صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 263
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ (1) بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".
لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے ۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنا دی گئی ہے ۔ اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے خزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں ۔ اس سے مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جائے گا۔"
حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 263
