Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 263

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ (1) بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے ۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنا دی گئی ہے ۔ اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے خزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں ۔ اس سے مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جائے گا۔"

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 263

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 264

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ؛ جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

"حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہمہں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے:ہمارے لیے پوری زمین مسجد بنائی گئی ہے، جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے الی بنائی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں اور سورہ بقرہ کے آخر سے یہ آیات مجھے عرش تلے کےخزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں۔اس میں سے مجھ سے پہلے کوئی (نبی )دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جاۓ گا۔"

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 264

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 569

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ -وَهَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ-، نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنَ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". قَالَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً: قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ.

"حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ۔ لہٰذا جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← -وَهَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ-، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 569

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 570

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر انا أحمد بن عبدة الضبي أخبرنا عبد العزيز يعني بن محمد الداروردي - عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إذا أمن الإمام فأمنوا فمن وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه قال أبو بكر : في قول النبي صلى الله عليه وسلم : إذا أمن الإمام فأمنوا ما بان وثبت أن الإمام يجهر بآمين إذ معلوم عند من يفهم العلم أن النبي صلى الله عليه وسلم لا يأمر المأموم أن يقول آمين عند تأمين الإمام إلا والمأموم يعلم أن الإمام يقوله ولو كان الإمام يسر آمين لا يجهر به لم يعلم المأموم أن إمامه قال آمين أو لم يقله ومحال أن يقال للرجل إذا قال فلان كذا فقل مثل مقالته وأنت لا تسمع مقالته هذا عين المحال وما لا يتوهمه عالم أن النبي صلى الله عليه وسلم يأمر المأموم أن يقول آمين إذا قاله إمامه وهو لا يسمع تأمين إمامه قال أبو بكر فاسمع الخبر المصرح بصحة ما ذكرت أن الإمام يجهر بآمين عند قراءة فاتحة الكتاب

"حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے فرمان مبارک"جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔"میں اس بات کی دلیل ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام بلند آواز سے آمین کہے گا ، کیونکہ علم کو سمجھنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ نبی ﷺ نے مقتدی کو امام کی آمین کے وقت آمین کہنے کا حکم اسی وقت دیا ہے جب وہ اپنے امام کو آمین کہتے ہوئے سنے گا ۔ اور اگر امام آہستہ آواز سے آمین کہے اور اسے بلند آوز سے نہ کہے تو مقتدی کو پتہ نہیں چلے گا کہ اس کے امام نے آمین کہی ہے یا نہیں اور یہ بات محال وناممکن ہے کہ کسی شخص سے کہا جائے کہ فلاں شخص جب ایسے کہے تو تم بھی ویسے ہی کہنا حالانکہ تم اس کے قول کو سن نہ سکو۔ یہ تو بالک ہی ناممکن اور محال بات ہے ۔ ایسی محال بات کسی عالم شخص کے وہم میں بھی نہیں آسکتی کہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیں کہ وہ اپنے امام کی آمین کے وقت آمین کہے حالانکہ وہ اپنے امام کی آمین کو سنتا ہی نہ ہو ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : لیجیے اب وہ صریح او رواضح حدیث سنیے جو ہماری بات کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ امام سورہ فاتحہ کی قراءت کرنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عبد العزيز يعني بن محمد الداروردي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 570

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 575

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قَالَ الْإِمَامُ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ. وَالْإِمَامُ يَقُولُ آمِينَ. فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ.

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب امام(غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمِ وَلَا الضَّالِّیْنَ)پڑھے تو ، تم آمین کہو، بلاشبہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے ، تو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"یہ صنعانی کی حدیث ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 575

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 606

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: "سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الِاخْتِلَافُ فِي الْقَوْلِ فِي الرُّكُوعِ مِنَ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ، فَجَائِزٌ لِلْمُصَلِّي أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ كُلَّ مَا رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ.

"حضرت عائشہ ﷺ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:((سُبُّوْحُ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلَا ئِکَۃِ وَالرُّوْحِ))(ہمار ا رب) تمام عیوب سے پاک و برتر ہے ، وہ مقدس واعلیٰ ہے فرشتوں اور جبرائیل کا رب ہے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : رکوع میں پڑھی جانے والی دعاؤں کے متعلق یہ اختلاف جائز قسم سے ہے ۔ اس لیے نمازی کےلیے جائز ہے کہ وہ اپنے رکوع میں ہر وہ دعا پڑھ سکتا ہے جس کے بار ے میں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ اسے پانے رکوع میں پڑھتے تھے۔"

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 606

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 658

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ- نَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ-، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ". قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "وَإِيَّايَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ".

"حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن ساتھی اور ایک فرشتہ ساتھی مقرر کیا گیا ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی مقرر کیا گیا ہے ؟ آپ نےفرمایا: میرے ساتھ بھی مقرر کیا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کےخلاف میری مد د فرمائی ہے ، حتی کہ وہ فرمانبردار اور مطیع ہوگیا ہے لہٰذا وہ مجھے صرف خیروبھلائی کا ہی مشورہ دیتا ہے ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ-، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 658

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 756

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ثُمَّ جَلَسَ مَجْلِسَهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ؛ وَفِي خَبَرِ ابْنِ وَهْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا صَلَّى الْمُسْلِمُ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ [90 - ب] لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَدْعُو لَهُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومَ".هَذَا حَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ؛ وَفِي خَبَرِ ابْنِ وَهْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا صَلَّى الْمُسْلِمُ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ [90 - ب] لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَدْعُو لَهُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومَ".

نماز کے بعد مسجد میں باوضو بیٹھے کی فضیلت کابیان

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حفص بن ميسرة كلاهما ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 756

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1211

ثنا بندار ثنا محمد ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال سمعت عاصم بن ضمرة قال : سألت عليا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث قال أبو بكر : ففي هذا لخبر خبر علي بن أبي طالب قد صلى من النهار ركعتين مرتين فأما ذكر الأربع قبل الظهر والأربع قبل العصر فهذه من الألفاظ المجملة التي دلت عليه الأخبار المفسرة فدل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل والنهار مثنى مثنى وأن كل ما صلى النبي صلى الله عليه وسلم في النهار من التطوع فإنما صلاهن مثنى مثنى على ما خبر أنها صلاة النهار والليل جميعا ولو ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى من النهار أربعا بتسليمة بالنهار وبين أن يسلم في كل ركعتين وقوله في خبر علي : ويفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين ومن تبعهم من المؤمنين فهذه اللفظة تحتمل معنيين أحدهما أنه كان يفصل بن كل ركعتين بتشهد إذ في التشهد التسليم على الملائكة ومن تبعهم من المسلمين وهذا معنى يبعد والثاني أنه كان يفصل بين كل ركعتين بالتسليم الذي هو فصل بين هاتين الركعتين وبين ما بعدهما من الصلاة وهذا هو المفهوم من المخاطبة لأن العلماء لا يطلقون اسم الفصل بالتشهد من غير سلام يفصل بين الركعتين وبين ما بعدهما ومحال من جهة الفقه أن يقال : يصلي الظهر أربعا يفصل بينهما بسلام أو العصر أربعا يفصل بينهما بسلام أو المغرب ثلاثا يفصل بينهما بسلام أو العشاء أربعا يفصل بينهما بسلام وإنما يجب أن يصلي المرء الظهر والعصر والعشاء كل واحد منهن أربعة موصولة لا مفصولة وكذلك المغرب يجب أن يصلى ثلاثا موصولة لا مفصولة ويجب أن يفرق بين الوصل وبين الفصل والعلماء من جهة الفقه لا يعلمون الفصل بالتشهد من غير تسليم يكون خارجا من الصلاة ثم يبدأ فيما بعدها ولو كان التشهد يكون فصلا بين الركعتين وبينما بعد لجاز لمصل إذا تشهد في كل صلاة يجوز أن يتطوع بعدها أن يقوم فبل أن يسلم فيبدأ في التطوع على العمد وكذلك كان يجوز له أن يتطوع من الليل بعشر ركعات وأكثر بتسليمة واحدة يتشهد في كل ركعتين ولو كان التشهد فصلا بين ما مضى وبين ما بعده من الصلاة وهذا خلاف مذهب مخالفينا من العراقيين

جناب عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے رسول اللہﷺ کی (نفل) نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے خبر دی کہ آپ نے دن کے وقت دو مرتبہ دودو رکعات ادا فرمائی ہیں۔جبکہ ظہر سے پہلے چار رکعات اور عصر سے پہلے چار رکعات کا ذکر مجمل الفاظ میں ہے جن کی تفسیر اور وضاحت مفسر روایات سے ہوتی ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عمرؓ کی حدیث جو وہ نبیہ اکرم سے بیان کرتے ہیں کہ دن اور رات کی نماز دودو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ دن کے وقت جو نفل نماز بھی ادا کی وہ آپ نے دو رکعات ہی ادا کیں ہیں ۔جیسا کہ انہوں نے بتایا کہ رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعات ہیں ۔اگر نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے دن کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام کے ساتھ ادا کی ہے تو پھر ہمارے نزدیک جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہو گا۔ لہذا آدمی کو اختیار ہو گا کہ وہ دن کے وقت چار رکعات نفل ایک ہی کے ساتھ ادا کر لے یا ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیے۔حضرت علی کی حدیث کے یہ الفاظ ، آپ ہر دو رکعات میں اللہ کے مقرب فرشتوں اور ان کے پیرو کار مومنوں پر سلام بھیج کر فاصلہ کرتے۔تو اس کے دو معانی ہیں : پہلا معانی یہ ہے کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد بیٹھ کر فاسلہ کرتے تھے، کیو نکہ تشہد میں بھی فرشتوں اور ان کے تا بعدار مسلمانوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ، تو یہ معنی مراد لینا بعید ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر فاصلہ کرتے تھے اور یہ سلام پہلی دو رکعات کے اور ان کے بعد والی نماز میں فاسلہ اور جدائی ہوتی ۔ اور یہ معنی مفہوم مخا طب ہے(یعنی روایت سے سمجھا جانے والا مہفوم و معنی)کیونکہ علمائے کرام صرف تشہد کے ساتھ ، سلام پھیرے بغیر فاصلہ کرنے کو فاصلہ اور جدائی کا نام نہیں دیتے کہ جس کے ساتھ پہلی دو رکعات اور ان کی بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ کیا جائے اور فقہی نقطہ نظر سے یہ بھی کہنا محال اور ناممکن ہے کہ آپ ظہر کی چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام پھیر کر فا صلہ کرتے یا آپ مغرب کی تین رکعات میں سلام پھیر کر فاصلہ کرتے یا آپ عشا کی چار رکعات میں سلام کے ساتھ فاسلہ اور جدائی کرتے۔ بلا شبہ نمازی کے لیے نماز ظہر ، عصر اور عشا کی چار رکعات ملا کر پڑھنا واجب ہے ۔ اسی طرح مغرب کی نماز بھی ان میں جدائی اور فاصلہ کیے بغیر (تمام رکعات ) ملا کر پڑھنا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ فصل اوروصل (ملا کر پڑھنا ) میں فرق کیا جائے ۔ علمائے کرام فقہی اعتبار سے بغیر سلام پھیرے صرف تشہد کے ساتھ فصل (فاصلہ کرنے ) کو نہیں جانتے کہ اس فاصلے کے ساتھ نمازی نماز سے نکل جائے پھر اس کے بعد والی نماز شروع کر دے ، اگر صرف تشہد پہلی دو رکعت اور بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ ہوتا پھر نمازی کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی بھی نماز میں تشہد بیٹھ لے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھ لے ۔ یہ کہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ہی کھڑا ہو جائے اور عملا نفل نماز شروع کر دے ۔ اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز ہو گا وہ رات کے وقت دس رکعات یا اس سے زائد نفل نماز ایک سلام سے ادا کر لے ۔ اور ہر دو ر رکعت کے بعد تشہد بیٹھ جائے ، اگر تشہد کو گذشتہ اور آئندہ نماز کے درمیان فاصلہ تسلیم کیا جائے ۔ جبکہ یہ بات ہمارے مخالفین عراقی علما کے مذہب کے بھی خلاف ہے۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سألت عليا ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of volunteering doors other than the aforementioned · Hadith 1211

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1474

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن حجر السعدي بخبر غريب غريب نا علي بن مسهر عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة و أبي سعيد : عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله : { إن قرآن الفجر كان مشهودا } قال : تشهد ملائكة الليل وملائكة النهار مجتمعا فيها قال أبو بكر : أمليت في أول كتاب الصلاة ذكر اجتماع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر وصلاة العصر

" حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت بیان کرتے ہیں (إِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا) (الاسراء: 78) "بے شک فجر کی نماز (فرشتوں کے) حاضر ہونے کا وقت ہے۔" کہ آپ نے فرمایا: اس نماز میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے اکٹھے حاضر ہوتے ہیں۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: میں نے کتاب الصلاۃ" کے شروع میں نماز فجر اور نماز عصر میں دن اور رات کے فرشتوں کے جمع ہونے کے متعلق روایت لکھوائی ہے۔"

اجتماع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر وصلاة العصر ← أبو بكر أمليت في أول كتاب الصلاة ← تشهد ملائكة الليل وملائكة النهار مجتمعا فيها ← النبي في قوله إن قرآن الفجر كان مشهودا ← أبي هريرة و أبي سعيد ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← علي بن حجر السعدي بخبر غريب غريب ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1474

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1476

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي ثنا يحيى بن آدم ثنا زهير عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي بصير عن أبيه قال : قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب فقلت : يا أبا المنذر حدثني أعجب حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : صلى لنا - أو صلى بنا - رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر ثم التفت فقال : أشاهد فلان ؟ قلنا : لا ولم يشهد الصلاة قال : أشاهد فلان ؟ قلنا : لا ولم يشهد الصلاة فقال : إن اثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا إن صف المقدم على مثل صف الملائكة ولو تعلمون فضيلته لابتدرتموه وإن صلاتك مع رجل أربى من صلاتك وحدك وصلاتك مع رجلين أربى من صلاتك مع رجل وما كان أكثر فهو أحب إلى الله قال أبو بكر : ورواه شعبة و الثوري عن أبي إسحاق عن عبد الله بن بصير عن أبي بن كعب ولم يقولا : عن أبيه

" حضرت ابو بصیر بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور عرض کی : اے ابو منڈر مجھے کوئی ایسی پسندیدہ ترین حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر پوچھا: کیا فلاں شخص موجود ہے؟ ہم نے جواب دیا: نہیں، اور وہ نما میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا فلاں شخص حاضر ہوا ہے؟ ہم نے جواب دیا: نہیں، اور وہ نما ز میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: بلاشبہ منافقین پر سب سے بھاری نماز، نمازِ عشاء اور نمازِ فجر ہے۔ اور اگر وہ ان دونوں کے اجروثواب کو جان لیں تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے، بے شک پہلی صف فرشتوں کی صف جیسی (فضیلت والی) ہے۔ اور اگر تمہیں اس کی فضیلت معلوم ہوجائے تو تم اس کے لیے دوڑتے ہوئے آؤ۔ اور یقیناً تمہاری ایک ساتھی کے ساتھ نماز تمہارے اکیلے کی نماز سے بہتر ہے۔ اور تمہارا دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ مل کرنماز پڑھنے سے افضل و بہتر ہے۔ اور جو نماز زیادہ تعداد والی ہوگی تو وہ اللہ تعالیٰ کو اتنی ہی زیادہ محبوب ہوگی۔"

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَعْجَبَ حَدِيثٍ ← قدمت المدينة فلقيت أبي بن كعب فقلت يا أبا المنذر ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1476

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابِ الاِمَامَۃِ فِی الصَّلاَۃِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ مُختَصَرٌ مِن کِتَابِ المُسنَدِ · حديث 1504

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و سلم بن جنادة قالا حدثنا أبو معاوية قال الدورقي ثنا الأعمش قال سلم عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا توضأ احدكم ثم أتى المسجد لا ينهزه إلا الصلاة لا يريد إلا الصلاة فإذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة هي تحسبه والملائكة يصلون على أحدكم ما دام في مجلسه الذي صلى فيه فيقولون : اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يؤذ فيه وما لم يحدث فيه

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرکے مسجد جاتا ہے، وہ اسے صرف نماز ہی اٹھاتی ہے وہ صرف نماز ہی کے لیے آتا ہے چنانچہ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے۔ اور تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی نماز والی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے ان الفاظ میں دعا کرتے رہتے ہیں: " اے اللہ! اس شخص کو معاف فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، جب تک وہ مسجد میں کسی کو تکلیف نہ دے، جب تک وہ اس میں بے وضو نہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← سلم ← الْاَعْمَشِ ← الدَّوْرَقِيُّ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و سلم بن جنادة ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad · Hadith 1504

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1544

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا الْأَعْمَشُ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: "يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ". هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

"حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناؤ گے، جس طرح فرشتے اپنے رب تعالٰی کے حضور صفیں بناتے ہیں؟ ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صفیں بناتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:"وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کرکھڑے ہوتے ہیں۔"یہ جناب وکیع کی حدیث ہے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، جَمِيعًا ← وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← عِيسَى؛ ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1544

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1550

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ".

" حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ صفوں کو ملانے والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے مغفرت و بخش کی دعا کرتے ہیں۔"

اِنَّ اللہَ وَمَلَائکَتَہٗ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ الصُّفُوفَ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، ← أُسَامَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1550

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1551

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَيَحْيَى، قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْأَيَامِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا، وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفْ صُدُورُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ: كُنْتُ نَسِيتُ: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ"، حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ.

"حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہمار ے پاس تشریف لاتے اور ہمارے کندھوں اور سینوں کو اپنے دست مبارک سے برابر کرتے اور فرماتے:"تمہارے سینے مختلف (آگے پیچھے) نہیں ہونے چاہئیں وگرنہ تمارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کےفرشتے ان کے رحمت و بخشش کی دعا کرتے ہیں۔" اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قرآن مجید کو (اپنی آوازوں کے ساتھ) زینت دو۔"جناب عبدالرحمان بن عوسجہ کہتے ہیں:"میں یہ الفاظ بھول گیا تھا۔"قرآن مجید کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو"حتیٰ کہ ضحاک بن مزاحم نے مجھے یہ الفاظ یاد دلاۓ۔"

رَسُولُ اللَّهِ "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ". ← "لَا تَخْتَلِفْ صُدُورُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ". ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَةَ الْأَيَامِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَيَحْيَى، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1551

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1552

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ (1) قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا فَيَمْسَحُ عَلَى عَوَاتِقَنَا وَصُدُورِنَا، وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَوِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ".

"حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (صف بندی کے وقت) ہمارے پاس تشریف لاتے۔آپ ہمارے کندھوں اور سینوں کو اپنے دست مبارک سے درست کرتے اور فرماتے:"تمہاری صفیں ٹیڑھی نہیں ہونی چاہییں وگرنہ تمہارے دل بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔بے شک اللہ تعالیٰ پہلی صف یا پہلی صفوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْتِينَا فَيَمْسَحُ عَلَى عَوَاتِقَنَا وَصُدُورِنَا، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيَّ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1552

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1553

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ. وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: عُدْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ. فَذَكَرَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَا: "إِنَّ الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ".

"جناب ابوبصیر بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو حضرت ابی بن کعب ؓ سے ملا۔دوسری روایت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابی بن کعب ؓ کی تیمارداری کی، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کی۔آگے دونوں راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں:"بلاشبہ پہلی صف فر شتوں کی صف جیسی ہے۔ اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جاۓ تو تم (اس میں جگہ حاصل کرنے کے لیے)ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔"

النَّبِيِّ ← عُدْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ. فَذَكَرَا الْحَدِيثَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ. ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1553

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1556

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي الصَّفَّ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ، فَيَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا أَوْ صُدُورُنَا وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ". قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ". وَحَسِبْتُهُ قَالَ: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".

"حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (صف بندی کے وقت) صف میں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک تشریف لاتے۔آپ ﷺ ہمارے کندھوں اور سینوں کو اپنے دست مبارک سے برابر کرتے اور فرماتے:"تم باہم مختلف نہ ہو(آگے پیچھے کھڑے نہ ہو) وگرنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے۔حضرت براء کہتے ہیں:"اور آپ ﷺ فرماتے تھے:"بلاشبہ اللہ تعالیٰ پہلی صفوں کو ملانے والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا:"قرآن مجید کو اپنی خوبصورت آوازوں کے ساتھ زینت دو۔"

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ، ← طَلْحَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1556

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1557

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا أَشْعَثُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ- ثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي نَاحِيَةَ الصَّفِّ، وَيُسَوِّي بَيْنَ صُدُورِ الْقَوْمِ وَمَنَاكِبِهِمْ، وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ. إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ".

"حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ "رسول اللہ ﷺ صف کی ایک جانب تشریف لاتے اور نمازیوں کے سینوں اور کندھوں کو برابر کرتے اور فرماتے:"تم باہم مختلف نہ ہوا کرو کہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے۔یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْتِي نَاحِيَةَ الصَّفِّ، وَيُسَوِّي بَيْنَ صُدُورِ الْقَوْمِ وَمَنَاكِبِهِمْ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← جَدِّي، ← أَبِي ← أَشْعَثُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ- ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1557

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1583

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

جب اما م آمین کہے تو مقتدی کے آمین کہنے کی فضیلت کا بیان

رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1583

chevron_left Previous
1…242526…694
Next chevron_right