Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَوَارِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنِ عَمَّتِهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ · حديث 5554

5554 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «كَانَتْ عَلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ يَوْمَ بَدْرٍ عِمَامَةٌ صَفْرَاءُ مُعْتَجِرٌ بِهَا، فَنَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمْ عَمَائِمُ صُفْرٌ»

عباد بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں : جنگ بدر کے دن حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے زرد رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ اور اس دن فرشتے بھی زرد رنگ کے عمامے پہن کر نازل ہوئے ۔

عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the interviewees of the disciple of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, and the son of his paternal aunt Az-Zubayr ibn al-Awam bin Khuwaylid · Hadith 5554

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 611

611 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَدْخُلِ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَحْيَى مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ، وَلَمْ يُخَرِّجَا فِيهِ ذِكْرَ الْجُنُبِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 611 - صحيح وعبد الله ثقة

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس گھر میں فرشتے نہیں آتے ، جس میں تصویر ، کتا یا جنبی آدمی ہو۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ اس کی سند میں عبداللہ بن یحییٰ ثقہ کوفی محدثین رحمۃاللہ علیہم میں شمار ہوتے ہیں اور شیخین رحمۃاللہ علیہم نے اس حدیث میں جنب کا ذکر نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 611

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 665

665 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يُوشِكُ أَنْ تُفْتِينَا فِي الْخِرَاءِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُلُّ شَيْءٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ عَامِرٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» . «وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ فِي الْبَصْرِيِّينَ، وَهُوَ عَزِيزُ الْحَدِيثِ جِدًّا»

محمد بن سیرین کہتے ہیں : ایک شخص نے حج أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں ہر چیز کے بارے میں فتویٰ دے دیتے ہیں ، ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ کس دن پاخانہ کے متعلق بھی فتویٰ جاری کر دیں گے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے وہ بیان کر دیتا ہوں۔ ( پھر آپ نے فرمایا ) " جس نے مسلمانوں کے راستے میں پاخانہ پھینکا اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور ساری دنیا کی لعنت ہو" محمد بن عمر انصاری ، وہ رای ہیں جن کی احادیث کو بصری راوی کی حدیث میں جمع کیا جاتا ہے اور وہ عزیز الحدیث ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← الْمُثَنَّی ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 665

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7637

7637 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمُقْرِئُ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ هَرِمٍ الْقُرَشِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ هَرِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خَرَجَ مِنْ عِنْدِي خَلِيلِي جِبْرِيلُ آنِفًا فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّ لِلَّهِ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِهِ عَبَدَ اللَّهَ تَعَالَى خَمْسَ مِائَةِ سَنَةٍ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ فِي الْبَحْرِ عَرْضُهُ وَطُولُهُ ثَلَاثُونَ ذِرَاعًا فِي ثَلَاثِينَ ذِرَاعًا وَالْبَحْرُ مُحِيطٌ بِهِ أَرْبَعَةَ آلَافِ فَرْسَخٍ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ وَأَخْرَجَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ عَيْنًا عَذْبَةً بِعَرْضِ الْأُصْبَعِ تَبَضُّ بِمَاءٍ عَذْبٍ فَتَسْتَنْقِعُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ وَشَجَرَةَ رُمَّانٍ تُخْرِجُ لَهُ كُلَّ لَيْلَةٍ رُمَّانَةً فَتُغَذِّيهِ يَوْمَهُ، فَإِذَا أَمْسَى نَزَلَ فَأَصَابَ مِنَ الْوضُوءِ وَأَخَذَ تِلْكَ الرُّمَّانَةَ فَأَكَلَهَا ثُمَّ قَامَ لِصَلَاتِهِ، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ وَقْتِ الْأَجَلِ أَنْ يَقْبِضَهُ سَاجِدًا وَأَنْ لَا يَجْعَلَ لِلْأَرْضِ وَلَا لِشَيْءٍ يُفْسِدُهُ عَلَيْهِ سَبِيلًا حَتَّى بَعَثَهُ وَهُوَ سَاجِدٌ قَالَ: فَفَعَلَ فَنَحْنُ نَمُرُّ عَلَيْهِ إِذَا هَبَطْنَا وَإِذَا عَرَجْنَا فَنَجِدُ لَهُ فِي الْعِلْمِ أَنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: أَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، فَيَقُولُ: رَبِّ بَلْ بِعَمَلِي، فَيَقُولُ الرَّبُّ: أَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، بَلْ بِعَمَلِي، فَيَقُولُ الرَّبُّ: أَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، فَيَقُولُ: رَبِّ بَلْ بِعَمَلِي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ: قَايِسُوا عَبْدِي بِنِعْمَتِي عَلَيْهِ وَبِعَمَلِهِ فَتُوجَدُ نِعْمَةُ الْبَصَرِ قَدْ أَحَاطَتْ بِعِبَادَةِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَبَقِيَتْ نِعْمَةُ الْجَسَدِ فَضْلًا عَلَيْهِ فَيَقُولُ: أَدْخِلُوا عَبْدِي النَّارَ قَالَ: فَيُجَرُّ إِلَى النَّارِ فَيُنَادِي: رَبِّ بِرَحْمَتِكَ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: رُدُّوهُ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقُولُ: يَا عَبْدِي، مَنْ خَلَقَكَ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا؟ فَيَقُولُ: أَنْتَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: كَانَ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِكَ أَوْ بِرَحْمَتِي؟ فَيَقُولُ: بَلْ بِرَحْمَتِكَ. فَيَقُولُ: مَنْ قَوَّاكَ لِعِبَادَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ؟ فَيَقُولُ: أَنْتَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْزَلَكَ فِي جَبَلٍ وَسَطَ اللُّجَّةِ وَأَخْرَجَ لَكَ الْمَاءَ الْعَذْبَ مِنَ الْمَاءِ الْمَالِحِ وَأَخْرَجَ لَكَ كُلَّ لَيْلَةٍ رُمَّانَةً وَإِنَّمَا تَخْرُجُ مَرَّةً فِي السَّنَةِ، وَسَأَلْتَنِي أَنْ أَقْبِضَكَ سَاجِدًا فَفَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ؟ فَيَقُولُ: أَنْتَ يَا رَبِّ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَذَلِكَ بِرَحْمَتِي وَبِرَحْمَتِي أُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ، أَدْخِلُوا عَبْدِي الْجَنَّةَ فَنِعْمَ الْعَبْدُ كُنْتَ يَا عَبْدِي فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّمَا الْأَشْيَاءُ بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى يَا مُحَمَّدُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ هَرِمٍ الْعَابِدَ مِنْ زُهَّادِ أَهْلِ الشَّامِ، وَاللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ لَا يَرْوِي عَنِ الْمَجْهُولِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7637 - لا والله وسليمان بن هرم غير معتمد

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ابھی ابھی میرے پاس سے میرے دوست جبریل امین علیہ السلام تشریف لے گئے ہیں ، انہوں نے مجھے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس نے پانچ سو سال تک ایک پہاڑی کی چوٹی پر عبادت کی ہے ، وہ پہاڑ تین ذراع مربع ہے۔ اور اس پہاڑ کو چاروں طرف سے چار ہزار فرسخ دریا نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کے لئے ایک انگلی کی مقدار سے پانی کا چشمہ جاری فرمایا تھوڑا تھوڑا میٹھا پانی رستا رہتا تھا، پھر وہ پہاڑ کی نچلی جانب سے صاف ستھرا ہو کر نکلتا ۔ وہاں انار کا ایک درخت تھا، ہر رات اس کو ایک انار لگتا ، جس سے اس کو ایک دن کی غذا مل جاتی۔ جب شام ہوتی تو وہ وضو کرنے لے لئے نیچے اترتا ، اور اس انار کو کھا لیتا ۔ اور دوبارہ عبادت میں مصروف ہو جاتا، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ اس کو سجدے کی حالت میں موت عطا کرنا۔ اور زمین یا کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہ پہنچائے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ملک الموت کو بھیجا تو وہ آدمی اس وقت سجدے میں تھا۔ سجدے کے عالم میں اس کی روح کو قبض کی اگیا، ( حضرت جبریل امیںن علیہ السلام فرماتے ہیں ) ہم آتے جاتے اس کو دیکھتے تھے، ہمیں یہ علم تھا کہ اس کو قیامت کے دن اٹھا یا جائے گا اور اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس بندے کے بارے میں فرمائے گا میرے بندے کو میری رحمت کی بنا ء پر جنت میں داخل کردو، وہ بندہ کہے گا : اے میرے رب ، میرے اعمال کی بناء پر مجھے جنت میں بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ اس پھر فرما ئے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت میں بھیج دو، وہ کہے گا: ( رحمت نہیں ) بلکہ مجھے میرے اعمال صالحہ کی بناء پر جنت میں بھیجا جائے، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: میرے بندے کو میری رحمت سے جنت مین بھیج دو،وہ کہے گا : اے میرے رب ، میرے عمل کی بناء پر مجھے جنت میں بھیج دو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس بندے کے اعمال اور اس پر جو میری نعمتیں ہیں ان کا موازنہ کیا جائے ، صرف آنکھوں ہی کی تعمت ہی اس کے پانچ سو سال کی عبادت سے زائد ہوگی، اور باقی پورا جسم تو اس کی عبادت سے کہیں زائد ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کو دوزخ میں ڈال دیا جائے ، جنانچہ اس بندے کو دوزخ کی جانب گھسیٹا جائے گا تو پکار پکار کر کہے گا: اے میرے رب مجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو چھوڑ دو ، اس کو دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے میرے بندے تو کچھ بھی نہ تھا، تجھے پید ا کس نے کیاہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب تو نے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تیری طرف سے ہوا یا میر ی رحمت سے ؟ وہ کہے گا: یا اللہ محض تیری رحمت سے ، اللہ تعالیٰ فرماتے گا : پانچ سو سال تجھے عبادت کی طاقت کس نے بخشی ؟ وہ کہے گا : اے میرے پر وردگار تو نے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے پہاڑ کے درمیاں غار کے اندر کس نے اتارا ؟ اور کھاری پانی میں سے تیرے لئے میٹھا پانی کس نے نکالاتھا ؟ اور ہر رات تیرے لئے انار کون مہیا کرتا تھا؟ اور تو پورے سال میں ایک مرتبہ باہر نکلتا تھا اور تو نے مجھ سے دعا مانگی تھی کہ میں تجھے سجدے کی حالت میں موت دوں ، یہ سب تیرے لئے کس نے کیا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب تو نے ہی کیا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب میری رحمت کی بناء پر تھا، اور اپنی رحمت ہی سے تجھے میں جنت میں داخل کروں گا۔ ( پھر فرشتوں سے فرمائے گا: ) میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو۔ اے میرے بندے تو کتنا ہی اچھا بندہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس بندے کو جنت میں داخل فرمائے گا۔حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔"سلیمان بن ہرم " اہل شام کے عبادت گزار لوگوں میں سے ہیں ۔ اور لیث بن سعد مجہول راویوں کی روایات نقل نہیں کرتے۔

خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سليمان بن هرم ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ هَرِمٍ الْقُرَشِيُّ، ← عبد الله بن صالح المقري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of repentance and deputation › The merits of all Arabs · Hadith 7637

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَدَبِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7752

7752 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مَشَيْنَا قُدَّامَهُ وَتَرَكْنَا خَلْفَهُ لِلْمَلَائِكَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7752 - قال الذهبي صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے کاشانہ اقدس سے نکلتے تو ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کافی آگے چلتے ، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے فرشتوں کے لئے کچھ خلاء چھوڑ دیتے تھے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← محمد بن علي بن عفان ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Literature book › The merits of all Arabs · Hadith 7752

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَدَبِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7753

7753 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْشُوا بَيْنَ يَدَيَّ وَلَا خَلْفِي فَإِنَّ هَذَا مَقَامُ الْمَلَائِكَةِ» قَالَ جَابِرٌ: «جِئْتُ أَسْعَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي شَرَارَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7753 - صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے آگے اور پیچھے مت چلا کرو ، کیونکہ یہ جگہ فرشتوں کے لیے ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ایک شرارے کی طرح تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Literature book › The merits of all Arabs · Hadith 7753

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7807

7807 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَبَيْنَ ابْنَةِ أَرْوَى خُصُومَةٌ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ، فَقُلْنَا لَهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَا أَنْصَفَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، فَقَالَ: أَتُرَوْنِي أَنْتَقِصُهَا مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوَّقَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالًا بِيَمِينِهِ فَلَا بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7807 - صحيح

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : سعید بن زید اور اروی کی بیٹی کے درمیان جھگڑا تھا، مروان نے کہا: ان دونوں کے درمیان صلح کروا دو، ہم نے ان میں مذاکرات کرانے کی کوشش کی ۔ اور ہم نے کہا :آدھا حق اس عورت کو دے دو، سعید بن زید نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اس کے حق میں کچھ کمی کردوں گا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین ناحق لی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینیں طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دے گا۔ اور جس نے قسم کھا کر کسی کا حق مارا ، اس میں برکت نہیں ہوگی۔ اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کا حکمران بن جائے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

كَانَ بَيْنَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَبَيْنَ ابْنَةِ أَرْوَى خُصُومَةٌ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عثمان بن عمر انبأ ابن ابي ذئب ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Faiths and Vows › The merits of all Arabs · Hadith 7807

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7855

7855 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي رِشْدِينُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ، فَيَقُولُ الرَّبُّ تَعَالَى: اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلٍ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7855 - رشدين واه

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دن کے عمل پر مہر کردی جاتی ہے ۔ جب بندہ مومن بیمار ہوتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب فلاں بندے کو تو نے ( بیماری کی بنا پر نیک اعمال سے ) روک رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، جب تک یہ تندرست نہیں ہوتا یا اس کو موت نہیں آتی اس وقت تک تم اس کے نامہ اعمال میں وہ نیکیاں برابر لکھتے رہو، جو یہ صحت کے عالم میں کرتا تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْمَلائِكَةُ: يَا رَبَّنَا عَبْدُكَ فُلانٌ قَدْ حَبَسْتُهُ. ← لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ ← النَّبِيِّ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← رشدين ← الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7855

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7871

7871 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا مَرِضَ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَائِكَتِهِ: يَا مَلَائِكَتِي أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي بِقَيْدٍ مِنْ قُيُودِي فَإِنْ أَقْبِضْهُ أَغْفِرْ لَهُ وَإِنْ أُعَافِهِ فَحِينَئِذٍ يَقْعُدُ وَلَا ذَنْبَ لَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7871 - عفير بن معدان واه

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کی جانب وحی کرتا ہے کہ " اے میرے فرشتو! میں نے اپنے بندے کو ایک قید میں بند کیا، اگر اس کو اسی حالت میں موت دوں گا تو اس کے گناہوں کا بخش دوں گا اور اگر اس کو شفاء دوں گا تب بھی یہ گناہوں سے پاک ہو گا"۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7871

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3035

3035 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لَقَدْ أَخْرَجَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، قَالُوا: أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ} [البقرة: 30] وَقَدْ كَانَ فِيهَا قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ بِأَلْفَيْ عَامٍ الْجِنُّ بَنُو الْجَانِّ، فَأَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءِ، فَلَمَّا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً، قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ} [البقرة: 30] يَعْنُونَ الْجِنَّ بَنِي الْجَانِّ، فَلَمَّا أَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ بَعَثَ عَلَيْهِمْ جُنُودًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَضَرَبُوهُمْ حَتَّى أَلْحَقُوهُمْ بِجَزَائِرِ الْبُحُورِ. قَالَ: فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: {أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا} [البقرة: 30] كَمَا فَعَلَ أُولَئِكَ الْجِنُّ بَنُو الْجَانِّ؟ قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ: {إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 30] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3035 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے کسی کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے حضرت آدم کو جنت سے نکال دیا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا : انی جاعل فی الارض خلیفۃ قالو ا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدما ء ( ابقرۃ:30) ' میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے خونریزیاں کرے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور انسان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے زمین پر جنا ت آباد تھے جب انہوں نے زمین پر فساد ات شروع کئے تو اللہ تعالی نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھیجے ۔ ان لشکروں نے جنات کو مار مار کر سمندروں کے جزیروں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تو ملائکہ نے اللہ تعالی سے عرض کی : " ﴿ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا ﴾ [البقرة: 30] " کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے ( ترجمہ کنزالایمان ۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) جیسا کہ ان جنات نے فساد کئے تھے تو اللہ تعالی نے فرمایا : میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3035

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْعَامِ · حديث 3226

3226 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْعَامِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ شَيَّعَ هَذِهِ السُّورَةَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا سَدَّ الْأُفُقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ «فَإِنَّ إِسْمَاعِيلَ هَذَا هُوَ السُّدِّيُّ، وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3226 - لا والله لم يدرك جعفر السدي وأظن هذا موضوعا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سورۃ انعام نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے "سبحان اللہ" کہا۔ پھر فرمایا: اس سورۃ نے تو پورا آسمان ملائکہ سے بھر دیا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ یہ جو اسماعیل ہیں یہ "سدی" ہیں تا ہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کی ہے۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-An'am · Hadith 3226

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 689

689 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فَيُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ ثُمَّ يَجْلِسُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا وَالْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ عَنِ الثَّوْرِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 689 - على شرطهما

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی بات کی رہنمائی نہ کروں جو تمہاری خطاؤں کو مٹا دے اور نیکیوں میں اضافہ کرے ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۔ اپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب وضو کرنا مشکل ہو ، اس وقت اچھے طریقے سے وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تم میں سے کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے اور امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے ، پھر وہ بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے تو ایسے شخص کے لئے فرشتے دعا مانگتے ہوئے کہتے ہیں : یا اللہ اس کی مغفرت فرما، یا اللہ اس پر رحم فرما۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث ثور ی کی حدیث سے غریب ہے ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) میں نے ابوعلی حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث ثوری سے روایت کرنے میں ابوعاصم نبیل منفرد ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter at the prayer timetable · Hadith 689

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3316

3316 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ} قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «انْتَهِ إِلَى مَا انْتَهَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لِلثَّوْرِيِّ لَا أَعْلَمُ أَنَّا كَتَبْنَاهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3316 - صحيح غريب

حضرت عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت (ھود:73)" اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں تم پر اے اس گھر والو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آپ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آپ کے پا س آیا اور آپ کو سلام کیا، میں نے جواباً کہا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے: اس مقام تک رک جاؤ جہاں پر فرشتے رک جاتے ہیں۔ ثوری کے حوالے سے یہ حدیث غریب ہے، میں نہیں جانتا ہوں میں نے اسکو صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3316

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 763

763 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: 78] قَالَ: «تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ تَجْتَمِعُ فِيهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 763 - على شرطهما ثقات

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس آیت " ﴿ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا٧٨﴾ [الإسراء: 78]" کے متعلق فرمایا : اس وقت دن اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 763

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 775

775 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 775 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمتیں بھیجتے ہیں ، جو صفوں کو جوڑ کر رکھتے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 775

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3389

3389 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا} [الإسراء: 97] فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ طَاعِمِينَ كَاسِينَ رَاكِبِينَ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ» قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا هَذَيْنِ فَمَا تِلْكَ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ؟ قَالَ: «يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا تَبْقَى ذَاتُ ظَهْرٍ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطِي الْحَدِيقَةَ الْمُعْجِبَةَ بِالشَّارِدَةِ ذَاتِ الْقَتَبِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3389 - على شرط مسلم ولكنه منكر

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ونحشرھم یوم القیامۃ علیٰ وجوھہم عمیا وبکما وصما (الاسراء:97) " اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور فرمایا: مجھے صادق و مصدوق نے بتایا ہے: قیامت کے دن لوگ تین جماعتوں میں جمع کئے جائیں گے۔ (1) آسودہ حال سوار یوں پر خرام ناز کرتے ہوئے۔ (2) ایک جماعت ایسی ہو گی جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے۔ (3) ایک جماعت ایسی ہو گی جن کو فرشتے منہ کے بل زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائیں گے۔ ہم نے کہا: ہم ان دونوں جماعتوں کو تو جانتے ہیں لیکن یہ جماعت کون سی ہے جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پشت پر آفت ڈالے گا یہاں تک کہ کوئی صاحب پشت نہ رہے گا یہاں تک کہ آدمی زین والے ایک چھوٹے سے جانور کے بدلے ایک خوبصورت باغ پیش کرے گا(لیکن پھر بھی اس کو وہ جانور نہ ملے گا)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو ذَرٍّ ← أبا ذر الغفاري -وتلا هذه الآية ← حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3389

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3403

3403 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا كَانَ لَهُ نُورًا مِنْ أَبْيَنَ إِلَى مَكَّةَ حَشُّهُ الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3403 - أبو قرة فيه جهالة ولم يضعف

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، اس کے لئے (مقام) ابین سے مکہ تک (کی مسافت کے برابر) نو ر ہو گا جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3403

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3423

3423 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَ: " الصِّرَاطُ عَلَى جَهَنَّمَ مِثْلُ حَدِّ السَّيْفِ فَتَمُرُّ الطَّائِفَةُ الْأُولَى كَالْبَرْقِ، وَالثَّانِيَةُ كَالرِّيحِ، وَالثَّالِثَةُ كَأَجْوَدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعَةُ كَأَجْوَدِ الْإِبِلِ وَالْبَهَائِمِ، ثُمَّ يَمُرُّونَ وَالْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3423 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ : " وان منکم الا واردھا (مریم:71) "اور تم میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: پل صراط دوزخ کے اوپر ہے جو کہ تلوار کی طرح تیز ہے، اس پر سے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے ، دوسرے ہوا کی طرح ، تیسرے عمدہ گھوڑے کی طرح، چوتھے عمدہ اونٹ اور دیگر جانوروں کی طرح ۔ پھر وہ لوگ گزر رہے ہوں گے اور ملائکہ یہ دعا مانگ رہے ہوں گے" رب سلم رب سلم" اے اللہ سلامتی فرما ، اے اللہ سلامتی فرما۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3423

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ · حديث 3449

3449 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ} [الأنبياء: 98] فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: الْمَلَائِكَةُ وَعِيسَى وَعُزَيْرٌ يُعْبَدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُعْبَدُونَ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ} [الأنبياء: 101] عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَالْمَلَائِكَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3449 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لھا واردون(الانبیاء: 98) " بے شک تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پکارتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہو تمہیں اس میں جانا ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) تو مشرکین نے کہا: فرشتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور احضرت عزیز علیہ السلام کی بھی تو عبادت کی جاتی رہی ہے اور یہ غیر اللہ ہیں (لہذا یہ بھی جہنم میں جائیں گے) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر یہ جن کی تم عبادت کرتے ہو خدا ہوتے ( جیسا کہ تمہارا گمان ہے) تو جہنم میں نہ جاتے ، تب یہ آیت نازل ہوئی : ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون (الانبیاء:101) "بے شک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کوہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت عزیر اور فرشتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا نَزَلَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى بن حاتم ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Anbiya ' · Hadith 3449

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 904

904 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَقَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» لِنَفَرٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ لَمْ يَشْهَدُوا الصَّلَاةَ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا» يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَإِنَّهُ مِثْلُ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيهِ لَابْتَدَرْتُمُوهُ» وَقَالَ: «صَلَاتُكَ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَصَلَاتُكَ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ الرِّجُلِ، وَمَا كَثُرَتْ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» . هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَقَةُ الْأُولَى مِنْ أَصْحَابِ شُعْبَةَ: يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَقْرَانُهُمْ، وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہفرماتے ہیں (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی (اس کے بعد) متعدد منافقین جنہوں نے جماعت کے ہمراہ نماز نہیں پڑھی تھی، ان کے متعلق آپ ﷺ نے پوچھا: (فلاں) شخص جماعت میں حاضر ہوا ہے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں نمازیں یعنی نماز فجر اور نماز عشاء منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہیں۔ اگر ان کو ان نمازوں کا اجر و ثواب معلوم ہو جائے تو (ہر صورت میں) جماعت میں آئیں اگرچہ سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: پہلی صف میں آنے کی کوشش کیا کرو کیونکہ یہ صف فرشتوں کی صف جیسی ہے۔ اگر تمہیں اس صف کی فضیلت معلوم ہو جاتی تو(ا س میں شامل ہونے کے لئے) ایک دوسرے سے آگے بڑھتے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: اکیلے نماز پڑھنے سے دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا بہتر ہے اور زیادہ لوگوں کے ہمراہ نماز پڑھنا، دو کے ہمراہ پڑھنے سے بہتر ہے۔ شعبہ کے اصحاب میں سے طبقہ اولیٰ (یعنی) یزید بن زریع بن سعید، عبدالرحمٰن بن مھدی ، محمد بن جعفر اور ان جیسے دیگرمحدثین رحمۃ اللہ علیہم نے بھی اسی طرح حدیث روایت کی ہے اور سفیان بن سعید نے ابو اسحاق کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث روایت کی ہے (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 904

chevron_left Previous
1…282930…694
Next chevron_right