Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَغَيْرِهِمَا · حديث 1321

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ [ص:150] الْعِلْمِ رِضًا لِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، «كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ». قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ كَلَامِهِ، قَالَ: «هَاؤُمُ»، قُلْنَا: وَيْلَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتَكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقُهُمْ؟ قَالَ: «هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا فَتَحَهُ اللَّهُ لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، [ص:151] فَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ». [1: 71]

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم کے حصول کے لئے انہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہوکر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانہ اور پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ صحابی رسول ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیا آپ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبانی اس بارے میں کچھ سنا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے۔ جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن ہم مسافر ہوں، تو تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ پیشاب یا نیند کی (صورت میں وضو ٹوٹنے پر وضو کرتے ہوئے ہم انہیں نہیں اتاریں گے) میں نے اس سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہش کے بارے میں کوئی چیز ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز میں پکارا اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کلام کی مانن (بلند آواز میں) اسے جواب دیا: فرمایا: آگے آجاؤ ہم نے (ا س دیہاتی) سے کہا تمہارا استیاناس ہو تم اپنی آواز کو پست کرو۔ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ (تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرو) اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: " مغرب کی سمت میں ایک دروازہ ہے، جس کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت جتنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا اس دن اسے توبہ کے لئے پیدا کیا تھا اور وہ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس (مغرب کی) طرف سے طلوع نہیں ہوگا"۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of sackcloth on the two soles and the like · Hadith 1321

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَغَيْرِهِمَا · حديث 1325

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ" قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَا نَخْلَعُهُمَا1 مِنْ غَائِطٍ ولا بول2.

۔ زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو ۔ میں نے جواب دیا۔ علم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو بھی شخص علم کے حصول کے لئے گھر سے نکلتا ہے، تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہوکے اپنے پراس کے لئے بچھا دیتے ہیں"۔ زر نے کہا میں اس لئے آیا ہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں ہم ایک لشکر میں تھے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا، تو آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ جب ہم موزوں کو طہارت کی حالت میں (یعنی وضو کرکے) پہن لیں تو سفر کے دوران تین دن تک ہم ان پر مسح کر سکتے ہیں۔ ہم پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) انہیں نہیں اتاریں گے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of sackcloth on the two soles and the like · Hadith 1325

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں ‘ تو ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود ( فرشتوں کے سامنے ) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 779

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ اللَّيْلَةَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِذْ سَمِعْتُ وَجْبَةً مِنْ خَلْفِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ فَرَسِي انْطَلَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْمِصْبَاحِ مُدَلًّى بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْرَأْ يَا أَبَا عَتِيكٍ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ " (1) . [1: 2]

اسید بن حضیر ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات میں سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے پیچھے ایک آہٹ سنی مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میرا گھوڑا چلا گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اے ابو اسید ! تم تلاوت کرتے رہو ‘ میں نے توجہ کی ‘ تو وہاں کچھ چراغ نظر آئے ‘ جو آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا؛ اے ابو عتیک ! تم تلاوت کرتے ہو۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اب تلاوت جاری نہیں رکھ سکتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ فرشتے تھے جو سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے نازل ہوئے تھے ‘ اگر تم تلاوت جاری رکھتے ‘ تو اور بھی حیران کن چیزیں دیکھتے۔

أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 779

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ؟» قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ: «آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا : تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو۔ لوگوں نے بتایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ نے دریافت کیا: اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھتے ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں ۔ حضرت معاویہ ؓ نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کوں بیٹھے ہوئے ہو۔ انہوںانہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لئے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا اللہ کی قسم! تم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہوئے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لئے تم سے قسم نہیں لی ہے‘ بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے انہوں نے مجھے بتایا: اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔

وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، ← آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ ← جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، ← خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 813

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4666

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحِرَّانَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ [ص:522] رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلَاهُمَا فِي الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتِبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، وَكَذَلِكَ تُضِيفُ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ مِنْ حَرَكَاتِ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلَا، كَمَا تُضِيفُ ذَلِكَ الشَّيْءَ إِلَيْهِمْ سَوَاءً، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » ضَحِكَ مِنْ رَجُلَيْنِ «يُرِيدُ ضَحَّكَ اللَّهُ مَلَائِكَتَهُ وَعَجَّبَهُمْ مِنَ الْكَافِرِ الْقَاتِلِ الْمُسْلِمَ، ثُمَّ تَسْدِيدَ اللَّهُ لِلْكَافِرِ وَهِدَايَتِهِ إِيَّاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَتَفَضُّلِهِ عَلَيْهِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا، فَيُعَجِّبُ اللَّهُ مَلَائِكَتَهُ وَيُضَحِّكُهُمْ مِنْ مَوْجُودِ مَا قَضَى وَقَدَّرَ، فَنُسِبَ الضَّحِكُ الَّذِي كَانَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا عَلَى سَبِيلِ الْأَمْرِ وَالْإِرَادَةِ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ [ص:523] هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقَسَمِ الْخَامِسِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں ہوں گے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ اس نوعیت کی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض روایات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت کام کرنے والے شخص کی طرف کرتے ہیں اسی طرح وہ بعض اوقات کسی چیز جو مخلوق کی حرکات سے تعلق رکھتی ہو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت مخلوق کی طرف کرتے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ہنسنے کیلئے کہتا ہے اور انہیں خوش ہونے کیلئے کہتا ہے اس کافر کے بارے میں جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کافر کو راہ راست پر ہدایت نصیب کرتا ہے وہ مسلمان ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے بعد شہادت کا مرتبہ عطا کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو اس بات پر حیران کرتا ہے اور انہیں اس بات پر ہنساتا ہے، جو اس چیز کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اس نے فیصلہ دیا ہے اور مقدر میں لکھا ہے، تو یہاں ہنسنا جو فرشتوں کی طرف سے ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، جو اس کے حکم دینے اور ارادہ کرنے کے حوالے سے ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم اس کتاب میں آگے چل کر سنن کی پانچویں قسم میں نقل کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔

«ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ [ص:522] رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلَاهُمَا فِي الْجَنَّةِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4666

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ التَّقْلِيدِ وَالْجَرَسِ لِلدَّوَابِ · حديث 4700

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْفُرَاتِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهَذَا الْعِيرَ الَّتِي يَكُونُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ نُزُولِ الْوَحْيِ عَلَيْهِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ اونٹ جس کی گردن میں گھنٹی موجود ہو فرشتے اس کے ساتھ نہیں چلتے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا امکان موجود ہے، نبی اکرم ﷺ نے اس کے ذریعے وہ اونٹ مراد لیا ہو، جس قافلے میں نبی اکرم ﷺ ساتھ موجود ہوں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی۔

أُمِّ حَبِيبَةَ، ← أَنَّ أَبَا الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، ← نَافِعٌ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْفُرَاتِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Door of tradition and bell of the wheel · Hadith 4700

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ التَّقْلِيدِ وَالْجَرَسِ لِلدَّوَابِ · حديث 4703

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:555] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، أَوْ جَرَسٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا ہے: ”فرشتے ایسے قافلے والوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ہمراہ کتا یا گھنٹی ہو“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Door of tradition and bell of the wheel · Hadith 4703

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ التَّقْلِيدِ وَالْجَرَسِ لِلدَّوَابِ · حديث 4705

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”فرشتے ایسے قافلے والوں کے ساتھ نہیں چلتے جن میں گھنٹی موجود ہو“۔

«لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ» ← النَّبِيِّ ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← أَبِي الْجَرَّاحِ، ← سَالِمٍ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Door of tradition and bell of the wheel · Hadith 4705

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 855

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ، إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ» (1) . [1: 2]

اغر کہتے ہیں: حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ ان دونوں حضرات نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کی ہے۔نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمائی ہے: ’’ جب کچھ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں‘ تو فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت نازل ہوتی ہے اور ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں موجود ( فرشتوں ) میں ان کا تذکرہ کرتے ہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فُضُلًا (2) عَنْ كُتَّابِ (3) النَّاسِ، يَمْشُونَ فِي الطُّرُقِ، یَکْتَمِسُوْنَ الذِّکْرِ ، فَاِذَا رَاَوْا اَقْوَامًا یَذْکُرُوْنَ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی تَنَادَوْا: ھَلُمُّوْا اِلٰی حَاجَاتِکُمْ ، فَیَحُفُّوْنَ بِاَجْنِحَتِھِمْ اِلَی السَّمَاءِ ، فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ جَلَّ وَعَلَا ، وَھُوَ اَعْلَمْ بِھِمْ ، فَیَقُوْلُ: عِبَادِیْ مَا یَقُوْلُوْنَ ؟ فَیَققُوْلُوْنَ: یَا رَبِّ ، یُسَبِّحُوْنَکَ وَیَحْمَدُ وْنَکَ ، فَیَقُوْلُ: ھَلْ رَاَوْنِیْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا ، فَیَقُوْلُ: کَیْفَ لَوْ رَاَوْنِیْ ؟ فَیَقُولُوْنَ : لَوْ رَاَوْکَ لَکَانُوْا اَشَدَّ تَسْبِیْحًا وَتَمْجِیْدًا وَتَکْبِیرًا وَتَحْمِیْدًا ، فَیَقُوْلُ: مَاذَا یَسْاَلُوْنَ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: یَسْاَلُوْنَکَ یَا رَبِّ الْجَنَّۃَ ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: ھَلْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا ، فَیَقُوْلُ :کَیْفَ لَوْرَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَوْقَدْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ طَلَبًا وَاَشَدَّ حِرْصًا ، فَیَقُوْلُ: فَمِمَّ یَتَعَوَّذُوْنَ ؟ فَیَقُوْلُونَ: یتَعَوَّذُوْنَ بِکَ مِنَ النَّارِ ، فَیَقُوْلُ: فَھَلْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَا، فَیَقُوْلُ :کَیْفَ لَوْ رَاَوْھَا ؟ فَیَقُوْلُونَ: لَوْ قَدْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ تَعَوُّذًا ، فَیَقُوْلُ: فَاِنِّیْ اُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں ‘ وہ راستوں میں چلتے پھرتے ہیں اور ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں جب وہ کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہو ں ‘ تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں ۔ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ پھر وہ آسمان تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔ ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے ‘ حالانکہ وہ ان سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ وہ فرماتا ہے :میرے بندے کیا کہتے ہیں ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! وہ تیری تسبیح اور تیری حمد بیان کرتے ہیں : پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں : جی نہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ تیری تسبیح ‘ تیری کبریائی ‘ وہ تیری حمد بیان کرتے۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ کیا چیز ہے مانگتے ہیں ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں : اے ہمارے پروردگار! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟وہ جواب دیتے ہیں :جی نہیں، پروردگار فرماتا ہے :اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے‘ تو زیادہ شدت کے ساتھ اسے طلب کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کے اصول کے خواہش مند ہوتے ۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ کس چیز سے پناہ مانگتےہیں فرشتے عرض کرتے ہیں وہ جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ پروردگار دریافت کرتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں :جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے ا؛اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے : میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 856

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 857

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ، يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، فَيَقُولُ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: يُكَبِّرُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيُسَبِّحُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا لَكَ أَشَدَّ عِبَادَةً وَأَكْثَرَ تَسْبِيحًا وَتَحْمِيدًا وَتَمْجِيدًا، فَيَقُولُ: وَمَا يَسْأَلُونِي؟، قَالَ: فَيَقُولُونَ: يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا عَلَيْهَا أَشَدَّ حِرْصًا وَأَشَدَّ طَلَبًا، وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً، فَيَقُولُ: وَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا لَكَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ فِرَارًا، وَأَشَدَّ هَرَبًا، وَأَشَدَّ خَوْفًا، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ:، فَقَالَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو لوگوں کے اعمال نوٹ کرنے کے علاوہ ہیں۔ وہ راستوں میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں۔ جب انہیں کچھ لوگ ملتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوں‘ تو وہ ( ایک دوسرےکو ) بلاتے ہیں۔ اپنے مقصود کی طرف آجاؤ پھر وہ آسمان دنیا تک اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں۔انکا پروردگار ان سے دریافت کرتاہے ‘حالانکہ وہ ان سےزیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار فرماتا ہے ۔ میرے بندے کیا کہتے ہیں ۔فرشتے جواب دیتے ہیں : وہ تیری کبریائی تیری تکبیر تیری پاکی اور تیری حمد بیان کرتے ہیں : پروردگار دریافت کرتا ہے :کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے جواب دیتے ہیں: جی نہیں پروردگار دریافت کرتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیت ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : اگر وہ تجھے دیکھ لیتے ‘ تو زیادہ شدت کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے۔ زیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتےزیادہ حمد اور بزرگی بیان کرتے ، پروردگار دریافت کرتا ہے : وہ لوگ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ تجھ سےجنت مانگتے ہیں ۔ پروردگار فرماتے ہیں کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : جی نہیں اللہ کی قسم ! ( اے پروردگار انہوں نے اسے نہیں دیکھا) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں :اگر وہ ا سے دیکھ لیتے ‘ تو وہ اس کے حصول کی زیادہ خواہش کرتے اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی رغبت کرتے پروردگار فرماتا ہے : وہ لوگ کس چیز سےپناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں: وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ۔پروردگار دریافت کرتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:جی نہیں ، اللہ کی قسم! اسے ہمارے پروردگار ( انہوں نے اسے نہیں دیکھا ) پروردگار فرماتا ہے : اگر وہ اسےدیکھ لیتے ‘ تو کیا ہوتا؟ فرشتےجواب دیتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے ‘ تو اس سے زیادہ دور بھاگتے ‘ شدت سے بھاگتے اور اس سے زیادہ خوف زدہ ہوتے ‘ تو پروردگار فرشتوں سے فرماتا ہے :میں تم لوگوں کو گواہ بنا کےکہتا ہوں میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ان فرشتوں میں سےایک فرشتہ عرض کرتا ہے‘ ان میں فلاں شخص تھا جو ان میں سے نہیں تھا وہ اپنے کام کے سلسلے میں وہاں آیا تھا پروردگار فرماتا ہے :وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2775

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ اسْمَ الرَّوَاحِ يَقَعُ عَلَى جَمِيعِ سَاعَاتِ النَّهَارِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الرَّوَاحَ لَا يَكُونُ إِلَّا بعد الزوال.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح کا غسل کرے اور پھر روانہ ہو جائے ‘ تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی جو شخص دوسری گھڑی میں ہو جائے اس نے مرغی کی قربانی کی جو شخص پانچویں گھڑی میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا جب امام آ جائے ‘ تو فرشتے مسجدمیں آ کر (( ذکر یعنی خطبے کو ) سنتے ہیں‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ ( جانے ) کا اطلاق دن کی تمام گھڑیوں پر ہوتا ہے ‘ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ لفظ ’’ رواح ‘‘ کا اطلاع صرف زوال کے بعد جانے پر ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of Friday prayer · Hadith 2775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِی التَّبَاغُضِ وَالتَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ وَالتَّشَاجُرِ وَالتَّھَا جُرِ بَیْنَ الْمُسْلَمِیْنَ · حديث 5664

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا كَانَا عَلَى صِرَامِهِمَا، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ «يُرِيدُ بِهِ إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلِ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا عَلَيْهِمَا بِالْعَفْوِ عَنْ إِثْمِ صِرَامِهِمَا ذَلِكَ»

حضرت ہشام بن عامرؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے ‘ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ لا تعلق رہے وہ ‘ جب تک اپنی نااضگی پر ثابت رہتے ہیں ۔ اس وقت تک حق سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو شخص ان میں سے ( نااضگی ختم کرنے میں ) پہل کرتاہے ‘ تو اس کا پہل کرنا اس کا کفارہ بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے شخص کو سلام کرے اور دوسرا شخص اس کے سلام کو قبول نہ کرے ‘ تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیتے ہیں اوردوسرے شخص کو شیطان سلام کا جواب دیتا ہے اگر وہ دونوں اپنی ناراضگی ہریں ‘ تو وہ دونوں جنت میں داخل نہیں ہو ں گے ‘ اور جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جنت میں اکٹھےنہیں ہوں گے ۔ اس کےذریعے مراد یہ ہے: اگر اللہ تعالیٰ ان کی اس ناراضگی پر اپنے فضل کے تحت معافی نہ فرمائے۔ ( تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے)

«لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of what came about of hatred, envy, contention, quarrels, and wrangling between Muslims · Hadith 5664

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّفَاخُرِ · حديث 5774

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِ يمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ، يَأْتِي الْمَسِيحُ، حَتَّى إِذَا جَاوَزَ أُحُدًا صَرَفَتِ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایمان یمانی ہے اور کفر مشرق کی سمت سے ہو گا بکریاں پالنے والوں میں سکینت ہوتی ہے ‘ جب کہ گھوڑے پالنے والے دیہاتیوں میں فخر ( یعنی تکبر ) اور ریا کاری پائی جاتی ہے دجال اس طرف سے آئے گا ‘ یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ عبو کر لے گا ‘ تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے وہاں وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of boasting · Hadith 5774

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5845

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، [ص:156] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ»؟ فَقَالَتِ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ، تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ: «إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْبَيْتُ الَّذِي يُوحَى فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ فِي بَيْتٍ، وَفِيهِ صُورَةٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ حَافِظَاهُ مَعَهُ، وَهُمَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ: [ص:157] «لَا تَصْحَبِ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ»، يُرِيدُ بِهِ رُفْقَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَخْرُجَ الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ مِنْ أَقَاصِي الْمُدُنِ وَالْأَقْطَارِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ عَلَى نَعَمٍ وَعِيسٍ بِأَجْرَاسٍ وَكِلَابٍ ثُمَّ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ وَفْدُ اللَّهِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصوریں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرمﷺ نے اس کو دیکھا ‘ تو آپﷺ دروازے پر ٹھہر گئے آپﷺ گھر کے اندر تشریف نہیں لائے میں نے آپﷺ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات محسوس کر لئے ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ پردہ کہاں سے آیا ہے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کی: یہ میں نے آپﷺ کےلئے خریدا ہے ‘ تاکہ آپﷺ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس کے ساتھ ٹیک لگائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ان سے یہ کہا جائےگا تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جس گھر میں تصویریں موجود ہوں فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس بات کا امکان موجود ہے‘ یہ وہ گھر ہو ‘ جس میں نبی اکرمﷺ پر وحی نازم ہوتی تھی اب یہ بات ناممکن ہے ‘ کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو ‘ تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں ‘ حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں اسی طرح نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو ‘‘ اس کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اب یہ بات نا ممکن ہے ‘ حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے جدا نہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار کر بیت عتیق آنےکا قصد کریں ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں ‘ حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، [ص:324] ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5845

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى آلِ الشِّفَاءِ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ قَالَ: فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ» يَشُكُّ إِسْحَاقُ أَيُّهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ

رافع بن اسحاق بیان کرتے ہیں : میں اور عبد اللہ بن ابو طلحہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے ‘ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے ہمیں بتایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے۔ ’’ بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تماثیل یا تصویر موجود ہو‘‘۔ یہ شک اسحاق نامی راوی کو ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ نے ان دونوں میں سے کونسا لفظ بیان کیا تھا۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5849

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5850

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ [ص:161] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ» قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ، وَإِذَا فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا، وَيَدَعُ الثَّوْبَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قَالَ: «إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟ »

نبی اکرمﷺ کے صحابی حضرت ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو ‘‘۔ بسر نامی راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں وہ بیمار ہو گئے ہم ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے ‘ تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں ( تصویر کے بارے میں ) حدیث نہیں سنائی تھی اور یہ کپڑے انہوں نے لگا دیا ہے‘ تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ کپڑے پر نقش و نگار کا حکم مختلف ہے ( یعنی اس کی اجازت ہے)

أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5850

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5855

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:166] حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو‘‘۔

«لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا طَلْحَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5858

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ [ص:169] صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ، قَالَ: «أَمَّا هُمْ لَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوِّرٌ، فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ؟ »

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ‘ تو آپﷺ کو اس میں حضرت ابراہیم ؑ اور سیدہ مریمؓ کی تصویریں ملیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جہاں تک ان لوگوں کو تعلق ہے ‘ تو یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں ‘ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو یہ حضرت ابراہیم ؑ کی تصویر موجود ہے یہ بھلا کب پانسہ کھیلا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5858

chevron_left Previous
1…212223…694
Next chevron_right