المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1314
1314 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبُهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا» ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا - أَوْ قَالَ: عَرَجُوا - رَكِبْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِلَفْظٍ أَشْفَى مِنْ هَذَا»
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے ہمراہ چلے تو آپ کی خدمت میں سواری پیش کی گئی ، لیکن آپ نے اس پر وار ہونے سے انکار کر دیا پھر جب جنازہ سے فارغ ہو کر واپس پلٹے تو دوبارہ سواری پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جنازہ کے ہمراہ ) فرشتے چل رہے تھے ۔ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ملائکہ چل رہے ہوں اور میں سواری پر بیٹھوں پھر جب فرشتے چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اس سے بھی زیادہ جامع الفاظ میں اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے )
ثَوْبَانَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1314
