Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7041

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ وَقَالَ: «إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ، تَبِعَهُ الْبَصَرُ»، فَصَاحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ»، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمُقَرَّبِينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، [ص:516] وَاغْفِرْ لَهُ وَلَنَا يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ»

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں (یعنی انتقا ہو چکا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا : تم لوگ اپنے بارے میں صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ابو سلمہ کی مغفرت کر دے اور مقرب لوگوں میں اس کے درجے بلند کر دے اور پیچھے رہنے والوں میں اس کا اچھا جانشین بنا دے اس کی اور ہماری مغفرت کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اے اللہ ! اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو اس کے لیے روشن کر دے۔

دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7041

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 914

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ» (2) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ مخصوص فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔ وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زَاذَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 914

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7161

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَّامٍ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ»، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَمْرِ السَّاعَةِ، أَوْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَمِمَّ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهِنَّ آنِفًا»، قَالَ: جِبْرِيلُ، قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَوْ أَمْرِ السَّاعَةِ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ تَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا مَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ»، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: يَا [ص:118] رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتَةٌ اسْتَنْزِلْهُمْ، وَسَلْهُمْ أَيُّ رَجُلٍ أَنَا فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي، فَجَاءَ مِنْهُمْ رَهْطٌ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ؟ » قَالُوا: خَيْرُنَا، وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا، وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟ »، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، قَالَ: يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ان چیزوں کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم دریافت کرو۔ انہوں نے عرض کی : قیامت کی پہلی نسانی کیا ہے( یہاں ایک لفظ کے بارےمیں راوی کو شک ہے) اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے اور وہ کون سی چیز ہے' جو بچے کو اس کے باپ یا س کی ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے( جس کی وجہ سے بچہ ماں یا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان چیزوں کے بارے میں ابھی جبرائیل نے مجھے بتایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : جبرائیل نے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: فرشتوں میں سے و ہ تو یہودیوں کے نزدیک نا پسند یدہ شخصیت ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کی سب سے پہلی نشانی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) وہ آگ ہو گی ' جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ ہو گا ' اور جو چیز بچے کو اس کے باپ یا ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے' تو جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ' جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ ماں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہودی ایک ایسی قوم ہے ' جو بہتان تراشی کرتے ہیں آپ انہیں بلوائیں اور ان سے دریافت کیجئے میں ان کے درمیان کیساشخص ہوں اس سے پہلے کہ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو جائے پھر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: عبداللہ بن سلام کیساتھ شخص ہےانہوں نے کہا: وہ ہمارے سب سے بہتر شخص اور ہمارے سب سے بہتر شخص کے صاحب زادے ہیں اور وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں ۔نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا : اگر وہ اسلام قبول کر لے تو پھر تمہاری کیا رائے ہو گی انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز سے بچائے ۔ راوی کہتےہیں توحضرت عبداللہ بن سلام نکل کر ان کے سامنے آئے اور بولے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو ان یہودیوں نے کہا: آپ ہمارے سب سے برے شخص اور سب سے زیادہ برے شخص کے صاحب زادے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7161

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7224

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ»، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَاهُ [ص:208] سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ جَرِيرٍ وَأَتْقَنُ، وَأَفْقَهُ كَانَ إِذَا حَفِظَ الشَّيْءَ لَمْ يُبَالِ بِمَنْ خَالَفَهُ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک فرشتہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ااس نے عرض کی : آپ کے درمیان اہل بدر کی کیا حثیت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہیں تو اس نے عرض کی : جو فرشتے اس میں شریک ہوئے تھے ۔ وہ ہمارے نزدیک یہی حثیت رکھتے ہیں ن۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحییٰ بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ سفیان ثوری نے یہ روایت یحییٰ بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان ' جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث ' زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پروا ہ نہیں کرتے کے ان کے بر خلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں ۔

عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ وَقَدْ رَوَاهُ [ص:208] سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، ← مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ← النَّبِيُّ «هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ»، ← كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ ← أَتَى النَّبِيَّ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ، ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← علي بن قادم ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7224

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4793

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ رَبَّهُ: «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ، مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ»، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلَا مَاذَا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبِهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، وَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ، فَاسْتَجَابَ لَكُمْ، أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، مُرْدِفِينَ} [الأنفال: 9]، فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَوْمَئِذٍ يَشُدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ، فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ فَوْقَهُ، يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ، مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَإِذْا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ سَوْطٍ، فَاخْضَرَّ ذَاكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعَلِيٍّ، وَعُمَرَ: «مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ »، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ، وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً، تَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ »، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنَا، فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا، مِنْ عَقِيلٍ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ نَسِيبٍ كَانَ لِعُمَرَ، فَإِنَّ هَؤُلَاءَ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ، وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جِئْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ، وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ [ص:116] الْفِدَاءَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: 67]، إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69]، فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ»

حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: جب غزوہ بدر کا دن آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا جن کی تعداد ایک ہزار تھی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ 300 سے کچھ زیادہ تھے نبی اکرم ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپﷺ نےپانے دونوں ہاتھ پھیلا دئیے اور آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں یہ التجا کرنے لگے اے اللہ ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاکت کا شکار ہو گیا جو اہل اسلام سے تعلق رکھتا ہے، تو پھر تیری زمین پر عبادت نہیں کیا جائے گی۔ نبی اکر مﷺ مسلسل اپنے پروردگار کی بارگہ میں التجائیں کرتے رہے آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے۔ قبلہ کی طرف رخ کیا ہو ا تھا، یہاں تک کہ آپﷺ کے کندھے سے چاردر گر گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی چادر پکڑ کر آپ ﷺکے کندھے پر رکھی ، اور پھر آپﷺ کو پیچھے سے اپنے ساتھ لپٹا لیا، اور عرض کی اے اللہ کے نبی آپﷺ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بہت سی التجائیں کر لی ہیں۔ آپﷺ کا پروردگار آپﷺ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھائے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہے تھے، تو تمہاری دعا کو قبول کیا۔ بے شک میں تمہاری طرف ایک ہزار فرشتے بھیجنے لگا ہوں جو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آئیں گے “۔ تواللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی امداد کی۔ ابوزمیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، اس دن ایک مسلمان شخص ایک مشرک کے پیچھے جا رہا تھا جو اس کے آگے تھا۔ اسی دوران اس نے کوڑے کی آواز اپنے اوپر سے سنی اور اپنے اوپر سے ایک گھڑ سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا۔ حیزوم آگے بڑھو۔ اسی دوران اس کی نظر اپنے آگے مشرک پر پڑی جو چت لیٹا ہوا گر چکا تھا۔ ان نے ان کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور ناک چھل چکے تھے یوں جیسے اسے کوڑا لگا ہوا ہو۔ پھر وہ انصاری آیا اس نے نبی اکرم ﷺ یو یہ بات بتائی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے یہ آسمان سے آنے والی تیسری مدد تھی۔ ان لوگوں نے اس دن ستر (مشرکین) کو قتل کیا تھا، اور ستر (مشرکین) کو قید کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب ان لوگوں نے قیدیوں کو قید کر لیا تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی یہ چچا زاد ہیں۔ خاندان کے افراد ہیں میری یہ رائے ہے، ہم ان سے فدیہ لے لیتے ہیں۔ جو ہمارے لیے کفار کے خلاف تیاری میں مدد دے گا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی ہدایت نصیب کرے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے تمہاری کیا رائے ہے؟ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) میں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ! میری وہ رائے نہیں ہے، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے میری یہ رائے ہے، آپ انہیں ہمارے حوالے کریں ہم ان کی گردنیں اڑاتے ہیں۔ آپ عقیل کو علی کے حوالے کریں یہ اس کی گردن اڑائے مجھے فلاں کے حوالے کریں۔ میں اس کی گردن اڑاتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھانجے کے بارے میں یہ بات کہی۔ یہ لوگ کفر کے پیشوا ہیں، اور اس کے سردار ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس رائے کو اختیار کیا جو نبی اکرم ﷺ نے بیان کی تھی، اور اس رائے کو اختیار نہیں کیا تھا جو میں نے بیان کی تھی۔ اگلے دن میں آیا، تو نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے بتائیں کہ آپﷺ اور آپﷺ کے ساتھی کسی بات پر رو رہے ہیں تا کہ میں بھی اس بات پر رونا شروع کر دوں۔ اگر میں اس بات پر رو نہ سکوں، تو رونے والی شکل بنالوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اس بات پر رورہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا ہے: ”تو اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا “۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4793

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6155

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا قَدْ وُصِفَ لَكُمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "فرشتوں کو نور سے پیدا کیاگیا ہے جنات کو آگ سے پیداکیا گیا ہےاور انسانوں کو اس چیز سے پیدا کیاگیا ہے، جس کے بارے میں تمہیں بتایاگیا ہے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6155

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6162

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ وَطُولِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلْقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفْرِ، وَهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَمْ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْآنَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْخَبَرُ تَعَلَّقَ بِهِ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ وَأَخَذَ يُشَنِّعُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ الَّذِينَ يَنْتَحِلُونَ السُّنَنَ، [ص:34] وَيَذُبُّونَ عَنْهَا، وَيَقْمَعُونَ مَنْ خَالَفَهَا بِأَنْ قَالَ: لَيْسَتْ تَخْلُو هَذِهِ الْهَاءُ مِنْ أَنْ تُنْسَبَ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى آدَمَ، فَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى اللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا، إِذْ {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} [الشورى: 11]، وَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى آدَمَ تَعَرَّى الْخَبَرُ عَنِ الْفَائِدَةِ، لِأَنَّهُ لَا شَكَّ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ عَلَى صُورَتِهِ لَا عَلَى صُورَةِ غَيْرِهِ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلُ هَذَا إِلَى بَارِئِهِ فِي الْخَلْوَةِ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ لِلطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ فِي لُزُومِ سُنَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنَ الْقَدْحِ فِي مُنْتَحِلِي السُّنَنِ بِمَا يَجْهَلُ مَعْنَاهُ، وَلَيْسَ جَهْلُ الْإِنْسَانِ بِالشَّيْءِ دَالًا عَلَى نَفْيِ الْحَقِّ عَنْهُ لِجَهْلِهِ بِهِ. وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَحَّتْ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ لَا تَتَضَادَّ، وَلَا تَتَهَاتَرُ، وَلَا تَنْسَخُ الْقُرْآنَ بَلْ لِكُلِّ خَبَرٍ مَعْنًى مَعْلُومٌ يُعْلَمُ، وَفَصْلٌ صَحِيحٌ يُعْقَلُ، يَعْقِلُهُ الْعَالِمُونَ. فَمَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ «: إِبَانَةُ فَضْلِ آدَمَ عَلَى سَائِرِ الْخَلْقِ، وَالْهَاءُ رَاجِعَةٌ إِلَى آدَمَ، وَالْفَائِدَةُ مِنْ رُجُوعِ الْهَاءِ إِلَى آدَمَ دُونَ إِضَافَتِهَا إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلَا - جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ - أَنَّهُ جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ سَبَبَ الْخَلْقِ الَّذِي هُوَ الْمُتَحَرِّكُ النَّامِي بِذَاتِهِ اجْتِمَاعَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، ثُمَّ زَوَالَ الْمَاءِ عَنْ قَرَارِ الذَّكَرِ إِلَى رَحِمِ الْأُنْثَى، ثُمَّ تَغَيُّرَ ذَلِكَ إِلَى [ص:35] الْعَلَقَةِ بَعْدَ مُدَّةٍ، ثُمَّ إِلَى الْمُضْغَةِ، ثُمَّ إِلَى الصُّورَةِ، ثُمَّ إِلَى الْوَقْتِ الْمَمْدُودِ فِيهِ، ثُمَّ الْخُرُوجِ مِنْ قَرَارِهِ، ثُمَّ الرَّضَاعِ، ثُمَّ الْفِطَامِ، ثُمَّ الْمَرَاتِبِ الْأُخَرِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَا إِلَى حُلُولِ الْمَنِيَّةِ بِهِ. هَذَا وَصْفُ الْمُتَحَرِّكِ النَّامِي بِذَاتِهِ مِنْ خَلْقِهِ وَخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَّا آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خَلْقَهُ عَلَيْهَا، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ تَقْدُمُهُ اجْتِمَاعُ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، أَوْ زَوَالُ الْمَاءِ، أَوْ قَرَارُهُ، أَوْ تَغْيِيرُ الْمَاءِ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً، أَوْ تَجْسِيمُهُ بَعْدَهُ، فَأَبَانَ اللَّهُ بِهَذَا فَضْلَهُ عَلَى سَائِرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ خَلْقِهِ، بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُطْفَةً فَعَلَقَةً، وَلَا عَلَقَةً فَمُضْغَةً، وَلَا مُضْغَةً فَرَضِيعًا، وَلَا رَضِيعًا فَفَطِيمًا، وَلَا فَطِيمًا فَشَابًّا كَمَا كَانَتْ هَذِهِ حَالَةُ غَيْرِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشْوِيَّةٌ يَرْوُونَ مَا لَا يَعْقِلُونَ وَيَحْتَجُّونَ بِمَا لَا يَدْرُونَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ان کا قد 60گز تھا ،جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا:کیاتو تم اجاؤ اور اس گروہ کو سلام کروں ۔ فرشتے تھے جو بیٹھے ہوئے تھے تم غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت آدم ؑ گئے انہوں نے کہا :السلام علیکم ، تو فرشتوں نے جوا ب میں رحمت اللہ کا اضافہ کیا۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :جنت میں جو شخص بھی داخل ہوگا حضرت آدم ؑ کی طرح اس کاقد60 گز ہوگا اس کے بعد مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ یہ صورت حال آگئی۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:)یہ وہ روایت ہے، جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محد ثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتےہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتےہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھر پور مخالفت کرتےہیں اس شخص نے یہ کہا کہ لفظ صورکہ میں ضمیر یا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگی ،یاحضرت آدم ؑ کی طرف منسوب ہوگی اگراس کہ نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے ، تویہ چیز کفر ہوگر کیونکہ ارشادباری تعالیٰ ہے۔ "اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔" اگر اس کی نسبت حضرت آدم ؑ کی طرف کی جائے ،تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل وصورت حضرت آدم ؑ جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا ء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرمﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کےلیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کےحوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگرانسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا،یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کردی جائے۔ ہم یہ کہتےہیں :نبی اکرمﷺ سےمنقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہوگا اورنہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرےگا بلکہ ہر روات کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتاہے، جسے اہل علم سمجھ جاتےہیں ہمارے نزدیک نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت میں پیدا کیا " اس سا مقصد یہ ہےکہ حضرت آدم ؑ کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہے اورضمیر کے حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند وبرتر ہےکہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے ،جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے یہ مذکور اور مؤ نث کے اجتماع کی صو رت میں (نشونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتاہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل وصورت بن جاتی ہےپھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہےاللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جواس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ،لیکن ان سے پہلے کسی مذکور اور مؤ نث کا اجتماع نہیں ہوا ۔ مادہ تولید کسی جگہ زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آکر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں ، جسم کی شکل اختیار نہیں کی ، تواللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتےہیں کہ وہ پہلے نطقے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھےکہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھڑا نہیں تھے کہ دودھ پینےکی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ حضر ت آدم ؑ کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہےکہ محدثین حثویہ فرقے کے سے نظریات رکھتےہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتےہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذ ریعے استدلال کرتےہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6162

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6167

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ [ص:41] وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهُمَا فَإِذَا فِيهِمَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ لَمْ يَكْتُبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: يَا رَبِّ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ، وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْهُ فِي عُمْرِهِ، قَالَ: ذَاكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ. قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ اسْكُنِ الْجَنَّةَ، فَسَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجِلْتَ، قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ [ص:42] وَالشُّهُودِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح کو پھونکا ، تو انہیں چھینک آگئی انہوں نے الحمداللہ کہا انہوں نےاللہ کے حکم کے تحت اللہ کی حمد بیان کی تھی ، تو ان کے پروردگار نے ان سے فرمایاتمہارا پروردگار تم پر رحم کرے اے آدم تم ان فرشتوں کے گروہ کے پاس جاؤ جو بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں سلام کرو ،تو حضرت آدم ؑ نےکہا : السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ پھر حضرت آدمؑ اپنے پروردگار کے پاس واپس آئے ،تو پروردگار نے فرمایا:یہ تمہارا اولاد کا سلام کرنے کاطریقہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ بند تھے اللہ تعالیٰ نےفرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو ،تو حضرت آدم ؑ نے کہا : میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو پسند کرتا ہوں ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں پھر پروردگار نے ان دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ،تو ان میں حضرت آدم ؑاور ان کی ذریت موجود تھی ۔حضرت آدم ؑ نے دریافت کیا:اے میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تمہاری اولاد ہے ان میں سے ہر شخص کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے ان لوگوں میں ہر شخص تھا جو چمکدار چہرے کا مالک تھا اس کی عمر چالیس سال لکھی ہوئی تھی حضرت آدم ؑ نے کہا: اے میرے پروردگار یہ کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر چالیس برس مقرر کی ہے۔ حضرت آدم ؑ نے عرض کی : اے میرے پروردگار اس کی عمر میں اضافہ کردے ۔ پروردگار نے فرمایا:وہ میں نے اس کیلئے مقرر کر دی ہے ۔ حضرت آدم ؑ نے عرض کی : میں اپنی عمر کے ساٹھ سال اسے دیتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم اور وہ (یعنی تمہاری بیوی ) جنت میں رہو ، تو جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہ جنت میں رہے پھر انہیں وہاں سے نکالا گیا ۔ حضرت آدم ؑ اپنی عمر شمار کرتےرہے پھر ملک الموت ان کے پاس آیا ،تو حضرت آدم ؑ نے کہا :کیا تم جلدی نہیں آگئے میری عمر ،تو ایک ہزار سال تھی۔ ملک الموت نے کہا : جی ہاں ، لیکن آپ نے اس میں سے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد کو دیدئیے تھے، تو حضرت آدم ؑ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔حضرت آدم ؑ بھو ل گئے اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے، تو اس دن (کئے گئے معاہدے) کو تحریر کرنے یا گواہ قائم کرنےکا حکم دیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6167

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6186

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:64] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ {أَتَجْعَلُ فِيهَا مِنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 30]، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، قَالَ: فَاهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِلَّا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزَّهْرَةُ هَذِهِ امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لَا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ»

ٖرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے ،جب حضرت آدم ؑ کو زمین پر اتار اگیا ، تو فرشتوں نےکہا :اے پروردگار ! "کیا تواس میں اسے (اپنا خلیفہ ) بنا رہا ہے ،جو اس میں فساد کرےگا ار خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتےہیں اور تیری پاکی بیان کرتےہیں"۔ تو پروردگار نے فرمایا: میں وہ علم رکھتا ہو ں جو تم نہیں جانتے"ان فرشتوں نے عرض کی :ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایاتم فرشتون میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ تو ہم اس بات کو ظاہر کردیں گے کہ وہ کیا عمل کرتےہیں ان لوگوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ہاروت اور ماروت (بیش خدمت ہیں ) ،تو پروردگار نے فرمایا: تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی وہ دونوں اس کےپاس آئے انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نےکہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی ) ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی ان دونوں نے پھر اس نے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نے کہا :جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے(میں تمہاری بات نہیں مانوں گی ) ان دونوں نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم کبھی قتل نہیں کریں گے وہ پھر چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر چلی آئی پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا اس نے کہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم !جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی ) ان دونوں نے شراب پی لی دو دونوں مدہوش ہو گئے انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا جب انہیں ہوش آیا ،تو اس عورت نے کہا :اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اسی وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہوگئے تھے ۔ (نبی اکرم ﷺ فرماتےہیں ) پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ،تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کرلیا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی اس سے مرادزہرہ نامی ستارہ نہیں ہے ،جو آسمان میں ہوتا ہے ، جو خنس (چھپنے والے ستاروں ) میں سے ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6186

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5468

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ، مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «[ص:282] لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ أَوْ تِمْثَالٌ» فَقُلْتُ: أَنْطَلِقُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُهَا فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تِمْثَالٌ أَوْ كَلْبٌ» فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ: خَرَجَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْمَعْرِضِ، فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَنَصَرَكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى فِيهِ النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَرَأَيْتُ الْكَرَاهَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الطِّينَ وَالْحِجَارَةَ» قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ قِطْعَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ

حضرت ابو طلحہ انصاریؓ بیان کرتےہٰیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتایا تصویر موجود ہو‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سوچا میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس جا کر ان سے اس بارےمیں دریافت کروں گا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے امی جان ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے ‘ نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا ہے: ’’ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر کتا موجود ہو‘‘۔ کیا آپ نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا ہے‘ تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا جی نہیں ‘ لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتی ہو ں جو میں نے نبی اکرمﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کسی غزوے میں شرکت کےلئے تشریف لے گئے جب آپ کے واپس آنے کا وقت ہوا ‘ تو میں ایک کپڑا لیا اور اسے پردے کے طور پر لٹکا دیا ۔ جب آ پ تشریف لائے ‘ تو میں نے دروازے پر آپ کا استقبال کیا۔ میں نے عرض کیا : آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے‘جس نے آپ کو عزت عطا کی۔ آپ کی مدد کی اور آپ کی عزت افزائی کی۔ نبی اکرمﷺ نے گھر کی طرف دیکھا‘ تو آپ کو وہ پردہ نظر آیا آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے آپ کے چہرے پہ نا پسندیدگی کے آثار محسوس ہو گئے۔ میں نے وہ پردہ اتار کر اسے پھاڑ دیا۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اسے کاٹ دیا۔ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو رزق عطا کیا ہے اس بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم مٹی اور پتھروں کو لباس پہنائیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں کپڑے کے دو حصے کئے اور ان میں پتے بھر دیئے۔ ( یعنی ان کے تکیے بنا لئے ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس حوالے سے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔

أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَی بَنِي النَّجَّارِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5468

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5533

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ، ثُمَّ نَامَ بَاتَتِ الْمَلَائِكَةُ تَكْلَؤُهُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، قَالَ الْمَلَكُ: افْتَحْ بِخَيْرٍ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ: افْتَحْ بِشَرٍّ، فَإِنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا» إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ وَقَعَ مِنْ سَرِيرِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے ‘ تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کے پاس آتے ہیں ‘ فرشتہ یہ کہتا ہے : بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو۔ شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ) اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے سوتا ہے ‘ تو فرشتے رات بھر اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ‘ جب وہ بیدار ہو جائے‘ تو فرشتہ کہتا ہے بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن کے کاموں ) کا آغاز کرو اور شیطان کہتا ہے : برائی کے ذریعے آغاز کرو اگر وہ شخص یہ پڑھ لے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ُ جس نے میری جان مجھے واپس کر دی اور اسے سونے کے دوران ہی موت نہیں دی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روکا ہوا ہے ‘ وہ برباد ہو جائیں۔ ( یہ آیت کے آخر تک پڑھنا ہے ) ہر طر ح کی حمد اس کےلئے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمان کو اس بات سے روکا ہوا ہے‘ وہ زمین پر گر جائے البتہ اس کی اجازت سے ایسا ہو سکتا ہے‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) اگر وہ شخص اس چار پائی سے گر کر مر جائے‘ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5533

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا، فَيَنْزِلُ السَّبَخَةَ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»

حضر ت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6803

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6804

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ [ص:216] الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا، فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى»

حضرت انس ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "مدینہ کے قریب دجال آئے گا ، تو وہ فرشتوں کو پائے گا : وہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں ، تو دجال مدینہ کے اندر داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون داخل ہو سکے گا اگر اللہ نے چاہا ۔"

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6804

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابُ الحِجَاذِ ، وَالیَمَنِ ، وَالشَّامِ ، وَفَارِسٍ ، وَعُمَانَ ذِکرُ اِطَلاقِ اسمِ الاِیمَانِ عَلٰی اَھلِ الحِجَازِ · حديث 7304

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَهُ: «طُوبَى لِلشَّامِ»، قَالَ: «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ لَبَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: ابْنُ شِمَاسَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم اس وقت آپ کے پاس موجود تھے "شام کے لئے مبارکباد ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رحمان کے فرشتوں نے اپنے پراس پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابن شماشہ نامی راوی عبد الرحمٰن بن شماسہ مہری ہے اور یہ اہل مصر کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7304

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7379

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ، وَكَلَالِيبُ، وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَبِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْعَى سَعْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي مَشْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَحْبُو حَبْوًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَزْحَفُ زَحْفًا، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَلَا يَمُوتُونَ، وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ، فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا، فَيُحْرَقُونَ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ، فَيَقْذَفُونَ عَلَى [ص:385] نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةً تَنْبُتُ فِي الْفَضَاءِ؟ فَيَكُونُ مِنْ آخِرِ مَنَ أُخْرِجَ مِنَ النَّارِ رَجُلٌ عَلَى شَفَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، صَرِّفْ وَجْهِي عَنْهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، قَالَ: وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي شَيْئًا غَيْرَهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ كَلَامَهُمْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ»، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: اخْتَلَفَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا»، وَقَالَ الْآخَرُ: «فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى «وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلَى جَانِبِ الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جہنم کے پل پر سے لوگ گزریں گے۔اس پر بڑے ، بڑے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے، جو لوگوں کو دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اچک لیں گے۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر فرشتے موجود ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا، سلامتی عطا کرنا، تو کچھ لوگ ہوا کی مانند (تیزی سے) گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ دوڑنے والے شخص کی طرح ، کچھ چلنے والے شخص کی طرح ، کچھ لوگ گھسٹ کر گزریں گے، اور کچھ لوگ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزریں گے۔ جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، جو اس کے اہل ہوں گے، تو وہ جہنم میں نہ، تو مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور خطاؤں کی وجہ سے ان کی گرفت کی جائے گی اور انہیں جلایا جائے گا۔ جب وہ کوئلہ ہوجائیں گے، تو پھر شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ گروہ کرکے لیا جائے گا، اور جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، اور وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلاب کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ درخت نہیں دیکھا جو ایسی کھلی جگہ پر اگتا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص وہ ہوگا، جو جہنم کے کنارے پر ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پل صراط پر تین درخت ہوں گے وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں۔ سائے میں آجاؤں۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص دوسرے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے زیادہ اچھا ہے، تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں اور اس کے سائے میں آجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار یہ فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگو گے پھر وہ تیسرے درخت کو دیکھے گا کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے، تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ، تو مجھے اس درخت کے پاس لے جا، تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص (جنت میں) لوگوں کے ہجوم کو دیکھے اور ان کا کلام سنے گا، تو عرض کرےگا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کردے۔ ابو نضرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہاں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے درمیان (الفاظ کو نقل کرنے) میں اختلاف ہوا۔ ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا: پروردگار اسے جنت میں داخل کردے گا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند مزید (جگہ جنت میں عطا کرے گا) اور دوسرے صحابی نے یہ کہا: پھر وہ شخص جنت میں داخل ہوگا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند دس گنا (مزید جگہ) عطا کی جائے گی۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) امام ابو یعلی نے اسی طرح یہ بیان کیا ہے کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے حالانکہ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ پل صراط کےایک طرف (یعنی جنت والی طرف) تین درخت ہوں گے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7379

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7387

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبَنَا، وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ، فَقَالَ: «لَوْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّكُمْ، وَلَوْ أَنَّكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ»، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ أَوِ الْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلْهَا يَنْعَمْ، فَلَا يَبْؤُسُ، وَيَخْلُدْ لَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي [ص:397] لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں، اور ہمیں آخرت کی فکر ہوجاتی ہے لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں، تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے، اور ہم اپنے بیوی بچوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مستقل اسی حالت میں رہو جو تمہاری حالت اسی وقت ہوتی ہے، جب تم میرے پاس ہوتے ہو ، تو فرشتے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگ پڑیں اور اگر تم اپنے گھروں میں رہنے کے دوران گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لے آئے گا، جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں جنت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ اس کا گارا مشک اذفرکا ہے۔ اس کی کنکریاں موتیوں اور یا قوت کی ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگا۔ وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا کبھی پریشان نہیں ہوگا، اور ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اس کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اس کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی۔ عادل حکمران، روزہ دار شخص جب افطاری کرتا ہے اور مظلوم شخص جس کی دعا بادلوں سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7387

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7421

َخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ [ص:439] تَدْرُونَ مَنْ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ: إِيتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ، فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: رَبَّنَا نَحْنُ سُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ، فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، قَالَ: فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: 24]»

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، ← مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← هَارُونُ بن معروف ← َخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7421

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7429

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِي غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا، وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ»، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُهُ، وَدَعْوَةُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ [ص:451] تَدْرُونَ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ، مَنْ أَرَادَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، قَالَ: وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، قَالَ: فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، قَالَ: وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا [ص:452] قَرَّبَهُ مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، قَالَ: فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ جَلَّ وَعَلَا، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ كَذَا وَتَمَنَّ كَذَا، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ: » هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا «

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! کیا ہم قیامت کےدن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہٰں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسی طرح قیامت کے دن اپنےپروردگار کا دیدار کرو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اور یہ فرمائے گا، جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلاجائے ، جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے چلے جائیں گے جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے پیچھے چلے جائیں گے، جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے اور پھر یہ امت باقی رہ جائے گی، جس میں اس کے منافقین ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس سے مختلف صورت میں آئے گا، جس سے وہ واقف ہوں گے وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ یہ کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم یہیں رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار ہمارے پاس نہیں آتا۔ جب ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا توہم اسے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: ان کا پروردگار ان کے پاس اس صورت میں آئے گا، جس سے وہ واقف ہوں گے اور یہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ کہیں گے، تو ہمارا پروردگار ہے پھر جہنم پر پل لگایا جائے گا۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا۔ اس دن تمام رسول یہی دعا کر رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا اے اللہ سلامتی عطا کرنا، اور اس پل پر کچھ آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جو سعدان نامی پودے کے کانٹوں کی طرح ہوں گے کیا تم جانتے ہو سعدان کے کانٹے کیسے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سعدان کے کانٹوں کی مانند ہوگے۔ البتہ ان کے حجم کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے، اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیں گے، تو کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگا، اور کوئی (جہنم کے اندر) گر جائے گی، اور پھر نجات پائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائے گا، اور اس بات کا ارادہ کرے گا جہنم سے ان لوگوں کو نکالے جو اس بات کی گواہی دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو نکال لیں، تو فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات کی علامت کے ذریعے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے یہ چیز حرام قرار دی ہے کہ وہ ابن آدم کے سجدوں کے نشان کو کھا لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ انہیں نکالیں گے جبکہ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ ان پر پانی بہایا جائے گا، جسے آب حیات کہا جاتا ہے، تو وہ یوں اُگ جائیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں دانہ اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان میں سے ایک شخص باقی رہ جائے گا، جو اپنے چہرے کے بل جہنم میں آئے گا، اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اس کی بدبو نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اس کی گری مجھے جلا رہی ہے۔ میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کردی۔ پھر تم نے مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگنی۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔ اس کے بعد وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے یہ نہیں ، کہا تھا تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہارے لیے بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ اس کے بعد وہ شخص مسلسل دعا کرتا رہے گا۔ پروردگار فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کردی، تو پھر اس کے علاوہ تم مجھ سے کچھ نہیں مانگنا۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد کرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ اور نہیں مانگے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا، تو جنت اس کے سامنے آئے گی پھر وہ اس میں موجود (نعمتوں کو) دیکھے گا، اور جتنا اللہ کو منظور ہوگا اتنی دیر خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کردے۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے یہ نہیں، کہا تاھ کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہاری بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ وہ عرض کرے گا:اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت شخص نہ بنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ پروردگار ہنس دے گا۔ جب وہ اس پر ہنس پڑے گا، تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا: اتنی آرزو کرو، اتنی آرزو کرو، وہ آرزو کرے گا، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی۔ پروردگار فرمائے گا تمہیں یہ سب کچھ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند دس گنا ملتا ہے، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: مجھے یہ الفاظ یاد ہیں تمہیں، یہ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے، جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔

النَّاسُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7429

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:458] صَالِحُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ*، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنَ} [الحجر: 2]؟ فَقَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «يُخْرِجُ اللَّهُ أُنَاسًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا يَأْخُذُ نِقْمَتَهُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَمَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ النَّارَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ فِي الدُّنْيَا أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ فَمَا لَكُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ، فَإِذَا سَمِعَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْهُمْ أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَتَشَفَّعُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ حَتَّى يَخْرُجُوا بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمَّا أُخْرِجُوا، قَالُوا: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مَثَلَهُمْ، فَتُدْرِكُنَا الشَّفَاعَةُ، فَنُخْرَجُ مِنَ النَّارِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنِ} [الحجر: 2]، قَالَ: فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ مِنْ أَجْلِ سَوَادٍ فِي وُجُوهِهِمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَذْهِبْ عَنَّا هَذَا الِاسْمَ، قَالَ: فَيَأْمُرُهُمْ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ فَيَذْهَبُ ذَلِكَ مِنْهُمْ»

صالح بن ابو طریف بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟

نَعَمْ ← فِي هَذِهِ الآيَةِ ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← صَالِحُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ*، ← أَبِي رَوْقٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7432

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ المَسحِ عَلَی الخُفَّینِ · حديث 193

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمَ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ". قَالَ: قَدْ جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ، ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا. وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ. وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ بِالْمَغْرِبِ (1) بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا -نَحْوَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ: حَدَّثَ بِهَذَا أَصْحَابُنَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا.

’’حضرت زربن حبیش ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت صفواب بن عسال مراوی ؓ کے پاس آیا ،توانہوں نے پو چھا کیسے آئے ہو ؟میں نے عرض کی : علم حاصل کرنے کےلیے حاضر ہوا ہوں ۔انہوں نے فرمایا :بےشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :جو شخص بھی حصول علم کےلیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کی طلب و جستجو پر رضا مندی اور پسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔‘‘ میں نےعرض کی : میں آپ سے موزوں پرمسح کے متعلق پوچھنے کےلیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ انہوں نے فرمایا :ہاں ،ہم اس لشکر میں شامل تھے جسے رسول اللہ ﷺ نے (غزوے کےلیے ) بھیجا تھا ،آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کر لیں ، جبکہ انہیں طہارت کی حالت میں پہنا ہو ،تین ( دن رات ) جب ہم سفر میں ہوں اور ایک رات (دن )جب ہم مقیم ہوں ۔ اور ہم انہیں پیشاب پاخانے کی وجہ سے نہ اتاریں ،صرف(غسل ) جنابت کی وجہ سے انہیں اتاریں ،اور فرمایا :’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئےسنا :بےشک مغرب کی جانب توبہ کےلیےایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے وہ ( دروازہ (بند نہیں ہو گا ،حتی کہ سورج مغرب کی جانب سے ،دروازے کی جہت میں طلوع ہو جائے گا ۔‘‘امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :’’میں نے عبدالرزاق کی حدیث امام مزنی کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا :’’ہمارے اصحاب نے یہ حدیث روایت کی ہے کیونکہ امام شافعی ؒ کی اس سے قوی دلیل اور کوئی نہیں ہے۔‘‘

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The sack gate intercourse on the socks · Hadith 193

chevron_left Previous
1…232425…694
Next chevron_right