Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الملائكة

Angels

  • Angels
  • فرشتے

11303 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12278

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَتَعَجَّبَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ فَقَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْجِبَالِ قَالَ نَعَمْ الْحَدِيدُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمْ النَّارُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ الْمَاءُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْمَاءِ قَالَ نَعَمْ الرِّيحُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الرِّيحِ قَالَ نَعَمْ ابْنُ آدَمَ يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ڈانواں ڈول ہونے لگی، اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر رکھ دیا تو وہ اپنی جگہ ٹھہر گئی، ملائکہ کو پہاڑوں کی تخلیق پر تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ پروردگار! کیا آپ نے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں ! لوہا، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا لوہے سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز آپ نے پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں ! آگ، فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں ! ہوا، فرشتوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا آپ نے ہوا سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ابن آدم، جو دائیں ہاتھ سے خرچ کرتا ہے تو بائیں ہاتھ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12332

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

بکیر بن وہب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا، اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے، اور ان کا تم پر حق بنتا ہے، اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں ، وعدہ کریں تو پورا کریں ، فیصلہ کریں تو انصاف کریں ، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ ← بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ← سَهْلٍ أَبِي الأَسْدِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12332

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12432

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ أَوْ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں تجھے اپنے دل میں یاد کروں گا، اگر تو کسی مجلس میں میرا تذکرہ کرے گا تو میں اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں تیرا تذکرہ کروں گا، اگر تو بالشت برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک گز کے برابر تیرے قریب ہو جاؤں گا اور اگر تو ایک گز کے برابر میرے قریب آئے گا تو میں ایک ہاتھ کے برابر تیرے قریب ہو جاؤں گا اور اگر تو میرے پاس چل کر آئے گا تو میں تیرے پاس دوڑ کر آؤں گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12432

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12433

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَلَمْ يُسْمِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا هِيَ بِأُذُنِي وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنْ الْبَرَكَةِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور اجازت لے کر " السلام علیکم ورحمۃ اللہ " کہا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آہستہ آواز سے " جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں تک نہ پہنچی" اس کا جواب دیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سلام کیا اور تینوں مرتبہ انہوں نے اس طرح جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ سن سکے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ گئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی پیچھے دوڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جتنی مرتبہ بھی سلام کیا، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اس کا جواب دیا لیکن آپ کو نہیں سنایا (آواز آہستہ رکھی) میں چاہتا تھا کہ آپ کی سلامتی اور برکت کی دعاء کثرت سے حاصل کروں ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے گئے اور کشمش پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول کرنے کے بعد فرمایا تمہارا کھانا نیک لوگ کھاتے رہیں ، تم پر ملائکہ رحمت کی دعائیں کرتے رہیں اور روزہ دار تمہارے یہاں افطار کرتے رہیں ۔

أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12433

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12827

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں ، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔

لِلنَّبِيِّ ← أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25303

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنْ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِمَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ قَالَ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرِ وَأَحَدُّ مِنْ السَّيْفِ عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن کوئی دوست اپنے دوست کو یاد رکھے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! تین جگہوں پر تو بالکل نہیں، ایک تو میزان عمل کے پاس، جب تک کہ اس کے اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری یا ہلکا نہ ہو جائے دوسرے اس وقت جب ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا کہ وہ دائیں ہاتھ میں آتا ہے یا بائیں ہاتھ میں، اور تیسرے اس وقت جب جہنم سے ایک گردن باہر نکلے گی، وہ غیظ و غضب سے ان پر الٹ پڑے گی اور تین مرتبہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتا رہا ہے، مجھے مسلط کیا گیا ہے اس شخص پر جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اور مجھے ہر ظالم سرکش پر مسلط کیا گیا ہے، پھر وہ انہیں لپیٹے گی اور جہنم کی تاریکیوں میں پھینک دے گی۔ اور جہنم پر ایک پل ہو گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کانٹے اور آنکڑے ہوں گے جو ہر اس شخص کو پکڑ لیں گے جسے اللہ چاہے گا، پھر کچھ لوگ اس پر پلک جھپکنے کی مقدار میں، کچھ بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح اور کچھ تیز رفتار گھوڑوں کی طرح اور کچھ دوسرے سواروں کی طرح سے گذر جائیں گے اور فرشتے یہ کہتے ہوں گے کہ پروردگار! بچانا، بچانا، اسی طرح کچھ لوگ صحیح سلامت بچ جائیں گے، کچھ زخمی ہوکر بچ جائیں گے اور کچھ چہروں کے بل جہنم میں گر پڑیں گے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25354

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَفَّانُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← عَفَّانُ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25354

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25457

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا شَدِيدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَا عَائِشَةُ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَقُلْتُ مَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ مِنْ الطَّعَامِ قَالَ مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ قُلْتُ فَأَيُّ الْمَالِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ قَالَ غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ مِنْ الْمَاءِ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا طَعَامَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، میں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔

عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25457

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15768

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ

حضرت عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے توجب تک وہ مجھ پر درود پڑھتارہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟

رَسُولَ اللهِ يَخْطُبُ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15768

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15777

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَلَّى عَلَيَّ أَحَدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يُصَلِّي عَلَيَّ فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ

حضرت عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے توجب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15777

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25603

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ وَاخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي وَيُقَالُ بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ قَالُوا اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي مِنْهُ ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ فَمَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا فَيُقَالُ فُلَانٌ فَيُقَالُ لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنْ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَيُقَالُ لَهُ وَيَرُدُّ مِثْلَ مَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ سَوَاءً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ! "جو پاکیزہ جسم میں رہا" یہاں سے نکل، قابل تعریف ہوکر نکل اور روح و ریحان کی خوشخبری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے، آواز آتی ہے کون؟ جواب دیا جاتا ہے؟ "فلاں" آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا، خوش آمدید! قابل تعریف ہوکر داخل ہو جاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاتات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگارعالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہگار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح" جو خبیث جسم میں رہی" نکل، قابل مذمت ہو کر نکل کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر، اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، پوچھا جاتا ہے کون؟ بتایا جاتا ہے کہ "فلاں" وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی، کوئی خوش آمدید نہیں، اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ جا، تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، چنانچہ وہ آسمان سے واپس آ کر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلے مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہگار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25603

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25610

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ وَرَائِي يَعْنِي حِسَّ الْأَرْضِ قَالَتْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ قَالَتْ فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ قَالَتْ وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ لَيْتَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ فَقُمْتُ فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَإِذَا فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَبْغَةٌ لَهُ يَعْنِي مِغْفَرًا فَقَالَ عُمَرُ مَا جَاءَ بِكِ لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءٌ أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ قَالَتْ فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا قَالَتْ فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا عُمَرُ وَيْحَكَ إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَتْ وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ فَقَالَ لَهُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ قَالَتْ وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَرَقَى كَلْمُهُ وَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَكَفَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَوِيًّا عَزِيزًا فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيهِمْ وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَوَضَعَ السِّلَاحَ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعُ الْغُبَارِ فَقَالَ أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعَتْ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ قَالَتْ فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ فَقَالَ مَنْ مَرَّ بِكُمْ فَقَالُوا مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَتْ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ قِيلَ لَهُمْ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ قَالُوا نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَنَزَلُوا وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ فَقَالُوا يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ قَالَتْ وَأَنَّى لَا يُرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ قَدْ آنَ لِي أَنْ لَا أُبَالِيَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ عُمَرُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْكُمْ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ وَيُقْسَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ قَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ قَالَتْ فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ قَالَتْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ قَالَ عَلْقَمَةُ قُلْتُ أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَتْ كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر لوگوں کے نشانات قدم کی پیروی کرتے ہوئے نکلی، میں نے اپنے پیچھے زمین کے چیرنے کی آواز سنی، میں نے پلٹ کر دیکھا تو اچانک میرے سامنے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے، ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس تھا جو ڈھال اٹھائے ہوئے تھا، میں زمین پر بیٹھ گئی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے گذر گئے، انہوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی اس سے ان کے اعضاء باہر نکلے ہوئے تھے جن کے متعلق مجھے نقصان کا اندیشہ ہونے لگا، کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تمام لوگوں میں عظیم تر اور طویل تر تھے، وہ میرے قریب سے گذرتے ہوئے یہ رجزیہ شعر پڑھ رہے تھے تھوڑی دیر انتطار کرو، لڑائی اپنا بوجھ اٹھائے گی اور وہ موت کتنی اچھی ہے جو وقت مقررہ پر آجائے۔ اس کے بعد میں وہاں سے اٹھی اور ایک باغ میں گھس گئی، دیکھا کہ وہاں مسلمانوں کی جماعت موجود ہے، جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور ان میں سے ایک آدمی کے سر پر خود بھی ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم کیوں آئی ہو؟ واللہ تم بڑی جری ہو، تم اس چیز سے کیسے بے خطر ہو گئی ہو کہ کوئی مصیبت آجائے یا کوئی تمہیں پکڑ کر لے جائے؟ وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں تمنا کرنے لگی کہ اس وقت زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں، اسی دوران اس آدمی نے اپنے چہرے سے خود ہٹایا تو وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہنے لگے ارے عمر ! آج تو تم نے بہت ہی حد کر دی، اللہ کے علاوہ کہاں جانا ہے اور کہاں پکڑ کر جمع ہونا ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر مشرکین قریش میں سے ایک آدمی "جس کا نام ابن عرقہ تھا" تیر برسانے لگا اور کہنے لگا کہ یہ نشانہ روکو کہ میں ابن عرقہ ہوں، وہ تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ گیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک میری آنکھیں بنو قریظہ کے معاملے میں ٹھندی نہ ہو جائیں، بنو قریظہ کے لوگ زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف اور آزاد کردہ غلام تھے، بہر حال! ان کا زخم بھر گیا اور اللہ نے مشرکین پر آندھی مسلط کردی، اور لڑائی سے مسلمانوں کی کفایت فرمالی اور اللہ طاقتور غالب ہے۔ اس طرح ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ واپس جلے گئے، عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے، بنو قریظہ واپس اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آگئے اور اسلحہ اتار کر حکم دیا کہ چمڑے کا ایک خیمہ مسجد میں سعد کے لئے لگا دیا جائے، اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے، غبار جن کے دانتوں پر اپنے آثار دکھا رہا تھا، وہ کہنے لگے کہ کیا آپ نے اسلحہ اتار کر رکھ دیا؟ واللہ ملائکہ نے تو ابھی تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوجائے اور ان سے قتال کیجئے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں میں کوچ کی منادی کرادی اور روانہ ہو گئے۔ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنوغنم پر ہوا جو کہ مسجد نبوی کے آس پاس رہنے والے پڑوسی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ابھی تمہارے پاس سے کوئی گذر کرگیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گذر کرگئے ہیں، دراصل حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی، دانت اور چہرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے مشابہہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے قریب پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا اور پچیس دن تک محاصرہ جاری رکھا، جب یہ محاصرہ سخت ہوا اور ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا تو انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دو، انہوں نے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں مشورہ مانگا تو انہوں نے اشارے سے بتایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم سعد بن معاذ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات مان لی انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہیں ایک گدھے پر سوار کرکے لایا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان پڑا ہوا تھا، ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں گھیر رکھا تھا اور وہ ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابو عمر! یہ تمہارے ہی حلیف، آزاد کردہ غلام اور کمزور لوگ ہیں اور وہ جنہیں تم جانتے ہو، لیکن وہ انہیں کچھ جواب دے رہے تھے، اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کر رہے تھے، جب وہ ان کے گھروں کے قریب پہنچ گئے تو اپنے قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اب وہ وقت آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کروں، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ انہیں سواری سے اتارو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا آقا تو اللہ تعالیٰ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اتارو، لوگوں نے انہیں اتارا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے متعلق فیصلہ کرو، انہوں نے کہا کہ میں ان کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو افراد قتل کئے جائیں ان کے بچے قید کر لئے جائیں اور ان کا مال و دولت تقسیم کر لیا جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ اور رسول کے فیصلے کے مطابق ان کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ اگر تو نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریش کی جنگوں کا کچھ حصہ باقی رکھا ہے تو مجھے زندہ رکھ اور اگر تو نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان جنگوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے تو مجھے اپنے پاس بلالے، قبل ازیں وہ تندرست ہو چکے تھے اور صرف ایک بالی کے برابر زخم دکھائی دے رہا تھا لیکن یہ دعا کرتے ہوئے وہ زخم دوبارہ پھوٹ پڑا اور وہ اپنے اس خیمے میں واپس چلے گئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ان کے لئے لگوایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکروعمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں اپنے حجرے کے اندر حضرت عمر اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز میں امتیاز کر رہی تھی، اور یہ لوگ اسی طرح تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ" ہ آپس میں رحم دل ہیں۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا اماں جان! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کیا کیفیت تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے، البتہ جب بہت غمگین ہوتے تو اپنی ڈاڑھی مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔

جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25661

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھےسُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25661

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15914

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَوْ مَلَكًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ قَالُوا خِيَارُنَا قَالَ كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُنَا مِنْ الْمَلَائِكَةِ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل یا کوئی اور فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ لوگ اپنے درمیان شرکاء بدر کو کیسا پاتے ہیں بتایا کہ سب سے بہترین افراد اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بھی وہ فرشتے سب سے بہترین سمجھے جاتے ہیں جو اس غزوے میں شریک ہوئے۔

كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُنَا مِنْ الْمَلَائِكَةِ ← خِيَارُنَا ← مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ ← إِنَّ جِبْرِيلَ أَوْ مَلَكًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ← جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15914

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25679

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ قَالَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25679

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25709

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَتْ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہاے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25731

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَىِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَاسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ قَالَ لَيْثٌ وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ أَلَا أَسْتَحِي مِمَّنْ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی آپ نے کپڑا سمیٹنے کے لئے فرمایا جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ سے ابوبکر و عمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں واللہ جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25868

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہارے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25868

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21560

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُتَيٍّ قَالَ رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِيهِ أَيْ بَنِيَّ إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَمَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ وَمَعَهُمْ الْفُؤُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ فَقَالُوا لَهُمْ يَا بَنِي آدَمَ مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ قَالُوا أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ قَالُوا لَهُمْ ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ قَضَاءُ أَبِيكُمْ فَجَاءُوا فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ فَقَالَ إِلَيْكِ إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنِّي إِنَّمَا أُوتِيتُ مِنْ قِبَلِكِ خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ ثُمَّ قَالُوا يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ

عتی کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا (یہ کون ہیں ) لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا بچو! میرا دل جنت کا پھل کھانے کی خواہش کر رہا ہے چنانچہ ان کے بیٹے جنتی پھل کی تلاش میں نکل گئے سامنے سے فرشتے آتے ہوئے دکھائی دیئے ان کے ساتھ کفن اور حنوط تھی اور ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں ، پھاوڑے اور کسیاں بھی تھیں فرشتوں نے ان سے پوچھا کہ اے اولاد آدم کہاں کا ارادہ ہے اور کس چیز کو تلاش کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد بیمار ہیں اور ان کا دل جنتی پھل کھانے کو چاہ رہا ہے فرشتوں نے ان سے کہا کہ واپس چلے جاؤ کہ تمہارے والد کا وقت آخر قریب آگیا ہے۔ فرشتے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچے تو حضرت حواء علیہا السلام انہیں دیکھتے ہی پہچان گئیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا پیچھے ہٹو تمہاری ہی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملات پیش آئے میرا اور میرے رب کے فرشتوں کا راستہ چھوڑ دو چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کر لی انہیں غسل دیا کفن پہنایا، حنوط لگائی گڑھا کھود کر قبر تیار کی ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر قبر میں اتر کر انہیں قبر میں لٹایا اور اس پر کچی اینٹیں برابر کر دیں پھر قبر سے باہر نکل کر ان پر مٹی ڈالنے لگے اور اس کے بعد کہنے لگے اے بنی آدم! یہ ہے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ ۔

هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ← رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25948

حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

عَائِشَةَ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25948

chevron_left Previous
1…121314…566
Next chevron_right