صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَغَيْرِهِمَا · حديث 1321
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ [ص:150] الْعِلْمِ رِضًا لِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، «كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ». قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ كَلَامِهِ، قَالَ: «هَاؤُمُ»، قُلْنَا: وَيْلَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتَكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقُهُمْ؟ قَالَ: «هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا فَتَحَهُ اللَّهُ لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، [ص:151] فَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ». [1: 71]
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم کے حصول کے لئے انہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہوکر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانہ اور پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ صحابی رسول ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیا آپ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبانی اس بارے میں کچھ سنا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے۔ جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن ہم مسافر ہوں، تو تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ پیشاب یا نیند کی (صورت میں وضو ٹوٹنے پر وضو کرتے ہوئے ہم انہیں نہیں اتاریں گے) میں نے اس سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہش کے بارے میں کوئی چیز ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز میں پکارا اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کلام کی مانن (بلند آواز میں) اسے جواب دیا: فرمایا: آگے آجاؤ ہم نے (ا س دیہاتی) سے کہا تمہارا استیاناس ہو تم اپنی آواز کو پست کرو۔ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ (تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرو) اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: " مغرب کی سمت میں ایک دروازہ ہے، جس کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت جتنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا اس دن اسے توبہ کے لئے پیدا کیا تھا اور وہ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس (مغرب کی) طرف سے طلوع نہیں ہوگا"۔
زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of sackcloth on the two soles and the like · Hadith 1321
