Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

13864 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23640

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23718

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبَّتْنِي قَالَ فَقُلْتُ لَهَا دَعِينِي فَإِنِّي أَاتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ ثُمَّ لَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ فَنَاجَاهُ ثُمَّ ذَهَبَ فَاتَّبَعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ حُذَيْفَةُ قَالَ مَا لَكَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْأَمْرِ فَقَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ثُمَّ قَالَ أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قُبَيْلُ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ مَلَكٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبِطْ الْأَرْضَ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَاسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتا دیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں ۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے میں بھی پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے ۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23739

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ أَوْ يَضْرِبُهُمْ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1644

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى القطان قال حدثنا بن جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسَاجِدِنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإنس" 1.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :جو شخص اس سبزی یعنی لہسن ،پیاز یا گند نے کو کھا لے ،تو قہ ہماری مساجد میں نہ آئے کیو نکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے ، جس انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the mosques · Hadith 1644

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2948

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ: دَفَنْتُ ابْنِي وَمَعِي أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَلَمَّا أَرَدْتُ الخروج أخذ بيدي فأخبرني وَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ قَالَ الله لملائكته قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ قَالُوا: نَعَمْ, قَالَ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ, قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالُوا: اسْتَرْجَعَ وَحَمِدَكَ, قَالَ: أَبَنُوا لَهُ بَيْتًا في الجنة وسموه بيت الحمد" 1. [2:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُوْ طَلْحَۃَ الْخَوْلَانیُّ ھٰذَا اسْمُہۃ نُمَیْمُ بْنُ زِیَادٍ مِنْ سَادَاتٍ اَھْلِ الشَّامِ ، رَویٰ عَنْہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِح ، وَاَھْلُ بَلَدِہٖ ، وَاَبُوْ سِنَانٍ ھٰذَا ھُوَ الشَّیْ َانِیُّ قَدِمُ الْبَصْرَۃَ ، فَکَتَبَ عَنْہُ الْبَصْرِیُّوْنَ ، اسْمُہُ سَعِیْدُ بْنُ سِنَانِ وَّاَبُوْ سِنَانِ الْکُوفِیُّ ضِرَارُ بْنُ مُرَّۃً

ابو سنان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے بیٹے کو دفن کیا میرے ساتھ اب طلحہ خولانی قبر کے کنارے پر موجود تھے جب میں قبر سے باہر آنے لگا، تو انہوں نے میرا پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور بولے کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ " جب کسی مومن بندے کے بیٹے کا انتقال ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی جان قبض کر لی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس کے دل کے پھل(یعنی جگر کے ٹکڑے) کو قبضے میں لے لیا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: جی ہاں اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے پھر اس بندے نے کیا کہا فرشتے کہتے ہیں: اس نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور تیری حمد و بیان کی، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس شخص کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام" بیت الحمد" رکھو۔ (امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو طلحہ خولانی نامی راوی کا نام نعیم بن زیاد ہے اور یہ اہل شام کے سرداروں میں سے ہیں۔ ان سے معاویہ بن صالح اور ان کے شہر کے دیگر افراد نے روایات نقل کی ہیں۔ ان سنان نامی راوی شیبانی ہیں۔ یہ بصرہ تشریف لائے تھے۔ اہل بصرہ نے ان کے حوالے سے احادیث نوٹ کی تھیں۔ ان کا نام سعید بن سنان ہے جبکہ ابو سنان کو فی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے۔

أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2948

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1697

أخبرنا الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يعطى أحد بعدي" 1.

حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :ہمیں دوسر ے لوگوں سے تین حوالے سے فضلیت دی گی ہے ہمارے لئے تمام روئے زمین مسجد بنا دیا گیا ہے زمین کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ بنادیا گیا ہے ۔اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا ہے ، اورمجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے دی گی ہے یہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں میرے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائے گی ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1697

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خثيمة قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سعيد بن جبير عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ والملائكة والناس أجمين" 1. [2: 109]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے‘ تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ ‘ تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘‘۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أبو خثيمة ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 417

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1737

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ بِمَنْبِجَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تركناهموَھُمْ یُصَلُّونَ وَاَتَیْنَا ھُمْ وَھُمْ یُصَلُّونَ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں پھر جن فرشتوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، تو (اللہ تعالیٰ) ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کررہے تھے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ رات کے فرشتے اس وقت نیچے اترتے ہیں۔ جب لوگ عصر کی نماز ادا کررہے ہوں، اور اسی وقت میں دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: فرشتے سورج غروب ہونے کے بعد نیچے اترتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1737

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3005

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ" قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: "قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً" قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم1. [104:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : جب تم کسی میت کے پاس جاو، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہی۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب (میرے سابقہ شوہر) حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں کیا پڑھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو: "اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھابدل عطا کر"۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ حضرت محمد ﷺ (بطور شوہر ) عطا کر دئیے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3005

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3013

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ جُعِلَتْ فِي حَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى بَابِ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ فَيُقَالَ دَعُوهُ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمٍّ فَيُسْأَلُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ وَذُهِبَ بِهَا إِلَى بَابِ الْأَرْضِ يَقُولُ خَزَنَةُ الْأَرْضِ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَنْتَنَ مِنْ هَذِهِ فَتَبْلُغُ بها إلى الأرض السفلى" 1 قَالَ قَتَادَۃَ : وَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ اَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِینَ تُجْمَعُ بِالْجَابِیَتِیْنِ ، وَاَرْوَاحُ الْکُفَّارِ تُجْمَعُ بِبُرْھُوتَ : سَبِخَۃٌ بِحَضْرَمَوْتَ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَبَرُ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ قَسَامَۃ بْنِ زُھَیْرٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، نَحْوَہُ مَرْفُوعًا۔ الْجَابِیَتَانِ بِالْیَمَنِ ، وَبُرْھُوتَ مِنْ نَاحِیَۃِ الْیَمَنِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں جب اس کی جان قبض کر لی جاتی ہے، تو اسے سفید رنگ کے کپڑے میں رکھا جاتا ہے فرشتے اسے لے کر آسمان کے دروازے کی طرف جاتے ہیں وہ (یعنی پہلے آسمان کے فرشتے) یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ پاکیزہ بو کبھی محسوس نہیں کی، تو یہ کہا جاتا ہے اسے چھوڑ دو اس نے راحت حاصل کر لی ہے، کیونکہ پہلے یہ غم (کی دنیا) میں تھا، تو دریافت کیا جاتا ہے :فلاں نے کیاعمل کیا فلاں نے کیا عمل کیا اور فلاں عورت نے کیا عمل کیا اور جب کافر شخص کی جان قبض کی جاتی ہے، تو اس لے کر زمین کے دروازے پرآیا جاتا ہے زمین کے نگران کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ بدبو دار کوئی چیز محسوم نہیں کی پھر و ہ اسے لے کر زمین کے سب سے نچلے طبقے تک جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔" ایل ایمان کی روحیں"جابیتین" میں اکٹھی ہوئی ہیں اور کفا ر کی روحیں "برہوت " میں اکٹھی ہوتی ہیں جو "حضر موت" میں شور زدہ زمین ہے۔"(امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے قتادہ سے قسامہ بن زہیر کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے اسی کی مانند مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جابیتین یمن میں ہے اور برہوت یمن کا نواحی علاقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3013

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3014

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَتَقُولُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا یَشُمُّونَہٗ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ بَابَ السَّمَاءِ ، فَیَقُوْلُوْنَ : مَا ھٰذِہِ الرِّیحُ الطَّیِّبَۃُ الَّتِیْ جَائَتُ مِنَ الْاَرْض؟ وَلَا یَاْتُونَ سَمَاءً اِلَّا قَالُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ اَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنِ فَلَھُمْ اَشَدُّ فَرَحًا بِہٖ مِنْ اَھْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِھِمْ ، فَیَقُوْلُوْنَ مَا : فَعَلَ فُلَانٌ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : دَعُوہُ حَتّٰی یَسْتِرِیحَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ فِیْ غَمِّ الدُّنْیَقا ، فَیَقُوْلُ قَدْ مَاتَ ، اَمَاتَکُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : ذُھِبَ بِہٖ اِلٰی اُمِّہِ الْھَاوِیَۃِ ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیَاْتِیہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ ، فَیَقُوْلُوْنَ : اخْرُ جِی اِلٰی غَضِبِ اللہِ ، فَتَخْرُجُ کَاَنْتَنِ رِیحِ جِیفَۃٍ فَتَذْھَبُ بِہٖ اِلٰی بَابِ الْاَرْضِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے، تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کراس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: (اس جسم سے نکل کر) اللہ تعالیٰ کی مہربانی کر طرف آجاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں، تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے، جو زمین کی طرف سے آئی ہے وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آجاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو، تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے اس کا، تو انتقال ہو چکا ہے کیا توہ تمہارے پاس نہیں آیا، تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا(نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھر دی چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اس لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3014

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1753

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" 1. [1: 2]

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک فرشتے کسی شخص کیلئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے ہیں۔ جب تک وہ شخص اپنی اس جائے نماز پر موجود رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی تھی۔ جب تک وہ بے وضو نہیں ہوا (وہ فرشتے یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ! تو اس کی مغفرت کردے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1753

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ لِي: مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ لَهُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بعد الغائط والبول، وكنت امرأ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ1 -أَوْ مُسَافِرِينَ- أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أيام

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی علم کا حصول انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے کہا پیشاب کرنے کے بعد ( وضو کرتے ہوئے ) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب ہم مسافر ہوں ، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپمے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے تاہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم موزے نہ اتاریں) ( امام ابن حبان رحمتہاللہ علیہ فرماتے ہیں ) رقاد ( رعنی سونے ) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ اونگھ ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے، اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے اور اگر بے وضو ہو جائے ، تو اسے یہ پتہ ہوتا ہے البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے ( تو معاملہ مختلف ہے ) اور اس کا اختتام یعنی شعور کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے ، جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے ، تو اسے پتہ نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائاے تو اسے پتہ نہیں چلتاتو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کر تی ہےخواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والی کی ہوتی ہے ۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ نوم ( یعنی نیند ) کا اطلاق نعاس ( یعنی اونگھ ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ نعاس کا اطلاق لفظ نوم پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " اسے اونگھ نہیں آتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی ہے " تو جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت صفوان کی نقل کردہ روایت میں نیند ، پاخانے اور پیشاب کو وضو کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا تو جس طرح پیشاب اور ماخانے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھورے ہو ں یا زیادہ اس شخص پر وضو لازم ہو جائیگا ۔ خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیتھ کر کرے یا کھڑے ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے ، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا ۔ خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حلتوں میں اتفاق ہو ، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے۔ حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے۔ جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونون کا پایا جانا ہے ۔ پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کو متغیر ہونا ( علت نہیں ) ہے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1100

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3716

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نقرأه إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَصَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا، فَإِذَا فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ وَالْجِرَاحَاتِ، وَإِذَا فِيهَا: "مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القيامة صرف ولا عدل" 1. [109:2]

حضرت علی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں ہے، جس کو ہم پڑھتے ہوں، صرف اللہ کی کتاب ہے یا ایک صحیفہ ہے، جو میری تلوار کی میان میں ہے۔ پھر انہوں نے اس صحیفے کو ہمارے سامنے پڑھا، اس میں اونٹوں کی دیت کے حوالے سے اور زخموں کی دیت کے حوالے سے کچھ احکام تھے اور اس میں ایک یہ بات موجود تھی جو (آزاد شدہ غلام ) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کر ے اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں ، تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ تمام مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے ان کا عام فرد بھی اسے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور جو کوئی شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ایسے شخص کی قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور مدینہ منورہ اپنے دونوں کناروں کے درمیان پورے کا پورا قابل احترام ہے جوشخص یہا ں بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ایسے شخص سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔

عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3716

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1804

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} ، فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تقدم من ذنبہ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب امام غیر المغضوب علیھم ولاالضالین کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتے کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجاتا ہے۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان " تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو" اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرات کرنے والا شخص، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی۔

الْإِمَامُ فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ ← «إِذَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ أَحْكَامِ الْجُنُبِ · حديث 1205

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو يحدث عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ 2 عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" 3.

عبد اللہ بن نجی اپنےب والد کا یہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : "فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی شخص موجود ہو۔"

"لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ" ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← أَبَا زُرْعَةَ بن عمرو ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of rulings of the side · Hadith 1205

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3852

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلَائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ جَاءُونِي شعثا غبرا" 1. [2:1]

حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے وقت اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کا اظہار کرنے کا تذکرہ

انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ جَاءُونِي شعثا غبرا" ← "إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلَائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3852

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 611

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صورة آدمي فجعلوه بينهم فقال قيسوا2- بَابُ التَّوْبَةِ ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ النَّدَمَ تَوْبَةٌ [611] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فقَالَ قِيسُوا مَا بَیْنَ الْاَرْضِیْنِ اَیُّھُمَا کَانَ اَقْرَبَ فَھِیَ لَہٗ فَقَاسُوْہُ فَوَجَدُوہُ اَدْنَی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ أراد فقبضتہ بھا ملائکۃ الرحمۃ ۔(00:0)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا‘ تو اس کی رہنمائی ایک راہت کی طرف کی گئی۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے۔ راہب نے جواب دیا : جی نہیں! تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور سو کی تعداد کو مکمل کر لیا پھر اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے باے میں دریافت کیا ‘ تو اس کی رہنمائی ایک شخص کی طرف کی گئی۔ اس نے بتایا : اس نے ایک سو لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ تم فلاں سرزمین میں چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ( وہاں رہ کر ) عبادت کرنا اورواپس اپنی سرزمین کی طرف نہ آنا ‘ کیونکہ یہ برائی کی جگہ ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ جب وہ نصف راستے میں پہنچا ‘ تو اسے موت نے آلیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ شخص توبہ کرتے ہوئے خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف آتے ہوئے ‘ ہمارے پاس آیا ہے ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی پھر ایک فرشتہ ایک انسان کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے اسےاپنے درمیان ثالث تسلیم کیا ‘ تو فرشتے نے کہا: دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو۔ ان میں سے جن کے زیادہ قریب ہو گا یہ اس کا حصہ شمار ہو گا ۔ ان فرشتوں نے اس زمین کو ناپا انہوں نے اس شخص کو اس زمین کے زیادہ قریب پایا جہاں وہ جا رہا تھا ‘ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضے میں لے لیا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2557

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ مِنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ (2) رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ النَّاسُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ (3) رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ» (1) . [3: 67]

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہمارا پروردگار دو بندوں پر خوش ہوتا ہے ایک وہ شخص (رات کے وقت) اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتاہے تو اللہ تعالیٰ فرماتاہے : میرے اس بندے کو دیکھو یہ اپنے بستر اور لحاف میں اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے لوگ پسپا ہوجاتے ہیں وہ شخص بھی جانتا ہے پسپا ہونے کی صورت میں اس پر کیا وبال ہوگا اور واپس آنے کی صورت میں اسے کیا اجروثواب ملے گا تو وہ واپس (میدان جنگ میں) آجاتاہے یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے میرے اس بندے کی طرف دیکھو یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کہ اس کے خون کو بہادیا گیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2557

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2558

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الِانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقًا (1) مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ» (2) . [1: 2]

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ہمارا پروردگار دو آدمیوں پر خوش ہوتاہے ایک وہ شخص جو اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے بستر سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیزسے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اس کے ساتھی پسپا ہوجاتے ہیں وہ شخص جانتاہے پسپا ہونے پر اسے کیاوبال ہوگا اور واپس (جنگ میں) آنے پر کیا اجروثواب ملے گا تو وہ واپس آتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا جاتاہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھویہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے یہاں تک کےاس کے خون کو بہادیا گیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2558

chevron_left Previous
1…202122…694
Next chevron_right