Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

11303 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21587

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ شَاهِدٌ فُلَانٌ فَقَالُوا لَا فَقَالَ شَاهِدٌ فُلَانٌ فَقَالُوا لَا فَقَالَ شَاهِدٌ فُلَانٌ فَقَالُوا لَا فَقَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد باری باری کچھ لوگوں کے نام لے کر پوچھا کہ فلاں آدمی موجود ہے ؟ لوگوں نے ہر مرتبہ جواب دیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اگر انہیں ان کے ثواب کا پتہ چل جائے توضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسیٹ کر ہی آنا پڑے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہوتی ہے اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو اس کی طرف سبقت کرنے لگو اور انسان کی دوسرے کے ساتھ نماز (تنہا نماز پڑھنے سے اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا) ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے اور پھر جتنی تعداد بڑھتی جائے وہ اتنی ہی اللہ کی نگاہوں میں محبوب ہوتی ہے۔

لَا۔ ← شَاهِدٌ فُلَانٌ ← لَا۔ ← شَاهِدٌ فُلَانٌ ← لَا۔ ← شَاهِدٌ فُلَانٌ ← صلى رسول الله الصبح ← أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أبا إسحاق أنه ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21588

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ شَاهِدٌ فُلَانٌ فَسَكَتَ الْقَوْمُ قَالُوا نَعَمْ وَلَمْ يَحْضُرْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ إِنَّ صَلَاتَكَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ رَجُلٍ وَصَلَاتَكَ مَعَ رَجُلٍ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَبِي قَالَ وَكِيعٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَصِيرٍ عَنْمِيٌّ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد باری باری کچھ لوگوں کے نام لے کر پوچھا کہ فلاں آدمی موجود ہے ؟ لوگوں نے ہر مرتبہ جواب دیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اگر انہیں ان کے ثواب کا پتہ چل جائے تو ضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسٹ کر ہی آنا پڑے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہوتی ہے اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو اس کی طرف سبقت کرنے لگو اور انسان کی دوسرے کے ساتھ نماز (تنہا نماز پڑھنے سے اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا) ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے اور پھر جتنی تعداد بڑھتی جائے وہ اتنی ہی اللہ کی نگاہوں میں محبوب ہوتی ہے۔

وَكِيعٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَصِيرٍ عَنْمِيٌّ ← أَبِي ← نَعَمْ وَلَمْ يَحْضُرْ ← شَاهِدٌ فُلَانٌ فَسَكَتَ الْقَوْمُ ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلَّى ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21588

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21625

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا مِنْ الْمَغْرِبِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ مَكَانِكِ ثُمَّ قَرَأَ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمْ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج عرش کے نیچے غائب ہوتا ہے اسے اجازت ملتی ہے تو واپس آجاتا ہے جب وہ رات آجائے گی جس کی صبح کو سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور جب صبح ہوگی تو اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع ہو جہاں سے غروب ہوا تھا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ کسی اور چیز کا انتظار نہیں کر رہے سوائے اس کے کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آجائے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← يُونُسَ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26124

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ شَكَّ يَحْيَى فِي ثَلَاثٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں تین مرتبہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ۔

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26124

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26156

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ أَوْ رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے"سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26156

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16307

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ عَرَضْتُهُ وَجَمَعْتُهُ عَلَى مَا كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فَحَدِّثْ بِذَلِكَ عَنِّي قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْحِزَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ السَّمَعِيُّ الْأَنْصَارِيُّ الْقُبَائِيُّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ دَلْهَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ دَلْهَمٌ وَحَدَّثَنِيهِ أَبِي الْأَسْوَدُ عَنِ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ أَنَّ لَقِيطًا خَرَجَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ قَالَ لَقِيطٌ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِانْسِلَاخِ رَجَبٍ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَيْنَاهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَقَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكُمْ صَوْتِي مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ أَلَا لَأُسْمِعَنَّكُمْ أَلَا فَهَلْ مِنْ امْرِئٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ فَقَالُوا اعْلَمْ لَنَا مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُلْهِيَهُ حَدِيثُ نَفْسِهِ أَوْ حَدِيثُ صَاحِبِهِ أَوْ يُلْهِيَهُ الضُّلَّالُ أَلَا إِنِّي مَسْئُولٌ هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا اسْمَعُوا تَعِيشُوا أَلَا اجْلِسُوا أَلَا اجْلِسُوا قَالَ فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى إِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُهُ وَبَصَرُهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَكَ مِنْ عِلْمِ الْغَيْبِ فَضَحِكَ لَعَمْرُ اللَّهِ وَهَزَّ رَأْسَهُ وَعَلِمَ أَنِّي أَبْتَغِي لِسَقَطِهِ فَقَالَ ضَنَّ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ بِمَفَاتِيحِ خَمْسٍ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ قُلْتُ وَمَا هِيَ قَالَ عِلْمُ الْمَنِيَّةِ قَدْ عَلِمَ مَنِيَّةَ أَحَدِكُمْ وَلَا تَعْلَمُونَهُ وَعِلْمُ الْمَنِيِّ حِينَ يَكُونُ فِي الرَّحِمِ قَدْ عَلِمَهُ وَلَا تَعْلَمُونَ وَعَلِمَ مَا فِي غَدٍ وَمَا أَنْتَ طَاعِمٌ غَدًا وَلَا تَعْلَمُهُ وَعَلِمَ الْيَوْمَ الْغَيْثَ يُشْرِفُ عَلَيْكُمْ آزِلِينَ آدِلِينَ مُشْفِقِينَ فَيَظَلُّ يَضْحَكُ قَدْ عَلِمَ أَنَّ غَيْرَكُمْ إِلَى قُرْبٍ قَالَ لَقِيطٌ لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا وَعَلِمَ يَوْمَ السَّاعَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنَا مِمَّا تُعَلِّمُ النَّاسَ وَمَا تَعْلَمُ فَإِنَّا مِنْ قَبِيلٍ لَا يُصَدِّقُونَ تَصْدِيقَنَا أَحَدٌ مِنْ مَذْحِجٍ الَّتِي تَرْبَأُ عَلَيْنَا وَخَثْعَمٍ الَّتِي تُوَالِينَا وَعَشِيرَتِنَا الَّتِي نَحْنُ مِنْهَا قَالَ تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ يُتَوَفَّى نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَةُ لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا مَاتَ وَالْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ مَعَ رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَصْبَحَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُطِيفُ فِي الْأَرْضِ وَخَلَتْ عَلَيْهِ الْبِلَادُ فَأَرْسَلَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاءَ بِهَضْبٍ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِيلٍ وَلَا مَدْفِنِ مَيِّتٍ إِلَّا شَقَّتْ الْقَبْرَ عَنْهُ حَتَّى تَجْعَلَهُ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ فَيَسْتَوِي جَالِسًا فَيَقُولُ رَبُّكَ مَهْيَمْ لِمَا كَانَ فِيهِ يَقُولُ يَا رَبِّ أَمْسِ الْيَوْمَ وَلِعَهْدِهِ بِالْحَيَاةِ يَحْسَبُهُ حَدِيثًا بِأَهْلِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَجْمَعُنَا بَعْدَ مَا تُمَزِّقُنَا الرِّيَاحُ وَالْبِلَى وَالسِّبَاعُ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللَّهِ الْأَرْضُ أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ مَدَرَةٌ بَالِيَةٌ فَقُلْتَ لَا تَحْيَا أَبَدًا ثُمَّ أَرْسَلَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا السَّمَاءَ فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَيْكَ إِلَّا أَيَّامًا حَتَّى أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ شَرْيَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَجْمَعَهُمْ مِنْ الْمَاءِ عَلَى أَنْ يَجْمَعَ نَبَاتَ الْأَرْضِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ الْأَصْوَاءِ وَمِنْ مَصَارِعِهِمْ فَتَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَحْنُ مِلْءُ الْأَرْضِ وَهُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْنَا قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَةٌ مِنْهُ صَغِيرَةٌ تَرَوْنَهُمَا وَيَرَيَانِكُمْ سَاعَةً وَاحِدَةً لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَرَاكُمْ وَتَرَوْنَهُ مِنْ أَنْ تَرَوْنَهُمَا وَيَرَيَانِكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ إِذَا لَقِينَاهُ قَالَ تُعْرَضُونَ عَلَيْهِ بَادِيَةٌ لَهُ صَفَحَاتُكُمْ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ فَيَأْخُذُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ بِيَدِهِ غَرْفَةً مِنْ الْمَاءِ فَيَنْضَحُ قَبِيلَكُمْ بِهَا فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تُخْطِئُ وَجْهَ أَحَدِكُمْ مِنْهَا قَطْرَةٌ فَأَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْهَهُ مِثْلَ الرَّيْطَةِ الْبَيْضَاءِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَتَخْطِمُهُ مِثْلَ الْحَمِيمِ الْأَسْوَدِ أَلَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْتَرِقُ عَلَى أَثَرِهِ الصَّالِحُونَ فَيَسْلُكُونَ جِسْرًا مِنْ النَّارِ فَيَطَأُ أَحَدُكُمْ الْجَمْرَ فَيَقُولُ حَسِّ يَقُولُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ أَوَانُهُ أَلَا فَتَطَّلِعُونَ عَلَى حَوْضِ الرَّسُولِ عَلَى أَظْمَأِ وَاللَّهِ نَاهِلَةٍ عَلَيْهَا قَطُّ مَا رَأَيْتُهَا فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا يَبْسُطُ وَاحِدٌ مِنْكُمْ يَدَهُ إِلَّا وُضِعَ عَلَيْهَا قَدَحٌ يُطَهِّرُهُ مِنْ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْأَذَى وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَلَا تَرَوْنَ مِنْهُمَا وَاحِدًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبِمَا نُبْصِرُ قَالَ بِمِثْلِ بَصَرِكَ سَاعَتَكَ هَذِهِ وَذَلِكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِي يَوْمٍ أَشْرَقَتْ الْأَرْضُ وَاجَهَتْ بِهِ الْجِبَالَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبِمَا نُجْزَى مِنْ سَيِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا قَالَ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِمَّا الْجَنَّةُ إِمَّا النَّارُ قَالَ لَعَمْرُ إِلَهِكَ إِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُنَّ بَابَانِ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا وَإِنَّ لِلْجَنَّةِ لَثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ مَا مِنْهُمَا بَابَانِ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهُمَا سَبْعِينَ عَامًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَى مَا نَطَّلِعُ مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى وَأَنْهَارٍ مِنْ كَأْسٍ مَا بِهَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَا نَدَامَةٍ وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَمَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَبِفَاكِهَةٍ لَعَمْرُ إِلَهِكَ مَا تَعْلَمُونَ وَخَيْرٌ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَنَا فِيهَا أَزْوَاجٌ أَوْ مِنْهُنَّ مُصْلِحَاتٌ قَالَ الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِينَ تَلَذُّونَهُنَّ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِي الدُّنْيَا وَيَلْذَذْنَ بِكُمْ غَيْرَ أَنْ لَا تَوَالُدَ قَالَ لَقِيطٌ فَقُلْتُ أَقُضِيَ مَا نَحْنُ بَالِغُونَ وَمُنْتَهُونَ إِلَيْهِ فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُبَايِعُكَ قَالَ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَزِيَالِ الْمُشْرِكِ وَأَنْ لَا تُشْرِكَ بِاللَّهِ إِلَهًا غَيْرَهُ قُلْتُ وَإِنَّ لَنَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَظَنَّ أَنِّي مُشْتَرِطٌ شَيْئًا لَا يُعْطِينِيهِ قَالَ قُلْتُ نَحِلُّ مِنْهَا حَيْثُ شِئْنَا وَلَا يَجْنِي امْرُؤٌ إِلَّا عَلَى نَفْسِهِ فَبَسَطَ يَدَهُ وَقَالَ ذَلِكَ لَكَ تَحِلُّ حَيْثُ شِئْتَ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ إِلَّا نَفْسُكَ قَالَ فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ لَعَمْرُ إِلَهِكَ مِنْ أَتْقَى النَّاسِ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ فَقَالَ لَهُ كَعْبُ ابْنُ الْخُدْرِيَّةِ أَحَدُ بَنِي بَكْرِ بْنِ كِلَابٍ مِنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَنُو الْمُنْتَفِقِ أَهْلُ ذَلِكَ قَالَ فَانْصَرَفْنَا وَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِأَحَدٍ مِمَّنْ مَضَى مِنْ خَيْرٍ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّ أَبَاكَ الْمُنْتَفِقَ لَفِي النَّارِ قَالَ فَلَكَأَنَّهُ وَقَعَ حَرٌّ بَيْنَ جِلْدِي وَوَجْهِي وَلَحْمِي مِمَّا قَالَ لِأَبِي عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبُوكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِذَا الْأُخْرَى أَجْهَلُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَهْلُكَ قَالَ وَأَهْلِي لَعَمْرُ اللَّهِ مَا أَتَيْتَ عَلَيْهِ مِنْ قَبْرِ عَامِرِيٍّ أَوْ قُرَشِيٍّ مِنْ مُشْرِكٍ فَقُلْ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ مُحَمَّدٌ فَأُبَشِّرُكَ بِمَا يَسُوءُكَ تُجَرُّ عَلَى وَجْهِكَ وَبَطْنِكَ فِي النَّارِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فَعَلَ بِهِمْ ذَلِكَ وَقَدْ كَانُوا عَلَى عَمَلٍ لَا يُحْسِنُونَ إِلَّا إِيَّاهُ وَكَانُوا يَحْسِبُونَ أَنَّهُمْ مُصْلِحُونَ قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ فِي آخِرِ كُلِّ سَبْعِ أُمَمٍ يَعْنِي نَبِيًّا فَمَنْ عَصَى نَبِيَّهُ كَانَ مِنْ الضَّالِّينَ وَمَنْ أَطَاعَ نَبِيَّهُ كَانَ مِنْ الْمُهْتَدِينَ

عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اپنے ساتھی نھیک بن عاصم بن مالک کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب حاضر ہوئے تو رجب کا مہینہ ختم ہوچکا تھا اور اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تھے اس کے بعد آپ لوگوں کے سامنے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو میں نے چار دن تک اپنی آواز تم سے مخفی رکھی اب میں تمہیں سناتاہوں کیا کوئی شخص ایسابھی ہے جسے اس کی قوم نے بھیجا ہو لوگ مجھ سے کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے متعلق بتاؤ کہ ہم آئے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ اس آنے والے کو اس کے ذہن میں پیداہونے والے وساوس وخیالات ، یا اس کے ساتھی یا گمراہوں کا ٹولہ شیطان غافل کردے یاد رکھو مجھ سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا تو تم بتاؤ کہ کیا میں نے تم تک دین کی دعوت پہنچا دی ہے لوگو میری بات سنو تاکہ تم زندگی پاؤ اور بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ لوگ بیٹھ گئے لیکن میں اور میرا ساتھی کھڑے رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر جب ہم پر پڑی اور آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کے پاس کتنا علم غیب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اپنا سرہلایا اور آپ سمجھ گئے کہ میں یہ سوال ان لوگوں کی وجہ سے پوچھ رہا ہوں جن کی سوچ بہت پست ہوتی ہے اور فرمایا کہ تمہارے رب نے غیب کی پانچ کنجیاں صرف اپنے پاس ہی رکھی ہیں اور انہیں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا یہ کہہ کر آپ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔ میں نے پوچھا کہ وہ پانچ چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کا علم اللہ کو ہے کہ تم میں سے کون کب مرے گا لیکن تم نہیں جانتے۔ رحم مادر میں پڑنے والے قطرے کا علم اسی کے پاس ہے تم نہیں جانتے۔ آئندہ آنے والے کل کا علم اور یہ کہ کل تم کیا کھاؤ گے اسی کے پاس تم اسے نہیں جانتے۔ بارش کے دن کا علم اسی کے پاس ہے کہ جب تم عاجز اور خوف زدہ ہوجاتے ہو تو وہ تم پر بارش برساتا ہے اور ہنستا ہے اور جانتا ہے کہ تمہارا غیر قریب ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جو پروردگار ہنستا ہے وہ خیر سے محروم کبھی نہیں کرسکتا۔ قیامت کا علم۔پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ لوگوں کو جن باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور جو آپ کے علم میں ہیں وہ ہمیں بھی سکھا دیجیے کیونکہ ہم ان لوگوں میں سے کوئی بھی ہماری بات کوسچا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوگا کیونکہ ہمارا تعلق قبیلہ مذحج سے ہے جو ہم پر حکمران ہیں اور قبیلہ خثعم سے ہے جس کے ساتھ ہمارا موالات کا تعلق ہے اور اس قبیلے سے جس میں سے ہم ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ عرصہ تک تم اسی طرح رہو گے پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما جائیں گے۔ پھر تم کچھ عرصہ گذارو گے پھر ایک چنگھاڑی کی آواز آئے گی جوزمین کی پشت پر کسی شخص کو جیتا نہ چھوڑے گی اور وہ فرشتے جوتیرے رب کے ساتھ ہوں گے۔ پھر تیرا پروردگار زمین پر چکر لگائے گا جبکہ شہر خالی ہوچکے ہوں گے پھر وہ عرش سے آسمانوں پر سے بارش برسائے گا اور زمین پر کسی نامقتول کی قتل گاہ اور کسی مردے کی قبر ایسی نہ رہے گی جوشق نہ ہوجائے اور ہر شخص سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پروردگار فرمائیں گے کہ اسے اسی حالت میں روک لو جس میں وہ ہے وہ کہے گا پروردگار ماضی کا ایک دن مل جائے جب کہ وہ ایک طویل زندگی گذارچکا ہوگا اور یہی سمجھ رہا ہوگا کہ اپنے گھروالوں سے باتیں کررہاہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جب ہوائیں اور بوسیدگی اور درندے ہمیں ریزہ ریزہ کرچکے ہوں گے تو اس کے بعد پروردگار ہمیں کیونکہ جمع کرے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کی دوسری نعمتوں میں تمہارے ساتھ اس کی مثال بیان کرتا ہوں یہ زمین ایسی ہے جہاں تم گئے وہ بالکل بنجر اور ویران ہے تم اسے دیکھ کر کہتے ہو کہ یہ کبھی آباد نہیں ہو سکتی پھر پروردگار اس پر بارش برساتا ہے اور کچھ عرصہ بعد تمہارا دوبارہ اسی زمین پر گذر ہوتا ہے تو وہ لہلہارہی ہوتی ہں تمہارے معبود کی قسم وہ زمین میں نباتات کے مادے رکھنے سے زیادہ پانی سے انہیں جمع کرنے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ اپنی قبروں سے نکل آئیں گے تم اپنے رب کو دیکھو گے اور وہ تمہیں دیکھیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم سارے زمین والے مل کر اس ایک ذات کو اور وہ ایک ذات ہم سب کو کیسے دیکھ سکے گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کی دوسری نعمتوں میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں چاند اور سورج اس کی بہت چھوٹی سی علامت ہے تم آن واحد انہیں دیکھ سکتے ہو اور وہ تمہیں دیکھ سکتے ہیں تمیہں ان کو دیکھنے میں کسی قسم کی کوئی مشقت نہیں ہوتی تمہارے معبود کی قسم وہ بغیرمشقت کے تمہارے چاند وسورج کو ان کے تمہارے دیکھنے سے زیادہ اس بات پر قادر ہے کہ تم اسے اور وہ تمہیں دیکھ سکے۔ میں نے پوچھا کہ یارسول اللہ جب ہم اپنے پروردگار سے ملیں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس کے سامنے پیش کیا جائے گا تمہارے اعمال نامے اس کے سامنے کھلے پڑے ہوں گے اور اس پر تمہاری کوئی بات مخفی نہ ہوگی پروردگار پانی کا ایک قطرہ لے کرتم پر اس کا چھینٹا مارے گا اور تم میں سے کسی شخص سے بھی اس کا قطرہ خطا نہیں جائے مسلمان کے چہرے پر تو وہ قطرہ سفید رنگ کانشان چھوڑ جائے گا اور کافر کے چہرے پر سیاہ نقطے کانشان بنادے گا اس کے بعد تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوں گے ان کے پیچھے پیچھے نیک لوگ چل رہے ہوں گے اور وہ آگ کے ایک پل پر چلیں گے اور چنگاریوں کو اپنے پاؤں تلے روندیں گے پھر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر انتہائی پیاسے آؤ گے کہ اس سے قبل میں نے اتناپیاسا کسی کہ نہ دیکھا ہوگا تمہارے معبود کی قسم تم میں سے جو بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھائے گا اس پر پانی کا ایک پیالہ آجائے گا جو اسے پیشاب، پاخانہ اور ہرقسم کی گندگیوں سے پاک کردے گا سورج اور چاند کو قید کردیا جائے گا اور تم ان میں سے کسی کو نہ دیکھ سکو گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ تو پھر ہم کس کی روشنی میں دیکھیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اسی بینائی کی روشنی میں جواب تمہارے پاس ہے اس وقت سورج طلوع نہیں ہوا تھا ایک ایسے دن میں جب زمین پر روشنی ہو اور پہاڑ نظر آرہے ہوں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ہمیں نیکیوں اور گناہوں کا بدلہ کس طرح دیا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ثواب اور ایک گناہ کا اسی کے برابر وبال ہوگا الاّ یہ کہ وہ معاف فرمادے میں نے پوچھا یا رسول اللہ جنت اور جہنم کے بارے میں کچھ بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ سوار ان دونوں کے درمیان ستر سال تک چلتا رہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ہر دو دروازوں کے درمیان اتنافاصلہ ہے کہ سوار ان دونوں کے درمیان ستر سال تک چلتا رہے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ جنت میں ہمیں کون کون سی نعمتیں ملیں گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالص شہد کی نہریں ، شراب کی نہریں جن سے سر درد نہ ہوگا اور نہ کوئی باعث ندامت حرکت سرزد ہوگی ایسے دودھ کی نہریں جن کا ذائقہ کبھی خراب نہ ہو اور ایسے پانی کی نہریں جو کبھی بدبودار نہ ہو وہ میوے جو تم جانتے ہو اور اس سے بھی بہتر اور پاکیزہ بیویاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا وہ بیویاں جو ہمیں ملیں گی نیک ہوں گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکوں کے لئے نیک بیویاں ہی ہوں گی اور تم ان سے اور وہ تم سے اسی طرح لذت حاصل کریں گی جیسے دنیا میں تم ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہوالبتہ وہاں توالد کا سلسلہ نہ ہوگا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اس چیز کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ ہم کہاں جائیں جنت میں یا جہنم میں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا پھر میں نے عرض کیا کہ میں کس شرط پر آپ سے بیعت کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیلا کر فرمایا نماز قائم کرنے ، زکوۃ ادا کرنے مشرکین کو دور کرنے اور اللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریک نہ کرنے شرط پر میں نے عرض کیا ہمیں مشرق مغرب کے درمیان بھی کچھ حقوق حاصل ہوں گے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور یہ خیال فرمایا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط لگانے والا ہوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری نہیں کرسکتے تو میں نے عرض کیا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم جہاں چاہیں جاسکتے ہیں اور ہر آدمی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیلا کر فرمایا تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ تم جہاں چاہو جاسکتے ہو اور تمہارے جرم کا ذمہ دار صرف تم ہی ہو اس کے بعد لوگ واپس چلے گئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے معبود کی قسم یہ دونوں آدمی دنیا اور آخرت میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں یہ سن کربنوبکر کے ایک صاحب کعب بن خداریہ سے کہنے لگے کہ یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنومنتفق ہیں تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ پلٹ آیا اور پوچھا یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں فوت ہوجانے والوں کے لئے بھی کوئی خیر ہے اس پر قریش کا ایک آدمی کہنے لگا کہ واللہ تمہار اباپ منتفق جہنم میں ہے یہ سن کرمجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس نے میرے والد کے متعلق سب لوگوں کے سامنے جو کہا ہے اس سے میری کھال چہرے اور گوشت میں کسی نے آگ لگادی ہے میں نے سوچا کہ یہ کہہ دوں یا رسول اللہ آپ کے والد کہاں ہیں لیکن پھر میں نے ایک مختصر جملہ سوچ کر کہا یا رسول اللہ آپ کے اہل خانہ کہاں ہیں فرمایا میرے اہل خانہ کا بھی یہی حکم ہے واللہ تم جس مشرک عامر یاقریشی کی قبر پر جاؤ تو اسے یہ کہہ دو کہ مجھے تمہارے پاس محمد نے بھیجاہے جو تمہیں تمہارے اس برے حال پر تمہیں خوش خبری دیتے ہیں کہ تمہیں تمہارے چہرے اور پیٹ کے بل جہنم میں گھسیٹاجارہا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے جب کہ وہ انہیں اعمال کو نیکی گردانتے تھے اور وہ اپنے آپ کو نیکوکار ہی سمجھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ہر ساتویں امت کے آخر میں ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھیجاہے جس نے ان کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوگیا اور جس نے ان کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ ہوگیا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16307

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21788

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ يَا بَنِي غِفَارٍ قُولُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى النَّارِ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ هَذَانِ قَدْ عَرَفْنَاهُمَا فَمَا بَالُ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ قَالَ يُلْقِي اللَّه الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا يَبْقَى ظَهْرٌ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ الْمُعْجِبَةُ فَيُعْطِيهَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا

ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے بنوغفار! جو بات کہا کرو اس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا ہے کہ لوگوں کو تین گروہوں کی شکل میں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا ایک تو سواروں کا ہوگا جو کھاتے پیتے اور لباس پہنے ہوں گے دوسرا گروہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا ہوگا جن کے چہروں پر فرشتے آگ مسلط کر دیں گے اور انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا کسی نے پوچھا کہ ان دو گروہوں کی بات تو ہمیں سمجھ میں آگئی یہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا کیا معاملہ ہوگا؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ سواری پر کوئی آفت نازل کردے گا حتٰی کہ کوئی سواری نہ رہے گی یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایک آدمی کے پاس ایک نہایت عمدہ باغ ہو اور اسے کوئی غضبناک اونٹنی دے دی جائے توظاہر ہے کہ وہ اس پر سواری نہیں کر سکے گا۔

قَامَ أَبُو ذَرٍّ ← حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ← الوليد بن جميع القرشي ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21788

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16365

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ قَالَ شُعْبَةُ قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ قَالَتْ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنْ كَانَ تَصَارَمَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنْ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا فَسَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ فَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا

حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کرلے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کوسلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کوشیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مر گئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہوسکیں گے۔

هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← شُعْبَةُ قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16365

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16366

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنْ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبَلْ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ وَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا

حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کرلے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کوسلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا توسلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کوشیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مر گئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہوسکیں گے۔

هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16366

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16456

حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا وَيَذْكُرْ الصُّوَرَ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ قَالَ هَاشِمٌ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنْ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ جنا رب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں تصوریں ہوں راوی حدیث بسر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ بیمار ہوئے ہم ان کی عیادت کے لئے گئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا کہ کیا حضرت ابوطلحہ ہی نے پہلے ایک موقع پر ہمارے سامنے تصویروں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے متعلق حدیث سنائی تھی تو عبیداللہ نے جواب دیا کہ آپ نے انہیں کپڑے میں بنے ہوئے نقش ونگار کو مستثنی کرتے ہوئے نہیں سنا تھا۔

أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ← ليث يعني ابن سعد ← الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16456

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16458

و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔

لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا طَلْحَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16467

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔

لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ. ← أَبِي طَلْحَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16467

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16483

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویریں ہوں۔

أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21942

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حِينَ قَالَ طُوبَى لِلشَّامِ طُوبَى لِلشَّامِ قُلْتُ مَا بَالُ الشَّامِ قَالَ الْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَجْنِحَتِهَا عَلَى الشَّامِ

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ملک شام کے لئے خوشخبری ہے میں نے پوچھا کہ شام کی کیا خصوصیت ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ملک شام پر فرشتے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔

الْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَجْنِحَتِهَا عَلَى الشَّامِ ← طُوبَى لِلشَّامِ طُوبَى لِلشَّامِ قُلْتُ مَا بَالُ الشَّامِ ← بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمًا حِينَ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابن شماسة، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21942

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26580

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ

بنانہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر تھیں کہ ان کے یہاں ایک بچی آئی جس کے پاؤں میں گھونگھرو تھے اور ان کی بجنے کی آواز آرہی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا میرے پاس اس بچی کو نہ لاؤ، الاّ یہ کہ اس کے گھنگھرو اتار دو، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، بنانہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹیاں ہوں اور ایسے قافلے کے ساتھ بھی فرشتے نہیں جاتے جس میں گھنٹیاں ہوں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ذَلِكَ ← لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ ← بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← بُنَانَةَ مَوْلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22058

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ مَا أَقْدَمَكَ أَيْ أَخِي قَالَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ قَالَ لَا قَالَ أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ قَالَ لَا قَالَ مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ

قیس بن کثیر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ سے ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق میں آیا انہوں نے آنے والے سے پوچھا کہ بھائی! کیسے آنا ہوا ؟ اس نے کہا کہ ایک حدیث معلوم کرنے کے لئے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ کسی تجارت کے سلسلے میں نہیں آئے؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے پوچھا کسی اور کام کے لئے ؟ اس نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ صرف اسی حدیث کے طلب میں آئے ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے میں چلتا ہے اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے اور فرشتے اس طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چاند کی دوسرے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں جو وراثت میں دینار و درہم نہیں چھوڑتے ، بلکہ وہ تو وراثت میں علم چھوڑ کر جاتے ہیں ، سو جو اسے حاصل کر لیتا ہے وہ اس کا بہت سا حصہ حاصل کرلیتا ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي ← نَعَمْ ← مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ ← لَا۔ ← أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ ← لَا۔ ← أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ ← مَا أَقْدَمَكَ أَيْ أَخِي ← قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ ← كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22058

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26598

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے "سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"

فِي رُکُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26599

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے "سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ"

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18733

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَاذَانَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَكَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنْ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ دِينِيَ الْإِسْلَامُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ لَهُ وَمَا عِلْمُكَ فَيَقُولُ قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ قَالَ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ لَهُ مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ فَيَقُولُ رَبِّ أَقِمْ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي قَالَ وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنْ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمْ الْمُسُوحُ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنْ اللَّهِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنْ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا ثُمَّ قَرَأَ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنْ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنْ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَافْرِشُوا لَهُ مِنْ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ فَيَقُولُ رَبِّ لَا تُقِمْ السَّاعَةَ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چنانچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے ۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کانامہ اعمال " علیین " میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔چنانچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرادین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرادین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحد نگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہاراچہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں ۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے " اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا نامہ اعمال " سجین " میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دور دراز کی جگہ میں لے جا ڈالے ۔ " پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کچھ پتہ نہیں ، وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے اور آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس ایک بدصورت آدمی گندے کپڑے پہن کر آتا ہے جس سے بدبو آرہی ہوتی ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تجھے خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ کہ تیرے چہرے ہی سے شر کی خبر معلوم ہوتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا گندہ عمل ہوں وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ ← مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18815

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَاذَانَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةٍ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ وَهُوَ يُلْحَدُ لَهُ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ وَانْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا تَنَزَّلَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمْ الشَّمْسَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا رَبِّ عَبْدُكَ فُلَانٌ فَيَقُولُ أَرْجِعُوهُ فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ مَنْ رَبُّكَ مَا دِينُكَ مَنْ نَبِيُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْتَهِرُهُ فَيَقُولُ مَنْ رَبُّكَ مَا دِينُكَ مَنْ نَبِيُّكَ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ ثُمَّ يَأْتِيهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ طَيِّبُ الرِّيحِ حَسَنُ الثِّيَابِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنْ اللَّهِ وَنَعِيمٍ مُقِيمٍ فَيَقُولُ وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ مَنْ أَنْتَ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ بَطِيئًا عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ الْجَنَّةِ وَبَابٌ مِنْ النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ قَالَ رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي فَيُقَالُ لَهُ اسْكُنْ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَتْ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ فَانْتَزَعُوا رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَثِيرُ الشِّعْبِ مِنْ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَعْرُجَ رُوحُهُ مِنْ قِبَلِهِمْ فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا رَبِّ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ عَبْدُكَ قَالَ أَرْجِعُوهُ فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ قَالَ فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ مَنْ رَبُّكَ مَا دِينُكَ مَنْ نَبِيُّكَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيَقُولُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ وَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنْ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ فَيَقُولُ وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ مَنْ أَنْتَ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَةٌ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً حَتَّى يَصِيرَ تُرَابًا ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ النَّارِ وَيُمَهَّدُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چنانچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے ۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کانامہ اعمال " علیین " میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔چنانچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحدنگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہارا چہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں ۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت يآکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے " اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کانامہ اعمال " سجین " میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دوردراز کی جگہ میں لے جاڈالے ۔ " پھر اس کی روح جسم میں لوٹادی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کچھ پتہ نہیں ، وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے اور آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس ایک بدصورت آدمی گندے کپڑے پہن کر آتا ہے جس سے بدبو آرہی ہوتی ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تجھے خوشخبری مبارک ہویہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ کہ تیرے چہرے ہی سے شر کی خبر معلوم ہوتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیراگندہ عمل ہوں تو اللہ کی اطاعت کے کاموں میں سست اور اس کی نافرمانی کے کاموں میں چست تھا لہٰذا اللہ نے تجھے برا بدلہ دیاہے پھر اس پرا ایک ایسے فرشتے کو مسلط کردیا جاتا ہے جواندھا، گونگا اور بہرا ہو اس کے ہاتھ میں اتنا بڑا گرز ہوتا ہے کہ اگر کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہوجائے اور وہ اس گرز سے اسے ایک ضرب لگاتا ہے اور وہ ریزہ ریزہ جاتا ہے پھر اللہ اسے پہلے والی حالت پر لوٹادیتا ہے پھر وہ اسے ایک اور ضرب لگاتا ہے جس سے وہ اتنی زور سے چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ساری مخلوق اسے سنتی ہے پھر اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور آگ کا فرش بچھادیا جاتاہے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18815

chevron_left Previous
1…131415…566
Next chevron_right