صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1592
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، نَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بَيْنَا أَنَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، إِذْ سَمِعَتْهُ يَقُولُ أَحَدًا يُكَلِّمُهُ" (2)، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ، وَقَالَ: "ثُمَّ نُودِيَ إنَّ لَكَ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، قَالَ: فَهَبَطْتُ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ، نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي صَفٍّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَصَلَّى بِهِ، وَأَمَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَائْتَمَّ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ، حَتَّى تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ، فَائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ ثَلَاثًا يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي وَاحِدَةٍ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي اثْنَتيْنِ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَبَاتُوا حَتَّى أَصْبَحُوا، نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ الْبَصْرِيُّونَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ، وَقَالُوا فِي آخِرِهِ: قَالَ الْحَسَنُ: فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ إِلَى آخِرِهِ، فَجَعَلوا الْخَبَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي إِمَامَةِ جِبْرِيلَ مُرْسَلًا عَنِ الْحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَدْرَجَ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَهَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ عَنْ أَنَسٍ، إِلَّا أَنَّ أَهْلَ الْقِبْلَةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ فَكَمَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ.
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس اثناء میں کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (سو رہا( تھا جب میں نے کسی کو بات کرتے ہوے ٔ سنا۔ پھر معراج والی مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر اعلان کیا گیا:بے شک آپ کو ہر نماز کے بدلے دس گنا ثواب ملے گا فرمایا: پھر میں نیچے اتر آیا۔ پھر جب سور ج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ فرشتوں کی ایک صف کے ساتھ نازل ہوۓ اور آپ کو نماز پڑھائی۔نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ۔چنانچہ آپ ﷺ نے جبرائیل کی اقتداء کی اور صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ آپ نے انہیں چاررکعات نماز پڑھائی اور آہستہ آواز سے قراءت کی، پھر صحابہ کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ سورج جھک گیا مگر ابھی وہ روشن اور سفید تھا(زرد نہیں ہو تھا)۔جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں جن میں پوشیدہ قراءت کی۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتدا کی۔پھر انہیں سورج غروب ہونے تک چھوڑ دیا۔پھر حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں تین رکعات پڑھائین ، پہلی دو رکعتوں میں جہری قراءت کی اور تیسری رکعت میں پوشیدہ قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ اور صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔پھر جب شفق غائب ہو گئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں۔ دو رکعات میں جہری اور دو رکعات میں سری قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتداء کی اور نبی کریم کے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی اقتداء کی۔پھر لوگ سو گئے حتٰی کہ صبح ہوئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں دو رکعات پڑھائیں اور ان میں طویل قراءت کی ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: بصری راویوں نے یہ حدیث سعید سے اور انہوں نے حضرت قتادہ واسطے سے حضرت انس کے استاد مالک بن صعصعہ ؓ سے واقعہ معراج میں بیان کی ہے، روایت کے آخر میں وہ کہتے ہیں:امام حسن بصری فرماتے ہیں:پھر جب سورج ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ آخر تک اس طرح انہوں نے اس مقام سے آگے کی روایت حضرت حسن بصری ؑ سے مرسل بیان کی ہے اور عکرمہ بن ابراہیم نے یہ قصہ حضرت انس بن مالک کی حدیث میں درج کر دیا ہے حالانکہ یہ واقعات حضرت انس ؓ کی حدیث کی صورت میں محٖفوظ اور ثابت نہیں ہے مگر تمام مسلمانوں کا اس بات پر ا تفاق ہے، کہ نماز میں جہری اور سری قراءت کا جو تذکرہ اس حدیث میں آیا ہے وہ اسی طرح درست ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہوا ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1592
