Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1592

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، نَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بَيْنَا أَنَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، إِذْ سَمِعَتْهُ يَقُولُ أَحَدًا يُكَلِّمُهُ" (2)، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ، وَقَالَ: "ثُمَّ نُودِيَ إنَّ لَكَ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، قَالَ: فَهَبَطْتُ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ، نَزَلَ جِبْرِيلُ فِي صَفٍّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَصَلَّى بِهِ، وَأَمَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَائْتَمَّ بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ، حَتَّى تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا يُخَافِتُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ، فَائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَصَلَّى بِهِمْ ثَلَاثًا يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي وَاحِدَةٍ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ تَرَكَهُمْ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَيُخَافِتُ فِي اثْنَتيْنِ، ائْتَمَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجِبْرِيلَ، وَائْتَمَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَبَاتُوا حَتَّى أَصْبَحُوا، نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِرَاءَةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ الْبَصْرِيُّونَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ، وَقَالُوا فِي آخِرِهِ: قَالَ الْحَسَنُ: فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ إِلَى آخِرِهِ، فَجَعَلوا الْخَبَرَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي إِمَامَةِ جِبْرِيلَ مُرْسَلًا عَنِ الْحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَدْرَجَ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. وَهَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ عَنْ أَنَسٍ، إِلَّا أَنَّ أَهْلَ الْقِبْلَةِ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ فَكَمَا ذُكِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اس اثناء میں کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (سو رہا( تھا جب میں نے کسی کو بات کرتے ہوے ٔ سنا۔ پھر معراج والی مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر اعلان کیا گیا:بے شک آپ کو ہر نماز کے بدلے دس گنا ثواب ملے گا فرمایا: پھر میں نیچے اتر آیا۔ پھر جب سور ج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ فرشتوں کی ایک صف کے ساتھ نازل ہوۓ اور آپ کو نماز پڑھائی۔نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ۔چنانچہ آپ ﷺ نے جبرائیل کی اقتداء کی اور صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ آپ نے انہیں چاررکعات نماز پڑھائی اور آہستہ آواز سے قراءت کی، پھر صحابہ کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ سورج جھک گیا مگر ابھی وہ روشن اور سفید تھا(زرد نہیں ہو تھا)۔جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں جن میں پوشیدہ قراءت کی۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتدا کی۔پھر انہیں سورج غروب ہونے تک چھوڑ دیا۔پھر حضرت جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں تین رکعات پڑھائین ، پہلی دو رکعتوں میں جہری قراءت کی اور تیسری رکعت میں پوشیدہ قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ اور صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔پھر جب شفق غائب ہو گئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں چاررکعات پڑھائیں۔ دو رکعات میں جہری اور دو رکعات میں سری قراءت کی۔نبی کریم ﷺ نے جبرائیل ؑ کی اقتداء کی اور نبی کریم کے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی اقتداء کی۔پھر لوگ سو گئے حتٰی کہ صبح ہوئی تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ اور انہیں دو رکعات پڑھائیں اور ان میں طویل قراءت کی ۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: بصری راویوں نے یہ حدیث سعید سے اور انہوں نے حضرت قتادہ واسطے سے حضرت انس کے استاد مالک بن صعصعہ ؓ سے واقعہ معراج میں بیان کی ہے، روایت کے آخر میں وہ کہتے ہیں:امام حسن بصری فرماتے ہیں:پھر جب سورج ڈھل گیا تو جبرائیل ؑ نازل ہوۓ آخر تک اس طرح انہوں نے اس مقام سے آگے کی روایت حضرت حسن بصری ؑ سے مرسل بیان کی ہے اور عکرمہ بن ابراہیم نے یہ قصہ حضرت انس بن مالک کی حدیث میں درج کر دیا ہے حالانکہ یہ واقعات حضرت انس ؓ کی حدیث کی صورت میں محٖفوظ اور ثابت نہیں ہے مگر تمام مسلمانوں کا اس بات پر ا تفاق ہے، کہ نماز میں جہری اور سری قراءت کا جو تذکرہ اس حدیث میں آیا ہے وہ اسی طرح درست ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہوا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1592

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2553

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ، أَوْ فِيهَا كَلْبٌ".

۔۔حضرت ابو ہرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "بےشک فرشتے اس قافلے اور جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتاموجود ہو یا اس میں گھنٹی (بج رہی )ہو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2553

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2138

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْد، عَنْ مَوْلَاةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ -يَعْنِي جَدَّةَ حَبِيبِ بْنِ زَيْد-: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: "تَعَالَيْ فَكُلِي". فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ".

''جناب حبیب بن زید کی دادی حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ و ہ روزے سے تھیں ۔ انہوں نے آپ کو کھاناپیش کیا تو آپ نے فرمایا:''تم بھی آجاؤاور کھانا کھا لو۔''انہوں نے عرض کی : ''میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔''تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ''جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جائے تو فرشتے اس کےلیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔''

جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ -يَعْنِي جَدَّةَ حَبِيبِ بْنِ زَيْد-: ← مَوْلَاةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2138

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2140

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنا شَرِيكٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْد، عَنْ لَيْلَى، عَنْ مَوْلَاتِهَا، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: "الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ".

''حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :''جب روزہ نہ رکھنے والے روزے دار کے پاس کھاتے ہیں تو فرشتے اس کےلیے شام تک دعائیں کرتے ہیں۔''

"الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ". ← النَّبِيِّ ← مَوْلَاتِهَا، ← لَيْلَى، ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2140

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 321

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ-: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ [48 - أ] مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ- فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. قَالَ: فَحَسِبْتُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو تمہارے پاس آگ پیچھے آتے رہتے ہیں ۔ پھر جب نماز فجر کا وقت ہوتا ہے تو دن کے فرشتے ناز ل ہوتے ہیں اور وہ تمہارے ساتھ اکٹھے نماز میں حاضر ہوتے ہیں پھر رات کے فرشتے اوپر جڑھ جاتے ہیں ۔ اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ، تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے بخوبی واقف ہے ، تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ وہ جواب دیتے ہیں : ہم آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں نماز اد ا کرتے ہوئے چھوڑ ا ہے ۔ پھر جب نماز عصر کا وقت ہوتا ہے تو رات کے وقت فرشتے نازل ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں ، پھر دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ۔ فرمایا: تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بخوبی جانتا ہے ، وہ فرماتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ میرا خیال ہے وہ کہتے ہیں: تو ( اے اللہ) انہیں قیامت کے دن معاف فرما دینا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 321

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 322

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں ۔ نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں ۔ اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں تو ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز ادا کر رہے تھے ۔ لہٰذا تو انہیں قیامت کے روز معاف فرمادینا۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 322

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 357

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بك ر نا أبو موسى محمد بن المثنى حدثني الضحاك بن مخلد أخبرنا سفيان حدثني عبد الله بن أبي بكر عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ألا أدلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء في المكاره وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته فيصلي مع الإمام ثم يجلس ينتظر الصلاة الأخرى إلا والملائكة تقول : اللهم اغفر له اللهم ارحمه ثم ذكر الحديث قال أبو بكر : لم يرو هذا الحديث إلا أبو عاصم

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کرتے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : مشقت اور مشکل کے باوجود مکمل وضو کرنا ، اورنماز کے بعد ( دوسری ) نماز کا انتظار کرنا ، تم میں سے جو شخص بھی گھر سے نکلتا ہے تو امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے ، اے اللہ اس پر رحم فرما ۔"پھر باقی حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : اسے صرف ابو عاصم نے بیان کیا ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الضحاك بن مخلد ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أبو بك ر ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 357

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 360

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ [لَهُ] اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يَنْصَرِفْ أَوْ يُحْدِثْ". قَالُوا: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ ذِكْرَهُمَا لِعِلَّةٍ، لِأَنَّهُمَا، وَكُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ يَنْقُضُ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ. وَكُلَّ مَا نَقَضَ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ مِنَ الْأَحْدَاثِ كُلِّهَا فَحُكْمُهُ حُكْمُ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَجَبْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ مِنَ الْخَبَرِ الْمُعَلَّلِ الَّذِي يَجُوزُ أَنْ يُشَبَّهَ بِهِ مَا هُوَ مِثْلُهُ فِي الْحُكْمِ. وَلَوْ كَانَ التَّشْبِيهُ وَالتَّمْثِيلُ لَا يَجُوزُ عَلَى أَخْبَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، عَلَى مَا تَوَهَّمَ بَعْضُ مَنْ خَالَفَنَا، لَكَانَ الْبَائِلُ فِي كُوزٍ أَوْ قَارُورَةٍ، وَالْمُتَغَوِّطُ فِي طَشْتٍ أَوْ أُجَانَةٍ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، كَانَ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي. وَالْمُحْدِثُ إِذَا خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي، وَإِنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ خُرُوجِ الرِّيحِ مِنْهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. وَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ، وَلَمْ يُعَانِدْ وَلَمْ يُكَابِرْ عَقْلَهُ، عَلِمَ أَنَّ قَوْلَهُ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ الْفِسَا وَالضِّرَاطَ يَنْقُضَانِ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْعَلْ لِمُنْتَظِرِ الصَّلَاةِ بَعْدَ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ فَضِيلَةَ الْمُصَلِّي، لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَوَضِّئِ. فَكُلُّ مُنْتَظِرٍ الصَّلَاةَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ طَاهِرٍ طَهَارَةً تُجْزِيهِ الصَّلَاةُ مَعَهَا، فَحُكْمُهُ حُكْمُ مَنْ خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ نَقَضَتْ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اپنی جائے نماز پر (بیٹھا ) نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ ! اسے معاف فرما دے ، اے اللہ! اس پر رحم فرما، جب تک وہ ( اسی جگہ سے) لوٹ نہیں جاتا یا حدث نہیں کرتا ۔"شاگردوں نے عرض کی: حدث کیا ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: بے آواز یا باآواز ہوا خارج کرنا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اور یہ الفاظ بے آواز یا باآواز ہوا خارج کر دے ، اس جنس سے ہیں جو کہتی ہے کہ ان دونوں کا ذکر کسی سبب سے کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ دونوں اور ان میں سے ہر ایک منفرد طور پر باوضو شخص کی طہارت کو توڑ دیتا ہے ۔ اور باوضو شخص کے وضو کو توڑنے والے تمام احداث کا حکم ان دو حدثوں کے حکم جیسا ہے اور یہ اسی جنس سے ہے جس کا میں نے اپنے بعض اصحابہ کو جواب دیا ہے کہ بعض معلل روایات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ دوسری اس جیسی روایات کو تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ وتمثیل جائز نہ ہوتی جیسا کہ ہمارے بعض مخالفین کا وہم ہے تو پیالے یا بوتل میں پیشاب کرنے والے شخص اور تھال یا ٹب میں پاخانہ کرنے والے کےلیے نمازی کا اجر ہونا چاہیے جب وہ مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ حالانکہ بے وضو شخص جب اس کی ہوا خارج ہو جائے تو اس کےلیے نمازی کا اجر نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ ہوا خارج ہونے کے بعد مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کرتا رہے ۔ اور جو شخص علمی سمجھ اور فراست رکھتا ہو اور وہ معاند اور غافل متکبر بھی نہ ہو وہ جان لے گا کہ آپ کا فرمان : بے آواز یا باآواز ہوا خارج کردے"سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان سے یہ دونوں حدث وضو توڑ دیتے ہیں۔ اور نبی اکرم ﷺ نے نماز کا انتظار کرنے والے شخص کےلیے ان دو حدثوں کے واقع ہوجانے کے بعد نماز کا اجر نہیں رکھا ۔ کیونکہ وہ بے وضو ہے ۔لہٰذا نماز کے انتظار میں مسجد میں ، بغیر ایسی طہارت کے جس کے ساتھ نماز اد ا کرنا کافی ہو جائے ، بیٹھے شخص کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کی ہوا نکل گئی ہو اور اس کی طہارت ٹوٹ گئی ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 360

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1665

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: "وَالْبَصَلِ، وَالْكُرَّاثِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".

’’حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے اس پودے لہسن سے کھایاہو۔‘‘پھربعد میں فرمایا:’’اور پیاز اور گندنا کھایا ہو تو وہ ہماری مسجد کے قریب بالکل نہ آئے کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔۔‘‘

"مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الثُّومِ ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1665

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1667

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ، نَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ، فَوَقَعْنَا (1) فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا؛ قَالَ: وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّيحَ، فَقَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي مَسْجِدِنَا". [فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -]؛ فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ! أنَّه لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا". هَذَا حَدِيثُ أَبِي هَاشِمٍ، وَزَادَ أَبُو مُوسَى فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: "وَإِنَّهُ يَأْتِيننِي .. (2) مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَأَكْرَهُ أَنْ يَشُمُّوا رِيحَهَا".

"حضرت ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابھی ہم آگے نہیں بڑھے تھے کہ خیبر فتح ہوگیا تو ہم لہسن کے کھیت میں پہنچے ، فرماتے ہیں : لوگ سخت بھوکے تھے۔ اس لیے ہم نے لہسن خوب جی بھر کر کھایا۔ پھر ہم مسجد میں آگئے ۔ رسو ل اللہﷺ نے بو محسوس کی تو فرمایا: جس شخص نے اس بدبو دار پودے سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب مت آئے ۔"اس پر لوگوں نے کہنا سروع کر دیا:لہسن حرام ہوگیا۔ لہسن حرام ہوگیا۔ یہ بات نبی کریمﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ا ےلوگو! جس چیز کو اللہ نے حلال قرار دیا ہو اسے حرام قرار دینے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے ۔ لیکن یہ ایک پودہ ہے جس کی بو مجھے پسند نہیں ہے ۔"یہ ابوہاشم کی روایت ہے ۔ اور ابو موسیٰ نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے :"اور صورتِ حال یہ ہے کہ میرے فرشتوں میں سے ایک شرگوشی کرنے والا آتا ہے ۔ لہٰذا میں ناپسند کرتا ہوں کہ انہیں اس کی بدبو محسوس ہو۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1667

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1668

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، نَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ- التُّسْتَرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ. قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بِبَلَدِنَا يَوْمَئِذٍ الثُّومُ، فَقَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".

’’حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع کیا۔فرماتے ہیں:ان دنوں ہمارے علاقے میں لہسن نہیں ہوتا تھا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص نے اس پودے سے کھایاہو وہ ہماری مسجد کے قریب ہر گزنہ آۓ۔کونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔‘

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ- التُّسْتَرِيُّ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1668

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1670

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِطَعَامٍ مِنْ خَضِرَةٍ فِيهِ بَصَلٌ أَوْ كُرَّاثٌ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْكُلَ؟ " فَقَالَ: لَمْ أَرَ أَثَرَكَ فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَسْتَحِي مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ، وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ".

’’حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک سبزی کا سالن بھیجنا گیا جس میں پیاز یا گندنا ڈالا گیا تھا۔پس حضرت ابوایوب ؓ نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کے آثار نہ دیکھے تو(خود بھی) اسے کھانے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا:تمہیں یہ کھانا کھانے سے کس چیز نے روکا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ کے کھانے کے آثار دھائی نہیں دیئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’(میں نے تو اس لیے نہیں کھایا کیونکہ ) میں نے اللہ کے فرشتوں سے حیا محسوس کرتا ہوں (کہ کہیں انہیں بو محسوس نہ ہو) اور یہ حرام نہیں ہے۔‘‘

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ سُفْیَانَ بْنَ وَھْبٍ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1670

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1769

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، ثَنَا سُفْيَانُ، نَا الزُّهْرِيُّ؛ وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، طُوِيَتِ الصُّحُفُ". وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: "فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ"، وَقَالَا جَمِيعًا: "وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي كَبْشًا"، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: كَمُهْدِي الْبَقَرَةِ، وَقَالَ: كَمُهْدِي الْكَبْشِ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لوگوں کے نام ان کے ( مسجد آنے کے ) مراتب کے لحاظ سے لکھتے ہیں ۔ جو پہلے آتا ہے اسے پہلے اور بعد میں آنے والوں کو بعد میں لکھتے ہیں ۔ پھر جب امام (خطبہ کےلیے ) تشریف لاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کردیتے ہیں ۔"جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے :"جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں ۔"دونوں راوی کہتے ہیں :"اور و ہ فرشتے بھی خطبہ سننے لگ جاتے ہیں ۔"لہٰذا نماز کےلے جلدی آنے والا ، اونٹ کی قربانی کرنے والے جیسا اجر پاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے شخص کی طرح ثواب حاصل کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے شخص کی مثل ثواب پاتا ہے۔"حتی ٰ کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا تذکرہ بھی کیا ۔ " جناب مخزومی کی روایت میں "گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح "اور" مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طر ح۔"کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الزُّهْرِيُّ؛ وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1769

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1771

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا مَطَرٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "تُبْعَثُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ النَّاسِ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَرُفِعَتِ الْأَقْلَامُ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ [186 - ب]: مَا حَبَسَ فُلَانًا؟ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا فَاشْفِهِ، وَإِنْ كَانَ عَائِلًا فَأَغْنِهِ". هَذَا حَدِيثُ الْمُقْرِئِ. وَقَالَ الْقُطَعِيُّ: قَالَ: "تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ"، وَقَالَ أَيْضًا: "يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ ... " إِلَى آخِرِهِ".

"حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جمعہ والے دن فرشتوں کو مسجد کے دروازوں پر بٹھایا جاتا ہے ، وہ لوگوں کی آمد کو ( بالترتیب ) لکھتے رہتے ہیں ۔ پھر جب امام تشریف لے آتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور قلم اٹھا لیے جاتے ہیں ۔ تو فرشتے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں :فلاں شخص کو کس چیز نے ( جمعہ سے ) روک لیا ہے ؟ پھر فرشتے دعا کرتے ہیں : اے اللہ! فلا ں شخص اگر گمراہ ہوگیا ہے تو اسے ہدایت نصیب فرما اور اگر وہ بیمار ہے تو اسے شفا نصیب فرما اور اگر وہ فقیر ہے تو اسے غنی کر دے ۔ یہ جناب مقرئ کی حدیث ہے ۔ اور جناب قطعی کی روایت میں ہے : "فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ الفاظ بھی روایت کیے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں : اے اللہ! اگر وہ گمراہ ہوگیا ہے تو اسے سیدھی راہ دکھا ۔ اگر وہ ایسے ایسے ہوگیا ہے تو ۔۔۔ ۔۔ آخر تک۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← الْمُقْرِئُ ← أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1771

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2194

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ السَّابِعَةِ أَوِ التَّاسِعَةِ وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ فِي الْأَرْضِ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:''شب قدر ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے اور اس رات میں فرشتے کنکریوں کی تعدا سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبِي دَاوُدَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2194

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2244

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّه وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّه لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: "الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّه كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنِ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا - يَعْنِي السَّرَارِيَّ - فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ أَشْرَاطُهَا، وَإِذَا صَارَ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُؤوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّه، ثُمَّ تَلَا: (إِنَّ اللَّه عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ [لقمان:34]. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَجُل، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ" هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَيَّانَ هَذَا اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، تَيْمَ الرَّبَاب (1).

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہﷺ (گھر سے باہر ) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو آخرت کے دن اٹھنے پر یقین رکھے ۔" اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ، اور نماز قائم کرے اور توفرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔" اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے ۔ "اس نے پوچھا : اے ا للہ کے رسول! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر وغرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن ، ننگے پاؤں چلنے والے( فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اِنَّ اللہَ عِنْدَہْ عَلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ)(لقمان:۳۴)"بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کا پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے ۔"پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : "یہ جبرائیلؑ ہیں ، لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے"یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے ۔"

بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← وحدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← وحدثنا يوسف بن موسى ← أَبُو حَيَّانَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2244

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2827

ثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ؛ ح وثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِد، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإنَّهُ لَيَدْنُو (1)، ثُمَّ يُبَاهِي الْمَلَائِكَةَ، وَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ ".

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ اتنی کثرت سے بندوں کو جہنم کی اآگ سے نجات عطا فرمائیں ۔ اس روز اللہ (اپنے بندوں کے ) بہت قریب ہو جاتا ہے اور پھر فرشتوں کے ساتھ (ان کا حجاج کی وجہ سے ) فخر کااظہار کرتا ہے۔ اور فرشتوں سے پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔"

عَائِشَةَ ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِد، ← مَخْرَمَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2827

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2840

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ -هُوَ أَبُو بَكْرٍ- عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا، ضَاحِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ. فَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ يَزْهُو وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: قَدْ غَفَرْتُ [280 - ب] لَهُمْ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرُ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ". حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا مَرْزُوقُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَةِ مَرْزُوقٍ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:" جب عرفات کا دن ہو تا ہے تواللہ تعالی آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور عرفات کے حاجیوں کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندوں کی طرف دیکھو ، وہ میری بارگاہ میں کس قدر غبار آلود پراگندہ حالت میں حاضر ہیں ، ہر دوردراز علاقے سے حاضر ہوئے ہیں ۔ میں فرشتے عرض کرتے ہیں : اے پروردگار ! ان میں فلاں متکبر بھی ہے اور ان میں فلاں فلاں گناہ گار بھی ہیں !اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے ان سب کو بخش دیا ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : عرفہ والے دن جس کثرت سے لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہے وہ کسی اور دن میں نہیں ملتی۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : میں مرزوق (راوی) کی ذمہ داری سے بری ہوں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى مَرْزُوقٌ -هُوَ أَبُو بَكْرٍ-

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2840

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2482

حدثنا عتبة بن عبد الله أخبرنا عبد الله بن المبارك أخبرنا حيوة بن شريح حدثني الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان أن عقبة بن مسلم حدثه : أن شفيا حدثه أنه دخل المدينة فإذا هو برجل قد اجتمع عليه الناس فقال : من هذا ؟ فقالوا : أبو هريرة فدنوت منه حتى قعدت بين يديه و هو يحدث الناس فلما سكت و خلا قلت : أنشدك بحق و حق لما حدثتني حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم عقلته و علمته فقال أبو هريرة : افعل لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و علمته ثم نشغ أبو هريرة نشغة فمكث قليلا ثم أفاق فقال : لأحدثنك حديثا حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة أخرى فمكث بذلك ثم أفاق و مسح وجهه قال : افعل لأحدثنك بحديث حدثنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم و أنا و هو في هذا البيت ما معنا أحد غيري و غيره ثم نشغ أبو هريرة نشغة شديدة ثم مال خارا على وجهه أسندته طويلا ثم أفاق فقال : حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله تبارك و تعالى إذا كان يوم القيامة نزل إلى العباد ليقضي بينهم و كل أمة جاثية فأول من يدعوا به رجل جمع القرآن و رجل يقتل في سبيل الله و رجل كثير مال فيقول للقارىء : ألم أعلمك ما أنزلت على رسولي ؟ قال : بلى يا رب قال : فماذا عملت فيما علمت ؟ قال : كنت أقوم به أثناء الليل و آناء النهار فيقول الله له : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله : بل أردت أن يقال : فلان قارىء فقد قيل و يؤتى بصاحب المال فيقول الله : ألم أوسع عليك حتى لم أدعك تحتاج إلى أحد ؟ قال : بلى قال : فماذا عملت فيما آتيتك ؟ قال : كنت أصل الرحم و أتصدق فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت فيقول الله : بل أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل ذاك و يؤتى بالذي قتل في سبيل الله فيقال له فيم قتلت ؟ فيقول : أمرت بالجهاد في سبيلك فقاتلت حتى قتلت فيقول الله : كذبت و تقول الملائكة : كذبت و يقول الله عز و جل له : بل أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل ذلك ثم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على ركبتي فقال : يا أبا هريرة أولئك الثلاثة أول خلق الله تسعر بهم النار يوم القيامة قال الوليد فأخبرني عقبة أن شفيا هو الذي دخل على معاوية فأخبره بهذا قال أبو عثمان : و حدثني العلاء بن أبي حكيم أنه كان سيافا لمعاوية و أن رجلا دخل على معاوية فحدثه بهذا قال : صدق الله و رسوله { من كان يريد الحياة الدنيا و زينتها } إلى قوله { و باطل ما كانوا يعملون }

"جناب شفی اصحبی بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس کافی لوگ جمع ہیں ۔ تو انھوں نےپوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوہریرہؓ ہیں ۔ لہٰذا میں ان کے قریب جاکر ان کے سامنے بیٹھ گیا ، جبکہ وہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے ۔ پھر جب وہ خاموش ہوئے اور کیلے رہ گئے تو میں نے عرض کی : میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور اس کے حق کا واسطہ دے کر گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہﷺ سےسن کر یاد رکھی ہو اور آپ اسے بخوبی جانتے ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: میں تمھیں ایسی ہی حدیث سناؤں گا جو میں رسول اللہﷺ سے سنی اور یاد رکھی ہے ۔ پھر ابوہریرہؓ سسکیاں لے کر رونے لگ گئے اور بےہوش ہوگئے پھر تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو فرمانے لگے : میں تمھیں ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو مجھے رسول اللہﷺ نے بیان کی تھی جبکہ میں اور آپ اس گھر میں اکیلے موجو د تھے ۔ پھر دوسری بار حضرت ابوہریرہؓ نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا اور بے ہوش ہوگئے ۔ پھر ہوش میں آئے اور اپنے چہرے کو صاف کیا ۔ پھر فرمایا: میں تمھیں حدیث سناتا ہوں ، میں ضرور تمھیں ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہﷺ نے مجھے اس وقت سنائی تھی جب میں اور آپ اس گھر میں اکیلے تھے ہمارے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا پھر حضرت ابوہریر ہ شدید سسکیاں لے کر رونے لگ گئے پھر بے ہوش ہو کر منہ کے بل گر گئے اور میں دیر تک آپ کو سہارا دے کر بیٹھا رہا ۔ پھر جب ہوش میں آئے تو فرمایا رسول اللہﷺنے مجھے بیان کیا:"جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلے کےلیے تشریف لائیں گے جبکہ ہر امت گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوگی ۔ سب سے پہلے قاری قرآن کو بلایا جائے گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کو جو شہید ہوا تھا اور دولت مند شخص کو بلایا جائے گا اللہ قاری سے فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں وہ کتاب نہیں سکھائی تھی جو میں اپنے رسول پر نازل کی تھی؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے علم حاصل کرنے کے بعد کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا: میں دن رات نماز میں اس کی تلاوت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم نے جھوٹ کہا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تم تو یہ چاہتے تھے کہ کہا جائے : فلاں بہت بڑا قاری ہے ۔ تو یہ بات تو ( دنیا میں ) کہہ دی گئی تھی ۔ اور مالدار شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا میں نے تمھیں اتنا مال ودولت عطا نہیں کیا تھا کہ تم کسی شخص کے محتاج نہیں رہے تھے ؟ وہ جواب دے گا : ضرور ایسے ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو تم نے میرے عطا کیے ہوئے مال میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا : میں اس مال سے صلہ رحمی کرتا تھا ، او رصدقہ وخیرات کرتا تھا ۔ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کہیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ لوگ کہیں : فلاں بڑا سخی ہے تو وہ کہہ دیا گیا تھا ۔ پھر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے مجاہد کو لایا جائے گا تو اس سے پوچھا جائے گا: تم نے کس مقصد کےلیے جان دی؟ تو وہ کہے گا : اللہ تم نے اپنے راستے میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا تو میں نے جنگ لڑی حتی کہ میں قتل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے جھوٹ بولا ہے ۔ اور فرشتے بھی کہیں گے : تم جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : بلکہ تمھارا ارادہ تو یہ تھا کہ کہا جائے : فلاں شخص بڑا بہادر ہے تو دنیا میں یہ کہہ دیا گیا تھا پھر رسول اللہﷺنے میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کا فرمایا: اے ابوہریرہ! یہ تین افراد وہ پہلی اللہ کی مخلوق ہوں گے جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جاگے گی۔"جناب عقبہ کہتے ہیں : جناب شَفی نے ہی یہ حدیث حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیان کی تھی ۔ جناب العلاء بن ابی حکیم بیان کرتے ہیں کہ شفی حضرت معاویہ کے جلاد تھے اور ایک شخص نے حضرت معاویہ ؓ کے پاس حاضر ہو کر یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا: اللہ اور اس رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ پھر یہ آیت پڑھی : جو شخص دنیا کہ زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم ان کے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دےدیتے ہیں ۔ اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی ۔ یہی لوگ ہیں جب کےلیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ، اور وہ برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا تھا اور جو وہ عمل کرتے رہے ، ضائع ہوگئے۔( سور ہ ھود:۱۶،۱۵)

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2482

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2956

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ظَاهِرُهَا خِلَافُ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى، وَأَحْسَبُ أَنَّ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ لَا تُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، لَعَلَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى مِنًى، فَإِذَا حُمِلَ خَبَرُ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَخَبَرُ ابْنِ عُمَرَ أَثْبَتُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا الْخَبَرِ. وَخَبَرُ عَائِشَةَ مَا تَأَوَّلْتُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْكَلَامَ مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ، كَقَوْلِهِ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا) [الكهف: 1] وَمَثَلُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، قَدْ بَيَّنْتُ بَعْضَهُ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، وَسَأُبَيِّنُ بَاقِيَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ: (وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ) [الأعراف: 11] فَمَعْنَى قَوْلِ عَائِشَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ رَجَعَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَ: حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ قَبْلَ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ، كَمَا قَدَّمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: "خَلَقْنَاكُمْ" قَبْلَ قَوْلِهِ: "ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ"، وَالْمَعْنَى صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ خَلَقْنَاكُمْ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن دوسرے پہر میں طواف افاضہ کیا جب آپ نے ظہر کی نماز پڑھی ۔ پھر آپ واپس منیٰ آگئے اور ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزاریں ۔ آپ جمرات پر رمی کرتے جبکہ سورج ڈھل جاتا ہر جمرے پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پڑھتے ۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرے پاس بڑا طویل قیام کرتے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ،پھر تیسرے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرتے ۔ اما ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ : " جب آپ نے ٖظہر کی نماز پڑھی "ان کا ظاہری مفہوم حضرت ابن عمرؓ کی حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قربانی والے دن طواف افاضہ کیا پھر آپ نے منیٰ واپس آکر ظہر کی نماز پڑھی ۔ میرے خیال میں یہ الفاظ حضرت ابن عمر کی روایت کے متضاد نہیں ہیں شاید کہ حضرت عائشہ ؓکا مطلب یہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن دوسرے پہر طواف کیا جب ظہر کی نماز پڑھی منیٰ لوٹنے کے بعد۔جب حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا یہ معنی کیا جائے تو پھر یہ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مخالف نہیں رہتی۔ لیکن حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :(أَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ أَنْزَلَ عَیٰ( عَدِنمہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہُ عِوَجًا)(الکھف:۱)"سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں قسم کی کجی نہیں رکھی۔"اس قسم کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ، میں نے کچھ مثالیں کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہیں اور عنقریب اس طرح مثالیں بھی بیان کر وں گا۔ ان شاءاللہ۔ اور یہ اس فرمان جیسا ہے: "اور ہم نے ہی تمھیں پیدا کیا پھر تمھاری شکلیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔" اس تاویل کے مطابق حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی دن آخری پہر طواف افاضۃ کیا آپ واپس آئے جب ظہر کی نماز پڑھی اس طرح یہ الفاظ پہلے آگئے : جب ظہر کی نماز پڑھی اور یہ مؤخر ہو گئے ، پھر واپس آئے ۔ جب کہ اللہ تعالی نے یہ الفاظ مقدم کیے ہیں ہم نے تمہیں پیدا کیا اور یہ مؤخر کیے ہیں :پھر ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں حالانکہ اصل ترتیب یہ ہے: ہم نے تمھاری شکلیں بنائیں پھر ہم نے تمھیں پیدا کیا۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ -يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَسَّانَ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2956

chevron_left Previous
1…252627…694
Next chevron_right