے پر تین آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ،اس وقت جماعت ہور ہی تھی ۔ابوحجش اللیثی میں ان میں تھے ۔ان میں سے دوتو اٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا ۔اس کے بعد آپ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی حمایت صرف اس لئے کی ہے کہ اس نے ایک رات اس کی مہمان نوازی کی تھی اور عثمان رضی اللہ عنہ اس کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا تھا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ بات سن رہے تھے ۔ آپ بولے : یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ نے وہ باتیں نہیں سنی ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں آپ سے کہی ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگرعمر رضی اللہ عنہ اللہ کی رحمت پر راضی ہوتو میں یہ چاہتا ہوں کہ تو خبیث کو میرے پاس لےآتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے ، جب یہ کچھ دور چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دے کر کہا:عمر رضی اللہ عنہ ،ادھر آؤ ، کہاں جار ہےہو؟ عرض کی: خبیث کا سر آپ کی خدمت میں پیش کر نے کیلئے جا رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو ابو جحش کی نماز کی ضرورت نہیں ہے۔ بے شک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر وقت عاجزی سے سر جھکائے رکھتے ہیں اور یہ قیامت تک سرنہیں اٹھائیں گے ۔ جب قیامت قائم ہو جائے گی تو یہ سر اٹھا کر عرض کر یں گے : اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان دنیاوالوں کا وظیفہ یہ ہے ۔’’سبحان ذی الملك والمكوت ‘‘اور دوسرے آسمان والوں یہ ہے’’سبحان الحی الذي لایموت ‘‘اے عمر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ان وظائف کو شامل کرلو ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو نماز میں کس طریقے سے پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں ایک ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو ،اور یہ دعا مانگنے کا بھی حکم دیا’’اے اللہ میں تیرے عذاب سے تیرے عفوکی پناہ مانگتا ہوں ،اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں ، اور تجھ سے تیری بزرگی کی پناہ مانگتا ہوں‘‘ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4502
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4527
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا ہے’’اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کر تا ہوں ، جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا ، اس دن میری عقل کھوگئ تھی اور یہ عمل مجھے اتنہائی ناگوار گز راتھا،لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئےتھے لیکن میں نے یہ کہہ کر بیعت لینے سے انکار کر دیا’’خدا کی قسم ! مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی قوم سے بیعت لینے سے حیاء آتی ہے جنہوں نے ایسے آدمی کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔اور میں ایسے حالات میں بھی بیعت لینے سے اللہ سے حیاء کرتا ہوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوشہید کر دیا گیا ہے اورابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی ہے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے ، جب حضرت عشان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوچکی تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئےاور بیعت لینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے کہا: حضرت عثان رضی اللہ عنہ کے متعلق جواقدام کیا گیا ہے، میں اس سلسلہ میں بہت ڈررہا ہوں لیکن پھرعزیمت آ گئی تو میں نے ان سے بیعت لے لی ۔لوگوں نے مجھے’’یا امیر المومنین‘‘ کہہ کر مخاطب کیا تو لگتاتھا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ اور میں نے کہا: اے اللہ! تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھ سے مؤاخذہ کر لے حتی کہ تو راضی ہو جائے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
عليا يوم الجمل ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الْحَسَنِ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ← محمد بن أحمد بن يزيد الرياحي ← أَبُو جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمَنْصُورِ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4527
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4556
حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : جنگ جمل کے دن میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا ہے " اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس دن میری عقل جواب دے گئی تھی، اور یہ خبر مجھے بہت ناگوار گزری ، لوگوں نے میری بیعت کرنا چاہی تھی، لیکن میں نے کہا: خدا کی قسم ! مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ اس قوم سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں جس سے ملائکہ بھی حیاء کرتے ہیں ، مجھے اللہ سے حیاء آتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے پڑے ہیں ، ابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی ، اور لوگ میری بیعت کریں ، چنانچہ لوگ واپس چلے گئے ، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہو چکی ، تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے ، پھر بیعت لینے کا مطالبہ شروع کردیا ، میں نے کہا : اے اللہ ! میں اس اقدام پر بھی ڈر رہاہوں ، پھر عزیمت آئی تو میں نے بیعت لے لی، جب لوگوں نے مجھے یا امیر المومنین کہہ کر پکارا تو مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا تو میں نے کہا : اے اللہ ! تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھ سے مواخذہ کرلے حتیٰ کے تو راضی ہو جائے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4556
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4574
حضرت زبیر بن سعید القرشی فرماتے ہیں : ہم لوگ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے پاس سے حضرت علی بن حسین گزرے ، میں نے اس سے پہلے کبھی کسی ہاشمی کو نہ دیکھا تھا جو ان سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہو، حضرت سعید المسیب رضی اللہ عنہ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے، ہم نے ان کو سلام کیا، انہوں نے ہمیں سلام کا جواب دیا۔ حضرت سعید نے ان سے کہا : اے ابو محمد ! آپ ہمیں فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ، حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میرے والد محترم نے مجھے بتایا کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنی قمیض میں کفن دیا اور ان کا جنازہ پڑھایا اور 70 تکبیریں پڑھی۔ اور بذات خود ان کی قبر میں اترے اور قبر میں اردگرد اس طرح اشارے فرمارہے تھے گویا کہ اس کو کھلا کر رہے ہوں ، پھر جب آپ قبر سے باہر نکلے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ پھر آپ نے ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، جب آپ وہاں سے تشریف لے آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ جتنی شفقت آپ نے اس خاتون پر فرمائی ہے ، میں نے کسی اور پر آپ کو ایسے شفقت فرماتے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! یہ عورت میری ماں کی طرح تھی جس نے مجھے جنم دیا ہے، بے شک ابو طالب کام کاج کیا کرتے تھے اور ان کا دستر خوان ہوتا تھا، یہ عورت اس میں سے بچا کر میرے لئے رکھ لیا کرتی تھی اور دوبارہ مجھے دیا کرتی تھی۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنتی کردیا ہےاور مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو ان کے لئے دعائے مغفرت کے لئے مقرر فرمایا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4574
الأدب المفرد · كتاب السَّلامِ ‹ باب · حديث 978
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ صلى الله عليه وسلم عَلَى صُورَتِهِ، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ، فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ، نَفَرٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ بِهِ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللهِ، فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَنْقُصُ الْخَلْقُ حَتَّى الآنَ.
Abu Hurayra reported that the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah created Adam, may Allah bless him and grant him peace, and his height was 60 spans. He said, 'Go and greet those (a group of angels who were sitting down) and listen to how they answer you. It is your greeting and the greeting of your descendants.' He said, 'Peace be upon you,' and they replied, 'Peace be upon you and the mercy of Allah.' They added, 'and the mercy of Allah'. All who enter the Garden will have his form, but creation has continued to decline until now.'"
Al Adab Al Mufrad · The Book of Peace › Chapter · Hadith 978
الأدب المفرد · كتاب السِّبَابِ ‹ باب · حديث 419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَسَبَّ أَحَدُهُمَا وَالْآخَرُ سَاكِتٌ، وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ، ثُمَّ رَدَّ الْآخَرُ. فَنَهَضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَقِيلَ: نَهَضْتَ؟ قَالَ: نَهَضَتِ الْمَلاَئِكَةُ فَنَهَضْتُ مَعَهُمْ، إِنَّ هَذَا مَا كَانَ سَاكِتًا رَدَّتِ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى الَّذِي سَبَّهُ، فَلَمَّا رَدَّ نَهَضَتِ الْمَلاَئِكَةُ.
Ibn 'Abbas said, "Two men defamed one another in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. One of them reviled the other who remained silent. The Prophet, may Allah bless him and grant him peace, remained seated. Then the other man answered him back and the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, got up. He was asked, "You got up?" He said, "The angels left, so I left with them. While this man was silent, the angels were answering the one who cursed him. When he answered, the angels left."
'A'isha said, "The Prophet was lying down in my room with his thigh uncovered when Abu Bakr asked for permission to enter. He gave him permission to enter, remaining as he was. Then 'Umar asked for permission to come in and he gave him permission, remaining as he was. Then 'Uthman asked for permission to enter and the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, sat up and arranged his garment, and then he came in and spoke. When he left, I said, 'Messenger of Allah, Abu Bakr came in and you did not exert yourself nor concern yourself with him. Then 'Umar came in and you did not exert yourself nor concern yourself with him. Then 'Uthman came in and you sat up and arranged your garment.' He said, 'Should I not be modest before a man before whom the angels are modest?'"
Maymuna, the wife of the Prophet, said, "I heard Anas ibn Malik say that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Whoever says in the morning, "O Allah, we bear witness to you and we bear witness to the bearers of You Throne and Your angels and all Your creation. You are Allah. There is no god but You alone with no partner and Muhammad is your slave and Messenger", by that Allah will free a quarter of him from the Fire on that day. If someone says it twice, Allah will free half of him from the Fire. If he says it four times, Allah will free him completely from the Fire on that day.'"
Malik told us, on the authority of Nafi ', on the authority of Ibn Omar: that men from the people of Iraq said: We are buying from the date palm, and it is from Nabar. Abdullah said: I bear witness to you God and his angels, and hear from the jinn and mankind that I do not order you to sell nor Tbtaaoha nor Tasroha nor Tsagoha; it is an abomination of the work of the devil. Take the three hadiths out of the book of the syrups.
Musnad Imam Shafi · The Book of Sales › Chapter · Hadith 1463
مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ 3- ما يُروَى، عَن عطاء بن أبي رباح، عَن ابن عَبَّاس، عَن النبي صَلى الله عَليه وسَلم · حديث 2633
2633- أخبرنا الفضل بن موسى، حَدَّثَنا طلحة، عَن عطاء، عَن ابن عَبَّاس، عَن رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم قال: من أكل من هذه الخضروات ذوات الريح فلا يقربنا في مساجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه بنو آدم فكان عطاء يقول: الخضروات: البقول والثوم والبصل والفجل.
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 2633
مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ ما يروى عن جبير بن مطعم: · حديث 2759
2759- أخبرنا وهب بن جرير بن حازم حدثنا أبي سمعت محمد بن إسحاق يقول حدثني أبي عن جبير بن مطعم قال رأيت قبل هزيمة القوم والناس يقتتلون مثل البجاد الأسود أقبل من السماء مثل النمل الأسود، فلم أشك أنها الملائكة، فلم يكن إلا هزيمة القوم.
حضرت زرارہ بن اوفیٰ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑ دیتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں حتٰی کہ واپس آجائے ۔