Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 965

965 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَاسْتَنْسَبَنِي، فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتًى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ يُونُسُ أَحْسِبُهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ» قَالَ: " يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 965 - صحيح

انس بن حکیم الضبی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ میں آ گئے، یہاں ان کی ملاقات حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی (انس کہتے ہیں) انہوں نے مجھ سے میرا نسب پوچھا تو میں نے ان کو اپنا نسب بتا دیا، انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں؟ (انس کہتے ہیں) میں نے کہا: جی ہاں! "اللہ آپ پر رحم کرے" یونس کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے فرشتو! میرے بندے کی نماز کو دیکھو مکمل ہے یا کم؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ خود بھی جانتا ہے (پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) اگر اس کی نمازیں مکمل ہیں تو مکمل لکھ دی جائیں اور اگر کم ہیں تو دیکھو کہ میرے بندے کی کوئی نفلی عبادت ہے؟ اگر اس کی کوئی نفلی عبادت ہے تو اس میں سے میرے بندے کے فرائض کو پورا کر دو پھر اس کے بقیہ اعمال کا حساب کرو۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 965

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 966

966 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً، وَإِنْ لَمْ يُكْمِلْهَا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا تُكْمِلُوا بِهِ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ «.» قَصَرَ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَمُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْحُكْمَ فِي حَدِيثِهِ ".

حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کے متعلق حساب لیا جائے گا۔ اگر اس کی نمازیں مکمل ہوئیں تو اس کا ثواب پورا لکھ دیا جائے گا اور اگر کم ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی عبادت موجود ہے؟ (اگر ہے تو) اس کے ساتھ اس کے فرائض کی کمی کو پورا کر دو پھر اس کے بعد زکوٰۃ کا اور پھر دیگر اعمال کا اسی طرح حساب ہو گا۔ حماد بن سلمہ کے بعض راویوں نے اسی پر اکتفا کیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل اس حدیث میں حکم ہیں۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إبراهيم بن إسحاق الحربي ومحمد بن غالب ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 966

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5994

5994 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: " اعْلَمْ يَا مُطَرِّفُ، أَنَّهُ كَانَتْ تُسَلِّمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَيَّ عِنْدَ رَأْسِي، وَعِنْدَ الْبَيْتِ، وَعِنْدَ بَابِ الْحِجْرِ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ ذَهَبَ ذَلِكَ، فَلَمَّا بَرِئَ كَلَّمَهُ، قَالَ: «اعْلَمْ يَا مُطَرِّفُ أَنَّهُ عَادَ إِلَيَّ الَّذِي كُنْتُ أَفْقِدُ، اكْتُمْ عَلَيَّ يَا مُطَرِّفُ حَتَّى أَمُوتَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5994 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

مطرف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے مطرف ! جان لو کہ فرشتے میرے سر کے پاس مجھ پر سلام بھیجتے تھے ، بیت اللہ کے پاس بھی اور باب الحجر کے پاس بھی۔ جب مجھے داغ لگا تو یہ معاملہ ختم ہو گیا پھر جب میرازخم درست ہو گیا تو اے مطرف جان لو کہ وہ سارا معاملہ دوبارہ لوٹ آ یا جوختم ہو گیا تھا۔ اے مطرف میری زندگی میں میرا یہ راز کبھی کسی سے نہ کہنا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ، أَنَّهُ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حَمَّادٌ، ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← الحسين بن محمد القباني ← أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Imran ibn al-Husayn al-Khuza’i, may God be pleased with him · Hadith 5994

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6049

6049 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَابِدُ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ وَقَعَ بِالْوَادِي بُخَارٌ مِنَ السَّمَاءِ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ، فَإِذَا الْوَادِي يَسِيلُ مَاءً فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّ هَذَا شَيْءٌ مِنَ السَّمَاءِ أُيِّدَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا كَانَتْ إِلَّا الْهَزِيمَةُ، وَكَانَتِ الْمَلَائِكَةُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ بدر میں دیکھا وادی کے اندر آسمان سے ایک دھواں سا آیا ہے جس نے پورے آسمان کو گھیر لیا ہوا ہے، اور وادی میں پانی بہنے لگ گیا، میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ کوئی چیز آسمان سے نازل ہوئی ہے جس کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جارہی ہے ۔ اس کے بعد تو شکست مشرکین کا مقدر بن گئی۔ وہ فرشتے تھے۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← عَابِدُ بْنُ بَحِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the wise man of Hizam ibn al-Qurashi, may God be pleased with him · Hadith 6049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى الْعَامِرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6084

6084 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الأَشْهَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى قَدْ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ، سِتِّينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَسِتِّينَ فِي الإِسْلاَمِ، فَلَمَّا وَلِيَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْمَدِينَةَ فِي عَامِهِ الأَوَّلِ، دَخَلَ عَلَيْهِ حُوَيْطِبٌ مَعَ مَشَايِخٍ جُلَّةٍ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَمَخْرَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ وَتَفَرَّقُوا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ حُوَيْطِبٌ يَوْمًا بَعْدَ ذَلِكَ، فَتَحَدَّثَ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: تَأَخَّرَ إِسْلاَمُكَ أَيُّهَا الشَّيْخُ، حَتَّى سَبَقَكَ الأَحْدَاثُ، فَقَالَ حُوَيْطِبٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ بِالإِسْلاَمِ غَيْرَ مَرَّةٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَعُوقُنِي أَبُوكَ عَنْهُ وَيَنْهَانِي، وَيَقُولُ: تَضَعُ شَرَفَ قَوْمِكَ، وَدِينَ آبَائِكَ، لِدَيْنٍ مُحْدَثٍ، وَتَصِيرَ تَابِعَهُ؟! قَالَ: فَأَسْكَتَ مَرْوَانَ وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ قَالَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ حُوَيْطِبٌ: أَمَا كَانَ أَخْبَرَكَ عُثْمَانُ مَا لَقِيَ مِنْ أَبِيكَ، حِينَ أَسْلَمَ، فَازْدَادَ مَرْوَانُ غَمًّا، ثُمّ قَالَ حُوَيْطِبٌ: مَا كَانَ فِي قُرَيْشٍ أَحَدٌ مِنْ كُبَرَائِهَا، الَّذِينَ بَقُوا عَلَى دَيْنِ قَوْمِهِمْ، إِلَى أَنْ فُتِحَتْ مَكَّةُ، أَكْرَهَ لِمَا فُتِحَتْ عَلَيْهِ مِنِّي، وَلَكِنِ الْمَقَادِيرُ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ بَدْرًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَرَأَيْتُ عَبْرًا، فَرَأَيْتُ الْمَلاَئِكَةَ تَقْتُلُ وَتَأْسِرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ مَمْنُوعٌ، وَلَمَّا ذُكِرَ مَا رَأَيْتُ أُحُدًا، فَانْهَزَمْنَا رَاجِعِينَ إِلَى مَكَّةَ، فَأَقَمْنَا بِمَكَّةَ، وَقُرَيْشٌ تُسْلِمُ رَجُلاً رَجُلاً، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ، حَضَرْتُ وَشَهِدْتُ الصُّلْحَ، وَمَشَيْتُ فِيهِ، حَتَّى تَمَّ، وَكُلُّ ذَلِكَ يَزِيدُ الإِسْلاَمُ، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلاََّ مَا يُرِيدُ، فَلَمَّا كَتَبْنَا صُلْحَ الْحُدَيْبِيَةِ، كُنْتُ آخِرَ شُهُودِهِ، وَقُلْتُ: لاََ تَرَى قُرَيْشٌ مِنْ مُحَمَّدٍ إِلاََّ مَا يَسُوءَهَا، قَدْ رَضِيتْ إِنْ دَافَعَتْهُ بِالرِّمَاحِ، وَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ مِنْ مَكَّةَ، كُنْتُ فِيمَنْ تَخَلَّفَ بِمَكَّةَ، أَنَا وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، لأَنْ نُخْرِجَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَى الْوَقْتُ فَلَمَّا انْقَضَتِ الثَّلاَثُ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقُلْنَا: قَدْ مَضَى شَرْطُكَ، فَاخْرُجْ مِنْ بَلَدِنَا، فَصَاحَ: يَا بِلاَلُ، لاََ تَغِبِ الشَّمْسُ وَأَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِمَكَّةَ، مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَهْمٍ، قَالَ: قَالَ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خِفْتُ خَوْفًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ مِنْ بَيْتِي، وَفَرَّقْتُ عِيَالِي فِي مَوَاضِعَ يَأْمَنُونَ فِيهَا، فَانْتَهَيْتُ إِلَى حَائِطِ عَوْفٍ، فَكُنْتُ فِيهِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، وَكَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ خُلَّةٌ، وَالْخُلَّةٌ أَبَدًا مَانِعَةٌ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ هَرَبْتُ مِنْهُ، فَقَالَ: أَبَا مُحَمَّدٍ فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ. قَالَ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: الْخَوْفُ. قَالَ: لَا خَوْفَ عَلَيْكَ أَنْتَ آمِنٌ بِأَمَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى مَنْزِلِكَ قُلْتُ: هَلْ لِي سَبِيلٌ إِلَى مَنْزِلِي، وَاللَّهِ مَا أُرَانِي أَصِلُ إِلَى بَيْتِي حَيًّا حَتَّى أُلْفَى فَأُقْتَلَ أَوْ يَدْخُلُ عَلَيَّ مَنْزِلِي فَأُقْتَلُ، وَإِنَّ عِيَالِي لَفِي مَوَاضِعَ شَتَّى. قَالَ: فَاجْمَعْ عِيَالَكَ فِي مَوْضِعٍ، وَأَنَا أَبْلَغُ مَعَكَ إِلَى مَنْزِلِكَ، فَبَلَغَ مَعِي، وَجَعَلَ يُنَادِي عَلَى أَنَّ حُوَيْطِبًا آمِنٌ فَلَا يُهَجْ، ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو ذَرٍّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: «أَوَلَيْسَ قَدْ أَمِنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرْتَ بِقَتْلِهِمْ؟» قَالَ: فَاطْمَأْنَنْتُ وَرَدَدْتُ عِيَالِي إِلَى مَنَازِلِهِمْ، وَعَادَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ، فَقَالَ لِي: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى مَتَى؟ وَإِلَى مَتَى؟ قَدْ سَبَقْتَ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، وَفَاتَكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ، وَبَقِيَ خَيْرٌ كَثِيرٌ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَرُّ النَّاسِ، وَأَوْصَلُ النَّاسِ، وَأَحْلَمُ النَّاسِ شَرَفُهُ شَرَفُكَ، وَعِزُّهُ عِزُّكَ قَالَ: قُلْتُ: فَأَنَا أَخْرُجُ مَعَكَ، فَآتِيهِ فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَوَقَفْتُ عَلَى رَأْسِهِ، وَسَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ يُقَالُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ حُوَيْطِبٌ» . فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ» . قَالَ: وَسُرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْلَامِي، وَاسْتَقْرَضَنِي مَالًا فَأَقْرَضْتُهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، «وَشَهِدْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ، وَأَعْطَانِي مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ مِائَةَ بَعِيرٍ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَاعَ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى دَارَهُ بِمَكَّةَ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفِ دِينَارٍ فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ قَالَ: «وَمَا أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ خَمْسَةٌ مِنَ الْعِيَالِ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ: «وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يُوفِرُ عَلَيْهِ الْقُوتَ كُلَّ شَهْرٍ» قَالَ: ثُمَّ «قَدِمَ حُوَيْطِبٌ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَهَا، وَلَهُ بِهَا دَارٌ بِالْبَلَاطِ عِنْدَ أَصْحَابِ الْمَصَاحِفِ» . قَالَ: «وَمَاتَ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ، وَكَانَ لَهُ يَوْمَ مَاتَ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً»

ابراہیم بن جعفر بن محمود بن محمد بن سلمہ اشہلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حویطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ۱۲۰ سال گزارے اور ۶۰سال اسلام میں ۔ جب مروان بن حکم کو پہلی مرتبہ مد ینہ کا والی بنایا گیا تو حضرت حویطب رضی اللہ عنہ چند جلیل القد رمشائخ ’’حکیم بن حزام ،اورمخر مہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے پاس آئے۔ اور کچھ گفتگو کی ۔ اور چلے گئے ۔اس کے بعد ایک دن حویطب ان کے پاس گئے اوران سے ہم کلام ہوئے۔مروان نے ان سے کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ انہوں نے ان کو بتایا ۔ مروان نے کہا: اے شیخ تم نے بہت تاخیر سے اسلام قبول کیا، بعد والے لوگ آپ سے آگے نکل گئے ۔ حویطب نے کہا: خدا کی قسم ! میں نے کئی مرتبہ اسلام لانے کا ارادہ کیا ، ہرمرتبہ تیرے والد نے مجھے ڈانٹ کر منع کر دیا۔ اوروہ یہ کہتے رہے کہ تم اپنی قوم اوراپنے آباء کے دین کو ایک نئے دین کی وجہ سے چھوڑ دوگے اور اس کے تابع ہو جاؤ گے؟ راوی کہتے ہیں :انہوں نے مروان کو خاموش کراد یا اور وہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمندہ ہوا۔ پھر حویطب نے کہا: کیاتمہیں حضرت عثمان نے وہ حالات نہیں سنائےکہ جب حضرت عثمان نے اسلام قبول کیا تھا اس وقت تمہارے والد نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ یہ سن کر مروان اور بھی آزردہ ہو گیا۔ پھر حویطب نے کہا:قریش مکہ کے بڑے بڑے لوگ جوابھی تک مسلمان نہیں ہوئےتھے،فتح مکہ کے موقع پر ان میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ پریشان نہیں تھا۔ میں جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ شریک ہوا تھا۔ میں نے ایک بادل سا دیکھا، پھر میں نے ملائکہ کو جنگ کرتے ہوئےدیکھا۔ اوروہ زمین سے آسمان تک حائل تھے ۔ میں نے کہا: اس آدمی کا دفاع بہت مضبوط ہے ۔ پھر جب وہ معاملات ذکر کئے جن کا جنگ احد میں مشاہدہ کیا تھا، پھر ہم وہاں سے مکہ کی جانب بھاگ نکلے ،اورو ہیں قیام کیا ،قریشی لوگ ایک ایک کر کے حلقہ بگوش اسلام ہو نے لگ گئے ۔ اور حد یبیہ کے موقع پر بھی حاضر ہوا، میں صلح میں بھی موجودتھا اور صلح مکمل ہونے تک میں بھی شامل تھالیکن اسلام دن بدن بڑھتا گیا اوراللہ تعالیٰ نے کفرکوکمز ور کر دیا۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا گیا تو ان کے گواہوں میں آخری گواہ میں تھا۔ میں نے کہا: قریش، محمد سے وہی معاملات دیکھیں گے جو ان کے لئے نقصان دہ ہوں گے ، وہ لوگ اپنے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے پر راضی ہو چکے ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائےاورقریش مکہ ان کے مقابلے کے لئے نکلے تو اس وقت میں اور سہل بن عمرو مکہ میں رہ جانے والوں میں شریک تھے، تا کہ جب وقت گز رجائےتو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے باہر نکال دیں گے ۔ جب تین دن پورے ہو گئے تو میں اور سہل بن عمر و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ کا وقت پورا ہو چکا ہے،اب آپ ہمارے شہر سے چلے جایئے ،تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو زور سے آواز دے کر کہا: اے بلال ! جتنے لوگ ہمارے ساتھ عمرہ کے لئے آئےہیں وہ سب شام ہونے سے پہلے پہلے مکہ سے نکل جائیں ۔ محمد بن عمر ایک دوسری سند کے ہمراہ منذ ر بن جہم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئےتو میں بہت گھبرایا تھا، میں خودمد ینہ شریف سے باہر چلا گیا اوراپنے بیوی بچوں کو مختلف محفوظ مقامات پر چھپادیا، میں چلتے چلتے عوف کے باغ میں پہنچا، وہاں پر حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کا اور میرا آمنا سامنا ہوگیا۔ ان کے ساتھ میری پہلے سے بہت اچھی دوستی تھی ۔ اور دوستی ہمیشہ رکاوٹ بنتی ہے، میں نے جب ان کو دیکھا تو بھاگ نکلا ، انہوں نے ’’اے ابومحمد‘‘ کہہ کر مجھے آواز دی، میں نے ’’لبیک‘‘ کہہ کر جواب دیا۔ انہوں نے کہا :تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: مجھے خوف طاری ہے ۔ انہوں نے کہا: تمہیں کوئی خوف نہیں ہے ،تو اللہ کے حکم سے امان میں ہے ۔ یہ سن کر میں ان کی جانب لوٹ کر آ گیا ،آ کر سلام کیا۔ انہوں نے کہا: تم اپنے گھر چلے جاؤ ، میں نے کہا: کیا میرے لئے اپنے گھر جانے کی کوئی صورت ہے؟ خدا کی قسم ! میں نہیں سمجھتا کہ میں زندہ گھر پہنچ سکتا ہوں یا اگرزندہ وسلامت گھر پہنچنے میں کا میاب ہوبھی گیا تو مجھے گھر میں ماردیا جائےگا ۔ اور میرے بیوی بچے مختلف مقامات پر بکھرے ہوئےہیں ۔انہوں نے کہا: تم اپنے بیوی بچوں سب کو ایک جگہ پراکٹھے کرو، میں تجھے تیرے گھر تک پہنچاؤں گا۔ حویطب کہتے ہیں: حضرت ابوذ رمیرے ساتھ ساتھ چلتے گئے اور راستے میں یہ اعلان کرتے گئے کہ حویطب کوامان دے دی گئی ہے، اس کو کچھ نہ کہا جائے۔ (مجھے میرے گھر پہنچا کر) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (میرے بارے میں )بتادیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام لوگوں کو امان ہے سوائےان لوگوں کے جن کے قتل کر نے کا ہم نے حکم صادر فرمادیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں مطمئن ہوگیا اوراپنے اہل وعیال کو واپس لاکر گھر چھوڑا،اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا آیا ، حضرت ابوذ ر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے ابومحمد !تم کب تک (اسی طرح چھپتے چھپاتے زندگی گزاروگے؟ )تم نے ہر موقع ضائع کر دیا ہے، اور بہت ساری بھلائیاں کھو بیٹھے ہو، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے ہیں، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، سب سے زیادہ بردباراور حوصلے کے پیکر ہیں ۔ ان کی شرافت ، تیری شرافت ہے اوران کی عزت ، تیری عزت ہے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے میں آپ کے ہمراہ چلوں گا۔ تم مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے جانا۔ پھر میں ان کے ہمراہ بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب اسلام قبول کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: تم کہو: السلام عليك ايها النبى ورحمة الله وبر كاته ، میں نے ایسے ہی کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا: وعليك السلام حویطب ۔ میں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شکر ہے اس اللہ تبارک وتعالیٰ کا جس نے تمہیں ہدایت دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قبول اسلام کو صیغہ راز میں رکھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے کچھ مال قرضہ مانگا، میں نے چالیس ہزار دینار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کئے ۔ جنگ حنین اور غز وہ طائب میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے مال غنیمت سے ایک سواونٹ مجھے عطا فرمائے تھے۔ محمد بن عمر ایک اورسند کے ہمراہ فرماتے ہیں کہ حویطب بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنا مکہ شریف والا مکان حضرت معاویہ سے چالیس ہزار دینار کے عوض خریدا تھا۔ ان سے لوگوں نے کہا: اے ابومحمد! کیا تم نے یہ گھر واقعی چالیس ہزار دینار میں خریدا ہے ؟ انہوں نے کہا: جس آدمی کے پانچ بچے ہوں ،اس کے پاس چالیس ہزار دینار کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کہتے ہیں : ان دنوں ہر ماہ ان کے رزق میں اضافہ ہور ہا تھا۔ پھراس کے بعد حضرت حویطب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آگئے ، وہیں قیام کیا ،اصحاب مصاحف کے نز دیک بلاط میں ان کا ایک گھر تھا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت حویطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ ۵۴ ہجری کو مدینہ میں فوت ہوئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر ۲۰ ۱سال تھی ۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الأَشْهَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the matchmaker of Hutab ibn Abd al-'Uzza al-'Amri, may God be pleased with him · Hadith 6084

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8253

8253 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مَرَرْتُ بِمَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُونِي بِالْحِجَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8253 - غير صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ملائکہ کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرا ، انہوں نے مجھے پچھنے لگوانے کا کہا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8253

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6126

6126 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: لَمَّا جَاءَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى أَشْكَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ: " اللَّهُمَّ أَرِنِي مِنَ الْحَقِّ أَمْرًا أَتَمَسَّكُ بِهِ، فَأُرِيتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا حَائِطٌ غَيْرُ طَوِيلٍ، وَإِذَا أَنَا تَحْتَهُ فَقُلْتُ: لَوْ تَسَلَّقْتُ هَذَا الْحَائِطَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَى قَتْلَى أَشْجَعَ فَيُخْبِرُونِي "، قَالَ: " فَأُهْبِطْتُ بِأَرْضٍ ذَاتِ شَجَرٍ، فَإِذَا نَفَرٌ جُلُوسٌ فَقُلْتُ: أَنْتُمُ الشُّهَدَاءُ، قَالُوا: نَحْنُ الْمَلَائِكَةُ، قُلْتُ: فَأَيْنَ الشُّهَدَاءُ؟ قَالُوا: تَقَدَّمْ إِلَى الدَّرَجَاتِ، فَارْتَفَعْتُ دَرَجَةً اللَّهُ أَعْلَمُ بِهَا مِنَ الْحُسْنِ وَالسَّعَةِ، فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ شَيْخٌ وَهُوَ يَقُولُ لِإِبْرَاهِيمَ: اسْتَغْفِرْ لِأُمَّتِي وَإِبْرَاهِيمُ يَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ أَهْرَاقُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَتَلُوا إِمَامَهُمْ، فَهَلَّا فَعَلُوا كَمَا فَعَلَ سَعْدٌ خَلِيلِي "، فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُنِي بِهَا أَذْهَبُ، فَأَنْظُرُ مَكَانَ سَعْدٍ، فَأَكُونُ مَعَهُ» ، فَأَتَيْتُ سَعْدًا فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَمَا أَكْثَرَ بِهَا فَرَحًا، وَقَالَ: لَقَدْ خَابَ مَنْ لَمْ يَكُنْ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلَهُ قُلْتُ: «مَعَ أَيِّ الطَّائِفَتَيْنِ أَنْتَ؟» قَالَ: مَا أَنَا مَعَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا، قَالَ: قُلْتُ: «فَمَا تَأْمُرُنِي؟» : أَلَكَ غَنَمٌ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَاشْتَرِ شَاءَ، فَكُنْ فِيهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6126 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حسین بن خارجہ فرماتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ آیا تو میں ( نظریاتی طور پر) بہت مشکل میں مبتلا ہو گیا، میں نے دعامانگی کہ یا اللہ! مجھے حق کا وہ راستہ دکھا جس پر میں مضبوطی سے گامزن ہو جاؤں۔ مجھے خواب میں دنیا اور آخرت دکھائی گئی ، دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار ہوتی ہے، اور میں اس کے نیچے ہوتا ہوں ، میں سوچتا ہوں کہ کاش کسی طریقے سے میں اس کے اوپر چڑھ جاؤں ،اورا شجع کے مقتولوں کو دیکھوں ( کہ وہ کس حالت میں ہیں) اور وہ مجھے اپنے حالات بتائیں۔ آپ فرماتے ہیں: پھر مجھے ایک ایسی جگہ اتارا گیا جہاں کافی درخت تھے، وہاں میں نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، میں نے پوچھا: کیاتم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: ہم فرشتے ہیں ۔ میں نے کہا: تو شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا:اگلے درجات میں جائیے ، میں ایک درجہ اوپر چڑھ گیا ، اس کے حسن اور وسعت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: آپ میری امت کے لئے بخشش کی دعافر مایئے ، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا فسادات کئے ،انہوں نے خون بہائے، انہوں نے اپنے اماموں کو شہید کیا ، انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ جیسا میرے دوست سعد نے کیا۔ (اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی) میں نے سوچا کہ میں نے جو خواب دیکھی ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا۔ میں جاؤں گا اور حضرت سعد کا مکان دیکھوں گا ،اورانہی کے پاس رہوں گا۔ چنانچہ میں ( صبح اٹھ کر) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اوران کو رات والا خواب سنایا ۔خواب سن کر وہ بہت خوش ہوئے، اور بولے : وہ شخص خسارے میں ہے جس کے دوست ابراہیم علیہ السلام نہیں ہیں ۔ میں نے پوچھا: آپ کس جماعت کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے کہا: میں دونوں جماعتوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوں ۔ میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: انہوں نے کہا: کیا تیرے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے کہا نہیں ۔ انہوں نے کہا: ایک بکری خرید لواوراس میں مصروف ہو جاؤ۔

حُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ ← أَبِي حَازِمٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtues of Abu Ishaq, Saad bin Abi and a storyteller, may God be pleased with him · Hadith 6126

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6190

6190 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «فِي السَّنَةِ الْجَمَاعَةِ سَنَةَ أَرْبَعِينَ مَاتَ أَبُو أُسَيْدٍ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ سَاعِدَةَ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَكَانَ مِمَّنْ أَبْصَرَ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَكُفَّ بَصَرُهُ، فَكَانَ أَمِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6190 - هذا خطأ

مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : جماعت کا سال 40 ہجری ہے ۔ حضرت اسید مالک بن ربیعہ بن عامر بن عوف بن خزرج بن ساعدہ " ہیں ۔ بدری صحابہ میں سب سے آخر میں یہی فوت ہوئے۔ یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے جنگ بدر کے دن ملائکہ کو دیکھا تھا ۔ ان کی بینائی زائل ہوگئی تھی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے امین ہوا کرتے تھے۔

مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abu Sayyid al-Saadi, may God be pleased with him · Hadith 6190

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8394

8394 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّذُورِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى أَشْكَلَتْ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ أَرِنِي أَمْرًا مِنْ أَمْرِ الْحَقِّ أَتَمَسَّكُ بِهِ، قَالَ: فَأُرِيتُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ وَبَيْنَهُمَا حَائِطٌ غَيْرُ طَوِيلٍ، وَإِذَا أَنَا بِجَائِزٍ، فَقُلْتُ: لَوْ تَشَبَّثْتُ بِهَذَا الْجَائِزِ لَعَلِّي أَهْبِطُ إِلَى قَتْلَى أَشْجَعَ لِيُخْبِرُونِي، قَالَ: فَهَبَطْتُ بِأَرْضٍ ذَاتِ شَجَرٍ، وَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ جُلُوسٌ، فَقُلْتُ: أَنْتُمُ الشُّهَدَاءُ؟ قَالُوا: لَا، نَحْنُ الْمَلَائِكَةُ، قُلْتُ: فَأَيْنَ الشُّهَدَاءُ؟ قَالُوا: تَقَدَّمْ إِلَى الدَّرَجَاتِ الْعُلَى إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقَدَّمْتُ فَإِذَا أَنَا بِدَرَجَةٍ اللَّهُ أَعْلَمُ مَا هِيَ فِي السَّعَةِ وَالْحَسَنِ، فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اسْتَغْفِرْ لِأُمَّتِي، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، أَرَاقُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَتَلُوا إِمَامَهُمْ، أَلَا فَعَلُوا كَمَا فَعَلَ خَلِيلِي سَعْدٌ، قُلْتُ: أُرَانِي قَدْ أُرِيتُ أَذْهَبُ إِلَى سَعْدٍ فَأَنْظُرُ مَعَ مَنْ هُوَ فَأَكُونُ مَعَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا فَمَا أَكْثَرَ بِهَا فَرَحًا، وَقَالَ: «قَدْ شَقِيَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلًا» ، قُلْتُ: فِي أَيِّ الطَّائِفَتَيْنِ أَنْتَ؟ قَالَ: «لَسْتُ مَعَ وَاحِدٍ مِنْهُمَا» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «أَلَكَ مَاشِيَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاشْتَرِ مَاشِيَةً وَاعْتَزِلْ فِيهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8394 - صحيح

حسین بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ ہوا تو مجھ پر بہت مشکل بنی، میں نے دعا مانگی " یا اللہ ! مجھے حق راستہ دکھا دے، تاکہ میں اس پر مضبوطی سے گامزن ہو جاؤں، آپ فرماتے ہیں: مجھے دنیا اور آخرت دکھائی گئ، ان دونوں کے درمیان ایک دیوار تھی ، یہ دیوار کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی، وہاں مجھے ایک سیڑھی دکھائی دی، میں نے سوچا: اگر میں اس سیڑھی کے ذریعے اوپر چڑھ جاؤں تو اشجع کے مقتولوں کے پاس پہنچ سکتا ہوں اور ان کے بارے میں کوئی خبر لی جا سکتی ہے، چنانچہ میں ایک درختوں والی زمین پر پہنچا، میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے پوچھا:کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم فرشتے ہیں، میں نے پوچھا: تو شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم ان درجات کی طرف چلے جاؤ، جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چڑھ رہے ہیں، میں ادھر چلا گیا، میں ایک درجے میں پہنچا،اس کے حسن اوراس کی وسعت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام موجود تھے،محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہہ رہے تھے: آپ میری امت کے لئے بخشش کی دعافرما دیجئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: آپ کو معلوم نہیں، انہوں نےآپ کے بعد کون کون سے کارنامے کئے ہیں، انہوں نے خونریزیاں کیں، اپنے اماموں کو شہید کیا، انہوں نے میرے دوست سعد کی طرح کیوں نہیں کیا؟ (میری آنکھ کھل گئی) میں نے سوچا کہ مجھے حق دکھا دیا گیا ہے، اب میں سعد کے پاس جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ وہ کون ہے، پھر اس کے ساتھ ہو جاؤں گا، پھر میں سعد کے پاس گیا، ان کو اپنا خواب سنایا،خواب سن کر وہ بہت خوش ہوئے، اور فرمایا: وہ شخص بدبخت ہے ، ابراہیم علیہ السلام جس کے دوست نہیں ہیں، میں نے پوچھا: آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں کسی بھی جماعت میں سے نہیں ہوں، میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تیرے پاس کوئی سواری ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ایک سواری خچر خرید لے، اس پر سوار ہو کر کہیں دور چلا جا،جب تک کہ یہ فتنہ ختم نہیں ہو جاتا(تب تک واپس نہ آنا)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْحُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8394

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8448

8448 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِلَسْطِينِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ أَخِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْخُشُوعُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَتُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، وَلَيُصَلِّيَنَّ النِّسَاءُ وَهُنَّ حُيَّضٌ، وَلَتَسْلُكُنَّ طَرِيقَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ، وَحَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، لَا تُخْطِئُونَ طَرِيقَهُمْ، وَلَا يُخْطِأَنَّكُمْ حَتَّى تَبْقَى فِرْقَتَانِ مِنْ فِرَقٍ كَثِيرَةٍ فَتَقُولُ إِحْدَاهُمَا: مَا بَالُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، لَقَدْ ضَلَّ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: 114] لَا تُصَلُّوا إِلَّا ثَلَاثًا، وَتَقُولُ الْأُخْرَى: إِيمَانُ الْمُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ كَإِيمَانِ الْمَلَائِكَةِ مَا فِينَا كَافِرٌ وَلَا مُنَافِقٌ، حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْشُرَهُمَا مَعَ الدَّجَّالِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8448 - صحيح

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تمہارے دینی معاملات میں سب سے پہلے جو چیز ختم ہو گی وہ خشوع و خضوع ہے۔ سب سے آخر میں جو چیز ختم ہو گی وہ نماز ہے، اسلام کی رسی ایک ایک کر کے ٹوٹری جائے گی، عورتیں حالت حیض میں نمازیں پڑھیں گی، تم ہو بہ ہو اپنی سابقہ قوموں کےنقش قدم پر چلو گے، جیسے جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے، تم ان کا طریقہ بھی اپنانے سے چھوڑو گے نہیں، اور نہ ہی وہ طریقہ تمہیں چھوڑے گا۔ حتیٰ کہ بہت ساری جماعتوں میں سے صرف دو جماعتیں رہ جائیں گی، ان میں سے ایک کہے گی: پانچ نمازیں کہا ں سے ثا بت ہو گئیں؟ ہم سے پچھلے لوگ تو گمراہ تھے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: " اقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل" ۔ اس لیے صرف تین نمازیں فرض ہیں۔ دوسری جماعت کہے گی: مومنوں کا اللہ پر ایمان ایسا ہی ہے جسے فرشتوں کا ایمان، ہم میں نہ کوئی کافر ہے نہ منافق۔ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ ان دونوں جماعتوں کا حشر دجال کے ساتھ کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ أَخِي حُذَيْفَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِلَسْطِينِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8448

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8506

8506 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمْرِو الْبِكَالِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَّأَ الْخَلْقَ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ الْمَلَائِكَةَ، وَجُزْءًا سَائِرَ الْخَلْقِ، وَجَزَّأَ الْمَلَائِكَةَ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ وَجُزْءًا لِرِسَالَتِهِ، وَجَزَّأَ الْخَلْقَ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ الْجِنَّ، وَجُزْءًا بَنِي آدَمَ، وَجَزَّأَ بَنِي آدَمَ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ تِسْعَةَ أَجْزَاءٍ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَجُزْءًا سَائِرَ النَّاسِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ» ، قَالَ: «السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْحَرَمِ بِحِيَالِهِ الْعَرْشُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8506 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے مخلوق کو10اجزاء پرتقسیم کیا، ان میںسے ۱9جزاء فرشتے بنائے اور ایک جز ء باقی تمام مخلوقات ۔ پھر فرشتوں کے10 اجزا ء کئے ، ان میں9اجزاء دن رات ہرلمحہ الله تعالی کی تسبیح وتہلیل کرتے ہیں، اور ایک جز ء کو رسالت کے لئے رکھا ۔مخلوق کے دس حصے بنائے ، ان میں سے 9حصے جنات بنائے ، اور ایک حصہ انسان ۔ اور انسانوں کے دس حصے بنائے ، ان میں سے 9حصّے یاجوج و ماجوج ہیں، اور ایک حصہ تمام انسان اور ذات الحبک آسمان سے مراد ، ساتواں آسمان ہے اور حرم کے سامنے عرش ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عمرو البكالى. ← مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8506

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8519

8519 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذُكِرَ عِنْدَهُ الدَّجَّالُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " تَفْتَرِقُونَ أَيُّهَا النَّاسُ لِخُرُوجِهِ عَلَى ثَلَاثِ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ الْفُرَاتِ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِقُرَى الشَّامِ، فَيَبْعَثُونَ إِلَيْهِمْ طَلِيعَةً فِيهِمْ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ وَأَبْلَقَ "، قَالَ: «فَيَقْتَتِلُونَ فَلَا يَرْجِعُ مِنْهُمْ بِشْرٌ» - قَالَ سَلَمَةُ: فَحَدَّثَنِي أَبُو صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «فَرَسٌ أَشْقَرٌ» ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَيَزْعُمُ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّ الْمَسِيحَ يَنْزِلُ إِلَيْهِ» - قَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا - «ثُمَّ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَيَمْرَحُونَ فِي الْأَرْضِ فَيُفْسِدُونَ فِيهَا» ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} [الأنبياء: 96] قَالَ: «ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَابَّةً مِثْلَ هَذَا النَّغَفِ فَتَلِجُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ فَيَمُوتُونَ مِنْهَا فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ، فَيُجْأَرُ إِلَى اللَّهِ، فَيُرْسِلُ مَاءً يُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْهُمْ» ، قَالَ: «ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا فِيهَا زَمْهَرِيرٌ بَارِدَةٌ فَلَمْ تَدَعْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا كَفَتْهُ تِلْكَ الرِّيحُ» ، قَالَ: «ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، ثُمَّ يَقُومُ الْمَلَكُ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ - وَالصُّورُ قَرْنٌ - فَلَا يَبْقَى خَلْقٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا مَاتَ، إِلَّا مَنْ شَاءَ رَبُّكَ، ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، فَلَيْسَ مِنْ بَنِي آدَمَ خَلْقٌ إِلَّا مِنْهُ شَيْءٌ» ، قَالَ: «فَيُرْسِلُ اللَّهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ كَمَنِيِّ الرِّجَالِ، فَتَنْبُتُ لُحْمَانُهُمْ وَجُثْمَانُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، كَمَا يُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنَ الثَّرَى» ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ} [فاطر: 9] قَالَ: «ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَيَنْفُخُ فِيهِ فَيَنْطَلِقُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَى جَسَدِهَا حَتَّى يَدْخُلَ فِيهِ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيَحْيَوْنَ حَيَاةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» قَالَ: «ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْخَلْقِ، فَيَلْقَاهُمْ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ شَيْئًا إِلَّا وَهُوَ مَرْفُوعٌ لَهُ يَتْبَعُهُ» ، قَالَ: " فَيَلْقَى الْيَهُودُ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ " قَالَ: " فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ عُزَيْرًا، قَالَ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ إِذْ يُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ "، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا} [الكهف: 100] قَالَ: " ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: الْمَسِيحَ، قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، قَالَ: فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، ثُمَّ كَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونَ اللَّهِ شَيْئًا "، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] قَالَ: «ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْخَلْقِ حَتَّى يَمُرَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ» ، قَالَ: " فَيَقُولُ مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَيَنْتَهِرُهُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا "، قَالَ: " فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ؟ " قَالَ: " فَيَقُولُونَ: سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ " قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا خَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقًا وَاحِدًا كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ» ، قَالَ: " فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، فَيَقُولُ: قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ ". قَالَ: «ثُمَّ يَأْمُرُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ فَيَمُرُّ النَّاسُ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ زُمَرًا كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، ثُمَّ كَأَسْرَعِ الْبَهَائِمِ، ثُمَّ كَذَلِكَ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ سَعْيًا ثُمَّ مَشْيًا، ثُمَّ يَكُونُ آخِرُهُمْ رَجُلًا يَتَلَبَّطُ عَلَى بَطْنِهِ» ، قَالَ: فَيَقُولُ: " أَيْ رَبِّ لِمَاذَا أَبْطَأْتَ بِي؟ فَيَقُولُ: لَمْ أُبْطِئْ بِكَ إِنَّمَا أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُكَ ". قَالَ: «ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَكُونُ أَوَّلُ شَافِعٍ رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ ثُمَّ مُوسَى، ثُمَّ عِيسَى عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ» ، قَالَ: " ثُمَّ يَقُومُ نَبِيُّكُمْ رَابِعًا لَا يَشْفَعُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فِيمَا يَشْفَعُ فِيهِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] " قَالَ: «فَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَهِيَ تَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ أَوْ بَيْتٍ فِي النَّارِ» ، قَالَ: «وَهُوَ يَوْمُ الْحَسْرَةِ» . قَالَ: " فَيَرَى أَهْلُ النَّارِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُقَالُ: لَوْ عَمِلْتُمْ "، قَالَ: «فَتَأْخُذُهُمُ الْحَسْرَةُ» ، قَالَ: " وَيَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الْبَيْتَ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ: لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ "، قَالَ: " ثُمَّ يَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ وَالصَّالِحُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ فَيُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أَخْرَجَ مِنْ جَمِيعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِهِ "، قَالَ: " ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} [المدثر: 43] قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ، قَالَ: فَعَقَدَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِهِ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ مِنْ خَيْرٍ، مَا يَنْزِلُ فِيهَا أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنْهَا أَحَدٌ غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ وَأَلْوَانَهُمْ» ، قَالَ: " فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ وَلَا يَعْرِفُ أَحَدًا فَيُنَادِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ أَنَا فُلَانٌ، فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقُولُ: {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ} [المؤمنون: 107] فَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ: اخْسَأُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ أُطْبِقَتْ عَلَيْهِمْ، فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ بَشَرٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8519 - على شرط البخاري ومسلم

ابوالزعراء فرماتے ہیں: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، آپ کے ہاں دجال کا تذکرہ شروع ہوگیا، آپ نے فرمایا: دجال کے آنے پر اے لوگوتم تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ، ایک فرقہ اس کا پیروکار بن جائے گا، ایک فرقہ عرب میں (جہاں شیخ نامی گھاس اگنے کے مقامات ہیں) اپنے آباء و اجداد سے جا ملے گا، ایک فرقہ دریائے فرات کے کنارے چلا جائے گا، وہاں پر ان کی دجال کے ساتھ بہت سخت جنگ ہوگی مسلمان شام کے ایک علاقے میں جمع ہوں گے ، اور وہ لوگ ایک جماعت کو اس کی خبر لینے کے لئے بھیجیں گے، ان میں ایک گھڑ سوار ہوگا، جو کہ سرخ وزرد رنگ کے چتکبرے گھوڑے پر سوار ہوگا، یہ لوگ بھی وہاں جنگ میں شریک ہوں گے اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا، حضرت سلمہ فرماتے ہیں: ابوصادق نے ربیبہ بن ناجذ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے"فرس اشقر " کہا اور بتایا کہ اہل کتاب یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی ؑان کی جانب نازل ہوں گے ، اور میں نے اہل کتاب کے حوالے سے اس سے مختلف موقف سنا ہے، پھر یاجوج و ماجوج نکلیں گے ، یہ جس زمین سے گزریں گے اس کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی۔ (ترجمہ )اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا) پھر اللہ تعالی ان پر دابہ بھیجے گا، وہ جانوروں میں پیدا ہونے والے کیڑے کی مانند ہوگا، وہ ان کے کانوں میں اور ناک میں گھس جائے گا، جس سے وہ مر جائیں گے، ان کی وجہ سے زمین بد بودار ہو جائے گی ، پھر الله تعالی سے دعائیں مانگی جائیں گی ، پھر اللہ تعالی ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، یہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی ، پھر خبیث ترین لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی ، پھر فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا، اورصور ایک سینگ ہے۔ وہ سینگ میں پھونکے گا، اس کی آواز کی وجہ سے تمام اہل زمین مرجائیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جن کو رب زندہ رکھنا چاہے گا، پھر دوبارہ صور پھونکنے سے پہلے خدا جانے کتنا عرصہ ہوگا۔ بنی آدم میں سے کچھ مخلوق ہو گی۔ پھر الله تعالی عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا، یہ پانی مردوں کی منی کی مانند ہوگا، اس کی وجہ سے لوگوں کے جسموں پر گوشت پیدا ہو جائے گا، جیسے بارش کی وجہ سے زمین فصلیں اگتی ہے، اسی طرح انسانوں کے جسم نشونما پائیں گے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی (ترجمہ )اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کے بادل ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں ، تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے سبب ہم زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کے مَرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا)پھر فرمایا: پھر فرشتہ آسان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا، اس میں پھونکے گا، ہر روح اپنے جسم کی طرف چل پڑے گی اور اس میں داخل ہو جائے گی پھر یہ کھڑے ہو جا ئیں گے اور زندہ ہو کر اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں یوں کھڑے ہو جائیں گے جیسے ایک آدمی کھڑا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالی مخلوق سے ملاقات فرمائے گا، اور جو شخص اللہ کے علاوہ جس جس کی بھی عبادت کرتا رہا ہوگا اس کو کھڑا کر کے اس کے عبادت گزار کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے گا۔ الله تعالی سے یہودی ملاقات کریں گے تو الله تعالی فرمائے گا: تم کسی کی عبادت کیا کرتے تھے ، وہ کہیں گے: ہم عزیر کی عبادت کیا کرتے تھے، اللہ تعالی فرمائے گا: نہیں پانی اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے : جی ہاں۔ اس وقت ان کو سیراب کی طرح دوزخ دکھائی جائے گی، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں (ترجمہ )"اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے "(ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا)پھر عیسائی لوگوں کی اللہ تعالی سے ملاقات ہوگی ، اللہ تعالی پوچھے گا: تم کسی کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے:۔ حضرت عیسی ؑ کی ۔ الله تعالی فرمائے گا: کیا تمہیں پانی اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں۔ ان کو سراب کی مانند دوزخ دکھائی جائے گی ، اسی طرح ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو گا جو غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں (ترجمہ )"اور نہیں ٹھہراؤ ،ان سے پوچھنا ہے" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا)پھر الله تعالی مخلوق کے لئے اپنی شایان شان کوئی شکل اختیار کرے گا اور مسلمانوں کے پاس سے گزرے گا، اللہ تعالی ان سے پوچھے گا تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم الله تعالی کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اللہ تعالی ان سے پوچھے گا: کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟ مسلمان کہیں گے : سبحان اللہ، جب وہ ہمیں اپنا تعارف کروائے گا تو ہم پہچان جائیں گے ، اس وقت اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق پنڈلی کو ظا ہر فرمائے گا تو ہر مومن اللہ تعالی کے لئے سجدہ ریز ہو جائیں گے ، اور منافقین سجدہ نہیں کریں گے ، ان سب کی پشت ایک (سلیٹ کی مانند) ہوگی گویا کہ اس میں سریا ڈال دیا گیا ہو، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب ۔ الله تعالی فرمائے گا: تم کو پہلے بھی سجدے کے لئے بلایا جا تا تھا ، جب تم سلامت تھے۔ پھر پل صراط بچھایا جائے گا، لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزریں گے ، کوئی جماعت بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گی ، کوئی ہوا کی طرح، کوئی پرندوں کی طرح، کوئی تیز چوپائے کی طرح، کچھ لوگ تیز دوڑ کر گزریں گے ، کچھ پیدل چل کر ، اور سب سے آخری شخص اپنے پیٹ کے بل گھسٹ کر گزرے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب ! تو نے مجھے کیوں دیر کروادی؟ الله تعالی فرمائے گا: میں نے تجھے دیر نہیں کروائی ، بلکہ تجھے تیرے اعمال نے دیر کروائی ہے، پھر اللہ تعالی شفاعت کی اجازت عطا فرمائے گا۔ سب سے پہلے حضرت جبریل امینؑ شفاعت کریں گے ، پھر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ، پھر حضرت موسیٰؑ ، پھر حضرت عیسیؑ شفاعت فرمائیں گے، پھر چوتھے مرحلے پر تمہارانبی شفاعت کے لئے اٹھے گا، ان کے بعد کوئی سفارش کرنے والانہیں ہوگا۔ حضورصلی اللہ علیہ و الہ وسلم جس جگہ کھڑے ہو کر شفاعت کریں گے، وہ وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں الله تعالی نے اس آیت میں وعدہ فرمایا (ترجمہ )" قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمدکریں"(ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا)پھر ہر (جنتی) شخص اپنے جنتی گھر کو یا (جہنمی شخص اپنے ہی گھر کو دیکھ لے گا، آپ فرماتے ہیں: وہ حسرت کا دن ہوگا۔ پھر دوزخیوں کو جنت کا ایک گھر دکھا کر کہا جائے گا: اگرتم نیک عمل کرتے تو تمہیں یہ ملتا) ان کو بہت حیرت ہوگی۔ پھر جنتیوں کو دوزخ کا ایک گھر دکھا کر کہا جائے گا: اگر الله تعالی کا تم پر احسان نہ ہوتا تو تم اس میں جاتے ) پھر فرشتے شفاعت کریں گے، پھر انبیاء کرام شفاعت کریں گے، پھر اولیاء عظام شفاعت کریں گے، پھر مومنین شفاعت کریں گے ،اللہ تعالی ان کی شفاعت قبول فرمائے گا، پھر اللہ تعالی فرمائے گا: میں سب سے بڑارحم کرنے والا ہوں، پھر (اب تک جتنے لوگ تمام کی شفاعت کے ساتھ دوزخ سے نکالے گئے ہوں گے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالی خود دوزخ سے نکالے گا، پھر فرمائے گا: میں سب سے بڑارم کرنے والا ہوں، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی (ترجمہ )تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے ، اور بے ہودہ فکر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکر یں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے "(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا)پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ چار کا عقد بنا کر فرمایا: کیاتم ان میں کہیں بھلائی دیکھے ہوں جس میں کچھ بھی بھلائی ہوگی وہ ان میں نہیں اترے گا، جب الله تعالی ارادہ فرمائے گا کہ ان میں سے کوئی بھی باہر نہ نکلے تو ان کے چہرے اور ان کے رنگ بدل دے گا، حضرت عبد الله فرماتے ہیں: پھر وہ ایک آدی کے پاس آئے گا اور مسلسل اس کو دیکھے جائے گا لیکن وہ اس کونہیں پہچانے گا، بلکہ اس کو کوئی بھی نہیں پہچانے گا، وہ اس آدمی کو اس کا نام مع ولدیت پکارے گا لیکن وہ آگے سے کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا، اس وقت وہ پکار پکار کر کہے گا(ترجمہ ) اے رب ہمارے ہم کو دوزخ سے نکال دے پھر اگر ہم ویسے ہی کریں تو ہم ظالم ہیں) (المومنون :107) (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا)لیکن اللہ تعالی ان کو جواب دے گا (ترجمہ )"رب فرمائے گا دتکارے پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو"(المومنون:108) (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا) جب اللہ تعالی ان سے یہ فرمائے گا تو ان پر دوزخ مقفل کر دی جائے گی ، پھر وہاں سے کوئی شخص با ہرنہیں آ سکے گا۔

أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8519

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8561

8561 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ طَعَامِ الْمُؤْمِنِينَ فِي زَمَنِ الدَّجَّالِ، قَالَ: «طَعَامُ الْمَلَائِكَةِ» قَالُوا: وَمَا طَعَامُ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ: «طَعَامُهُمْ مَنْطِقُهُمْ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ، فَمَنْ كَانَ مَنْطِقُهُ يَوْمَئِذٍ التَّسْبِيحَ وَالتَّقْدِيسَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُ الْجُوعَ، فَلَمْ يَخْشَ جُوعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8561 - كلا فسعيد متهم تالف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دجال کے زمانے میں مومنوں کا طعام کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کا وہی طعام ہو گا جو) فرشتوں کا طعام ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللهصلی اللہ علیہ و الہ وسلم فرشتوں کا طعام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: ان کا طعام اللہ تعالی کی تسبیح وتہلیل ہے، اس زمانے میں جوشخص تسبیح و تہلیل کرے گا، الله تعالی اس سے بھوک ختم فرمادے گا، اس کے بعد اس کو بھوک کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8613

8613 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّمْجَارِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُعَاذٍ السُّلَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَا: ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خِفَّةٍ مِنَ الدِّينِ، وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، وَلَهُ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَسِيحُهَا، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ، وَالْيَوْمُ كَالشَّهْرِ، وَالْيَوْمُ كَالْجُمُعَةِ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ مِثْلُ أَيَّامِكُمْ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، يَأْتِي النَّاسَ فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر يَقْرَأُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ، يَمُرُّ بِكُلِّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهِمَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8613 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشادفرمایا: دجال اس وقت ظاہر ہوگا جب دین کو ہلکا جانا جائے گا، علم دین سے لوگ منہ موڑ چکے ہوں گے، وہ چالیس دن رہے گا، ایک دن ، پورے سال کے برابر ہو گا اور ایک دن، مہینے کے برابر ہوگا اور دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا ، اس کے بعد تمام دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ گدھے پر سواری کرے گا، اس کے دوکانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا وہ لوگوں کے پاس آئے گا، اور کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، حالانکہ تمہارارب کا نانہیں ہے۔ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا: ک ف ر۔ ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس کو پڑھ سکے گا، وہ ہر پانی اور گھاٹ کے پاس سے گزرے گا ،سوائے مکہ اور مدینہ کے ، کہ الله تعالی نے یہ دونوں شہر اس پر حرام کردیئے ہیں، اور اس کے دروازوں پر فرشتے مقرر ہیں۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُعَاذٍ السُّلَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّمْجَارِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8613

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8628

8628 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاطِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ وَفِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مَدِينَتِهِمْ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِلْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مَنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَالدَّجَّالُ، مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8628 - على شرط مسلم

۸۶۲۸-حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ اہل مدینہ کے " مد" اور ان کے " صاع" میں برکت عطا فرما ، اور ان کے شہر میں برکت عطا فرما ، اے اللہ بےشک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل ہیں اور میں تیرا بندہ اور رسول ہوں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے مکہ کے لئے دعا مانگی تھی ، اور میں اسی طرح کی تجھ سے مدینہ کے لئے مانگتا ہوں " ۔خبردار! مدینہ منورہ فرشتوں سے بھرا ہوا ہے اس کے ہر دروازے پر فرشتے مقررہیں جو کہ اس کی حفاظت کرتے ہیں ، اس شہر میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہو سکتا ، جو شخص وہا ں کے رہنے والوں کو نقصان دینا چاہے گا ، اللہ تعالی اس کو طرح پگھلا دے گا جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سعد بن مالك وأبا هريرة يقولان ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاطِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8637

8637 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَضَتِ الْآيَاتُ غَيْرَ أَرْبَعَةٍ: الدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالْآيَةُ الَّتِي يَخْتِمُ اللَّهُ بِهَا الشَّمْسُ " ثُمَّ قَرَأَ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ} [الأنعام: 158] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8637 - صحيح

حضرت عبداللہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چار نشانیوں کے علاوہ باقی سب پقری ہو چکی ہیں ، وہ چار نشانیاں یہ ہیں (1)دجال کا ظہور (2)دابۃ الارض کا ظہور (3) یاجوج و ماجوج کا نکلنا (4) مغرب کی جانب سے سورج کا طلوع ہونا (5) اور وہ نشانی جس کے ساتھ اللہ تعالی سورج پر مہر لگا دے گا ۔پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت پڑھی "﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ [الأنعام: 158]""کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے "(ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا ) ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8637

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1275

1275 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ قَالُوا: بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ". قَالَ: " فَرَجَعُوا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى آدَمَ، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ ذُعِرَتْ مِنْهُمْ وَجَعَلَتْ تَدْنُو إِلَى آدَمَ وَتَلْتَصِقُ بِهِ، فَقَالَ لَهَا آدَمُ: إِلَيْكِ عَنِّي إِلَيْكِ عَنِّي، فَمِنْ قِبَلِكِ أُتِيتُ خَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ، ثُمَّ غَسَّلُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَكَفَّنُوهُ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ، فَكَذَاكُمْ فَافْعَلُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ مِنَ النَّوْعِ الَّذِي لَا يُوجَدُ لِلتَّابِعِيِّ إِلَّا الرَّاوِي الْوَاحِدُ، فَإِنَّ عُتَيَّ بْنَ ضَمْرَةَ السَّعْدِيَّ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ الْحَسَنِ، وَعِنْدِي أَنَّ الشَّيْخَيْنِ عَلَّلَاهُ بِعِلَّةٍ أُخْرَى، وَهُوَ أَنَّهُ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيٍّ دُونَ ذِكْرِ عُتَيٍّ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب آدم علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا : جاؤ میرے لئے جنت کے کچھ پھل لے کر آؤ ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے (پھل لینے ) چل دئیے ۔ آگے سے فرشتوں سے ملاقات ہوگئی ، فرشتوں نے پوچھا :اے آدم علیہ السلام کے بیٹو! تم کہا ں جا رہے ہو ؟انہوں نے جواب دیا :ہمارے والد نے ہمیں جنت کے پھل لینے کے لئے بھیجا ہے ، فرشتوں نے کہ ا: تم لوٹ جاؤ ، کیونکہ جتنے پھل تم نے کھانے تھے ، کھا لئے ہیں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں : یہ لوگ فرشتوں کے ہمراہ واپس لوٹ آئے اور آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، جب حضرت حوا رضی اللہ عنہا نے ان کو دیکھا تو ان سے خوفزدہ ہو کر آدم علیہ السلام کے قریب آ گئیں اور ان کے ساتھ چپکنے لگیں ، آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان راستہ چھوڑ دو ، آپ فرماتے ہیں : پھر نے آپ علیہ السلام کی روح کو قبض کیا پھر ان کو غسل دیا ، ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن پہنایا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر ان کے لئے قبر کھود کر آپ علیہ السلام کو اس میں دفن کر دیا ۔پھر فرمایا : اے نبی آدم ! مردوں کے متعلق تمہارا یہ طریقہ ہے لہذا اسی طریقے پر تم عمل کرتے رہنا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کا تعلق اس نوع کے ساتھ ہے کہ جب تابعی سے روایت کرنے والا صرف یاک شخص ہو کیونکہ اس کی سند میں عتی بن ضمرہ السعدی کا "حسن " کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس حدیث کو ایک دوسری وجہ سے معلل قرار دیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث حسن کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کی گئی ہے ۔اس میں "عتی " کاذکر نہیں ہے ۔

ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ← بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ ← فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ ← لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← لَمَّا حُضِرَ آدَمُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← هشيم أنبأ يونس بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبُرْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1275

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبِي، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَغَمِّضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى دُعَاءِ أَهْلِ الْبَيْتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب تم کسی میت کے پاس حاضر ہو تو اس کی آنکھیں بند کر دیا کرو کیونکہ میت کے گھر والے میت کے لئے جو دعا کرتے ہیں اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← قزعة بن سويد ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبِي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1301

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1302

1302 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ، وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَشُمُّونَهُ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ بَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَكُلَّمَا أَتَوْا سَمَاءً قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ ". قَالَ: «فَلَهُمْ أَفْرَحُ بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِ» . قَالَ: «فَيَسْأَلُونَهُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟» قَالَ: " فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ حَتَّى يَسْتَرِيحَ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ ". قَالَ: «فَيَقُولُونَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ» . قَالَ: " وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَإِنَّ مَلَائِكَةَ الْعَذَابِ تَأْتِيِهِ فَتَقُولُ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطٌ عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ، وَسَخَطِهِ فَيَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ كُلَّمَا أَتَوْا عَلَى الْأَرْضِ قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ " وَقَدْ تَابَعَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ مَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ قَتَادَةَ: عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشاد فرمایا : مومن کا جب آخری وقت آتا ہے تورحمت کے فرشتے سفید رنگ کا ریشمی لباس لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں :تجھ پر اللہ راضی ہے ، تو برضا و خوشی اللہ تعالی کی باگاہ کی طرف چل ۔تو (اس کی روح) انتہائی عمدہ مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ ملائکہ ایک دوسرے سے لے کر اس کی خوشبو سونگھتے ہیں ۔ پھر اس کو آسمان کے دروازے پر لے جایا جاتا ہے ۔ تو آسمان کے ملائکہ کہتے ہیں :یہ کتنی اچھی خوشبو ہے جو زمین سے آئی ہے ۔پھر جس بھی آسمان تک یہ روح پہنچتی ہے ، اس کو اچھے کلمات سے نوازا جاتا ہے حتی کہ اس روح کو ارواح مومنین میں شامل کر دیا جاتا ہے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : ارواح مومنین اس کی آمد پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتی ہیں جتنا کہ تم اپنے کسی عزیزی کے بہت عرصہ کے بعد ملنے پر خوش ہوتے ہو ۔ پھر مومنین کی روحیں اس سے دنیا کے حالات پوچھنے لگ جاتی ہیں توملائکہ ان کو کہتے ہیں : اس کو چھوڑ دو ! اس کو آرام کرنے دو ، کیونکہ یہ ابھی دنیا کے غموں سے چھوٹ کر آیا ہے ، مومن روح بھی ارواح مومنین سے پوچھتی ہیں :فلاں شخص مر گیا تھا کیا وہ تمہارے پاس نہیں پہنچا ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں : وہ جہنم میں جا چکا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کافر کا آخری وقت آتا ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں :تجھ پر اللہ کی ناراضگی ہے تو ناراضگی کے عالم ہی میں اپنے رب کے غصے اور عذاب کی طرف نکل ، جب وہ نکلتی ہیں تو مردار کی طرح اس سے بد بو نکلتی ہے ، پھر فرشتے اس کو لے کر زمین کی طرف چلتے ہیں تو جس زمین تک بھی پہنچتے ہیں ، ملائکہ کہتے ہیں : یہ کتنی گندی بد بوہے ۔ فرشتے اس کو لے کر چلتے رہتے ہیں اور اس پر اسی طرح کی آوازیں کسی جاتی ہیں یہاں تک کہ اس کو کفار کی ارواح میں شامل کر دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث قتادہ سے روایت کرنے میں ہشام بن عبداللہ دستوائی نے معمر بن راشد کی متابعت کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1302

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ» ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، هَذِهِ «الْأَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ، وَشَاهِدُهَا حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَقَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، پھر اس کے بعد سابقہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے ۔ یہ تمام اسانید "صحیح " ہیں اور ان کی شاہد حدیث حضرت براء بن عازب کی (وہ ) روایت ہے جس کو میں نے "کتاب الایمان "میں درج کر دیا ہے ۔

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ» ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1304

chevron_left Previous
1…293031…694
Next chevron_right