Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

11303 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22275

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظُفْرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ يُشْبِهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِ وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو یاد رکھو! اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہوگی ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا ، اس کے پاس جنت اور جہنم کی تمثیلی دو وادیاں ہوں گے ، اگر میں چاہوں تو ان دو نبیوں اور ان کے آباؤ اجداد کا نام بھی بتا سکتا ہوں ، ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا بائیں جانب اور یہ ایک آزمائش ہوگی ۔ پھر دجال کہے گا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ ان میں سے ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے لیکن یہ بات اس کے ساتھی فرشتے کے علاوہ کوئی انسان نہ سن سکے گا، اس کا ساتھی اس سے کہے گا کہ تم نے سچ کہا، اس کی آواز لوگ سن لیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ وہ دجال کی تصدیق کر رہا ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہوگی ، پھر وہ روانہ ہوگا یہاں تک کہ مدینہ منورہ جا پہنچے گا لیکن اسے وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی اور وہ کہے گا کہ یہ اس آدمی کا شہر ہے پھر وہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ اسے " افیق " نامی گھاٹی کے قریب ہلاک کروا دے گا۔ ی

إِلَّا ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَشْرَجٌ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22275

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22303

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً

حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود کا وہ ایک درہم جوانسان جانتے بوجھتے کھاتا ہے ٣٦ مرتبہ بدکاری سے زیادہ سخت گناہ ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19092

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ عَمَّارًا قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي فَقَالَ اغْسِلْ هَذَا قَالَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَقَالَ اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ وَلَا الْجُنُبَ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ

حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے اس لئے انہوں نے میرے ہاتھوں پر زعفران مل دی صبح کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ میں نے جا کر اسے دھولیا لیکن جب واپس آیا تو پھر بھی زعفران لگی رہ گئی تھی اس لئے اس مرتبہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور نہ ہی خوش آمدید کہا بلکہ فرمایا اسے دھو کر آؤ چنانچہ اس مرتبہ میں نے اسے اچھی طرح دھویا اور پھر حاضر ہو کر سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھی دیا اور خوش آمدید بھی کہا اور فرمایا کہ رحمت کے فرشتے کافر کے جنازے ، زعفران ملنے والے اور جنبی کے پاس نہیں آتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی آدمی کو وضو کرکے سوجانے یا کھانے پینے کی رخصت دی ہے۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19254

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَانَا رَأْيَ عَيْنٍ فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَهْلِي وَوَلَدِي فَذَكَرْتُ مَا كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ وَمَاذَاكَ ذَاكَ قُلْتُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَانَا رَأْيَ عَيْنٍ فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِي وَأَهْلِي فَقَالَ إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَاكَ قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَأَنْتُمْ عَلَى فُرُشِكُمْ وَبِالطُّرُقِ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے وہاں ہم جنت اور جہنم کا تذکرہ کرنے لگے اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر جب میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کے پاس آیا تو ہنسنے اور دل لگی کرنے لگا اچانک مجھے یاد آیا کہ ابھی ہم کیا تذکرہ کر رہے تھے ؟چنانچہ میں گھر سے نکل آیا راستے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں کہنے لگا کہ میں تو منافق ہوگیا ہوں انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے انہیں ساری بات بتائی انہوں نے فرمایا کہ یہ تو ہم بھی کرتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کیفیت ذکر کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حنظلہ ! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں حنظلہ ! وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔

حَنْظَلَةُ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19254

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19255

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كُنَّا فَإِذَا فَارَقْنَاكَ كُنَّا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ عَلَى الْحَالِ الَّذِي تَكُونُونَ عَلَيْهَا عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَلَأَظَلَّتْكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں توہماری کیفیت کچھ ہوتی ہے اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو وہ کیفیت بدل جاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں اور وہ تم پر اپنے پروں سے سایہ کرنے لگیں ۔

قُلْتُ ← حَنْظَلَةَ الْأُسَيْدِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19255

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19720

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مُسْلِمٍ فَقُومُوا لَهَا فَلَسْتُمْ لَهَا تَقُومُونَ إِنَّمَا تَقُومُونَ لِمَنْ مَعَهَا مِنْ الْمَلَائِكَةِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہارے سامنے سے کی یہودی ، عیسائی یا مسلمان کاجنازہ گذرے تو تم کھڑے ہوجایا کرو ، کیونکہ تم جنازے کی خاطر کھڑے نہیں ہوگے ، ان فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوگے جوجنازے کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19720

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19770

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِي كِنَانَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ ثُمَّ قَالَ هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانٍ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھرکے دروازے پر پہنچے جہاں کچھ قریشی جمع تھے اور دروازے کے دونوں کواڑ پکڑ کر پوچھا کہ کیا اس گھر میں قریشیوں کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ کسی نے جواب دیا ہمارا فلاں بھانجاہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے پھر فرمایا حکومت قریش ہی میں رہے گی جب تک ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کرتے رہیں فیصلہ کریں تو انصاف کریں تقسیم کریں تو عدل سے کام لیں جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔

فَقِيلَ ← هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟ ← وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ ثُمَّ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي کِنَانَةَ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← عَوْفٌ، ← عَوْفٌ وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19770

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12931

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا فِي بَيْتِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَقَفَ فَأَخَذَ بِعِضَادَةِ الْبَابِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ وَلَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقٌّ وَلَكُمْ مِثْلُ ذَلِكَ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک انصاری کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھڑے ہو کر دروازے کے کواڑ پکڑ لئے ، اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے، اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب لوگ ان سے رحم کی درخواست کریں تو وہ ان سے رحم کا معاملہ کریں ، وعدہ کریں تو پورا کریں ، فیصلہ کریں تو انصاف کریں ، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

أَنَسٍ، ← بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، ← سَهْلٍ أَبِي الأَسْدِ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13001

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ وَالْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ فَذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنْ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتْ الْوَلَدَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی، اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا، اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی'' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13001

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13017

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ ساری زمین کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا، وہ مدینہ آنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہر دروازے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا، پھر وہ " جرف " کے ویرانے میں پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بهز وعفان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13017

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13094

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

عاصم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ حرم ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرم قرار دیا ہے، اس کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی، جو شخص ایسا کرتا ہے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

سألت أنس بن مالك أحرم رسول الله المدينة؟ ← عَاصِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13117

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13120

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13120

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13176

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ قَائِلًا مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمَا يَرِدُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيَعْمِدُ إِلَيْهَا وَلَكِنَّهُ يَجِدُ الْمَلَائِكَةَ صَافَّةً بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنْ الدَّجَّالِ قَالَ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَفَرَ يُهَجَّاهُ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ أُمِّيٍّ أَوْ كَاتِبٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا دجال مدینہ منورہ میں داخل ہوسکے گا؟ نبی مکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہویا پڑھا لکھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13426

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ قَائِلًا مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ قَالَ بَلَى إِنَّهُ لَيَعْمَلُ إِلَيْهَا فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنْ الدَّجَّالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔

بَلَى إِنَّهُ لَيَعْمَلُ إِلَيْهَا فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ بِنِقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا يَحْرُسُونَهَا مِنْ الدَّجَّالِ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمَا يُرِيدُ الْمَدِينَةَ ← وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ قَائِلًا مِنْ النَّاسِ ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13426

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26618

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک تصویر والی چادر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دورازے پر ہی کھڑے رہے ، اندر نہ آئے ، میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا یہ چادر کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لئے خریدی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو اور فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26618

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26824

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سُئِلَ سَعِيدٌ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع وسجود میں یہ پرھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ فَأَخْبَرَنَا ← سُئِلَ سَعِيدٌ مَا ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26824

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26999

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ وَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ثُمَّ عَلِيٌّ ثُمَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَتَجَلَّلَهُ فَتَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگرصحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی علیہ السلام اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔

حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26999

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27000

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگرصحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی علیہ السلام اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔

حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ← أَبِي الْيَعْفُورِ، ← أبو معاوية يعني شيبان ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27000

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27030

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ قَالَتْ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ فَقَالَ قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً قَالَتْ فَقُلْتُ فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی علیہ السلام نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کانعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی علیہ السلام کی صورت میں عطاء فرمادیا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27030

chevron_left Previous
1…141516…566
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics