حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
"فرشتے اس آدمی پہر لعنت کرتے ہیں جو کسی دھار دار چیز کے ذریعے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اگر چہ وہ اس کاسگا بھائی ہو۔"
حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"فرشتے اس شخص پر لعنت کرتے ہیں جو کسی دھار دار چیز کے ذریعے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتا ہے اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔"
حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں :
"ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ جوان کی روح قبض کرلے حضرت موسیٰ ؑ نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑدی نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: وہ اپنے پروردگا ر کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ،جو مرنا نہیں چاہتا پروردگار نے فرمایا:تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو ،توکسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرشتے سے دریافت کیا پھر کیا ہوگا ۔ اس نے کہا :پھر موت آجائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اے میرے پروردگار پھر ابھی (میں فوت ہوجاتاہوں ) "
نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں مرض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتاہے۔
نبی اکرمﷺ ارشادفرماتےہیں :اگر میں وہاں ہوتا تو میں حضرت موسیٰ ؑ کی قبر دکھاتا، جو کوہ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
(امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو اپنی مخلوق کا معلم بنا کر بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی ) مراد واضح کرنے کا مقام عطاکیا ہے،تو نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کےمجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی ،جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے،جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے ،جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام کی طرف بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہےکہ وہ اپنے پرووردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں ، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کےلئے اور آزمائش کےلئے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیاکہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کردیں ،تو یہ خبر معلوم کرنےکےلئے اورآزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا ،تو جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس کاوفد یہ عظیم صورت میں دیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر ) فرشتوں کو اپنے رسول کی طرف ایسی شکل وصورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول حضرت ابرہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو حضرت ابراہیم ؑ انہیں پہچان نہیں سکے ،یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا ۔اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کئے ،لیکن نبی اکرمﷺ انہیں اس وقت انہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا ،تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں حضرت موسیٰ ؑ اس سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ مزاج کے تیز تھے ۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق جس شکل کو اختیار کرکے وہ آیا تھا ۔ اس سےمراد وہ شکل نہیں ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیاہے۔
حضرت عبدالل بن عباسؓ کے حوالےسے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سےاس بات کی صراحت آئی ہے ۔
نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی "۔اس کے بعد پوری روایت ہے ،جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں :
"یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے" تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کاوہی حکم ہے،جو پہلی اُمتوں کی شریعت کا تھا۔
تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، توایسا کرنے والے شخص پر کرئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہے ،جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املاکرواچکے ہیں ،تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اورحضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کا حکم متفق ہوکہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے یہ فعل کیا ۔ یہ ان کےلئے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا ۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کےلئے اور آزمائش کےلئے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کرچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو ،تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو ، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب حضرت موسیٰ ؑ کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لےکر آیا ہے ،تو حضرت موسیٰ ؑ ذہنی طور پر مرنے کےلئے تیار ہوگئے ۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی ۔انہوں نے کہا :پھر ابھی ٹھیک ہے۔
اگر حضرت موسیٰؑ پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے ،تو وہ وہی طرزِعمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہوچکا تھا۔
یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے،جو یہ کہتاہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتےہیں ۔ وہ روایت کے وقت بکریاں چراتےہیں وہ ایسی چیز جمع کرتےہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتےہیں ،جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتےہیں ، جو اسلام ، جنہیں باطل قرار دیتاہے یہ وہ شخص ہے ،جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور وفکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتاہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتاہے۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ روایت کرتے ہیں‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص سے حساب لیاگیا ‘ تو اس کے حق میں کوئی بھی نیکی نہیں ملی۔ صرف یہ نیکی تھی کہ وہ ایک خوشحال شخص تھا لوگوں سے لین دین کیا کرتا تھا وہ اپنے غلام سے یہ کہتا تھا تم تنگ دست شخص سے درگزر کرنا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں تم لوگ اس سے در گزر کرو‘‘۔
حضرت ابو نملہ بیان کرتےہیں :ایک مرتبہ وہ نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔اسی دوران ایک یہودی آیا اور بولا کیا یہ میت گفتگو کرے گی۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اللہ بہتر جانتاہے۔ اس یہودی نے کہا :میں اس بات کی گواہی دیتاہوں یہ گفتگو کرتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اہل کتاب تمہیں جو بات بتائیں تم ان کی تصدیق بھی نہ کرو اور انہیں جھوٹا بھی قرار نہ دو لوگو ں نے کہا:ہم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول پر ایمان رکھتےہیں اگر یہ سچ ہوگی ،تو تم اسے جھٹلا ؤگے نہیں اور اگر جھوٹی ہوگی ،تو تم اس کی تصدیق نہیں کرو گے ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ یہوددیوں کو برباد کرے انہیں علم عطا کیا گیا ،لیکن(وہ پھر بھی گمراہ رہے)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے اصحاب جب آپ کے ہمراہ کہیں جاتےتھے ،تو وہ آپ کے آگے چلا کرتےتھےاور وہ نبی اکرمﷺ کی پشت کو فرشتوں کےلئے چھوڑ دیتےتھے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
" جو شخص اپنی بیوی کو (اپنے پاس )بلائے اور وہ عورت اس کی بات کو قبول نہ کرے اور شوہر ناراضگی کے عالم میں رات بسر کرے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں"۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
" جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ عورت آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں"۔
اس بات کے بیان کاتذکرہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" یہا ں تک کہ صبح ہو جائے"
اس سے آپ ﷺ کی مرادیہ ہے: جب وہ عورت رات کے کسی حصے میں اس کی بات پر عمل نہیں کرتی اور ایسا وقت تک ہوتا ہے، جب تک وہ عورت اس کی فرمانبرداری نہیں کرتی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
" جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے، تو فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی"۔
اس بات کی اطلاع کا تذکرہ ، آدمی پر یہ بات لازم ہے، وہ اپنے ذمے اپنی بیوی کے حقوق کو ادا کرے
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جب نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا وہاں لوگ کنکریوں کو کرید رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میں نے سوچا) میں آج اس بارے میں ضرور معلومات حاصل کروں گا میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے کہا: اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! اب آپ کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے، آپ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتی ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے خطاب کے صاحب زادے! میرا اور آپ کا کیا واسطہ آپ اپنا گھر سنبھالیں پھر میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے کہا: اے حفصہ اب تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے، تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاؤ مجھے یہ بات پتہ ہے نبی اکرمﷺ کو تم سے محبت نہیں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو نبی اکرمﷺ نے تمہیں طلاق دے دینی تھی اس پر حفصہ زور وشور سے رونے لگیں میں نے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ کہاں ہیں انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ بالا خانے میں آرام فرما رہے ہیں میں وہاں آیا، تو وہاں نبی اکرمﷺ کا غلام رباح موجود تھا وہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا اس نے تختے پر پاؤں پھیلائے ہوئے تھے جو کھجور کے تنوں سے بنا ہوا تھا۔ نبی اکرمﷺ اس پر چڑھ کر اوپر تشریف لے جاتے تھے اور اسی کے ذریعے نیچے تشریف لایا کرتے تھے میں نے اسے مخاطب کیا اے رباح تم نبی اکرمﷺ سے میری حاضری کی اجازت مانگو اس نے بالا خانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا میں نے کہا: اے رباح! تم نبی اکرمﷺ سے میری حاضری کی اجازت مانگو مجھے یہ لگتا ہے، شاید نبی اکرم ﷺ یہ سمجھ رہے ہوں کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے رسول مجھے حکم دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ، تو میں اس کی گردن بھی اڑا دوں گا میں نے بلند آواز میں یہ بات کہی (اس لڑکے نے اوپر جا کر اجازت مانگی) اور پھر میری طرف اشارہ کیا، تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ نبی اکرمﷺ اس وقت چٹائی پر لیٹےہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں وہاں بیٹھ گیا نبی اکرمﷺ نے صرف تہبند باندھا ہوا تھا اس کے علاوہ کوئی اور چیز آپ کے جسم پر نہیں تھی اور آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان موجود تھا جب میں نے نبی اکرمﷺ کے کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں تقریباً ایک صاع جو موجود تھے اور ایک صاع کے قریب درخت کے پتے تھے اور وہاں افیق موجود تھی۔
ابو حفص نامی راوی کہتے ہیں: افیق سے مراد وہ کھال ہے،جس کے بال اتار دئیے گئے ہوں ، لیکن ابھی اس کی دبا غت نہ کی گئی ہو۔
(حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میری آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے خطاب کے صاحب زادے! تم کیوں رو رہے ہو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی میں کیوں نہ روؤں اس چٹائی نے آپﷺ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے اور آپﷺ کے اس کمرے میں مجھے وہ چیزیں جو نظر آ رہی ہیں حالانکہ قیصر اور کسریٰ پھلوں اور نہروں کے اندر (یعنی نعمتوں کے اندر) رہ رہے ہیں، جبکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول اور اس کے محبوب ہیں اور آپ ﷺ کا سازو سامان اتنا ستا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحب زادے کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو۔ میں نے عرض کی: جی ہاں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی اکرمﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ ان خواتین کے حوالے سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ اگر آپﷺ انہیں طلاق دے دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے جبرائیل، میکائیل اور میں اور ابوبکر آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔
(حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمدبیان کرتے ہوئے کو ئی کلام کیا اور میں نے یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی تصدیق کر دے گا، تو اختیار دینے سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
”اور اگر وہ (رسول) تم (یعنی ازواج مطہرات) کو طلاق دے دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بیویاں دیدے گا ، جو تم سے بہتر ہوں گی “۔
(ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: )
”اور اگر وہ دونوں (اس رسول) پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں، تو بے شک اللہ اس کا مددگار ہے “۔
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کی دیگر تمام ازواج کے حالے سے دباؤ ڈالنا چاہتی تھیں۔
(حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! میں واپس جا کر ان لوگوں کو بتا دوں کہ آپﷺ نے انہیں طلاق نہیں دی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اگر تم چاہو تو (بتا دو) اس کے بعد میں مسلسل نبی اکرمﷺ کے ساتھ بات چیت کرتا رہا، یہاں تک کہ آپﷺ کا غصہ ختم ہوگیا اور آپ ﷺ کے چہرے پر مزاج ٹھیک ہونے کے آثار نمودار ہوئے آپﷺ ہنسنے لگے آپﷺ کی مسکراہت بہت خوبصورت تھی۔ نبی اکرم ﷺ بالا خانے سے نیچے تشریف لائے میں نے نیچے آتے ہوئے تنے کا سہار لیا حالانہ نبی اکرم ﷺ اس طرح اترے تھے جس طرح ہم عام زمین پر چلتے ہیں اور آپﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوا بھی نہیں تھا میں نے عرض کی: یار سول اللہ ﷺ! آپ انتیس دن سے بالا خانے میں مقیم ہیں پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو ا میں نے بلند آواز میں اعلان کیا نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی ہے۔
تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
”اور جب ان کے پاس امن یا خوف سے متعلق کوئی معاملہ آتا ہے ، تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں “۔
یہ آیت یہاں تک ہے:
”تو وہ لوگ اس بارے میں جان لیتے ہیں جوان میں سے استنباط کرتے ہیں “۔(حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں وہ شخص ہوں جس نے اس معاملے میں استنباط کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے سے متعلق آیت نازل کر دی۔
حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مجھے لوگوں پر تین حوالے سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز قرار دیا گیا ہے اور اس کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ، جب ہمیں پانی نہیں ملتا اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا اور مجھے سورۃ بقرہ کی آخری آیات عر ش کے نیچے موجود خزانے سےعطا کی گئی ہیں اس جیسی آیات مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائیں گی۔
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
"قیامت کے دن لوگوں کو ( میدان محشر میں ) اکٹھا کیا جائے گا ۔ انہیں یہ بات الہام کی جائے گی ، تو وہ کہیں گے اگر کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے ، تو یہ بہتر ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں:لوگ حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے ، اور کہیں گے آپ وپ حضرت آدمؑ ہیں ، جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا ۔آپ میں اپنی روح کو پھونکا اس نے فرشتوں کو حکم دیا ، تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجال ملے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : حضرت آدمؑ کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کر یں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ اور اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی ۔ وہ کہیں گے کہ تم حضرت نوح ؑ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا۔
لوگ حضرت نوح ؑ کے پاس جائیں گے ۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی( وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس جاؤ ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا ۔
نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آئیں گے وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنی اس خطا کو یاد کر یں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔ ان نہیں اس وجہ سے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہوگی ( وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پا س جاؤ ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توریت عطا کی ۔
نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آئیں گے ۔ وہ یہ کہیں گے میں یہ نہیں کر سکتا ۔ انہیں اپنی وہ خطا یاد آئے گی ، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروردگار سے حیا کریں گے ( تو وہ یہ کہیں گے ) تم لوگ حضرت عیسیٰؑ کے پاس جاؤ۔
حضرت عیسیٰ ؑ یہ کہیں گے ۔ میں یہ نہیں کر سکتا تم لوگ حضرت محمدﷺ کے پاس جاؤ وہ ایک ایسے بندے ہیں جن کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے ۔
نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت مانگوں گا ۔ وہ مجھے اجازت عطا کرے گا ، تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا میں سجدے میں رہوں گا ، پھر یہ کہا جائے گا : اے محمد (ﷺ) ( سجدے سے ) سر کو اٹھاؤ ۔ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول ہوگی ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا ۔ اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا ، پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرو ا دوں گا ، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا ۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہو گا وہ مجھے ( سجدے کی حالت میں ) رہنے ، پھر یہ کہا جائے گا محمد ! سجدے سے سر کو اٹھاؤ ۔ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بینا کروں گا ، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا ، پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لے حد مقرر کی جائے گی ۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا ، پھر میں اپنا سر ( سجدے میں) رکھوں گا ۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور ہوگا ۔ وہ اتنی دیر ( مجھے سجدے میں رہنے دے گا ) پھر مجھ سے کہا جائے گا ( سجدے سے ) اپنے سر کو اٹھاؤ بولو سنا جائے گا ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا ۔ اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا ، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا پھر میں شفاعت کروں گا ، تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی ۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردوں گا ۔"
ابو عوانہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم نبی اکرمﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار اب جہنم میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن ( کے حکم ) کی وجہ سے رکے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جن کا جہنم میں ہمیشہ رہنا طے ہے ۔
( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) حسن بن سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں "تم لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس جاؤ ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے "حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں "جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے ۔"
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا ، تو نبی اکرمﷺ نے اس میں سے دستی اٹھائی ۔ نبی اکرمﷺ کو بکرے کے گوشت میں وہ سب سے زیادہ پسند تھی ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے دانت کے ذریعے نوچ کر کھایا اور فرمایا قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ، پھر آپﷺ نے اسے دوسری مرتبہ کھایا اور فرمایا میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ، پھر آپﷺ نے اسے تیسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردا ر ہوں گا ۔ جب آپﷺ نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ انہوں نے آپﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ایسا کیسے ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! یہ کیسے ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ بلانے والا اپنی آواز ان تک پہنچا سکے گا ۔ نگاہ نہیں دیکھ سکے گی ۔ اور سورج ان کے سر کے قریب ہوگا ۔ اس کی تپش ان کے لیے شدید دشوری کا باعث ہو گی ۔ اور سورج کا ان کے قریب ہونا ان کےلیے مشقت کا باعث ہوگا۔ وہ لوگ اپنی صورتحال کی وجہ سے گر یہ وزاری اور آہ وبکا کرتے ہوئے جائیں گے ، اور حضرت آدم ؑ کے پاس آئیں گے ۔ اور کہیں گے اے حضرت آدمؑ آپ انسانوں کے جد امجد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا ۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیاآپ ملا حظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں ، تو حضرت آدمؑ یہ کہیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب میں ہے اس سے پہلے اتنا غضب میں نہیں آیا ۔ اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہوگا۔ اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا ۔ میں نے اس کی بات نہیں مانی ۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی جہنم میں نہ ڈال دے ۔ تم میرے بجائے کسی دوسرے کے پاس جاؤ ( اب) مجھے اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔
وہ لوگ حضرت نوح ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے حضرت نوح ؑ آپ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ پہلے شخص ہیں ، جسے رسول اللہ بنا کر بھیجا گیا ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملا حظہ نہیں کر رہے ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں ۔ حضرت نوح ؑ فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا ۔ اور اس کے بعد بھی کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوگا میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی جس کے نتیجے میں وہ لوگ ہلاکت کا شکا ر ہوگئے ۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے ۔ اس لئے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔
وہ لوگ حضرت ابراہیمؑ کےپاس جائیں گے ، اور کہیں گے : اے حضرت ابراہیم ؑ آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ دونوں کی خلت کے بارے میں تمام آسمانوں والوں اور زمینوں والوں نے سن رکھا ہے ۔ آپ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت ابراہیم ؑ فرمائیں گے میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوگا ، پھر وہ ستاروں کے بارے میں اپنے قول ذکر کریں گے "یہ میرا پروردگار ہے "اور ان لوگوں کے بتوں کے بارے میں اپنے اس قول کا ذکر کریں گے "بلکہ ان م یں سے بڑے نے ایسا کیا ہے "اور اپنے اس قول کا ذکر کریں گے " میں بیمار ہوں ۔"
( پھر حضرت ابراہیم ؑ فرمائیں گے ) کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔
وہ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائین گے ، تو کہیں گے : اے حضرت موسیٰ ؑ آپ ایسے نبی ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ۔ اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا ۔ آپ پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ کیا آپ ملاحطہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت مو سیٰ ؑ یہ کہیں گے ۔ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے ۔ اس سے پہلے اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہوگا میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ، حالانکہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں داخل نہ کردے ۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پا س جاؤ ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے صرف اپنی فکر ہے ۔
تو وہ لوگ عیسیٰ ؑ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں آپ اس کا کلمہ ہیں ۔ اس کی روح ہیں ، ج واس نے حضرت مریم کی طرف القاء کی تھی ۔ اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں ۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ملاحطہ نہیں کر رہے کہ ہم کس مشکل کا شکار ہیں ، تو حضرت عیسیٰ ؑ کہیں گے کہ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب نا ک نہیں ہوگا ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے ۔ تم لوگ میر بجائے کسی اور کے پاس جاؤ ۔ مجھے صرف اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے ۔
عمارہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق ( روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں ) کہ انہوں نے کسی ذنب کا ذکر کیا ہو ۔ پھر لوگ حضرت محمد ﷺ کے پا س آئیں گے ۔ اور یہ کہیں گے کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ خاتم النبین ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ۔ آپﷺ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: میں وہاں سے چلوں گا او رعرش کے پاس آجاؤں گا ۔ میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجد ہ میں چلا جاؤں گا ، تو تمام جہانوں کا پروردگار اپنی بار گاہ میں مجھے ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کیا اور میرے بعد بھی کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کرے گا ۔ وہ یہ فرمائے گا : اے محمد (ﷺ) تم اپنی امت کو دائیں طرف والے دروازے سے ( جنت میں) داخل کرو ۔ ان لوگوں کو ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، حالانکہ وہ لوگ دوسرے دروازوں سے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اندر داخل ہو سکتے ہیں ۔
( پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے جنت کا ایک دروازہ اتنا چوڑا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان فاصلہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جتنا ہجر اور مکہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔ راوی بیان کرتےہیں : مجھے نہیں معلوم کہ روایت میں کون سے لفظ کا ذکر پہلے ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6465
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5296
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت سعدؓ کے ہاں افطاری کی‘ تو ارشاد فرمایا: تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی ہے اور فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے رحمت کی اور نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں تھے آپ کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے ۔ اسی دوران عقبہ بن ابو معیط ایک (اونٹ کی ) اوجھ لے کر آیا اور اسے نبی اکرمﷺ کی پشت پر رکھ دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر نہیں اٹھایا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پشت سے اسے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعا ئے ضر رک کی نبی اکرم ﷺ نے دعا کی۔
''اے اللہ قریش کے کچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے ۔ ابو جہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، عقبہ بن ابو معیط ،امیہ بن خلف ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اُبی بن خلف ''یہ شک شعبہ نامی راوی کہ ہے''۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے مو قع پر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا ہ ان کی (لاشوں کو ) ایک کنویں میں ڈال دیا گیا ۔ صرف امیہ کو نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے ۔ اسے کنویں میں نہیں ڈالا گیا ۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے گھر میں زانوں سے کپڑا ہٹا کا لیتے ہوئے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ
نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دیدی لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں رہے وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت
کرتے رہےپھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں
رہے وہ بات چیت کرتے رہے ' پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو نبی اکرم ﷺ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے آپ ﷺ
نے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ بات چیت کرتے رہے جب وہ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا:
یا رسول اللہ ! پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے آپ ﷺ نے ان کے لیے حرکت نہیں کی اور آپ ﷺ نے ان کی کوئی خاص پروا نہیں کی پھر
حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے آپ ﷺ نے ان کے لیے بھی حرکت نہیں کی ان کی بھی کوئی خاص پروا نہیں کی پھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر
آئے 'تو آپ ﷺ سیدے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ نے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کیے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ایک ایسے شخص سے حیا
کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6907
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7021
حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں : جب غزوہ احد کے موقع پر میرے والد شہید ہوگئے ، تو میں رونے لگا میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا ، نبی اکرمﷺ کے اصحاب نے مجھے اس سے منع کرنا شروع کیا، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس پر نہ روؤ جب تک تم اسے دفن نہیں کر دیتے فرشتے اپنے پروں کے ذریعے مسلسل اس پر سایہ کیے رہیں گے ۔
وَجْهِهِ وَجَعَلَ، أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَنْهَوْنِي، ← لما قتل أبي يوم أحد جعلت أبكي وأكشف الثوب ← جَابِرًا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7021
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7025
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشا د فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ اس وقر کی بات ہے جب لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پسپا ء ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ پہاڑ کی دوسری طرف مدینہ منورہ والے حصے کی طرف چلے گئے (یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ چکے تھے ) پھروہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف اس وقت واپس آئے جب حضرت حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور سفیان بن حرب کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا جب حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اس پر غالب آنے لگے ' تو شداد ابن اسود نے انہیں دیکھ لیا شداد تلوار لے کر ان کے اوپر آیا ' یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا حالانکہ اس وقت ابو سفیا ن کر قتل کرنے ہی والے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی خنظلہ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے تم اس کی بیوی سے دریافت کرو' تو اس خاتون نے بتایا : جب وہ نکلے تھے ' تو جنابت کی حالت میں تھے کیونکہ انہوں نے جنگ کی پکار سن لی تھی ( اس لیے غسل کیے بغیر چلے گئے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7025
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7028
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے پیچھے جانے کے لیے نکلی میں نے اپنے پیچھے زمین پر چلنے کی آواز سنی میں نے مڑ کا دیکھا ' تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے جنہوں نے ان کی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی میں زمین پر بیٹھ گئی حضرت سعد رضی اللہ عنہ گزرے تو ان کے جسم پر ایک زرہ تھی جس کے کنارے باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باہر نکلے ہوئے کناروں سے اندیشہ ہوا وہ لمبے تڑنگے آدمی تھے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب وہ گزرے تو یہ رجز پڑھ رہے تھے ۔
''تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ تم موت تک پہنچ جاؤ گے اور وہ کتنی اچھی موت ہے ' جب آدمی کا وقت پورا ہا جائے ۔''
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں اٹھی اور میں ایک باغ کے اندر آگئی وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیا ناس ہو 'تم کیوں آئی ہو؟ اللہ کی قسم ! تم نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے کس چیز نے تمہیں اس بات سے مامون رکھا کہ کوئی مصیبت یا آزمائش آسکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ' یہاں تک کہ میں یہ آرزو کی کہ زمین شق ہو جائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں ۔ ان لوگوں میں ایک شخص تھا جس نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ' تو وہ حضرت طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے کہا : اے عمر ! تمہارا ستیا ناس ہو آج آپ نے انتہا کر دی اللہ تعالی کے علاوہ اور کہاں جایا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عرقہ نے حضرت سعد (معاذ رضی اللہ عنہ ) کو تیر مارا اور بولا : اسے سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ' تو وہ تیران کی مخصوص رگ پر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ' تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھندا نہیں ک دیتا ۔ وہ لوگ اورا ن کے موالی زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف رہے تھے ' تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا پھر اللہ تعالی نے مشرکین پر آندھی بھیجی ۔اللہ تعالی ٰ اہل ایمان کے لئے جنگ کی جگہ کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے ۔ ابو سفیان تہامہ گیا اس نے عیینہ اور نجد میں موجود اس کے ساتھیوں سے ملاقات کی بنو قریظہ واپس آگئے وہ اپنے علاقے میں قلعہ بند ہو گئے ۔نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لائے ' تو آپ نے حضرت سعد کے لئے مسجد میں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کو لگانے کا حکم دیا آپ نے ہرہتھیار اتارے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں حتی کہ جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : کیا آپ نے ہتھیار اتار دئیے ہیں اللہ کی قسم فرشتوں نے ' تو ابھی ہتھار اتارے آپ بنو قریظہ کی طرف تشریف لے جائیں اور ان کے ساتھ جنگ کریں ' تو نبی اکرم ﷺ نے روانگی کا حکم دیا آپ نے جنگی لباس پہن لیا اپ گھر سے باہر نکلے اور بنو غنم کے پاس سے گزرے ' جو مسجد کے پڑوسی تھے آپ نے دریافت کیا : ابھی تمہارے پاس سے کون گزرا ہے ان لوگوں نے جواب دیا : دحیہ کلبی ہمارے پا س سے گزرے ہیں (یعنی حضرت جبرائیل دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے ) نبی اکرم ﷺ بنو قریظہ کے پاس تشریف لائے آپ نے 25 دن تک ان کا محاصرہ کیا جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان پر آزمائش سخت ہو گئی تو ان سے یہ کہا گیا : نبی اکرم ﷺ کو ثالث مان لو ان لوگوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا ' تو انہوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا : انہیں ذبح کر دیا جائے گا ' تو ان لوگوں نے کہا : ہم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کر تے ہیں ' تو ان لوگوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا ثالثی فیصلے پر محاصرہ ختم کروایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا جس پر کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ان کی قوم کے افراد نے انہیں گھیر ا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے ابو عمر و یہ تمہارے حلیف اور موالی ہیں اور لڑائیوں کے ساتھی ہیں اور وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ' یہاں تک کہ جب وہ ان کے بچوں کے قریب ہوئے تو وہ اپنی قوم ہوئے اور بولے اب سعد کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے جب وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئے ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اسے نیچے اتارو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہمارا سردار ' اللہ تعالی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے نیچے اتار و ۔ انہوں نے اسے نیچے اتارا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کر و۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگ جو لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ان کے اموال تقسیم کر دئیے جائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی انہوں نے کہا : اے اللہ ! اگر تو نے نبی کے لئے قریش سے جنگ کو باقی رکھنا ہے ' تو مجھے بھی اس کے لیے باقی رکھ اور اگر ' تو نے اپنے نبی اور ان کے درمیان جنگ کو منقطع کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف قبض کر لے تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا حالانکہ وہ اس سے پہلے ٹھیک ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ صرف معمولی شا زخم رہ گیا تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ واپش تشریف لائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس چلے گئے وہ خیمہ جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے حجرے میں ہی موجود تھی کہ مجھے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز صاف سنائی دی ' تو اسی طرح ہوا تھا ' جس طرح اللہ تعالی یہ فرماتا ہے:
''آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں ''۔
راوی علقمہ نےکہا : اے امیر المومنین نبی اکرم ﷺ کیا کرتےتھے (یعنی رونے کے وقت کیا کرتے تھے ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکر م ﷺ کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے البتہ یہ ہے کہ آپ (غم کی شدت کی وجہ سے ) اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7028
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7032
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تا (آپ نے فرمایا) اس کے لیے رحمن ٰ کا عرش جھوم اٹھا ہے منافقین نے ان کے جنازے کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا : یہ کتنا ہلکا ہے ' اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ' تو آپ نے فرمایا : لوگوں کے ساتھ اسے فرشتوں نے اٹھایا ہو اہے
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7032