Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1314

1314 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبُهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا» ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا - أَوْ قَالَ: عَرَجُوا - رَكِبْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِلَفْظٍ أَشْفَى مِنْ هَذَا»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے ہمراہ چلے تو آپ کی خدمت میں سواری پیش کی گئی ، لیکن آپ نے اس پر وار ہونے سے انکار کر دیا پھر جب جنازہ سے فارغ ہو کر واپس پلٹے تو دوبارہ سواری پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جنازہ کے ہمراہ ) فرشتے چل رہے تھے ۔ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ملائکہ چل رہے ہوں اور میں سواری پر بیٹھوں پھر جب فرشتے چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اس سے بھی زیادہ جامع الفاظ میں اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے )

ثَوْبَانَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1314

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1315

1315 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا» ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْتَحْيُونَ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے کے ہمراہ تشریف لے جا رہے تھے کہ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سواریوں پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں حیا نہیں ہے ؟ اللہ کے فرشتے تمہارے قدموں کے برابر ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر چڑھے ہو ئے ہو ۔

خرج رسول الله في جنازة فرأى ناسا ركبانا ← ثَوْبَانَ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عيسى بن يونس ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَفَّافُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1315

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1321

1321 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ جِنَازَةَ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ: «إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَائِكَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ فِي الْقِيَامِ لِجِنَازَةِ الْيَهُودِيِّ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تو ملائکہ کے احترام میں کھڑا ہوا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین اسے اس الفاظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا گیا ، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبید اللہ بن مقسم کی جابر سے یہودی کے جنازے کے لئے قیام سے متعلقہ روایت کردہ حدیث نقل کی ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ جِنَازَةَ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ» فَقَالُوا: ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1321

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1397

1397 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالُوا: جِنَازَةُ فُلَانِيِّ الْفُلَانِ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَيَسْعَى فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، قَالُوا: جِنَازَةُ فُلَانٍ الْفُلَانِيِّ كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَيَسْعَى فِيهَا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ فِي الْجِنَازَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهَا أُثْنِيَ عَلَى الْأَوَّلِ خَيْرٌ، وَعَلَى الْآخَرِ شَرٌّ فَقُلْتَ فِيهَا وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، فَقَالَ: «نَعَمْ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً تَنْطِقُ عَلَى أَلْسِنَةِ بَنِي آدَمَ بِمَا فِي الْمَرْءِ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا بیٹھا ہوا تھا ،تو آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیا کرتا تھا او ر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کیا کرتا تھا اور اس میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہ نے فرمایا :واجب ہوگئی (اس کے بعد )ایک اور جنازہ گزرا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا اور بد عمل تھا اور اسی میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:واجب ہوگئی ، واجب ہوگئی، واجب ہوگئی۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہلے جنازے کے متعلق اچھائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا "وجبت"(یعنی واجب ہوگئی)اور دوسرے کے متعلق برائی بیان کی گئی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "وجبت"(یعنی واجب ہوگئی)اس کی کیا وجہ ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابو بکر !ہاں بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر انسان میں پائی جانے والی اچھی یا بری خصلت جاری کر دیتے ہیں ۔

«وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» ← جِنَازَةُ فُلَانٍ الْفُلَانِيِّ كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَيَسْعَى فِيهَا، ← رَسُولُ اللَّهِ «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، ← جِنَازَةُ فُلَانِيِّ الْفُلَانِ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَيَسْعَى فِيهَا، ← ما هذه ← كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ، ← أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1397

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1423

1423 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَبَّرَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ عُمَرُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ صُهَيْبٌ عَلَى عُمَرَ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحَسَنُ عَلَى عَلِيٍّ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحُسَيْنُ عَلَى الْحَسَنِ أَرْبَعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَالْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ الزُّهْدِ وَالْعِلْمِ بِحَيْثُ لَا يُجْرَحُ مِثْلُهُ، إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :فرشتوں نے حضرت آدم ؑ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أبو الوليد محمد بن أحمد بن برد الأنطاكي ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1423

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1424

1424 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا الْفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «آخِرُ مَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجَنَائِزِ أَرْبَعًا» ، وَكَبَّرَ عُمَرُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى عُمَرَ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَلِيٍّ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى الْحَسَنِ أَرْبَعًا، وَكَبَّرَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ أَرْبَعًا «لَسْتُ مِمَّنْ يَخْفَى عَلَيْهِ أَنَّ الْفُرَاتَ بْنَ السَّائِبِ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ، وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ شَاهِدًا»

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں جو جنازے پڑھائے ،ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں پڑھا کرتے تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔اور حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔ اور فرشتوں نے حضرت آدم ؑ (کے جنازہ )پر چار تکبیریں کہی تھیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← الْفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ الْجَزَرِيُّ، ← خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1424

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1527

1527 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ شُفَيًّا حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحَقٍّ، وَحَقٍّ لَمَا حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِمْتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَفْعَلُ، لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً، فَمَكَثَ قَلِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى فَمَكَثَ بِذَلِكَ، ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ وَأَسْنَدْتُهُ طَوِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَزَلَ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ، فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَرَجُلٌ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ: أَلَمْ أُعَلِمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعَكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ قُتِلْتَ؟ فَيَقُولُ: أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا «وَالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ الْعُذْرِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى شَوَاهِدِ هَذَا الْحَدِيثِ بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ»

حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مد ینہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے اردگرد بہت سارے لوگ جمع ہیں ۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں : میں ان کے قریب ہوا،اوران کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، وہ لوگوں کو حد یثیں سنارہے تھے ۔ جب وہ حدیثیں سنا کر فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے ، تو میں نے کہا: میں تم سے اور کوئی چیز طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ تم مجھے کوئی ایسی بات سناؤ جوتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی اورسیکھی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: میں بھی صرف ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کافی دیر تک سسکیاں بھرتے رہے حتی کہ بے ہوش ہو گئے ۔ پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو کہنے لگے : میں تمہیں وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے (ایک مرتبہ) میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں تھے ،میرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تیسرا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ تھا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سسکیاں بھرنے لگے پھر آپ گر پڑے اور میں نے آپ کو بہت دیر تک سہارادیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا: تو فرمانے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا: قیامت کے دن اللہ تعالٰی بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ان کی طرف نزول فرمائے گا ، جبکہ سب امتیں انگلیوں کے بل کھڑی ہوں گی تو سب سے پہلے جن کوطلب فرمائے گا (ان میں سے ایک )وہ شخص ہو گا جس نے قرآن حفظ کیا ( اور ایک ایسا شخص ہوگا) جو جہاد فی سبیل اللہ کرتارہا( اور ایک ایسا شخص ہوگا جو بہت زیادہ مال و دولت والا ہوگا۔ اللہ تعالی قاری قرآن سے پوچے گا: کیا میں نے تجھے نہیں سکھایا تھاجو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا ؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا : میں دن رات اسی کی تلاوت میں مشغول رہا۔ اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے ۔ اورفر شتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا تیراتو یہ ارادہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ ’’فلاں شخص قاری ہے‘‘ وہ کہہ لیا گیا ہے۔ پھر مالدار کولا یا جائے گا اس کو اللہ تعالی فرمائے گا کیا میں نے تجھے اتنی دولت نہیں دی تھی کہ تجھے کسی انسان کا محتاج نہیں رہنے دیا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ۔ اللہ تعالی فرمائے گا جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا تو نے اس میں (میری رضا کے لئے) کیاعمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور صدقہ کرتارہا، اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے اور فرشتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اور اللہ تعالی فرمائے گا : بلکہ تیری نیت تو یہ تھی (کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’فلاں شخص سخی ہے‘‘سووہ کہہ لیا گیا ۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، اس کو کہا جائے گا: تو کیوں قتل ہوا؟ وہ جواب دے گا تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، میں جہاد کر تا رہا یہاں تک قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا تو جھوٹا ہے اور فر شتے اس کو کہیں گے :تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: بلکہ تیری نیت تو یہ تھی ( کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’ فلاں شخص بہت بہادر ہے‘‘ سو وہ کہہ لیا گیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ مارا اورفرمایا: اللہ کی مخلوق میں سب سے پہلے یہ تین لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمر ا نقل نہیں کیا اور ولید بن ابی ولید عذری اہل شام کے شیخ ہیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں ۔ حالانکہ دونوں نے اس حدیث کی شاہد حدیث نقل کی ہیں ۔ تاہم انکی سند کچھ مختلف ہے۔

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← عبد الله بن المبارك أنبأ حيوة بن شريح ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1527

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3507

3507 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا هُمْ أَوْتَادُهَا لَهُمْ جُلَسَاءُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَإِنْ غَابُوا سَأَلُوا عَنْهُمْ، وَإِنْ كَانُوا مَرْضَى عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ مَوْقُوفٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3507 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک مساجد کو کچھ چہیتے لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ فرشتوں کی دوستی ہو تی ہے ۔ اگر وہ لوگ غائب ہوں تو فرشتے ان کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ پریشان میں ہوں تو ان کی مدد کرتے ہی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح موقوف ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو حَازِمٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3507

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ لُقْمَانَ · حديث 3544

3544 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَتَلَا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ {وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ} [لقمان: 19] قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا خَرَجَ مَشَوْا بَيْنَ يَدَيْهِ وَخَلَّوْا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3544 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے لقمان علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے لئے قول: واقصد فی مشیک واغض من صوتک (لقمان:19) "اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست رکھ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تلاوت کیا اور فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نکلتے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے آگے چلتے اور آپ کی پشت کی جانب فرشتوں کے لئے خالی چھوڑ دیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَتَلَا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Luqman · Hadith 3544

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3565

3565 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنِّي رَأَيْتُ فِيَ مَنَامِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ كُلَّمَا دَخَلْتَ، وَكُلَّمَا خَرَجْتَ، وَكُلَّمَا قُمْتَ، وَكُلَّمَا جَلَسْتَ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " اللَّهُمَّ غُفْرًا دَعُونَا عَنْكُمْ وَأَنْتُمْ لَوْ شِئْتُمْ صَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ قَرَأَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} [الأحزاب: 42] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3565 - على شرط مسلم

سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ ایک شخص حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابو امامہ رضی اللہ عنہ ! می نے خواب میں دیکھا ہے کہ فرشتے جاتے آتے ، اٹھتے بیٹھتے آپ پر درود بھیجتے ہیں۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، ہم تمہیں بھی اس کی دعوت دیتے ہیں اگر تم چاہو تو تم پر بھی فرشتے درود بھیجیں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:۔ یا ایھا الذین اٰ منو ااذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا ھوالذی یصلی علیکم وملا ئکتہ لیخرجکم من الظلمات الیٰ النور وکان بالمومنین رحیما"۔ (الاحزاب :41،42،43) "اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجلے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3565

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3575

3575 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: 56] فَقَالَ ثَابِتٌ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرَى تُرَى فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَرَى الْبُشْرَى فِي وَجْهِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ أَتَانِي الْمَلَكُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ: أَمَا تَرْضَى مَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَّى عَلَيْكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشَرَ صَلَوَاتٍ، وَلَا سَلَّمَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ؟ فَقَالَ: بَلَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3575 - صحيح

حضرت ثابت البنانی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔" ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین اٰمنو صلو ا علیہ وسلمو تسلیما (الاحزاب:56) بے شک اللہ اور اسے کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر کہا: ہمارے پاس حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام سلیمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری کے واسطے سے ان کے والد کے حوالے سے روایت کیا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کا چہرا بہت ہشاش بشاش تھا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ ! آج آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آرہے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ نے فرمایا: میرے پاس فرشتہ آیا تھا، اس نے کہا: اے محمد ﷺ ! آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا جو امتی آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا ،میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گااور جو آپ کا امتی ایک مرتبہ مجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں گا آپ نے کہا: جی ہاں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← ثَابِتٌ: قَدِمَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3576

3576 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَسُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «وَقَدْ عَلَوْنَا فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ فَإِنَّهُ مَشْهُورٌ عَنْهُ. فَأَمَّا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، فَإِنَّا لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3576 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین پر گھومتے رہتے ہیں اور میری امت کی جانب سے ان کے سلام مجھے پیش کرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور حدیث ثوری میں ہماری سند "عالی" ہے کیونکہ وہ ان کے حوالے سے مشہور ہے اور اعمش کی عبداللہ بن سائب سے روایت کردہ حدیث میں نے صرف اسی سند کے ہمراہ لکھی ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَلَائِكَةِ · حديث 3589

3589 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ بِحَدِيثٍ أَتَيْنَاكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ، قَبَضَ عَلَيْهِنَّ مَلَكٌ فَضَمَّهُنَّ تَحْتَ جَنَاحِهِ وَصَعِدَ بِهِنَّ لَا يَمُرُّ بِهِنَّ عَلَى جَمْعٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا اسْتَغْفَرُوا لِقَائِلِهِنَّ حَتَّى يَجِيءَ بِهِنَّ وَجْهَ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعْهُ} [فاطر: 10] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3589 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم جب بھی تمہیں کوئی حدیث بیان کریں تو اس کی تصدیق کتاب اللہ سے پیش کریں گے۔ بندہ جب کہتا ہے: "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر وتبارک اللہ "۔ تو ایک فرشتہ اپنے پر پھیلا کر ان کو اپنے پروں میں لپیٹ لیتا ہے اور ان کو اپنے ساتھ لے کر اوپر کی طرف چڑھتا ہے یہ ملائکہ کی جس جماعت کے بھی قریب سے گزرتا ہے، وہ تمام فرشتے اس کے پڑھنے والے کے لئے استغفار کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔" الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ"۔ "اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ بِحَدِيثٍ أَتَيْنَاكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Surah of the Angels · Hadith 3589

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3607

3607 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالصَّافَّاتِ صَفًّا} [الصافات: 1] قَالَ: الْمَلَائِكَةُ {فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا} [الصافات: 2] قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ» {فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا} [الصافات: 3] قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3607 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد :۔" والصافات صفا (الصافات:1) "قسم ان کی باقاعدہ صف باندھیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے مراد فرشتے ہیں۔ "فالزاجرات زجرا"۔ (الصافات:2) "پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے بھی فرشتے مراد ہیں۔ "فا لتالیات ذکرا "۔ (الصافات:3) " پھر ان جماعتوں کی قرآن پڑھیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے بھی "فرشتے " ہی مراد ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْمَلَائِكَةُ فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا [الصافات: ← الْمَلَائِكَةُ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا [الصافات: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالصَّافَّاتِ صَفًّا [الصافات: ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَنْبَأَ سُفْيَانُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Saffat · Hadith 3607

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3655

3655 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} [البقرة: 102] الْآيَةُ. قَالَ: " إِنَّ النَّاسَ بَعْدَ آدَمَ وَقَعُوا فِي الشِّرْكِ اتَّخَذُوا هَذِهِ الْأَصْنَامَ، وَعَبَدُوا غَيْرَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا خَلَقْتَ عِبَادَكَ فَأَحْسَنْتَ خَلْقَهُمْ، وَرَزَقْتَهُمْ فَأَحْسَنْتَ رِزْقَهُمْ، فَعَصَوْكَ وَعَبَدُوا غَيْرَكَ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُمْ فِي غَيْبٍ فَجَعَلُوا لَا يَعْذُرُونَهُمْ " فَقَالَ: اخْتَارُوا مِنْكُمُ اثْنَيْنِ أُهْبِطُهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَآمُرُهُمَا وَأَنْهَاهُمَا " فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ - قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِيهِمَا - وَقَالَ فِيهِ: فَلَمَّا شَرِبَا الْخَمْرَ وَانْتَشَيَا وَقَعَا بِالْمَرْأَةِ وَقَتَلَا النَّفْسَ، فَكَثُرَ اللَّغَطُ فِيمَا بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ الْمَلَائِكَةِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِمَا وَمَا يَعْمَلَانِ فَفِي ذَلِكَ أُنْزِلَتْ {وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ، وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ} [الشورى: 5] الْآيَةُ. قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَلَائِكَةُ يَعْذُرُونَ أَهْلَ الْأَرْضِ وَيَدْعُونَ لَهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3655 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ۔" وما انزل علیٰ الملکین ببابل ھاروت وماروت (البقرۃ:102)۔ کے متعلق فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کے بعد لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے ان بتوں کو معبود مان لیا اور غیر خدا کی عبادت کرنے لگے ۔ فرشتوں نے ان کے لئے بد دعائیں کرنا شروع کر دیں اور یوں کہنے لگے:اے ہمارے رب! تو نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا اور ان کی اچھی تخلیق فرمائی ، تو نے ان کو اچھا رزق عطا فرمایا، لیکن انہوں نے تیری نا فرمانی کی ہے اور تیرے غیر کی عبادت کی ہے ۔ اے اللہ، اے اللہ ! یوں وہ انسانوں کے خلاف دعا مانگا کرتے تھے۔ تو ان کو اللہ رب العزت نے فرمایا: وہ لوگ غیب میں ہیں لیکن فرشتے ان کی معذرت قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ے ان سے فرمایا: تم دو فرشتوں کو منتخب کر لو، میں ان کو زمین پر اتارتا ہوں وہ لوگوںمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کا انتخاب کر لیا پھر اس کے بعد ان کا تفصیلی واقعہ بیان فرمایا اور اس کے بعد فرمایا : جب انہوں نے شراب پی لی اور ان کو نشہ ہو گیا تو وہ زنا کے مرتکب ہو گئے اور قتل بھی کر دیا پھر جب ان میں اور ملائکہ میں شوربڑھ گیا تو ملائکہ نے ان کی طرف اور ان کے اعمال کی طرف دیکھا ۔ اس سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ "والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض" (الشوریٰ:5)۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آیت کے آخر تک۔ پھر اس کے بعد فرشتوں نے زمین والوں کا عذر تسلیم کیا اور ان کے لئے دعا مانگنے لے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةُ. ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3655

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3670

3670 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعِ مِائَةٍ أَنْبَأَ أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: عِبَادُ الرَّحْمَنِ. قُلْتُ: هُوَ فِي مُصْحَفِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: «فَامْحُهَا وَاكْتُبْ عِبَادَ الرَّحْمَنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3670 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: (وجعلو الملائکۃ الذین ھم عباد الرحمٰن ) (الزخرف:19) میں "عباد الرحمٰن"۔ (بطور جمع) ہے یا "عبدالرحمٰن "۔(بطور واحد) ہے؟ انہوں نے کہا: عباد الرحمٰن ہے ۔ میں نے کہا: میرے مصحف میں تو "عبدالرحمٰن" ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو مٹا کر " عباد الرحمٰن" لکھ لو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Zukhruf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3670

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3736

3736 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا بَسَّامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «سَلُونِي قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلُونِي وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي» قَالَ: فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا {الذَّارِيَاتِ ذَرُوًا} [الذاريات: 1] قَالَ: «الرِّيَاحُ» قَالَ: فَمَا {الْحَامِلَاتِ وِقْرًا} قَالَ: «السَّحَابُ» . قَالَ: فَمَا {الْجَارِيَاتِ يُسْرًا} قَالَ: «السُّفُنُ» . قَالَ: فَمَا {الْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ» . قَالَ: فَمَنِ {الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ} [إبراهيم: 28] قَالَ: «مُنَافِقُو قُرَيْشٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3736 - صحيح

والذاریات ذروًا " قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں "۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ( سے مراد ہے) آپ نے فرمایا : ہوائیں۔ اس نے کہا: فالجاریات یسرًا "نرم چلنے والیاں "۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ( سے مراد ہے) آپ نے فرمایا : کشتیاں۔ اس نے کہا: مال مقسمات امرًا" حکم سے بانٹنے والیاں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ( سے مراد ہے) آپ نے فرمایا : فرمایا۔ اس نے کہا: وہ کون ہیں ( جن کے متعلق یہ آیت ہے)الذین بدلو نعمۃ اللہ کفرا و احلو قو مہم دار البوار جہنم(ابراہیم: 28،29 ) " جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ نے فرمایا : وہ قریش کے منافقین ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

فَمَنِ {الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ} [إبراهيم: ← «الْمَلَائِكَةُ» ← فَمَا {الْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا} ← «السُّفُنُ» ← فَمَا {الْجَارِيَاتِ يُسْرًا} ← «السَّحَابُ» ← فَمَا {الْحَامِلَاتِ وِقْرًا} ← الرِّيَاحُ ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا {الذَّارِيَاتِ ذَرُوًا} [الذاريات: ← فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ ← «سَلُونِي قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلُونِي وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي» ← رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← بَسَّامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Dhariyat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3736

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّحْرِيمِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3829

3829 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَلَى أَثَرِهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: " حَجَجْتُ حَجَّةً فَنَزَلْتُ سِكَّةً مِنْ سِكَكِ الْكُوفَةِ فَخَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، فَإِذَا بِصَارِخٍ يَصْرُخُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَهُوَ يَقُولُ: إِلَهِي وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ مَا أَرَدْتُ بِمَعْصِيَتِي إِيَّاكَ مُخَالَفَتَكَ، وَلَقَدْ عَصَيْتُكَ إِذْ عَصَيْتُكَ وَمَا أَنَا بِذَلِكَ جَاهِلٌ، وَلَكِنْ خَطِيئَةٌ عَرَضَتْ أَعَانَنِي عَلَيْهَا شَقَائِي، وَغَرَّنِي سِتْرُكَ الْمُرْخَي عَلَيَّ، وَقَدْ عَصَيْتُكَ بِجَهْلِي وَخَالَفْتُكَ بِجَهْلِي فَالْآنَ مِنْ عَذَابِكَ مَنْ يَسْتَنْقِذُنِي وَبِحَبْلِ مَنْ أَتَّصِلُّ إِنْ أَنْتَ قَطَعْتُ حَبْلَكَ عَنِّي، وَاشَبَابَاهُ وَاشَبَابَاهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَوْلِهِ تَلَوْتُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ} [التحريم: 6] الْآيَةُ. فَسَمِعْتُ حَرَكَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ لَمْ أَسْمَعْ بَعْدَهَا حِسًّا فَمَضَيْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ رَجَعْتُ فِي مَدْرَجَتِي، فَإِذَا أَنَا بِجِنَازَةٍ قَدْ وُضِعَتْ وَإِذَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ أَمْرِ الْمَيِّتِ وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْنِي فَقَالَتْ: مَرَّ هُنَا رَجُلٌ لَا جَزَاهُ اللَّهُ إِلَّا جَزَاءَهُ بِابْنِي الْبَارِحَةَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَتَلَا آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَمَّا سَمِعَهَا ابْنِي تَفَطَّرَتْ مَرَارَتُهُ فَوَقَعَ مَيِّتًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3829 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت منصور بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حج کرنے گیا اور کوفہ کے ایک محلہ میں قیام کیا۔ پھر ایک اندھیری رات میں نکلا تو میں نے ایک چیخنے والے کو سنا کہ وہ رات کے سناٹے میں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا : اے اللہ ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم تیری نافرمانی کرنے سے میرا ارادہ تیری مخالفت کرنا نہ تھا ۔ میرا نافرمانی کرنا محض نا فرمانی ہی تھا اور میں اس سے جاہل نہ تھا لیکن ایک خطا مجھ سے سرزد ہوئی ، میری بد بختی نے اس پر میری مدد کی اور تیری پردہ پوشیوں سے میں دھوکے میں رہا ۔ میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کی اور اپنی جہالت کی وجہ سے تیری مخالفت کی اور اب مجھے تیرے عذاب سے کون بچائے گا ؟ اور اگر تو نے اپنا تعلق مجھ سے توڑ لیا تو میرا تعلق تیرے ساتھ کون بحال کروائے گا؟ ہائے میری جوانی ! ہائے میری جوانی ! جب وہ اپنی بات سے خاموش ہوا تو میں نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت کی : ﴿ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ﴾ [التحريم: 6]" اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ ، جسن کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سخت کرے طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اس کے بعد میں نے شدید حرکت سنی اور پھر میں نے کوئی حرکت وغیرہ محسوس نہ کی اور میں وہاں سے گزر گیا ۔ اگلے دن میں اپنے خیمے میں لوٹا تو میں نے دیکھا کہ ایک جنازہ رکھا ہو اہے اور ایک بوڑھی خاتون وہاں موجود تھی ، میں نے اس خاتوں سے اس میت کے متعلق پوچھا ( وہ خاتوں مجھے پہچانتی نہ تھی ) اس نے کہا : گزشتہ رات ایک آدمی ( اللہ تعالیٰ اس کو صرف اس کی جزا دے ) میرے بیٹے کے پاس سے گزرا ۔ اس وقت یہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس آدمی نے قرآن کریم کی ایک آیت تلاوت کی ، جب میرے بیٹے نے وہ آیت سنی تو اس کا پتا پھٹ گیا ، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔

مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَلَى أَثَرِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Al-Tahrim › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3829

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّحْرِيمِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3834

3834 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ تُعَذَّبُ بِالشَّمْسِ، فَإِذَا انْصَرَفُوا عَنْهَا أَظَلَّتْهَا الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، وَكَانَتْ تَرَى بَيْتَهَا فِي الْجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3834 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فرعون کی بیوی کو دھوپ میں عذاب دیا جاتا تھا ۔ جب یہ لوگ چلے جاتے تو ملائکہ اس پر اپنے پروں سے سایہ کر دیتے تھے اور وہ جنت میں اپنا محل دیکھا کرتی تھی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← يزيد بن هارون أنبأ سليمان التيمي ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Al-Tahrim › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3834

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُرْسَلَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3886

3886 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] قَالَ: «هِيَ الْمَلَائِكَةُ أُرْسِلَتْ بِالْمَعْرُوفِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3886 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا١﴾ [المرسلات: 1]" قسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگا تار " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ فرشتے ہیں جو بھلائی دے کر بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا [المرسلات: ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى الباشاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Mursalat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3886

chevron_left Previous
1…303132…694
Next chevron_right