اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:عرفہ کے دن سے زیادہ عظمت والا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو دوزخ سے آزادکر تا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ (بندوں کے) قریب ہوتا ہے پھرفرشتوں سے مخاطب ہوکر فخر سے فرماتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فر مایا: اے لوگو! اللہ کے ملائکہ کی کچھ جماعتیں ہیں جو ( آسمان سے) روانہ ہوتی ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں ٹھہر تی ہیں ، اس لیے تم لوگ جنت کی کیاریوں میں سے چرلیا کرو،صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جنت کی کیاریاں کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی محفلیں ( ہی جنت کی کیاریاں ہیں) اس لیے صبح شام اللہ کا ذکر کیا کر واوراپنے دلوں میں اس کو یاد کیا کرو ۔ جوشخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا مقام جاننا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ اس بات پر غور کرے کہ اس کے دل میں اللہ کا مقام کیا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالی بندے کوہی مقام دیتا ہے جومقام بندہ اللہ تعالی کو اپنے دل میں دیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:اللہ تعالی کے کچھ صاحب فضیلت چلنے پھرنے والے ملائکہ ہیں جو زمین میں ذکر کی محفلیں تلاش کرتے ہیں ۔ اور جب وہ کسی ذکر کی محفل میں آتے ہیں تو ان کو اپنے پروں کے ساتھ آسمانوں تک ڈھانپ لیتے ہیں ( جب وہ لوٹ کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو) اللہ تعالی ان سے پوچھتا ہے :تم کہاں سے آئے ہو؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جانتا ہے، وہ جواب دیتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح وتحمید اور تکبیر وتہلیل میں مصروف ہیں ، جوتجھ سے مانگتے ہیں اور تیری ہی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ اس بات کو وہ خود بہتر جا تا ہے ،فر شتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے رب ! وہ تجھ سے جنت ما نگ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :نہیں اے ہمارے رب! اللہ تعالی فرماتا ہے اگر انہوں نے اس کود یکھالیا ہوتا ( توان کا شوق کیسا ہوتا ) اللہ تعالی فرماتا ہے :یہ میری کس چیز سے پناہ مانگ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ بھی بہتر جانتا ہے ۔ وہ جواب دیتے ہیں: آگ سے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: کیا انہوں نے اس کو دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:اگر انہوں نے جہنم کودیکھا ہوتا( تو ان کوڈرنے کی کیفیت کیا ہوتی ؟) پھر اللہ تعالی فرماتا ہے: تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مجھ سے مانگا ہے ، میں نے انہیں دے دیا ہے اور جس چیز سے انہوں نے میری پناہ مانگی ہے، میں نے ان کو پناہ دے دی ہے ۔فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ان کے اندرایک گنہگار بندہ بھی ہے ۔ جوان میں (ایسے ہی) بیٹھا ہوا ہے حلقہ ذکر والوں میں و ہ شامل نہیں تھا، اللہ تعالی فر ما تا ہے: میں نے اسے بھی بخش دیا ہے ۔ کیونکہ ذکر کر نے والوں کی یہ شان ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم رحمتہ اللہ بن حجاج نے اس کو وہب بن خالد کے حوالے سے سہیل سے روایت کیا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے اوراس میں امام مسلم رحمتہ اللہ منفرد ہیں۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں اللہ تعالیٰ کوکون سی بات سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وہ بات جو اس نے اپنے ملائکہ کے لئے منتخب فرمائی ہے ( وہ یہ ہے) سبحان ربي وبحمده، سبحان ربي وبحمده یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص یوں دعا مانگے اللهم إني أشهدك وأشهد ملائكتك وحملة عرشك، وأشهد من في السماوات ومن في الأرض، انك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك، من قالها مرة اعتق الله ثلثة من التار، ومن قالها مرتين أعتق الله ثلثيه من التار، ومن قالها ثلاثا أعتق الله كله من النّار ’’اے اللہ ! میں تیری گواہی دیتا ہوں ، تیرے ملائکہ کی گواہی دیتا ہوں اور تیرے حاملین عرش کی گواہی دیتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں‘‘۔ جوشخص ایک مرتبہ یہ دعا مانگے ، اللہ تعالی اس کو تیسرے حصے کے برابر جہنم سے آزادکر دیتا ہے اور جوشخص دومرتبہ یہ دعا مانگے اللہ تعالی اس کا دوتہائی حصہ جہنم سے آزادکر دیتا ہے اور جو تین مرتبہ یہ دعا مانگے اللہ تعالی اس کومکمل طور پر جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے میرا انتخاب فرمایا اور میرے لئے صحابہ کرام کو چنا اور ان میں سے میرے وزیر بنائے ، میرے مدد گار بنائے ، میرے رشتہ دار بنائے ، جس نے میرے ان تعلق داروں کو گالی دی ، اس پر اللہ تعالیٰ کی ، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی عمل قبول ہو گا نہ اس کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Awaim bin Saedah, may God be pleased with him · Hadith 6656
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جب تم میت یا مریض کے پاس جاؤ تو اس کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات کہو، کینوکہ تم جو کچھ کہتے ہو، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور میں نے پوچھا : اس موقع پر میں کیا دعا مانگو؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ دعا مانگو " اے اللہ ! ہماری اور اس ( ابو سلمہ ) مغفرت فرما ،اور مجھے اس کا اچھا بدل عطا فرما" میں نے وہی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صورت میں واقعی اچھا بدل عطا فرما دیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Mother of the Believers, Umm Salamah, the daughter of Abu Umayya, may God be pleased with her · Hadith 6758
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6977
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انصار کے دوقبیلوں"اوس "اور "خزرج "نے فخر کیا۔اوس نے کہا: ہم میں وہ شخصیت ہے جس کی موت پر الله تعالی کا عرش بھی ہل گیا تھا، وہ ہیں ”سعد بن معاز رضی اللہ عنہ ۔اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کا دفاع بھڑ وں نے کیا۔ اور وہ ہے حضرت عاصم بن ثابت بن افلح رضی اللہ عنہ ۔اور ہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کو فرشتوں نے غسل دیا تھا، وہ حضرت حنظلہ بن راہب ہیں ۔ ہہم میں وہ شخصیت بھی ہے جس کی اکیلے کی گواہی دو کے برابر قرار دی گئی ہے، وہ ہیں حضرت" خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ "۔ . خزر جی لوگ کہنے لگے۔ وہ چاروں صحابی ہم میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم جمع کیا ہے، ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس کام میں شامل نہیں تھا۔ وہ چاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ یہ تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ،حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Remembrance of the virtues of victory, may God be pleased with them · Hadith 6977
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ · حديث 6993
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کیا تم جانتےہو کہ اہل ایمان میں سب سے افضل ایمان کس کا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم "فرشتے"۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بالکل، بات اسی طرح ہے، یہ ان کا حق ہے، ان کو اس حق سے کیا چیز روکے گی ، جبکہ اللہ تعالی نے ان کو یہ مقام خود عطا فرمایا ہے، میری مراد فرشتوں کے علاوہ ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر انبیاء کرامؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بالکل، بات درست ہے، وہ لوگ اسی منصب کے حقدار ہیں، اوران اس سے کیا چیز روکے گی ، جبکہ خود اللہ تبارک وتعالی نے ان کو اس مقام پر پہنچایا ہے، میری مراد ان کے علاوہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پھر وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کچھ لوگ فی الحال مردوں کی پشتوں میں ہیں، میرے بعد پیدا ہوں گے، وہ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔ وہ (قرآن کریم کا) ایک کا غذ لٹکتا ہوا پائیں گے تو اس پر عمل شروع کردیں گے ، ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ سب سے افضل ہوں گے۔
رَسُولُ اللَّهِ «أَتَدْرُونَ أَيُّ أَهْلِ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ إِيمَانًا؟» ← كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ جَالِسًا ← عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of the nation after the Companions and the Successors · Hadith 6993
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ إِسْلَامِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ · حديث 4885
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حالت جنابت (جس حالت میں انسان پر غسل فرض ہوتا ہے) میں شہید ہوئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ان کو فرشتوں نے غسل دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Islam of Hamzah ibn Abd al-Muttalib · Hadith 4885
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ إِسْلَامِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ · حديث 4890
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گزشتہ رات جنت میں گیا، میں وہاں پر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پرندوں کے ہمراہ اڑتے دیکھا۔ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ درج ذیل احادیث کو امام حاکم نے املاء نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Islam of Hamzah ibn Abd al-Muttalib · Hadith 4890
یحیٰ بن عباد بن عبداللہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابو سفیان بن حارث کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی اور شداد بن اسود نے ان کو اپنی تلوار کے ساتھ شہید کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کے موقع پر فرمایا: تمہارے اس ساتھ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی زوجہ محترمہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اعلان جہاد سنا تو اس وقت یہ جنبی تھے اور اسی حالت میں یہ جہاد کی طرف روانہ ہو گئےتھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتوں نے اس کو غسل دیا ہے۔ یہ حدیث ا مام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nuqiyyat of Abdallah Ibn Abd Allah and the nuniyyat of Abd Allah Abu Amer Ibn Abed Omar Al Ansari who is Ghasa · Hadith 4917
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہنے لگے: اس کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، اس نے بنی قریظہ کے خلاف جو فیصلہ کیا تھا اس کی وجہ سے ایسا ہوا ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ فرشتے ان کو اٹھا رہے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بِهِ ← بِهِ عَنْهُ فِي الرِّحْلَةِ الْأُولَى فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَقَدْ كَانَ أَبُو مُوسَى ← محمد بن إسحاق الإمام، ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the virtue of Sa`d ibn Muadh ibn al-Nu`man ibn Imra al-Qayyis ibn Zayd ibn Abd al-ashhal al-Khazri · Hadith 4926
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گزشتہ رات جنت میں گیا، میں نے اس میں حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملائکہ کے ہمراہ اڑتے ہوئے دیکھا اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومیں نے دیکھا کہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4933
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت جعفر ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو پروں کی مدد سے فرشتوں کے ہمراہ اڑتے دیکھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4935
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات حضرت جعفر فرشتوں کے ہمراہ میرے پاس سے گزرے ان کو دونوں پروں خون کے سرخ رنگ سے رنگے ہوئے تھے اور دل سفید تھا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4943
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2035
حضرت عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ایک مرتبہ رات کے وقت سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا، جب میں سورۃ کے آخر تک پہنچا تو اپنے پیچھے کسی چیز کی آواز سنی تو میں یہ سمجھا کہ شاید میرا گھوڑ اکھل گیا ہے ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اے ابوعتیک تمہیں تلاوت جاری رکھنی چاہئے تھی ،تو میں نے دیکھا کہ زمین اور آسان کے درمیان شمعیں لٹک رہی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تلاوت کو جاری رکھنے کی میری ہمت نہ تھی ( اسید ) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فر شتے تھے قرآن پاک کی قرأت سننے کے لئے نازل ہوئے تھے اگر تو تلاوت جاری رکھتا تو مز ید عجائبات دیکھتا۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے پیچھے بٹھایا کرتے تھے، ہم نے آپ ﷺ کے لئے ایک بکری ذبح کی ، اور اس کو تنور میں ڈال دیا ، جب وہ بھن گئی تو ہم نے اس کو نکال لیا اور اس کو اپنے کھانے پینے کے سامان میں رکھ لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر شروع فرمایا، گرمی کے دنوں میں حج کے موقع پر آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا جب ہم وادی کی بلندی پر پہنچے تو وہاں حضور ﷺ کی زید بن عمرو بن نفیل سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے ( زید بن حارثہ اور زید بن عمرو) نے دور جاہلیت کے طریقے سے ایک دوسرے کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن عمرو بن نفیل سے فرمایا: کیا وجہ ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تمہارے ساتھ بغض رکھتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، خدا کی قسم ! بغض کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے ، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں انہیں گمراہ سمجھتا تھا۔ حضرت زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں : پھر میں اس دین کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اس سلسلے میں، یثرب کے کئی راہیوں کے پاس گیا، میں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ شرک میں مبتلا بھی پایا، میں نے سوچا کہ یہ وہ دین نہیں ہے جس کی تلاش میں، میں نکلا ہوں پھر میں مقام ایلہ کے راہبوں کے پاس گیا، ان لوگوں کا بھی یہی حال تھا، میں نے سوچا یہ بھی وہ دین نہیں ہے میں جس کی تلاش میں ہوں۔ البتہ شام کے ایک راہب نے مجھے کہا: تم جس دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو، ہم صرف ایک شخص کو جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، وہ فلاں جزیرے میں رہتا ہے۔ میں ان بزرگوں کے پاس گیا اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا، انہوں نے کہا: تم نے جس کو بھی دیکھا، گمراہی پر ہی دیکھا ہے، جبکہ تم جس دین کی طلب میں ہو وہ دین، اللہ تعالیٰ کا اور اس کے ملائکہ کا دین ہے۔ اور تمہارے علاقے میں ایک نبی ظاہر ہو چکا ہے یا وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے، وہ اسی دین کی دعوت دے گا، تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ، اس کی تصدیق کرو اور اس کی اتباع کرو، اور ہو جو کچھ لے کر آئے، اس پر ایمان لاؤ ۔ چنانچہ میں وہیں سے واپس لوٹ آیا، پھر اس کے بعد میں نے کبھی بھی کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اونٹ بٹھایا جس پر آپ ﷺ سوار تھے، پھر ہم نے وہ کھانا حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا جس میں بھنی ہوئی بکری تھی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کیاہے ؟ ہم نے کہا: یہ بکری ہے، ہم نے اس کو فلاں بت کے نام پر ذبح کیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کی ہوا جانور نہیں کھاتا۔یہ کانسی کا بنا ہوا ایک بت تھا، اس کو اساف یا نائلہ کہا جاتا تھا، مشرکین دوران طواف اس کو چھوا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا، میں نے بھی آپ ﷺ کے ہمراہ طواف کیا، میں جب بھی اس بت کے پاس سے گزرتا تواس کو ہاتھ لگاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سے فرماتے: اس کو ہاتھ مت لگاؤ۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم طواف کرتے رہے، میں نے اپنے دل میں سوچ رکھا تھا کہ میں اس بت کو لازمی ہاتھ لگاؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضور ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے پھر ہاتھ لگایا تو حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نوازا ہے اور آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی ہے میں نے کبھی کسی بت کو استلام نہیں کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے نواز دیا، اور آپ ﷺ پر کتاب اتاری۔ زید بن نفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعثت سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن ایک ہی امت میں اٹھائے جائیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ کو شخص اس حدیث پر ذرا سا بھی غور کر لے اس کو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جت فضائل بھی سمجھ آ جائیں گے اور یہ بھی پتا چل جائے گا کہ وہ اعلان نبوت سے بھی پہلے اسلام میں دلچسپی رکھتے تھے۔
زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtue of Zaid al-Hob ibn Haritha ibn Shrahelil ibn Abd al-'Uzzi · Hadith 4956
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2099
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی آواز وں کوقر آن کے باعث خوبصورت کرو ۔اس حدیث کو زائدہ بن قدامہ، عمرو بن ابی قیس، جرير بن عبد الحميد، عمار بن ياسر اور ابراهيم بن طہمان نے اسی طرح منصور بن معتمر سے روایت کیا ہے ۔ زائدہ بن قدامہ کی حدیث:
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2099
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2105
حضرت ابو اسحاق ، طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : عبدالرحمن بن عوسجہ ، براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ اور اس کے فرشتے اگلی صفوں پر رحمتیں نازل کرتے ہیں ۔ اور تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ بنت دو ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2105