حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بن زبید الیامی ، طلحہ بن مصرف کے واسطے سے عبدالرحمن بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صف کے ایک کنارے سے دوسرے تک لوگوں کی گردنیں اور سینے سیدھے کرتے جاتے اور فرماتے تم اختلاف نہ کرو کہ اس سے تمہارے دل بدل جائیں گے ۔ اللہ اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمتیں نازل کرتے ہیں اور تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو ۔ حماد بن ابی سلیمان کی حدیث ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2112
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2113
حضرت حماد بن ابی سلیمان طلحہ ہمدانی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمن بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب نماز کی اقامت ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں کو چھو کر فرماتے اپنی صفوں کو درست کر لو اور اختلاف مت کرو کہ اگر تم اختلاف کرو گے تو تمہارے دل بدل جائیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں ۔ فطربن خلیفہ کی روایت :
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2113
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2115
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2115
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2128
حکم بن عتیبہ کی سند کے ہمراہ ، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا فرمان منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں اور تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو۔ زبید بن حارث کی حدیث :
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2128
حضرت ابو عبیدہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رماتے ہیں :' نے ارشاد فرمایا : معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ انبیاء و مرسلین کے بعد تمام اولین و آخرین میں سب سے زیادہ علم والے ہیں۔ اور بے چک اللہ تعالی ان پر فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرماتا ہے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5184
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2393
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جو جماعت جنت میں داخل ہو گی وہ فقراء مہاجرین ہیں انکے ذریعے تکالیف دور ہوتی ہیں جب ان کو حکم دیا جاتا ہے تو وہ غور سے سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی شخص کو بادشاہ کےساتھ کوئی ضروری حاجت ہو تو مرتے تک وہ پوری نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے د ن جنت کو بلائے وہ اپنی مکمل آب وتاب کے ساتھ آئے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا اور وہ میرے راستے میں شہید کیے گئے اور ان کو میرے راستے میں اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا ( پھر ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا) تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ لوگ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے پھر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے یا اللہ ہم دن رات تیری تسبیح اور تقدیس بیان کرتے رہے تو نے ان کو ہم پر ترجیح دے دی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا اور ان کو میرے راستے میں ستایا گیا پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کی طرف آئیں گے ( اور کہیں گے ) تم نے جو صبر کیا، اس کے بدلے تم پر سلامتی ہو آخرت کا گھر کتنا ہی اچھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت براء بن عازب ؓبیان کرتے ہیں ہم ایک مرتبہ رسول اللہﷺکے ہمراہ ایک انصاری صحابی ؓکے جنازے میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ ہم قبر پر گئے لیکن ابھی تک قبر کی لحد تیار نہیں ہوئی تھی (تولحد تیار ہونے کے انتظار میں) ہم لوگ رسول پاک ﷺکے اردگرد جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ ﷺکبھی آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے تو کبھی زمین کی طرف۔ آپﷺنے تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر یوں دعا مانگی: اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ پھر فرمایا : بندہ مومن کا جب آخری وقت آتا ہے تو ملک الموت آ کر اس کے سرہانے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ آسمان سے فرشتے اترتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں ان کے پاس جنتی کفن اورجنتی خوشبوئیں ہوتی ہیں ۔ یہ مومن کے قریب بیٹھ جاتے ہیں(ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ )حد نگاہ تک (یہی نظر آرہے ہوتے ہیں) پھر موت کا فرشتہ ( مومن سے مخاطب ہوکر) کہتا ہے اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف چل ۔حضورﷺنے فرمایا : روح (بندہ مومن کے جسم سے) اس طرح بہہ کر نکل آتی ہے جیسے مشکیزے کو الٹا دیں تو اس میں سے قطرے بہہ کر نکلتے ہیں ۔ پھر ملانکہ اس روح کو پلک جھپکنے کے برابربھی ہاتھوں سے نہیں چھوڑتے پھر اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف جاتے ہیں، راستے میں فرشتوں کی جس جماعت کے بھی قریب سے گزرتے ہیں وہ جماعت کہتی ہے:بی اتنی اچھی روح کس کی ہے؟ فرشتے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اور بہت اچھے اچھے القابات سے پکارتے ہیں ۔ پھر جب فرشتے روح کو لے کر آسمان تک پہنچتے ہیں تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ پھر اس آسمان کے فرشتے ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں یونہی ہر آسمان کے مقرب ملا نکہ اس کو اگلے آسمان تک چھوڑنے کے لئے ساتھ ساتھ جاتے ہیں ۔ جب ساتویں آسمان تک یہ روح پہنچتی ہے تو کہا جاتا ہے۔اس کا نامہ اعمال’’اعلی علیین "میں لکھ دو ۔ پھر کہا جاتا ہے :میرے بندے کو واپس زمین پر لے جاؤ کیونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا تھاکہ میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر اسی میں تمہیں لوٹاؤں گا اور پھر دوبارہ اسی سے نکالوں گا۔ چنانچہ اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے پھر اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور آ کر کہتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ (حضورﷺنے فرمایا ) وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ ( دوسرا )سوال کرتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ (رسول پاک ﷺکے چہرہ اقدس کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں،یہ شخصیت جوتمہارےاندر مبعوث کئے گئے تھے تو ان کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ وہ پوچھتے ہیں : تجھے کیسے پتہ چلا؟ وہ جواب دیتا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا، اس کی تصدیق کی (حضور ﷺفرماتے ہیں : اس کے یہ جواب دینے کے بعد) ایک منادی آسمان سے پکار کر بولتا ہے۔ اس نےسچ کہا۔ اس کے لئے جنتی بستر بچھا دو، اس کو جنتی لباس پہنا دو اور اس کو اس کا جنت کا ٹھکانہ دکھا دو حضورﷺفرماتے ہیں )پھر اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس میں جنت کی خوشبودار ہواؤں کے جھو نکے آتے رہیں حضور ﷺفرماتے ہیں) اس بندہ مومن کے ساتھ یہی معاملہ کر دیا جا تا ہے۔ پھر خوشبودارعمد ہ لباس میں ایک خوبصورت شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: تیرے لئے خوشخبری ہے جس سے تو خوش ہو جائے کہ وہ ہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ بندہ کہتا ہے :شکل وصورت سے تو تو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے تو ہے کون؟ (حضورﷺفرماتے ہیں) وہ کہے گا: میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ پھر بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے، یا اللہ جلدی قیامت قائم کر دے تا کہ میں اپنے اہل و عیال سے مل سکوں پھر نبی اکرمﷺنے یہ آیت پڑھی :يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ( ابراہیم ۲۷ ) اور کافر شخص کا جب آخری وقت آتا ہے تو ملک الموت آ کر اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتے ہیں اور سیاہ صورتوں میں بے شمار فرشتے نازل ہو کر اس کے پاس حد نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر موت کا فرشتہ کہتا ہے:اے خبیث روح! اللہ تعالی ٰکے غضب اور ناراضگی کی طرف چل (یہ سن کر ) روح (چھپنے کی کوشش میں ) پورے جسم میں پھیل جاتی ہے پھر موت کا فرشتہ اسے کھینچ کر نکالتا ہے )توایں کی نسیں اور پٹھے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے) جیسے دھنی ہوئی روئی میں سے کانٹے دار چھری نکالیں ( تو روئی کے گالے اس میں پیوست ہوئے ہوتے ہیں ) ملائکہ یہ روح نکال کر فورا آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں پھر ملائکہ کے جس گردہ کے قریب سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں : یہ خبیث روح کس کی ہے؟ تو وہ بہت قبیح القابات بولتےہوئے جواب دیتے ہیں : فلاں کی ہے۔ پھر جب یہ آسمانوں تک پہنچتے ہیں تو آسمانوں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور یہ حکم ملتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال ’’ سجین‘‘ میں لکھ دو ۔ حضورﷺفرماتے ہیں: پھر کہا جائے گا: میرے بندے کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے، اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر دوبارہ اسی میں سے اٹھاوں گا۔ حضور ﷺفرماتے ہیں: اس کی روح کو وہیں سے نیچے پھینک دیا جا تا ہے اور وہ اپنے جسم میں آ کر گرتی ہے (حضرت براء بن عازب ؓکہتے ہیں) پھر حضورﷺنے یہ آیت پڑھی: وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ(الحج: ۳۱) (نبی اکرم ﷺنے فرمایا) پھر اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور سوال کرتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے۔ مجھےنہیں معلوم تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اس نے جھوٹ بولا، اس کے لئے جہنم کا بستر لگادو، اس کو جہنمی لباس پہنا دو اور اس کو اس کا جہنم میں ٹھکانہ دکھا دو(حضور ﷺفرماتے ہیں)اس کی قبراتنی تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اس کی قبر میں جہنم کی گرمی، بدبودار ہوائیں آتی رہتی ہیں ( ملائکہ اس نداء پر عمل کرتے ہیں) پھر بد بودار، گندے لباس میں ملبوس، انتہائی بدصورت ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: تیرے لئے وہ خبر ہے جو تجھے پریشان کر دے گی ۔ یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ کہتا ہے: تو کون ہے؟ (ویسے تیرے چہرے سے تو کوئی بھلائی کی امید نظر نہیں آتی ) وہ کہتا ہے : میں تیرا "براعمل‘‘ ہوں ۔ وہ کہتا ہے یا اللہ کہیں قیامت قائم نہ ہو جائے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی جانب کچھ سبزیات بھیجیں ، ان میں پیاز یا کراث ( ایک بدبو دار قسم کی تر کاری ، جس کی بعض قسمیں پیاز اور بعض لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں اور بعض کے سرے نہیں ہوتے ، المنجد ) موجود تھے ۔ ان کو ان سبزیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی نشانی نظر نہیں آئی ، اس لئے انہوں نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا ، دینے والے نے پوچھا کہ آپ نے اس کو کھایا کیوں نہیں ؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس لئے کہ مجھے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ( کے دست مبارک ) کی خوشبو نہیں آئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں نے فرشتوں سے حیا ء کی وجہ سے نہیں کھایا، تاہم یہ حرام نہیں ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معراج کی رات میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا سب نے یہی کہا اے محمد ! آپ حجامت ضرور کرواتے رہنا ( یعنی پچھنے لگواتے رہنا ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مكرم بن أحمد القاضي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7473
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7493
حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ملائکہ نے اس وقت تک مجھ پر سلام نہیں کیا جب تک مجھ سے دورزخ کا اثر ختم نہیں ہو گیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اللہ تعالی اس شخص پر بہت خوش ہوتا ہے، جواللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہو، اس کے ساتھیوں کو شکست ہو جائے اور اس وقت کی سختی کا اسے صحیح طور پر اندازہ بھی ہو جائے لیکن اس کے باوجود وہ میدان جنگ کی طرف لوٹ آئے ( اور لڑ تا ر ہے) یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جائے ۔ اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے فر ما تا ہے: میرے بندے کو دیکھو یہ میری بارگاہ میں ثواب کی رغبت اور میرے عذاب سے خوف کی وجہ سے میدان جنگ میں لوٹ آیا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہاد یا گیا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ سندصحیح کے ہمراہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث شاہد ہے ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس قرآن جمع کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ آپ نے فرمایا : شام کے لئے خوشخبری ہو ، آپ سے دریافت کیا گیا کس بناء پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس لئے کہ رحمت کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلاتے ہیں ۔ اس حدیث کو جریر بن حازم نے یحیی بن ایوب سے روایت کیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی مین کاغذ یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن جمع کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شام کے لئے خوشخبری ہے ، ہم نے پوچھا : کس بناء پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ان پر رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلاتے ہیں ۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث مین یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن پاک صرف ایک دفعہ ہی جمع نہیں کیا گیا اس کا کچھ حصہ تو خود رسول اللہﷺ کی موجودگی میں جمع کر لیا گیا تھا ، پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع کیا گیا اور تیسری دفعہ جب سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اس کی تالیف ہو ئی ہے وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا ہے ۔
حضرت ابو ہر یرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکر م ﷺنے ارشادفرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح ڈالی تو ان کو چھینک آئی (چھینک آنے پر) آپ نے کہا: الحمدللہ ۔ اللہ کے حکم واذن سے۔ انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام !تمہارا رب تم پر رحم کرے ۔ پھر آدم علیہ السلام نے فرمایا: فرشتوں کی وہ جماعت جو بیٹھی ہوئی ہے ان کے پاس جا وّاورکہو: السلام علیکم ! آدم علیہ السلام نے ان کے پاس جا کر اسی طرح کہا۔ تو انہوں نے جوابا ًکہا: وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ پھر آدم علیہ السلام لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہارا ،تمہاری اولادوں اور ان کی اولادوں کا سلام ہے۔ الله تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر فرمایا :ان میں سے جو ہاتھ چاہو پسند کرلو۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی : میں اپنے رب کا دایاں ہاتھ اختیار کرتا ہوں حالانکہ الله تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں اور دونوں میں برکت ہے پھر الله تعالیٰ نے اپنا ہاتھ کھول دیا، اس میں آدم علیہ السلام اور ان کی تمام اولا دموجودتھی ۔ یہ دیکھ کر آدم علیہ السلام نے دریافت کیا: یا اللہ !یہ کون ہیں؟ فرمایا: تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ماتھے پر اس کی عمر لکھی ہوئی تھی۔ ان میں ایک شخص انتہائی روشن چہرے والا تھا، اس کی عمر صرف ۶۰سال لکھی گئی تھی ۔ آدم علیہ السلام نے الله تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی یا للہ !اس کی عمر میں اضافہ فرمادے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کی عمر تو وہی ہے جو لکھ دی گئی ہے۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی :یا الله میری عمر میں سے ساٹھ سال اس کو دے دے۔ اللہ تعالی ٰنے فرمایا: جیسے آپ کی مرضی (حضور ﷺنے )فرمایا: پھر وہ جنت میں رہے جتنی دیراللہ تعالیٰ نے انہیں وہاں رکھا۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت سے اتارا گیا اور اپنی عمر گزارنے لگے، پھر ایک مرتبہ ملک الموت ان کے پاس آئے ، آدم علیہ السلام نے کہا: آپ جلدی آ گئے ہیں (ابھی تو میری عمر باقی ہے کیونکہ ) الله تعالی نے میری عمر ہزار سال لکھی ہے ۔ ملک الموت نے کہا: کیوں نہیں ( آپ کی عمر تو ہزار سال ہی لکھی گئی تھی) لیکن آپ نے اپنی عمر سے ۶۰ سال اپنے بیٹے داد دکودے دیئے ہیں ۔ اس پر آدم علیہ السلام نہ مانے ، اسی طرح ان کی اولاد بھی نہیں مانتی۔ وہ اپنا وعدہ بھول گئے ، ان کی اولاد بھی وعدے بھول جاتی ہے۔ اس دن سے میں لکھنے اور گواہ قائم کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ امام مسلم ؒنے حارث بن عبد الرحمٰن بن ابوذباب کی روایات نقل کی ہیں اور ان سے صفوان کے علاوہ بھی کئی محد ثین ؒ نے روایات کی ہیں ، میں نے صفوان کی روایت اس لئے نقل کی ہے کہ ان کے ذریے میری سند"عالی "ہے۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ صحیح ہے۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، میں اسلام قبول کر چکا تھا، ان کی زوجہ حضرت ام الفضل بھی اسلام لا چکی تھیں اور حضرت عباس بھی مسلمان ہو چکے تھے لیکن یہ لوگ اپنے قوم کے ڈر کی وجہ سے اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے اور ابولہب جنگ بدر میں نہیں گیا تھا بلکہ اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا۔ عاص بن ہشام پر ابولہب کا قرضہ تھا۔ ابولہب نے کہا تھا کہ تو میری طرف سے اس جنگ میں شرکت کر لے ، میں تیرا تمام قرضہ معاف کر دوں گا۔ اس نے ایسے ہی کیا ۔ لیکن جب جنگ بدر کی رسوا کن خبر آئی اور اللہ تعالیٰ نے ابولہب کو ذلیل کر دیا ۔ میں کمزور آدمی تھا ، میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر ان تیروں کو چھیلا کرتا تھا۔ خدا کی قسم ! میں اپنے کمرے بیٹھا تیر چھیل رہا تھا اور ام الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ اسی دوران ہمارے خیمے کی پچھلی جانب ابولہب پاؤں گھسیٹا ہوا آ کر بیٹھ گیا ، اس کی پشت میری پشت کی جانب تھی ، اچانک لوگوں کی آواز آئی " یہ ابو سفیان بن حارث آ گیا " ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے میرے پاس آؤ، ابوسفیان آ کر ابولہب کے پاس بیٹھ گیا اور کچھ لوگ مزید آ اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے ، ابو سفیان نے جنگ کے حالات اور شکست کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا شکست کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ خدا کی قسم ! جب ان سے ہماری مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم نے اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیا تاکہ وہ جیسے چاہیں ہمیں قتل کریں اور جیسے چاہیں گرفتار کر لیں اور اللہ کی قسم ! اس سلسلے میں فوجیوں کو کوئی ملامت نہیں کرتا ، اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابلق گھوڑوں پر سفید رنگ کے لوگوں کو دیکھا ہے وہ نہ تو کسی کو پناہ دیتے ہیں اور نہ ان کے آگے کوئی چیز ٹھہر سکتی ہے ۔ (ابورافع ) فرماتے ہیں : میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم ! وہ فرشتے تے ۔ ابولہب نے مجھے تھپڑ مار دیا ، اور بدلے میں ، میں نے بھی اس کو تھپڑ مارا، وہ مجھ سے لڑ پڑا اور مجھے زمین پر گرا کر میرے سینے پر سوار ہو گیا، ام الفضل اٹھیں اور خیمے کی ایک لکڑی کھینچ کر اس کے سر پر دے ماری جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا۔ ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! تم نے اس کے آقا کو غیر موجود پاکر اس کو کمزور سمجھ لیا تھا، تو ابولہب ذلیل ہو کر وہاں سے اٹھا ، خدا کی قسم ! اس کے بعد وہ صرف 7 دن زندہ رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم میں پھنسیاں پیدا کر دیں ، اور ان پھنسیوں کی وجہ سے وہ مر گیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کو دو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا اور دفن نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم سے بدبو پھوٹنے لگی ، ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا : تمہیں حیاء نہیں آتی ، تمہارے باپ کی لاش گھر میں پڑی سڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا: ہم اس پیپ والے پھوڑوں سے ڈر رہے ہیں ۔ قریش ان پھنسیوں سے اتنا گھبراتے تھے جتنا طاعون سے ۔ بالآخر ایک شخص نے کہا: تم اس کو دن کرنے لے چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم ! انہوں نے اپنے باپ کو غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی ڈال دیا، پھر اس کو اٹھا کر لے گئے مکہ کے بالائی علاقوں میں ایک دیوار کے ساتھ پھینک کر اس کے اوپر پتھر وغیرہ پھینک دیئے ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Islam of al-Abbas, may God be pleased with him, and differing narratives at the time of his conversion · Hadith 5403
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ہمارے دلوں میں اسلام داخل ہو چکا تھا لیکن ہم لوگ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا غلام تھا میں تیر چھیلا کرتا تھا، پھر جب قریش جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب روانہ ہوئے، ہم وہاں کی خبروں کے منتظر رہا کرتے تھے۔ حضرت ضمان خزاعی رضی اللہ عنہ جنگ بدر کی ایک خوش کن خبر لے کر ہمارے پاس آئے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے غلبہ کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے ، خدا کی نما میں مکہ میں تھا اور تیر رحمتہ اللہ علیہ چھیل رہا تھا اور ام الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی فتح کی خبرسن کر خوش ہورہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں ہمیں اطلاعات مل رہی تھیں۔ ادھر ابولہب خبیث اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آگیا۔ اللہ تعالی نے اس کو فتح مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر دے کر ذلیل ورسوا کر دیا ہوا تھا۔ وہ آکر خیمے کی اس جانب بیٹھ گیا جدھر خیمے کی رسیاں باندھی جاتی ہیں ۔ لوگوں نے آواز لگائی " ابوسفیان آگیا آگیا‘‘لوگ اس کے اردگرد جمع ہو گئے ، ابولہب نے اس سے کہا: اے میرے بھتیجے میرے پاس آؤ، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ابولہب نے جنگ کے حالات اور شکست کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: شکست کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی تم جب ان سے ہماری مڈ بھیڑ ہوئی تو ہم نے اپنے کاندھے ان کے سپرد کر دیے تا کہ وہ جہاں چاہیں اپنا اسلحہ رکھیں اور اللہ کی قسم !اس سلسلے میں فوجیوں کو کوئی ملامت نہیں کی ، اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابلق گھوڑوں پر سفید رنگ کے لوگوں کو دیکھا ہے ان کے آگے کوئی شی نہیں ٹھہر سکتی ہے۔ (ابورافع) فرماتے ہیں : میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم ! وہ فرشتے تھے۔ ابولہب نے مجھے زور دارتھپٹرسے مارا ، اور بدلے میں، میں نے بھی اس کوتھپڑ رسید کردیا ، وہ مجھ سے لڑ پڑا اور مجھے زمین پرگراکر میرے سینے پر سوار ہوگیا، ام الفضل انھیں اور خیمے کی ایک لکڑی کھینچ کر اس کے سر پر دے ماری جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا۔ ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن !تم نے اس کے آقا کو غیر موجود پا کر اس کو کمزورسمجھ لیا تھا تو ابولہب ذلیل ہوکر وہاں سے اٹھا، خدا کی قسم !اس کے بعد وہ صرف 7 دن زندہ رہا۔ اللہ تعالی نے اس کے جسم میں پھنسیاں پیدا کر دیں، اور ان پھنسیوں کی وجہ سے وہ مر گیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کو دو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا اور دفن نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم سے بد یو پھوٹنے لگی، ایک قریشی آدی نے ان کو کہا تمہیں حیا نہیں آتی تمہارے باپ کی لاش گھر میں پڑی سڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم اس پیپ والے پھوڑوں سے ڈررہے ہیں۔ قریش ان پھنسیوں سے اتنا گھبراتے تھے جتنا طاعون سے۔ بالآخر ایک شخص نے کہا تم اس کو دفن کرنے لے چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم !انہوں نے اپنے باپ کو غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی ڈال دیا، پھر اس کو اٹھا کر لے گئے مکہ کے بالائی علاقوں میں ایک دیوار کے ساتھ لٹا کر اس کے اوپر پتھر وغیرہ پھینک دیئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Islam of al-Abbas, may God be pleased with him, and differing narratives at the time of his conversion · Hadith 5406
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 340
زر بن حبیش کہتے ہیں : وہ صفوان بن عسال المرادی کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے گئے صفوان نے کہا: میں اس کے بتانے کے علاوہ تیرا دوسرا کوئی کام نہیں کروں گا ؟ میں نے جواب دیا: میں دوسری کسی غرض سے آپ کے پاس آیا بھی نہیں ہوں۔ صفوان نے کہا تو پھر تجھے خوشخبری ہو، اس لئے کہ جوشخص علم کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے، اس کے گھر واپس آنے تک فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کی راہوں میں پر بچھائے رکھتے ہیں۔یہ اسنادصحیح ہے کیونکہ عبد الوہاب بن بخت ثقہ بصری رادیوں میں سے ہیں ، قابل اعتماد ہیں ، ان کی مروی احادیث کو جمع کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے ان کی روایات نقل بھی کی ہیں لیکن اس حدیث کو ترک کر دیا ہے جبکہ اس حدیث کا سارامدارعاصم بن بہدلہ کی اس روایت پر ہے جوانہوں نے"زر "سے روایت کی ہے اور شیخینؒ نے ان کو سرے سے چھوڑ رکھا ہے اور اس حدیث کو زر بن حبیش سے روایت کرنے میں عاصم بن بہدلہ کے علاوہ بھی کئی ثقہ راوی موجود ہیں۔ ان میں "منہال بن عمر "بھی ہیں ، امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں ہی ان کی روایات نقل کرتے ہیں۔(ان کی مروی حدیث درج ذیل ہے)
شَيْءٍ ← صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ يَسْأَلُهُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عبد الوهاب بن بخت ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 340
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 341
منہال بن عمرو کی سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس کی سند میں جو"عارم" (نامی راوی ہیں) یہ ابو النعمان محمد بن فضل بصری ہیں، یہ حافظ ہیں ، ثقہ ہیں ۔ امام بخاری ؒنے بھی اس حدیث کے ایک جملہ پر اعتماد کیا ہے اور انہی کے حوالے سے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’سنان بن فروخ‘‘ نے اختلاف کیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ حدیث "صعق بن حزن“ کے حوالے سے نقل کی ہے۔"صعق بن حزن "کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے
ابو جناب کی سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے تاہم اس میں چند الفاظ کا تغیر ہے۔ اس حدیث کی تقویت کے لئے ہم نے جو بھی اسناد وغیرہ ذکر کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جو اس حدیث کو نقصان د ے رہی ہو کیونکہ ایک جماعت محد ثین ؒ نے اس کو موقوف رکھا ہے اور ایک جماعت نے اس کی سند کو متصل کیا ہے اور جنہوں نے اس کی سند کو متصل کیا ہے وہ اَحفط ہیں اور ان کی زیادتی قبول ہوتی ہے۔
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے ، وہاں سے ایک جنازہ گزرا ، ایک یہودی شخص نے کہا : اے محمد ! کیا یہ جنازہ ( قبر میں نکیرین کے سوالوں کے جواب میں ) گفتگو کرے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہے ، اس یہودی نے کہا: اے محمد ! میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ گفتگو کرے گا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جب تمہارے ساتھ کوئی اہل کتاب بات کرے تو تم ( اس کا جواب نہ دو بلکہ ) کہو " ہم اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ یہ حدیث حارث بن عبیدہ رہاوی کی زہری سے روایت کے حوالے سے مشہور ہے اور ہم نے اس نسخہ کے آخر میں یونس کی یزید سے پھر زہری سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے ۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے )
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Amer bin Rabi’a, may God be pleased with him · Hadith 5538