محمد بن یزید بن خنیس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے گئے ہوئے تھے ۔ ان کے پاس سعید بن حسان المخزومی آئے ، یہ ہماری جماعت کے قصہ گو تھے اور یہ ماہ رمضان ہمارے پاس گزارا کرتے تھے ۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : وہ حدیث کیسی ہے جو تم نے مجھے ام صالح کے حوالے سے بیان کی تھی ؟ انہوں نے کہا : ام صالح رحمتہ اللہ علیہ نے صفیہ بنت شیبہ رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابن آدم کا کلام صرف امر بالمعروف یا نہی عن المنکر یا ذکر اللہ ہونا چاہئے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ کس قدر سخت ہے ، سفیان نے کہا: اس حدیث اللہ تعالیٰ کی اس کتاب میں جو اس نے تمہارے نبی پر نازل فرمائی ہے ، ایک عورت نے عورت سے روایت کی ہے پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں ۔ : ﴿يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا٣٨﴾ [النبأ: 38]" جس دن جبریل کھڑا ہو گا اور سب فرشتے پہرا باندھے کوئی بول نہ سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور فرمایا : ﴿وَالْعَصْرِ١ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ٢ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ٣﴾ [العصر: 1-3]" اس زمانہ محبوب کی قسم ! آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی تاکید کی " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور فرمایا : ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ﴾ [النساء: 114]" ان کے زیادہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے مگر وہ جو صدقہ یا بھلائی کا حکم کرے یا لوگوں میں اصلاح کرے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )
لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے کے لئے نکلے ، ان کے ہمراہ نہیک بن عاصم بن مالک بن المثفق بھی تھے ، آپ فرماتے ہیں : ہم رجب کے آخری ایام میں مدینہ منورہ میں پہنچے ، ہم نےآ پ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر ادا کی ، نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! میں گزشتہ تین دنوں سے اپنی آواز تمہیں سنانے کے لئے جمع کر رکھی ہے ، کو ئی ایسا شخص جس کو اس کی قوم نے بھیجا ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ ہمیں بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا تھا ؟ پھر ہو سکتا ہے کہ اپنی بات اس میں شامل ہو جائے یا کسی ساتھی کی بات شامل ہو جائے یا کوئی گمراہ کرنے والا اپنی بات اس میں شامل کر دے ، خبردار ! مجھ سے پوچھا جائے گا ، کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا تھا ،خبردار ! غور سے سن لو ، تم اچھی زندگی گزارو گے ، خبردار ! غور سے سن لو تم اچھی زندگی گزارو گے ،خبردار ! سب بیٹھ جاؤ ، تمام لوگ بیٹھ گئے ،میں اور میرا ساتھی کھڑے رہے ، حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دل اور آنکھیں ہماری جانب متوجہ ہوئیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ سے اپنی حاجت طلب کرنے لگا ہوں ، آپ اس سلسلے میں جلد بازی مت فرمائیے گا ۔ ( بلکہ تسلی سے جواب ارشاد فرمائیے گا ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا دئیے اور اپنا سر ہلایا ، آپ جان گئے تھے کہ میں حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے رب نے پانچ غیبوں کی چابیاں اپنے پاس رکھی ہیں ، ان کو اللہ تعالی کے سوا کوئی ( از خود ) نہیں جانتا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا : میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ چابیاں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : موت کا علم یعنی اللہ ہی جانتا ہے کہ تمہاری موت کب آئے گی اور اس بات کو تم نہیں جانتے ۔ اور اللہ تعالی جانتا ہے تم پر بارش کب برسے گی ، وہی تم مصیبت زدہ اور پریشان حالوں پر رحمت کی برسات نازل فرماتا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر مسکرا دئیے اور فرمایا : اللہ تعالی جانتا ہے کہ تمہا ری آسانیاں اب قریب ہی ہیں ، حضڑت لقیط فرماتے ہیں : میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا ؟ اور وہپی جانتا ہے کہ تو کل کیا کرے گا ، اور تم اس بات کو نہیں جانتے ، اور اللہ تعالی قیامت کے ( معین وقت اور معین ) دن کو جانتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہیہ بھی ذکر کیا تھا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم بھی وہی کچھ جانتے ہیں جو دوسرے لوگ جانتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ہم اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو لوگ ہماری تصدیق کو تسلیم نہیں کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری نازیبا حرکتوں اور مسلسل جنگ جوئی اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے کوئی بھی ہماری بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کچھ دیر رہو گے پھر تمہارے نبی وفات پا جائیں گے پھر تم کچھ دیر مزید رہو گے ، پھر ایک چیخ سنائی دے گی جس کی وجہ سے روئے زمین کا ہر ذی روح مر جائے گا ، اور وہ فرشتے جو تمہارے رب کی بارگا ہ میں رہتے ہیں ( وہ بھی ختم ہو جائیں گے ۔) پھر زمین خالی ہو جائے گی پھر تمہارا رب آسمان کو بھیجے گا ، وہ عرش کے نیچے سے موسلا دھار بارش برسائے گا ، تمہارے رب کی قسم ہے روئے زمین پر ہر مقتول کی قتل گاہ اور ہر مدفون کی قبر کو کھول دیا جائے گا حتی کہ اس کے سر کی جانب سے اس کو پھاڑا جائے گا ، وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا ، اللہ تعالی پوچھے گا : تم کتنی دیر یہاں رہے ہو ؟ وہ کہے گا: اے میرے رب میں گزشتہ کل یہاں آیا ہوں ، وہ یہی سمجھے گا کہ مجھے یہاں دفن ہوئے زیادہ زمانہ نہیں گزرا ہے ۔ میں کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہواؤں کے چلنے سے ، بوسیدہ ہونے سے اور درندوں کے کھانے سے ہمارے اعضا ء بکھر چکے ہوں گے تو اس کے بعد اللہ تعالی ہمیں کیسے جمع فرمائے گا ؟حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ؤ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالی کی نعمتوں میں اسکی مثال نہ سناؤں ؟ زمین کے اوپر غبار چڑھ جاتی ہے ۔ میں نے کہا : وہ تو کبھی بھی زندہ نہیں ہو گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پھر اللہ تعالی اس پر بازش نازل فرماتا ہے ، اس کے بعد زیاد دن نہیں گزرتے کہ وہ زمین سے باہر نکل آتے ہیں ، وہ پینے کی ایک جگہ ہو گی اور اللہ کی قسم ! تمہیں پانی سے نکال کر جمع کرنا اللہ تعالی کے لئے جڑی بوٹیوں کے نکالنے سے آسان ہے ، چنانچہ تم قبروں سے اور اپنی اپنی قل گاہوں سے نکل آؤ گے ، کبھی تم اس کی جانب دیکھو گے اور کبھی وہ تمہاری جانب دیکھے گا ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کیسے ہو گا ، وہ تو ایک ذات ہے جبکہ ہم سے پوری زمین بھری ہو گی ، ہم تو اس کی جانب دیکھیں گے ، پر وہ ہماری جانب کیسے دیکھے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا : میں اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے اس کی بھی تمہیں ایک مثال دیتا ہوں ، سورج اور چاند اللہ تعالی کی ایک چھوٹ سی نشانی ہے ، تم لوگ ان دونوں کی ایک ہی لمحے میں دیکھ سکتے ہو اور یہ دونوں بھی تمہیں دیکھ سکتے ہیں اور تمہیں ان کے دیکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، اللہ کی قسم وہ ذات تمہیں دیکھے اور تم اس کو دیکھو اس ذات کو اس پر زیادہ قدرت ہے بہ نسبت اس کے کہ چانداور سورج تمہیں دیکھیں اور تم چاند اور سورج کو دیکھو ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، جب ہم اپنے رب سے ملیں گے تو اللہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی بار گاہ میں پیش کئے جاؤ گے تمہارے ( نامہ اعمال کے ) صفحات اس کے سامنے کھلے ہوں گے اور کوئی بھی چیز تم اس سے چھپا نہیں سکو گے ۔ تمہارا رب اپنے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے گا اور تمہاری جانب اس کے چھنٹے مارے گا ۔ تمہارے رب کی قسم ! ہر شخص کے چہرے پر اس کا قطرہ پڑے گا ۔ مومن کا چہرہ بھی اس کے سفید کفن کی مانند ہو جائے گا اور کافر کا چہرہ کوئلہ کی طرح کالا ہوجائےگا ، پھر تمہارے نبی واپس پلٹیں گے اور تمام نیک لوگ ان کے پیچھے پیچھے ہوں گے ، یہ لوگ آگ کے ایک پل پر سے گزریں گے اور انگاروں کو لتاڑتے ہوئے "حس ، حس " کہے ہوئے گزر جائیں گے ، پھر تمہارا رب فرمائے گا ۔۔۔۔۔۔پھر یہ لوگ رسول کے حوض کوثر پر آئیں گے ، بہت پیاسے ہوں گے ، تمہارے رب کی قسم ! تم میں سے جو بھی اپنا ہاتھ بڑھائے گا ، اس کے ہاتھ میں پیالا تھما دیا جائے گا ، وہ اس کو چلنے کی تھکاوٹ سے ، پیشاب اور پاخانے سے پاک کر دے گا ، سورج اور چاند کو قید کر دیا جائے گا تم ان میں سے کسی کو بھی دیکھ نہیں پاؤ گے ، میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن ہم ( سورج اور چاند کی روشنی کے بغیر ) دیکھ کیسے پائیں گے ؟ آُ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جیسے تم اس وقت دیکھ رہے ہو ، ایسے ہی دکھائی دے گا ، یہ اس دن کی بات ہے ، جب زمین ان کو روشن کر دے گی اور پہاڑ اس کے سامنے آ جائیں گے ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں گناہوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک نیکی کا ثواب دس کے برابر ملے گا اور ایک گنا ہ کا بدلہ صرف ایک ہی ہو گا یا معاف کر دیا جائے گا ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت اور دوزخ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :تمہارے رب کی قسم ! جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، ہر دروازوں کے درمیان گھڑ سوار کی ستر سال کی مسافت ہے ، اور دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں ، اس کے بھی ہر دروازوں کے مابیب گھڑ سوارکے ستر سال کی مسافت ہے ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت کی کون کون سی چیزوں کی اطلاع مل سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : خالص شہد کی نہریں ہیں ، وہاں ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہو تا ، اور شراب کی نہریں ہیں ،جن میں نشہ اور اور شرمندگی نہیں ہے ۔ اور وہ کبھی بھی خراب نہ ہو اور پھل ہیں ۔ اور تیرے رب کی قسم ! تم اس جیسی خیر نہیں جانتے ہو وہاں پاکیزہ بیبیاں ہیں ، میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا وہاں ہمارے لئے بیویاں بھی ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نیک مردوں کے لئے وہاں پر نیک بیویاں ہوں گی۔ اور تم وہاں ان سے اسی طرح لطف اندوز ہو گے جیسے دنیا میں ہوتے ہو اور وہ تم سے لذت حاصل کریں گی ، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں پیدائش کا سلسلہ نہیں ہو گا ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا جنت میں ہمارے درجات کی یہ انتہا ء مہو گی ؟ میں نے پھر کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کس بات پر آپ کی بیعت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : اس بات پر کہ تم نماز قائم کرو گے ، زکوۃ دو گے ، اور شرک سے بچو گے ، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے ، میں نے کہا : ہم ان میں سے جس کو چاہیں حالال سمجھ لیں اور بندہ کا جرم اس کی اپنی ذات پر ہی ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تجھے اس کی اجازت ہے تو اس میں سے جتنا چاہے اپنے لئے حلسل سمجھ لے اور تو جرم صرف اپنی ذات تک کر ، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت کی اور واپس آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے رب کی قسم ! یہ دونوں آدمی ، سب سے زیادہ سچے ہیں اور اول اور آخر میں اللہ تعالی کا سب سے زیاسہ خوف رکھنے والے ہیں حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : فلاں کا بیٹا بنی بکر بن کلاب سے تعلق رکھتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی مثفق ہیں ۔ میں اس کی جانب متوجہ ہوا ، میں نے پھر کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں فوت ہو گئے کیا ان میں سے بھی کوئی شخص اچھا تھا ؟ قریش خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بولا : تیرا باپ مثفق دوزخی ہے ۔ اس نے کہا : اس شخص نے تمام لوگوں کی موجودگی میں میرے باپ کے بارے میں جو یہ گفتگو کی ، اس سے میرے تن بدن میں آگ لگ گئی، میں یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے والدین کا کیا معاملہ ہوا ،لیکن میں نے سوچا تو اس سے اچھا جملہ میرے ذہن میں آ گیا میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے گھر والاوں کا کیا حال ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تو جس قرشی یا عامری مزرک کی قبر کے پاس جائے تو کہنا : مجھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیری جانب اس چیز کو خوشخبری دینے کے لئے بھیجا ہے جو تیرے لئے باعث نقصان ہو ، تھجے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کروں ؟ جبکہ وہ ایسے عمل اپنائے ہوئے ہوں جن کے بارے میں ان کا اپنا گمان یہ ہو کہ اصؒ دین وہی ہے جس پر وہ خود عمل پیرا ہیں ۔ اور وہ خود نیک و پارسا سمجھتے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ہر سات امتوں کے بعد ایک نبی بھیجتا ہے ، جس نے نبی کی اطاعت کر لی وہ ہدایت یافتگان میں سے ہو گا اور جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی وہ گمراہوں میں سے ہو گا ۔ یہ00 حدیثث اس موضوع پر جامع ہے ، یہ صحیح الاسناد ہے ، اس کے تمام راوی مدنی ہیں ، اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا ۔
عَمِّهِ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرٍ، ← دَلْهَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← يَعْقُوبُ بْنُ عِيسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8683
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8685
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے صادق و مصدوق علیہ السلام نے بتیایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ تیج گرہوں میں اٹھائے جائیں گے ، ایک جماعت سیر شدہ ، لباس پہنے ہو ئے اور سواریوں پر سوار ہو گی ، ایک جماعت پیدل چلتے اور دوڑتے ہو گی اور ایک جماعت کے لوگوں کو فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں پھینکیں گے ۔ ہم نے کہا : اے ابو ذر ! ہم ان سب کو پہچانتے ہیں ، ان لوگوں کا کیا حال ہو گا ، جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے ؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالی ان کی پشت پر مصیبت نازل فرمائے گا جس کی وجہ سے ان کی پشے ہی نہیں رہے گی ۔ یہ حدیث ولید بن جمیع تک صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں : ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہو ئے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دنیا کے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا دن جمعہ ہے ، اس دن میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اوراسی دن قیامت قائم ہو گی ، اور زمین پر اللہ تعالی کے سب سے کریم خلیفہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ تعالی آپ پر رحمت فرمائے ، فرشتے کہاں ہیں ؟ آُ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا دئیے ، اور فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہو تے ہیں ؟ جیسے آسمان ، زمین ، ہوا ، بادل اور دوسری مخلوقات جو اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کرتی ، ان کی طرح فرشتے بھی ایک مخلوق ہیں ، اور جنت آسمانوں میں ہے اور دوزخ زمین میں ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، اللہ تعالی ایک ایک امت کے ساتھ ایک ایک نبی کو اٹھائے گا ، حتی کہ احمد مجتبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی امت سب سے آخر میں اٹھیں گے ، پھر نبی اٹھیں گے اور ان کے ہمراہ ان کی نیک و بد ساری امتیں بھی اٹھیں گی ، پھر جہنم پر پل بچھایا جائے گا ، وہ پل کوپکڑ لیں گے ، اللہ تعالی اپنے دشمنوں کی آنکھیں سلب کر لے گا ، وہ دائیں بائیں ہاتھ ماریں گے اور آگ میں گر جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ اور آپ کے طفیل تمام نیک لوگوں کو نجات ملے گی ، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے ، فرشتے ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں دکھائیں گے حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچیں گے ، آپ کو اللہ تعالی کی کرسی کے دائیں جانب بٹھایا جائے گا ، پھر ایک منادی ندا دے گا : عیسی علیہ السلام اور ان کی امت کہاں ہے ؟حضرت عیسی علیہ السلام اٹھیں گے اور ان کی امت کے تمام نیک اور برے لوگ بھی ان کے ہمراہ اٹھیں گے ، یہ بھی پل پر سے گزریں گے ، اللہ تعالی ان کے دشمنوں کی آنکھیں بھی سلب کر لے گا ، یہ بھی وہاں پر دائیں بائیں ہاتھ مارتے پھریں گے ، ان کے نبی اور ان کے نیک امتیوں کو نجات ملے گی ، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے ، اور ان کی جنت کی منازل انم کے دائیں بائیں چھپائیں گے حتی کہ وہ نبی علیہ السلام اپنے رب کی بار گاہ میں پہنچ جائیں گے ان کےلئے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی ، پھر اس کے بعد دیگر انبیاء کرام اور ان کی امتیں آتی رہیں گی ، اور سب سے آخر میں حضرت نوض علیہ السلام آئیں گے ، اللہ تعالی نوح علیہ السلام پر رحم فرمائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔یہ حدیث موقوف نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن سلام کا سمار صحابہ کرام میں ہوتا ہے اور کئی مقامات پر ان کی روایا ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صریح ذکر کے ساتھ بھی موجود ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : "وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلۡغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا(الفرقان:25)""اور جس دن پھت جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتت اتارے جائیں گے پوری طرح "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) اور فرمایا: دنیا کا آسمان پھٹ جائے گا ، اور فرشتے اتریں گے ، آسمان دنیا کے فرشتے بھی اتریں گے ، ان کی تعداد زمین کے تمام انسانوں اور جنات سے زیادہ ہے ، زمین والے ، ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے اندر ہمارا رب بھی موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔پھر دوسر ے آسمان والے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے آسمان والوں اور دنیا کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر تیسرے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر چوتھے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے اور تیسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں پھر پانچویں آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے، تیسرے اور چوتھے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے :نہیں۔ پھر چھٹے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے ، ان کی تعداد پہلے ، دوسرے ، تیسرے ، چوتھے ، اور پانچویں آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی ، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے ؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔ پھر کروبیین فرشتے نازل ہوں گے ان کی تعداد ساتوں آسمانوں کے فرشتوں اور زمین کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی ۔ اور جو فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے سینگ بھی ہیں اور کھر بھی ہیں جیسا کہ جنگلی گائے کے سینگ اور کھر ہوتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی دو قدموں کے درمیان کی مسافت بتائی ، ان کے قدم کے تلوے سے ٹخنے تک کی مسافت پانچ سو سال کی مسافت ہے ، اور ان کی ٹخنے سے گھنٹے تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور گھٹنے سے ناک تک پانچ سو سال کی مسافت ہے ، اور اس کی ہنسلی سے اس کے تھن تک پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔ اس حدیث کے تمام راوی محتج بہ( ان کی روایات سے استدلال کیا گیا) ہیں ، سوائے علی بن زید بن جدعان قرشی کے ۔ یہ حدیث اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک موقوف ہے لیکن بہت پسندیدہ حدیث ہے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دوپہر کے وقت جب بادل بھی نہ ہوں تو سورج کی جانب دیکھ سکتے ہو ؟ ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم چودہویں رات کے چاند کو بادلوں کے بغیر دیکھ سکتے ہو؟ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : قیمت کے دن جب تم اللہ تعالی کا دیدار کرو گے تو اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرو گے جتنا تم ان میں سے کسی ایک کو دیکھتے وقت محسوس کرتے ہو ، جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک ندا دینے والا کہے گا : خبردار ہر امت اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائے ، چنانچہ جو کسی بت یا صورت کو پوجتا ہوگا ، سب ان سے جا ملیں گے ، اور یہ سب دوزخ میں جا گریں گے ، اور وہ لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کیا کرتے تھے ، ان میں نیک بھی ہوں گے ، گناہگار بھی ہوں گے اور باقی ماندہ اہل کتاب بھی ہوں گے ، پھر دوزخ کو لایا جائے گا ، یہ سراب کی مانند ہو گی ، اس کا بعض حصہ اپنی بعض کو جلا رہا ہو گا ، پھر یہودیوں کو بلایا جائے گا ، فرشتہ ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : اللہ کے بیٹے عزیر کی ۔ فرشتہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، اللہ تعالی کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہے ، تمہاری کیا مراد ہے ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے ، ہمیں پانی پلا ، ان کو کہا جائے گا : تم لوٹ کیوں نہیں جاتے ؟ وہ لوٹ جائیں گے اور دوزخ میں جا گریں گے، پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : اللہ کے بیٹے مسیح کی ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : تم جھوت بول رہے ہو ، اللہ تعالی کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے ہمیں پانی عطا فرما ، اللہ تعالی فرمائے گا : تم لوٹ کیوں نہیں جاتے ، وہ چلے جائیں گے اور دوزخ میں گر جائیں گے ۔ اس کے بعد صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے ، ان میں نیک بھی ہوں گے اور گناہگار بھی ۔ پھر اللہ تعالی ہمارے سامنے ایسی صورت میں ظاہر ہو گا جو پہلی صورت سے مختلف ہو گی ، پھر اللہ تعالی فرمائے گا : اے لوگو ہر امت ان معبودوں سے جاملی جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے ، اب تم باقی بچے ہو ، اس دن اللہ تعالی سے نبیوں کے سوا کوئی ہم کلام نہیں ہو سکے گا ، وہ عرض کریں گے : دنیا میں لوگ ہم سے جدا رہے ، جب کہ ہم ان کی صحبت کے ضرورتمند تھے ، آج سب امتیں ان معبودوں سے جا ملی ہے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے ، اور ہم اپنے اس معبود کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے ، اللہ تعالی فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ، مسلمان کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، اللہ تعالی فرمائے گا : کیا تمہارے پاس اللہ تعالی کو پہچاننے کی کوئی نشانی ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، پنڈلی ۔ اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہرفرمائے گا ، تو سب لوگ سجدہ ریزہو جائیں گے اور جس دنیا میں منافقت کے طور پر ، یا دکھاوے اور ریا کاری کے طور پر سجدہ کیا ہو گا ، اس کی پشت میں لوہے کا ایک سریا دال دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ جب سجدہ کرنے لگے تو گدی کے بل گر جائے گا ، پھر نیک و بد سب سر اٹھائیں گے ، اب کی بار پھر اللہ تعالی پہلی سے الگ صورت میں ظاہر ہو گا ، وہ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں ، سب لوگ کہیں گے : جی ہاں تو ہمارا رب ہے ، یہ بات تین مرتبہ دہرائیں گے ، پھر جہنم کے اوپر جسر بچھایا جائے گا ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جسر کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ایک پل ہے جس پر پھسلن ہے ، اس پر لوہے کے تیز کنڈے ہیں ( جس میں انسان پھنس سکتا ہے )، اور نجد کے کانٹے دار پودے ہوں گے ، ان کو "سعدان " کہا جاتا ہے ۔ اس پر سے مومن بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ پلک جھپکنے میں ، کچھ ہوا کی مانند ، کچھ پرندے کی طرح تیز ، کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح ، کچھ عام سواریوں کی طرح گزریں گے ، کئی لوگ نجات پائیں گے ، کچھ لوگ سلامتی کے ساتھ نجات پاجائیں گے، کچھ لوگ زحمی ہوں گے لیکن نجات پا جائیں گے اور کچھ لوگ دوزخ میں گر جائیں گے ۔ اس ذات کی قسم ج کے قبصہ قدرت میں میری جان ہے ، تم جب اپنا حق دیکھ لو تو اس کے وصول کرنے میں اتنی سختی نہیں کرتے ہو جتنے سخت اس دن مومن اپنے بھائیوں کے بارے میں ہوں گے ، جب یہ ان کو دیکھیں گے کہ وہ لوگ دوزخسے نجات پا چکے ہیں ، یہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب یہ لوگ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے ، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے ، ہمارے ساتھ حج کیا کرتے تھے ، ہمارے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے ، یہ آگ کی لپیٹ میں ہیں ، اللہ تبارک و تعالی فرمائے گا : تم جاؤ ، اور جس جس کو پہچانتے ہو ، ان کو دوزخ سے نکال لو ، ان کے چہروں پر آگ حرام کر دی گئی ہو گی ( اس لئے ان کے چہرے جلنے سے بچے ہوں گے ) یہ ایک آدمی کو دیکھیں گے کہ اس کے قدموں تک آگ پہنچ چکی ہے ، کسی کی پنڈلی تک جلا چکی ہو گی ، اور کسی کو گھٹنوں تک جلا چکی ہو گی ، بعض کی کمر تک ہو گی ، یہ ان میں سے ایک آدمی کو نکال لائیں گے ، پھر وہ دوبارہ لوٹ کر آئیں گے ، اور اللہ تعالی سے گفتگو کریں گے ،( ان کو اجازت ملے گی ، یہ ایک آدمی کو پھر نکال لائیں گے ) یہ مسلسل یہی عمل دہراتے رہیں گے ، حتی کہ اللہ تعالی فرمائے گا : تم جاؤ اور جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان موجود ہے ، اس کو بھی دوزخ سے نکال لاؤ،یہ لوگ ایسے لوگوں کو بھی نکال کر لے آئیں گے ۔ حضرت ابو سعید جب یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے ، تو فرمایا کرتےتھے: اگر تمہیں یقین نہیں آتا ، تو یہ آیت پڑھ لیں "إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا(النساء:40)""اللہ تعالی ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا ہے اور اپنھے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہم نے اس میں کوئی مومن نہیں چھوڑا ، اللہ تعالی فرمائے گا : ارحم الراحمین کے سوا کوئی باقی نہیں بچا ، فرشتے شفاعت کر چکے ، انبیاء کرام شفاعت کر چکے، اب اس ذات کے سوا کوئی نہیں بچا جو ذات ہر رحم کرنے واقلے سے بڑی رحم کرنے والی ہے ۔ پھر اللہ تعالی ایک مٹھی بھر کر دوزخ سے نکالے گا ، یہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے ، انہوں نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں ہو گا ، ان کو نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا، اس میں ان کے جسم دوبارہ ٹھیک ہو جائیں گے ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جیسے دانہ گندم سیلاب کی تری میں اگتاہے ، کیا تم اس کو اور اس کے زرد سائے کو نہیں دیکھتے ہو ؟ اور اس کے ساتھ سبز روشنی کو ، ہم نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شاید کہ آپ اہل مواشی میں ہوں گے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ اسی طرح اگیں گے ، پھر وہ موتیوں کی مانند ہو جائیں گے ، ان کی گردنوں میں مہریں لگائی جائیں گی پھر ان کو جنت کی جانب بھیج دیا جائے گا ، جنتی لوگ ان کو (دیکھ کر ) کہیں گے : یہ جہنمی ہیں ، انہوں نے نہ کوئی نیک عمل کیا اور نہ آخرت کے لئے کوئی کام کیا ، ان کو بلا عمل دوزخ سے نکال لیا گیا ہے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : یہاں سے جو دل چاہتا ہے لے لو، تم جو بھی لے لو گے ، وہ تمہارا ہوجائے گا ، وہ بہت کچھ لیں گے اور پھر رک جائیں گے اور کہیں گے : ہم نے جو کچھ لیا ہے ، اللہ تعالی نے ہمیں وہ عطا نہیں کیا ، اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے تمہاری منتخب کردہ چیزوں سے بہتر چیزیں عطا کی ہیں ، وہ کہیں گے : یا اللہ جو کچھ ہم نے پسند کیا ہے ، اس سے بہتر کون سی چیز ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میری خوشنودی ناراضگی کے بغیر ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم شیخین نے زہری کے واسطے سے سعید بن مسیب کی اور عطا ء بن یزید لیثی کی روایت جو انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرزاق کی وہ حدیث نقل کی ہے جو انہوں نے معمر سے ، انہوں نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید سے روایت کی ہے ، وہ اس سیاق کے نصف سے بھی کم ہے۔
قُلْتُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8736
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8737
حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پل صراط کے پاس لوگ جمع کئے جائیں گے ، اس کے اوپر خار دار جھاڑیاں اور لوہے کی کنڈے ہوں گے ، لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے ، کچھ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی مانند گزریں گے ، کچھ دوڑتے ہوئے ، اور کچھ پیدل چلتے ہوئے اور بعض لوگ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے ۔ اس کے دائیں بائیں فرشتے ہوں گے جو کہ "اللہم سلم سلم " کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے ، اور لوہے کے کنڈے ہوں گے ، وہ کنڈے لوگوں کو اچک رہے ہوں گے ۔ اور جو دوزخی ہوں گے، نہ وہ جی سکیں گے نہ مر سکیں گے ، کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے پکڑا ہو گا ، وہ جل رہے ہوں گے ، جل جل کر کوئلہ ہو جائیں گے ، پھر ان کو جماعت در جماعت پکڑا جائے گا ، پھر ان کو جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا ، یہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کی تری کی وجہ سے دانہ گندم اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے پکتی ہوئی کھجوروں کو دیکھا ہے ؟ پھر اس کے بعد ان کو اجازت ملے گی تو یہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان میں سے ہر ایک کو پوری دنیا کے برابر دیا جائے گا ۔ آپ نے فرمایا : اور پل صراط پر تین درخت ہوں گے ، سب سے آخر میں جو شخص دوزخ سے نکلے گا وہ اس کے کنارےپر ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب کر دے ، تاکہ میں اس کے سائے میں بیٹھ سکوں ، اور اس کا پھل کھا سکوں ، اللہ تعالی فرمائے گا : اپنا وعدہ یاد رکھنا ، اب اس کے علاوہ اور کچھ نہ مانگنا ، وہ کہے گا : یا اللہ میں وعدہ کرتا ہوں ، اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا ، اللہ تعالی اس کو اس درخت کے قریب کر دے گا ، وہ وہاں سے دوسرا درخت دیکھے گا جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ کہے گا : یا اللہ !میں اس درخت کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں ، اس کو اس درخت کے پاس پہنچا دیا جائے گا ، وہ وہاں سے اگلے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ کہے گا : یا اللہ میں اس کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں ، اس کو اس تک پہنچا دیا جائے گا ، وہ وہاں سے لوگوں کی آواز یں سنے گا اور ان کے سائے دیکھے گا ، وہ کہے گا : اے میرے اللہ! مجھے جنت میں داخل فرما دے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس کا پورا قصہ سنایا ، ایک راوی کا بیان ہے کہ اس آدمی کو جنت میں پوری دنیا کی مثل اور اتنا ہی مزید اس کے ساتھ دیا جائے گا ، اور دوسرے راوی کا بیان ہے کہ دنیا کی مثل اور اا کا دس گنا مزید بھی دیا جائے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معایر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت سلمان روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا ،( وہ اس قدر وسیع ہے کہ) اگر اس میں ساتوں آسمان اور زمین بھی رکھ دی جائے تو اس میں سما جائے گی ، فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! یہ کس کے لئے ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میری مخلوق میں سے جس کے لئے میں چاہوں گا ، فرشتے کہیں گے : تیری ذات پاک ہے ، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ، اور پل صراط بچھایا جائے گا جو کہ تلوار کی دھار سے بھی تیز ہو گا ، فرشتے عرض کریں گے : یا اللہ! تو اس پر سے کس کو گزارے گا ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میں اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہوں گا گزاروں گا ، فرشتے کہیں گے : تیری ذات پاک ہے ، ہم تیری عبدات کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معایر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا ، پھر ایک منادی ند اسے گا : اے لوگو! کیا جس رب تمہیں پیدا کیا ، تمہاری صورت بنائی ، تمہیں رزق دیا ، تم اپنے اس رب پر اس بات پر راضی ہو کہ وہ ہر انسان کو اسی کا ساتھ بنادے جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا اور جس کو اپنا والی سمجھتا تھا ، کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے عدل نہیں ہو گا ؟ سب کہیں گے : کیوں نہیں۔ پھر تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چل پڑے گا جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا ، اور ان کے دنیا کے معبودوں کو قیامت میں شکل دی جائے گی ، جو لوگ عیسی علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ، ان کے لئے عیسی علیہ السلام کے شیطان کو ایک صورت میں ظاہر کیا جائے گا ، اور جو لوگ حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے لئے حضڑت عزیر علیہ السلام کے شیطان کو ایک شکل میں پیش کیا جائے گا ، حتی کہ درخت ، عود اور پتھروں کو بھی شکلیں دی جائیں گی۔ صرف مسلمان باقی بچیں گے ۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : تمہیں کیا ہے ؟ جیسے سب لوگ چلے گئے ہیں تم کسی طرف کیوں نہیں گئے ؟ وہ کہیں گے : ہمارا بھی ایک رب ہے ، ہم نے اس کو کبھی نہیں دیکھا ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اس کو کیسے پہچانو گے ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس اپنے رب کی ایک نشانی ہے ، اگر ہم اپنے رب کو دیکھیں گے تو اس نشانی کی بناء پر اس کو پہچان لیں گے ، اللہ تعالی فرمائے گا : وہ نشانی کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ساق ( پنڈلی ) پھرت اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا ، کشف ساق ہوتے ہی سب لوگ سجدے میں گر جائیں گے ، کچھ لوگ باقی بچیں گے ، ان کی پیٹھیں تانبے کی ایک سلیٹ کی مانند ہو ںگی ۔ یہ لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہ کر پائیں گے ۔ پھر ان لوگوں کو حکم دیا جائے گا ، یہ لوگ اپنے سر اوپر اٹھا ئیں گے ، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو پہاڑ کے برابر ان کے سامنے نور دیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو اس ے ذر کم نور دیا جائے گا ، کچھ لوگوں کو درخت جتنا نور دیا جائے گا اور ان کے دائیں جانب ہو گا ، کچھ لوگوں کو اس سے ذرا کم ملے گا ، سب سے کم درجے کا نور پانے والے شخص کے پاؤں کے انگوٹھے میں نور دیا جائے گا ، وہ کبھی روشن ہو گا اور کبھی بجھ جایا کرے گا ، جب وہ روشن ہو گا تو وہ مومن اس کی روشنی میں چلے گا اور جن بجھے گا تو کھڑا ہو جائے گا ، پھر لوگ پلصراط سے گزریں گے ۔ پلصراط تلوار کی دھار کی مانند تیز ہے ۔ اس پر بہت پھسلن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگ اپنے اعمان کے مطابق اس سے نجات پائیں گے ، کچھ ستارہ ٹوٹنے کی مقدار میں گزر جائیں گے ، کچھ بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے ، کچھ تیز ہوا کی طرح گزریں گے ، کچھ سوار کی طرح اور ہشاش بشاش گزریں، الغرض سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے ۔حتی کہ جس آدمی کے انگوٹھے میں نور ہو گا وہ گھسٹ گھسٹ کر گزرے گا ، آگ اس کے اعضا ء کو جلا دے گی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پھر لوگ وہاں سے نجات پائیں گے ، جب وہاں سے نجات پا کر مڑ کر پلصراط کو دیکھیں گے تو کہیں گے " اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس سے نجات بخش دی ہے۔" اللہ تعالی نے ہمیں وہ نعمت عطا فرمائی ہے جو کبھی کسی کو نہیں دی ۔ پھر یہ لوگ جنت کے دروازے کی گزر گاہ کی جانب چلیں گے ۔ جنت کا دروازے کی گزر گاہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ہو گی ، مومن کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں یہ منزل عطا فرما ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : تم مجھ سے جنت مانگ رہے ہو ، وہ تو صرف اس کی گزر گاہ ہے ، میں نے تمہیں دوزخ سے بچا لیا ہے ، یہ دروازہ ہے ، وہ لوگ اس کی آواز نہین سنیں گے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : ہو سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کردوں تو تم اس سے آگے کوئی اور سوال کرنے لگ جاؤ گے ، بندہ کہے گا : اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سو ااور کچھ بھی نہیں مانگیں گے ، اس سے اچھا اور کون سا مقام ہو سکتا ہے جو ہم تجھ سے مانگیں گے ، ان کو وہ مقام دے دیا جائے گا ، پھر ان کے لئے اس سے آگے ایک ار مقام ظاہر کیا جائے گا ، وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، جب وہ اس مقام کو دیکھیں گے تو اپنے پہلے والے مقا م کو بہت حقیر ہی جانیں گے ( وہ لوگ اللہ تعالی سے وہ مقام مانگنے لگ جائیں گے ) اللہ تعالی فرمائے گا : اگر تمہیں وہ مقام دے دیا گیا تو تم اس سے آگے کا مطالبہ کرنے لگ جاؤ گے ، وہ کہیں گے : اے اللہ ہمیں تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سوا تجھ سے اور کچھ نہیں مانگیں گے ، اور اس سے بڑھ کر خوبصورت کون سی جگہ ہو گی ، ان کو وہ مقام عطا کر دیا جائے گا پھر یہ لوگ خاموش ہو جائیں گے اور کوئی مطالبہ نہیں کریں گے ، ان سے پوچھا جائے گا : تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھ سے مانگتے کیوں نہیں ہو ؟ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ہمک نے جو کچھ تجھ سے مانگا ، تو نے عطا کر دیا ، اب ہمیں مانگتے ہوئے حیاء آتی ہے ، اللہ تعالی ان سے فرمائے گا : کیا تم اس پر راضی ہو کہ جب سے دنیا بنی ہے ، اس وقت سے لے کر اس کے فنا ہونے تک جتنی دنیا اور اس کی دولت ہے تمہیں دے دوں اور اس سے دس گنا مزید بھی عطا کر دوں ، حضرت مسروق کہتے ہیں : یہ حدیث سناتے ہوئے جب حضرت عبداللہ اس مقام پر پہنچے تو ہنسے ، ایک آدمی نے ان سے پوچھا : اے عبدالرحمن ! آپ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے سنائی ، آپ جب بھی اس مقام پر پہنچتے ہیں ضرور ہنستے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہون نے فرمایا کہ میں یہ کئی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی اس مقام پر پہنچتے تو اس موقع پر اس بندے نے اللہ تعالی کو جواب دیا اس پر آپ ضرور ہنستے، اتنا ہنستے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو جاتے ، وہ بندہ کہے گا : تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے ؟ اللہ تبارک و تعالی فرمائے گا : نہیں ، بلکہ میں واقعی اس پر قادر ہوں ، اس لئے تم مجھ سے مانگو ، بندے کہیں گے : اے ہمارے رب ہمیں صالحین میں شامل فرما دے ، اللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا : ان کو صالحین کے ساتھ ملا دو، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ ٹہلتے ٹہلتے جنت میں چلے جائیں گے ، ایک آدمی کو اندر سے خالی موتیوں سے بنا ہوا یاک محل دکھائی دے گا ، وہ بندہ سجدے میںگر پڑے گا ، اس کو کہا جائے گا : اپنا سر اٹھا ، وہ سر اٹھائے گا ، اس کو کہا جائے گا ، یہ یہ تو تیری منازل میں سے ایک منزل ہے ، وہ پھر چل پڑے گا ، ایک آدمی اس کوسامنے سے ملے گا ، بندہ پوچھے گا : کیا تو فرشتہ ہے ؟ اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تیرے خدام میں سے ایک خادم ہے ۔ وہ اس کے پاس آئے گا اور اس کو بتائے گا کہ اس محل میں جو تیرے خادمین ہیں ، میں ان میں سے ایک ہوں ، میرے ماتحت ایک ہزار خدام ہیں ، سب کے سب میری ہی طرح ہیں ۔وہ اس کو ساتھ لے کر محل کی جانب جائے گا ، محل کا دروازہ کھلے گا ، پورا محل مجوف مقتیوں ( سیدے موتی جو اندر سے خالی ہوں ، بہت خوبصورت ہوتے ہیں یہ موتی ) کا بنا ہوا ہو گا ۔ اس کی چھتیں ، اس کے دروازے ، اس کے تالے ، ان کی چابیاں ، سب موتیوں کی ہوں گی ، محل کا دروازہ کھولا جائے گا ، سامنے سبز رنگ کا ہیرا ہو گا ، جس کے اندر سرخی ہو گی ، اس کی لمبائی چوڑائی ستر ہاتھ ہو گی ، اس میں ساٹھ دروازے ہوں گے ، ہر دروازہ ایک الگ محل کی جانب کھلتا ہو گا ہر ایک کا رنگ دوسرےسے جدا ہو گا ، ہر ایک میں پردے ہوں گے ، بیویاں ہوں گی اور خادمائیں ہوں گیں ، وہ بندہ اس میں داخل ہو گا ، اس کے سامنے حور عین ہو گی ، اس نے ستر لباس زیب تن کئے ہوں گے ، اس کی پنڈلی کی مخ ستر لباسوں کے اوپر سے نظر آ رہی ہو گی ، حور کا جگر اس بندےئ کا آئنہ ہو گا اور بندے کا جگر حور کا آئنہ ہو گا ، جب بندہ ایک مرتبہ اس سے نگاہ ہٹا کر دوبارہ دیکھے گا تو وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ حسین لگ رہی ہو گی ، وہ بندہ کہے گا : تو پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے ، اور وہ حور اس بندے کو بھی یہی کہے گی ، وہ اپنی ملکیت میں نگاہ کی تیزی کے ساتھ سو سال تک سفر کر سکے گا ۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب تم سن نہیں رہے ہو جو ابن ام عبد سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں بیان کر رہا ہوں ، تو اندازہ لگائیے کہ سب سے اعلی درجے کے جنتی کا عالم کیا ہو گا ۔ انہوں ےن کہا : اے امیر المومنین ، جنت ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے ، بے شک اللہ تعالی عرش اور پانی کے اوپر ہے ، اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ایک گھر بنایا ، اس کو اپنی مرضی کی چیزوں سے سنوارا، اس میں پھل رکھے ، مشروبات رکھے ، پھر اس کو ڈھانپ دیا ، جس دن سے اس کو بنایا ہے اس وقت سے اس کی مخلوق نے اس کو نہیں دیکھا نہ جبریل نے دیکھا ہے اور کسی فرشتے نے ۔ پھر حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں" فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین ""تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے "(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)اس کے علاوہ بھی دو جنتیں بنائی ہیں ، ان کو بھی اپنی مرضی کی چیزوں سے مزین کیا ہے ، اور اس میں حریر ، سندس اور استبرق رکھا ہے ، یہ جنتیں اپنی مخلوقات میں سے جن فرشتوں کا چاہا دکھا دی ہیں ، جس کا اعمال نامہ علیین میں ہو گا، اس کو یہ گھر دکھا دیا جائے گا ، جب اہل علیین میں سے کوئی بندہ سوار ہو کر اپنی ملکیت میں چلے گا تو وہ جس خیمے کے پاس اترے گا ، اس کے چہرے کی چمک اس خیمے میں پڑے گی ، وہاں کے رہنے والے اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اور اس عمدہ خوشبو کی تعریف کریں گے ، اور کہیں گے آج ہمارے پاس اہل علیین میں سے ایک آدمی آیا ہے ، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب تیرے لئے ہلاکت ہو یہ دل چھٹ رہے ہیں ، ان کو قابو کرو ، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المومنین ! جہنم کی ایک وادی ایسی ہے کہ کوئی مقرب فرشتہ اور نبی ایسا نہیں جو اپنے گھٹنوں کے بل نہ گرتا ہو ، حتی کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کہیں گے رب نفسی نفسی ، حتی کہ اگر تیرے پاس ستر نبیوں کے اعمال بھی ہوں تب بھی مجھے گمان ہے کہ تو اس سے نہیں بچ سکے گا ۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ، البتہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ابو خالد دالانی کی روایات صحیحین میں نقل نہیں کیں ، کیونکہ یہ منقول ہے کہ صحابہ کرام کے ذکر میں یہ سنت سے انحراف کرتے ہیں ۔لیکن تماما آئمہ متقد مین ، ابو خالد کے لئے صدق او اتقان کی گواہی دیتے ہیں ۔ اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابو خالد دالانی وہ محدث ہیں جن کی مرویات کو آئمہ اہل کوفہ کی روایات میں جمع کیا گیا ہے ۔
حضرت ابو الزعراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضر عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا تذکرہ ہوا ، آپ نے فرمایا : دجال کے ظہو ر کے موقع پر لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ، ایک گروہ اس کا پیرو کار ہو جائے گا ، ایک فرقہ جزیرہ عرب میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے گا ، اور ایک فرقہ اس فرات کے کنارے پر آ کر ان سے جہاد کرے گا ، حتی کہ جہاد کا سلسلہ غربی شام تک پہنچ جائے گا ۔ یہ ایک لشکر بھیجیں گ ، ان میں سرخی مائل گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو گا ، یہ ان کے ساتھ جہاد کریں گے ، لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا ۔ حضرت ربیعہ بن ناجذ فرماتے ہیں : سرخی مائل گھوڑے پر سوار کے بارے میں ، آپ فرماتے ہیں: اہل کتاب یہ سجمھتے ہیں کہ مسیح عیسی علیہ السلام نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے ، اور یاجوج و ماجوج نکلیں گے ، وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے ، پھر اللہ تعالی جانوروں کے ناک میں پیدا ہونے والے وبائی کیڑے کی مثل کوئی جانور بھیجے گا ، وہ ان کے کانوں اور ناکوں میں گھس جائے گا ، جس کی وجہ سے وہ سب مر جائیں گے ، ان کی وجہ سے پوری زمین بدبو دار ہو جائے گی ، اللہ تعالی کی بارگا ہ میں دعا مانگی جائے گی ، اللہ تعالی بارش نازل فرمائے گا ، وہ بارش پوری زمین کو دھو کر صاف کردے گی ، پھر اللہ تعالی انتہائی ٹھنڈی ہوا بھیجے گا ، وہ زمین پر کسی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑے گی ،پھر کائنات کے خبیث لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ، پھر فرشتہ زمین اور آسمان کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس کو بجائے گا ۔ آسمانوں میں اور زمین میں رہنے والی تمام مخلوقات اس کی وجہ سے مر جائیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالی نہ مارنا چاہے گا پھر اس کے بعد دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان ایک عرصہ گزرے گا جتنا اللہ چاہے گا ، انسان کے جسم کا کچھ حصہ زمین میں باقی بچے گا ، پھر اللہ تعالی عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا ، یہ پانی مردوں کی منی جیسا ہو گا ، پھر ان کے گوشت جسم کی طرح اگیں گے ، جیسا کہ بارش کی وجہ سے زمین اگتی ہے ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " وَٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابٗا فَسُقۡنَٰهُ إِلَىٰ بَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَحۡيَيۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ كَذَٰلِكَ ٱلنُّشُورُ ٩ ""اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمیین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)پھر فرشتہ دوبارہ صور لے کر زمین اور آسمان کے درمیان کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا ، ہر روح اپنے اپنے جسم کی طرف دوڑے گی اور آ کر اس میں داخل ہو جائے گی ، پھر لوگ کھڑے ہوں گے اور سب ایک آدمی کی مانند اللہ رب العالمین کی بار گاہ میں حاضر ہوں گے ، اللہ تعالی مخلوق کے لئے ایک صورت میں ظاہر ہو گا ، یہودی ، اللہ تعالی سے ملیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے : ہم حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : کیا تم کو پانی کی طلب ہے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ، ان کو جہنم دکھائی جائے گی ، وہ سراب کی مانند ہو گی ، پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی " وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا ١٠٠(الکھف:100)"پھر عیسائی ، اللہ تعالی سے ملیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے ؟ وہ کیں گے : ہم مسیح کی عبدات کیا کرتے تھے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : تمہیں پانی کی طلب ہے ؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ۔ ان کو جہنم دکھائی جائے گی ، وہ سراب کی مانند ہو گی ، یہی سلوک ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو گا جو غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے ، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی "وَقِفُوهُمۡۖ إِنَّهُم مَّسُۡٔولُونَ ٢٤ (الصافات:24""اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے : (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)صرف مسلمان باقی بچیں گے ، اللہ فرمائے گا : تم کس کی عبادت کیا کرت تھے؟ وہ کہیں گے : ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے ، اللہ تعالی دو تین مرتبہ ان سے یہی سوال کرے گا : وہ آگے سے یہی جواب دیں گے ، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا : کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے ، جب اللہ تعالی ہمیں اپنی پہچان کروائے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے ۔ تب اللہ تعالی کشف ساق فرمائے گا ، ہر مومن اللہ تعالی کی بار گاہ میں سر بسجود ہو جائے گا ، منافقین رہ جائیں گے ، ان سے سجدہ نہیں ہو پائے گا ، ان کی پشت ایک سیدھی سلیٹ کی مانند ہو گی ، گویا کہ ان میں سکہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے ، وہ اپنے رب کو پکاریں گے ، اللہ تعالی فرمائے گا : تمہیں اس وقت سجدے کا کہا گیا تھا جب تم سلامت تھے ، پھر اللہ9 تعالی پلصراط بچھانے کا حکم دے گا ، دوزخ پر پلصراط بچھا دیا جائے گا ، لوگوں کی جماعتیں اپنے اپنے اعمال کی مطابق وہاں سے گزریں گی ، سب سے پہلی جماعت بجلی کی مانند گزریں گے ، بعد والے ہوا کی طرح ، ان کے بعد واقلے پرندے کی پرواز سے ، ان کے بعد والے جانوروں کی مثل ،حتی کہ کئی لوگ دوڑ کر گزریں گے ، پھر ایک آدمی پیدل چلتا ہوا گزرے گا ، اور سب سے آخر ی شخص پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا گزرے گا ، وہ کہےگا : : اے میرے رب ، تو نے مجھے کیوں دیر کروا دی ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : میں نے تجھے لیٹ نہیں کروایا ، بلکہ تھجے تیرے اعمال نے لیٹ کروایا ہے ، پھر اللہ تعالی اذن شفاعت عطا فرمائے گا ، سب سے پہلے روح القدس حضرت جبریل امین علیہ السلام شفاعت کریں گے ، پھر حضڑت ابراہیم علیہ السلام ، پھر موسی علیہ السلام پھر عیسی علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے ، پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شفاعت کریں گے ۔ جن کی شفاعت ہو چکی ہو گی ، ان کی دوبارہ شفاعت نہیں ہو گی ۔یہ ہے وہ مقام محمود جس کا ذکر اللہ تعالی نے ان الفاظ کے ہمراہ کیا ہے " عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩(الاسرء:79)""قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہں سب تمہاری حمد کریں " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس وقت ہر شخص جنت میں اپنے گھر کو دیکھ رہے ہوں گے ، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا : کاش کہ تم جان لو جب جنتی لوگ دوزخ کے حالات دیکھ کر کہیں گے ، اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم اس دوزخ میں ہو تے "پھر فرشتے شفاعت کریں گے ، پھر دیگر انبیاء کرام ، پھر شہداء ، پھر صالحین ، پھر دیگر مومنین شفاعت کریں گے ، اللہ تعالی ان سب کی شفاعت قبول فرمائے گا ، پھر اللہ تعالی فرمائے گا : میں سب سے بڑارحم کرنے والا ہوں پھر تمام ہستیوں کی شفاعت سے جتنے لوگ دوزخ سے باہر آئے ہوں گے، اس سے زیادہ اللہ تعالی اپنمی رحمت کے صدقے میں دوزخ سے آزاد کرے گا ۔ حتی کہ کوئی شخص دوزخ میں نہیں رہنے دیا جائے گا جس میں بھلائی ہے ۔ پھر حضرت عبداللہ نے اپنی مٹھی کو بند کر کے یہ آیت پڑھی" مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ ٤٢(المدثر:42)""تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کیا تم ان میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو ؟ حالانکہ دوزخ میں ایسا کوئی شخص رہنے ہی نہیں دیا جائے گا جس میں کچھ بھلائی ہو ، پھر جب اللہ تعالی یہ ارادہ فرمائے گا کہ اب مزید کسی کو دوزخ میں سے نہ نکالا جائے تو اللہ تعالی ا ن کے رنگ اور شکلیں تبدیل فرما دے گا، پھر جب کوئی شخص ان کی شفاعت کرنے آئے گا ، اللہ تعالی اس سے فرمائے گا کہ ےو دوزخ میں سے جس کو پہچانتا ہے اس کو وہوں سے نکال کر لے آ ۔ وہ دوزخ میں آئے گا تو اس میں کسی کو بھی نہیں پہچانے گا ، بندہ اس کو آوازیں دے کر اپنا تعارف کروائے گا کہ میں فلاں ہوں ، وہ شفاعت کرنے والا کہے گا : میں تجھے نہیں پہچانتا (تم لوگ کس بناء پر دوزخ میں گئے ہو ) وہ لوگ کہیں گے " قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ ٤٣ وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ ٤٤ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ ٤٥ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ ٤٦(المدثر:43،44،45،46) ""وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اوور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انساف کے دن کو جھٹلا تے تھے " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)جب وہ یہ بات کہیں گے : تو دوزخ بند کر دی جائے گی ، پھر ان میں سے کوئی شخص باہر نہیں نکل سکے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے ، پھر فرمایا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ میں کیوں مسکرایا ہوں ؟ پھر فرمایا: مجھے ایک بندہ یاد آگیا : جو قیامت کے دن اپنے رب سے جھگڑ رہا ہو گا، وہ کہے گا : اے اللہ ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ پر ظلم نہیں کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : بالکل کیا تھا۔ وہ کہے گا : تو پھر میں اپنے خلاف کسی کی گواہی نہیں مانتا ، وہ کہے گا : کیا میرے بارے میں کراماً کاتبیں کی گواہی کافی نہیں ہے ؟ وہ بار بار یہی بات کہے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے اور اس کے اعضا ء اس کے عمل کے بارے میں بول پڑیں گے ، وہ کہے گا: تمہارے لیے ہلاکت ہو ، میں ہمیشہ تمہارا دفاع کر تا رہا اور آج تم میرے ہی خلاف ہو گئے ہو؟ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے" اس کے بعد سرخی نمودار ہوگی ، جب کوئی اس کو دیکھے تو اس کا خوشدلی سے استقبال نہ کرے ، پھر فرمایا: دو فرشتوں ہاروت اور ماروت نے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو زمین پر اتار دے ، ان کو زمین پر اتار دیا گیا، یہ لوگوں کے مابین فیصلے کیا کرتے تھے۔ جب شام ہوتی تو کچھ کلمات پڑھتے اور ان کی برکت سے وہ آسمان میں چڑھ جاتے ، انہوں نے ایک انتہائی خوبصورت عورت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا، اس عورت نے ان کو برائی کی دعوت دی ، لیکن فرشتے اس کو ٹالتے رہے ، لیکن ان کے دل میں اس کی یاد رہنے لگی، یہ دونوں اس سے رابطے میں رہے حتیٰ کہ ایک دن اس نے ان سے وقت طے کر لیا اور پھر مقررہ وقت پر ان کے پاس آگئی ، اس نے کہا: پہلے تم وہ کلمات سکھاؤ جو پڑھ کر تم آسمانوں پر جاتے ہو، انہوں نے اس عورت کو وہ کلمات سکھا دئیے ، اس نے فوراً وہ کلمات پڑھے اور آسمانوں کی جانب چڑھ گئی ، لیکن اس کو مسخ کردیا گیا، اور پھر اس کو یوں بنا دیا گیا جیسا کہ تم اس کو دیکھتے ہو، جب شام ہوئی ، انہوں نے وہ کلمات پڑھے جن کو پڑھ کر وہ آسمانوں پر چڑھا کر تے تھے۔ لیکن اس دن وہ اوپر کی جانب نہ چٖڑھ سکے ، ان کی جانب پیغام بھیجا گیا ، اگر تم چاہو تو تمہیں آخرت کا عذاب دیا جائے اور اگر چاہو تو قیامت تک تمہیں دنیا کا عذاب دیا جائے ، پھر جب قیامت میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری ملاقات ہو تو اس وقت اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں عذاب دے اور چاہے تو تم پر رحمت کرے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی جانب دیکھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دنیا ہی میں سزا کاٹیں گے چاہے وہ ہزار گنا زیادہ کیوں نہ ہو، چنانچہ ان کو قیامت تک عذاب ہوتا رہے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔اور یحییٰ بن سلمہ کی ان کے والد سے روایت کردہ حدیث چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ یہ محالات میں سے ہے، عقل اس کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس میں کوئی اختلا ف نہیں ہے۔ کہ وہ اہل فن میں سے ہیں ، اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ ان کے والد کی کچھ مخصوص احادیث ہوں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہوں۔
ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عمرويه الصفار
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8796
المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَوْثَرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3981
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ٢﴾ [الكوثر: 2]" تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل علیہ السلام یہ کون سی فطرت ہے جس کا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ فطرت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ جب نماز شروع کر لیں تو جب آپ تکبیر کہیں تو اپنے ہاتھوں کو بلند کریں اور جب آپ رکوع کریں اور جب رکوع سے سر اٹھائیں ( تو ہاتھوں کو بلند کریں ) کیونکہ یہی ہماری نماز ( کا طریقہ ) ہے اور ساتوں آسمانوں کے فرشتوں کی نماز ( کا طریقہ ) بھی یہی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاتھ اٹھانا بھی جھکنا ہی ہے ۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے : ﴿ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ٧٦﴾ [المؤمنون: 76]" تو نہ وہ اپنے رب کے حضور میں جھکے اور نہ گڑگڑاتے ہیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )
أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ← لما نزلت هذه الأيه على رسول الله ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الأصبغ بن نباتة ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← إسرائيل بن حاتم ← وهب بن أبي مرحوم ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمدان
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Kawthar › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3981
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3997
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی ، نبی اکرم ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے متعلق آپ سے سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اور ان میں جتنے بھی منافع ہیں ، سب کو منگل کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے بدھ کے دن درخت، پانی ، میدان ، آبادیاں اور جنگل پیدا کیے ۔ یہ چار دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ٩ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ١٠﴾ [فصلت: 9-10]"تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب اور اس میں اس کے اوپر سے لنگر ڈالے اور اس میں برکت رکھی اور اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملا کر چار دن ہیں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور جمعرات کے دن آسمان بنایا اور جمعہ کے دن ستارے ، سورج ، چاند اور فرشتے بنائے حتیٰ کہ اس دن کی صرف تین ساعتیں باقی رہ گئیں ۔ تو ان تین ساعتوں میں سے پہلی ساعت میں موت کا وقت بنایا کہ کون کب مرے گا اور دوسری ساعت میں ہر اس چیز پر آفت پیدا کی جس سے انسان کو کوئی فائدہ ہو سکتا تھا اور تیسری ساعت میں آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرے اور اس ساعت کے آخری وقت میں آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا ۔ پھر یہودیوں نے کہا ُ اے محمد ﷺ پھر کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا ۔ انہوں نے کہا: آپ نے بالکل درست فرمایا اگر بات پوری کر دیتے ۔ انہوں نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے آرام کیا۔ اس پر نبی ﷺ شدید ناراض ہوئے تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ٣٨ فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ ٣٩﴾ [ق: 38-39]" بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور تکان ہمارے پاس نہ آئی تو ان کی باتوں پر صبر کرو " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← حَمَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ← الحسين بن الربيع، ← أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Adam, peace be upon him · Hadith 3997
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 4004
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو فرشتوں نے آپ کو طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کی قبر لحد دار بنائی اور کہا: یہ لوگوں میں آدم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Adam, peace be upon him · Hadith 4004
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کی امت کو بلائے گا اور ( آپ کی امت سے ) فرمائے گا: تم نے حضرت نوح علیہ السلام کو کیا جواب دیا تھا ؟ وہ کہیں گے : انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام ) نے نہ ہمیں کبھی دعوت دی نہ ( تیرے احکام ) ہم تک پہنائے ، نہ کبھی ہمیں نصیحت کی نہ ہمیں ( کبھی بھلائی کا) حکم دیا اور نہ ( کبھی برائی سے ) منع کیا ۔ حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : اے میرے رب ! میں نے ان کو دعوت دی ، ایسی دعوت جو اولین و آخرین سب کو شا مل تھی، پشت در پشت ان کو دعوت دی حتیٰ کہ یہ سلسلہ خاتم النبین احمد تک پہنچا۔ انہوں نے اس کو منسوخ کیا اور اس کو پڑھا اور اس کا یقین کیا اور اس کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : احمد ﷺ اور ان کی امت کو بلاؤ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت اس شان سے وہاں آئیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا۔ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت سے کہیں گے : کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور ان کو سمجھانے کی از حد کوشش کی تھی اور سراً و علانیۃ ان کو دوزخ سے بچانے کی کوشش کی تھی لیکن میری دعوت پر یہ اور بھی دور بھاگتے رہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ اور پ کی امت کہیں گے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کہا ہے وہ سب کچھ سچ ہے ۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کہے گی : اے احمد ! آپ کو اور آپ کی امت کو اس سب کا کیا معلوم ؟ ہم سب سے پہلی امت ہیں جبکہ آپ اور آپ کی امت سب سے آخر میں آئے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ پوری سورۃ نوح پڑھیں گے ۔ جب آپ سورۃ ختم فرمائیں گے تو آپ کی امت کہے گی : ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ سچ واقعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ ہی غالب حکمت والا ہے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جاؤ تو یہ سب سے پہلا گروہ ہو گا جو الگ ہو کر دوزخ میں جائے گا۔
وَهْبٌ: وَقَدْ ← سَبْعَةِ رَهْطٍ شَهِدُوا بَدْرًا ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الحسين بن محمد بن إسحاق،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Noah the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4012
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا قصہ " کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں" بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے ، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے ۔ پھر جب حضرت اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو الله تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھالیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات حضرت اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالی آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ الله تعالی آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:حضرت اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا ۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوگا اور فرمائے گا:اے اصدق الصادقین! (این اے سب سچوں سے بڑے سچے ) میری بات سن اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا:اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے بڑے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا ،ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا ۔ اے ابراہیم ! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا ، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجودتم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی شکل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سپائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام ! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو الله تعالی کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جن کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اے ابراہیم علیہ السلام ! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی ۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ انعام سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام ! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کی : یا الہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آ ئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالی نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کرلیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اور جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کوروکوں گا نہیں اور ایسی عطا کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔
وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Mention of those who said that the sacrifice of Isaac bin Abraham, peace be upon them · Hadith 4049
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جب فرشتے حضرت ابراہم ؔ کے پاس سے حضرت لوط علیہ السلام کے شہر کی جانب روانہ ہوئے تو دوپہر کے وقت وہاں آ پہنچے ، جب وہ نہر سدوم پر پہنچے تو ان کی ملاقات حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کے ساتھ ہوئی ، جو اپنے گھر والوں کے لئے پانی بھر رہی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو بیٹیاں تھیں، فرشتوں نے ان سے کہا: کوئی رہنے کی جگہ ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ لیکن جب تک میں واپس نہ آؤں تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنا۔ وہ اپنے والد کے پاس آئیں اور بولی : أبا جان شہر کے دروازے پر چند نوجوانوں کو میں نے دیکھاہے ، وہ اس قدر حسین ہیں کہ میں نے آج تک ان جیسا حسین نہیں دیکھا، کہیں وہ آپ کی قوم کے ہاتھ نہ چڑھ جائیں اور وہ ان کو رسوا نہ کر دیں ۔ آپ کی قوم نے آپ کو مرد مہمان ٹھہرانے سے منع کیا ہوا تھا حتیٰ کہ انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ مردوں کی مہمان نوازی ہم پر واجب ہے ۔ چنانچہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے ہاں آگئے اور ان کے گھر والوں کے علاوہ اور کسی کو ان کا پتہ نہ چلا ۔ تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی گھر سے اور ان کی قوم کو سب کچھ بتا دیا کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں کچھ مرد ہیں ، میں نے ان جیسا حسین چہرہ کبھی نہیں دیکھا ، تو ان کی قوم دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی ، جب آپ کے پاس آئے تو حضرت لوط علیہ السلام نے ان سے کہا : یہ میری ( قوم کی ) بیٹیاں ہیں ، یہ تمہارے ارادوں کے مطابق تمہارے لئے ستھری ہیں ۔ انہوں نے کہا: کیا ہم نے تمہیں مردوں کو مہمان ٹھہرانے سے منع نہیں کیا تھا؟ آپ جانتے ہیں کہ تمہاری ( قوم کی ) بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے اور ہمارے جذبات کو تم خوب اچھی طرح جانتےہو۔ جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی ہر بات ماننے سے انکار کر دیا تو حضرت لوط علیہ السلام بولے : اے کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا ۔ آپ کہہ رہے تھے : کاش میرا کوئی مدد گار ہوتا جو تمہارے خلاف میری مدد کرے یا میرا خاندان ہوتا جو تم سے میرا عفاع کرتا تو وہ تمہیں اس ارادے میں کامیاب ہونے سے روک لیتا جو تم نے میرے مہمانوں کے بارے میں کر رکھا ہے اور جب حضرت لوط علیہ السلام نے کہا: کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے بازو پھیلائے اور ان لوگوں کی آنکھوں کو پھوڑ ڈالا تو وہ اندھے ہو کر ایک دوسرے کو پاؤں سے روندتے ہوئے ، بچاؤ بچاؤ کا شور مچاتے ہوئے وہاں سے بھاگے کہ لوط علیہ السلام کے گھر میں دنیا کے سب سے بڑے جادو گر موجود ہیں ۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ ِ٣٧﴾ [القمر: 37]" انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دیں " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) فرشتے بولے : ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ، وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تمہاری عورت کے ، اسے بھی وہیں پہنچنا ، جو انہیں پہنچے گا ۔ آپ اپنے اہل کے پیچھے پیچھے چلیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جہاں کا حکم ہے سیدھے چلے جائیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شام کی طرف نکالا اور لوط علیہ السلام نے کہا : ان کو اسی وقت ہلاک کردیں ۔ فرشتوں نے جواب دیا : ہمیں صبح کے وقت کا حکم دیا گیا ، کیا صبح قریب نہیں ہے ۔ جب سحری کا وقت ہوا تو حضرت لوط علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کو لے کر نکل پڑے ۔ یہ ہے مطلب اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا: ﴿ إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ٣٤﴾ [القمر: 34]" سوائے لوط کے گھر والوں کے ہم نے انہیں پچھلے پہر بچا لیا " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Lot the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was agreed by narrations that he came from the house of Abraham, may God bless him and grant him peace. · Hadith 4059
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تو آپ کے دل میں اس کے دیدار کی خواہش پیدا ہوئی۔ آپ نے عرض کی: اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں ۔ فرمایا : تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھے گا۔ پھر پہاڑ کے گرد فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور فرشتوں کے گرد آگ کا حالہ بنادیا گیا اور آگ کو فرشتوں نےگھیرا ڈال لیا اور ان فرشتوں کے گرد بھی آگ نے گھیرا ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی مقدار تجلی ڈالی جس کی وجہ سے پہاڑ پاش پاش ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے ، جتنی دیر اللہ نے چاہا( آپ بے ہوش گرے پڑے رہے) پھر آپ کو ہوش آیا تو بولے : پاکی ہے تجھے ۔ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں یعنی بنی اسرائیل کے ایمان لانے والوں میں سے میں سب سے پہلا ہوں ۔یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4102
حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ﴾[الأحزاب: 69] "اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کردیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی۔اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے ۔ تب ان کو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک "رضم " نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس " رضم " کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4110