Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

النفاق

Nifaq

  • Nifaq
  • نفاق

1121 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْوَسْوَسَةِ] · حديث 86

86 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ عِنْدَكَ عَلَى حَالٍ حَتَّى إِذَا فَارَقْنَاكَ نَكُونُ عَلَى غَيْرِهِ. قَالَ: " كَيْفَ أَنْتُمْ وَنَبِيُّكُمْ؟ " قَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَرَبُّكُمْ؟ " قَالُوا: اللَّهُ رَبُّنَا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ». وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں کہ ، تو ہماری مخصوص کیفیت ہوتی ہے، اور جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، تو وہ کیفیت تبدیل ہو جاتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اپنے نبی کے ساتھ تعلق کیسا ہے؟ انہوں نے عرض کی : پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے نبی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ چیز ( یعنی کیفیات کا تبدیل ہونا ) منافقت نہیں ہے۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم امام بزار کے الفاظ یہ ہیں : "تمہارا اور تمہارے پر وردگار کا تعلق کیسا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: پوشیدہ اور علانیہ ( ہر حال میں ) اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے"۔ امام ابو یعلی ٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A section in an obsession] · Hadith 86

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَلْبِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ] · حديث 224

224 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَيْهِ غِلَافُهُ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ ; فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِيهِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقَرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " دل چار قسم کے ہوتے ہیں ، ایک دل جو مجرد ہو، اس میں چراغ روشن ہوتا ہے ، ایک وہ دل جو پردے میں ہوتا ہے ، اس پر اس کا غلاف چڑھا ہوتا ہے، ایک دل اوندھا ہوتا ہے، اور ایک دل کشادہ ہوتا ہے ، جہاں تک مجرو دل کا تعلق ہے، تو وہ ،مؤمن کا دل ہے جس میں اس کا چراغ موجود ہوتا ہے اور اس میں اس کی روشنی ہوتی ہے ، جہاں تک غلاف والے دل کا تعلق ہے، تو وہ کافر کا دل ہوتا ہے، جہاں تک اوندھے دل کا تعلق ہے ، تو وہ منافق کا دل ہوتا ہے، جو ( حق کو ) پہچان لیتا ہے اور پھر انکار کر دیتا ہے، جہاں تک کشادہ دل کا تعلق ہے ، تو وہ ایسا دل ہے، جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی ہوتا ہے ، اس میں موجود ایمان کی مثال سبزی کی مانند ہے، جسے صاف پانی بڑھا دیتا ہے، اور اس میں موجود نفاق کی مثال ، اس زخم کی مانند ہے، جس میں پیپ اور خون زیادہ ہوتا ہے ، تو دونوں میں سے جس کی زیادتی ، دوسرے پر غالب آ جائے ، وہ حالت دوسری پر غالب آ جاتی ہے " ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A door in the heart of the believer and others] · Hadith 224

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعِينَ صَلَاةً] · حديث 5878

5878 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ» ". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں یوں ادا کرے کہ اس کی ایک بھی نماز فوت نہ ہو ‘ تو اس کے شخص کے لئے جہنم سے بری ہونا عذاب سے بری ہونا اور منافقت سے بری ہونا نوٹ کیا جا تا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

«مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا تَفُوتُهُ صَلَاةٌ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [A Gate of Forty Prayers in the City] · Hadith 5878

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي النِّفَاقِ وَعَلَامَاتِهِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ] · حديث 416

416 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ خَصْلَةٌ فَفِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی وہ منافق ہوگا، اور اگر کسی میں ان میں سے کوئی ایک چیز ہوگی ، تو اس میں نفاق کی خصلت ہو گی ، جب وہ بولے تو جھوٹ بولے ، جب اسے امین بنایا جائے ، تو خیانت کرے اور جب کوئی وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے " ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

النَّبِيِّ ← عبد الله -يعني ابن مسعود-

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on hypocrisy and its markings and the mention of the hypocrites] · Hadith 416

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابُ الْغَيْرَةِ] · حديث 7725

7725 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْمِذَاءُ مِنَ النِّفَاقِ " قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمِذَاءُ؟ قَالَ: " الَّذِي لَا يَغَارُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو مَرْجُومٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " غیرت ایمان کا حصہ ہے ، اور مذاء نفاق کا حصہ ہے "۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : مذاء سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ شخص جو غیر ت نہیں کرتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو مرجوم ہے، جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Door of jealousy] · Hadith 7725

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ] · حديث 16741

16741 - وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ. فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ: قُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ! فَوَاللَّهِ، لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي النِّفَاقِ وَالْمُنَافِقِينَ وَأَسْمَائِهِمْ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ.

مروان أهل بيت ملعونون فغضب الحسن ← كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ، ← أَبِي يَحْيَى،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on those who are criticized by tribes and people of innovation] · Hadith 16741

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ] · حديث 17172

17172 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ، وَالْغَفْلَةِ، وَالْعَيْلَةِ، وَالذِّلَّةِ، وَالْمَسْكَنَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفُسُوقِ، وَالشِّقَاقِ، وَالنِّفَاقِ، وَالسُّمْعَةِ، وَالرِّيَاءِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ، وَالْبَكَمِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ» ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

كَانَ النَّبِيُّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › Chapter on what is to be sought after] · Hadith 17172

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدْعِيَةِ] ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّعَاءِ وَغَيْرِهِ] · حديث 17298

17298 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ عَشْرًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مِائَةً، وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ مِائَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النِّفَاقِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَبَرَاءَةً مِنَ النَّارِ، وَأَنْزَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الشُّهَدَاءِ» ". قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: " «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ شِبْلٍ الْهُجَيْمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Supplication book] › Chapter of Prayer to the Prophet, may God bless him and grant him peace, in supplication and others] · Hadith 17298

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ} [التوبة: 101]. · حديث 11053

11053 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ} [التوبة: 101] قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جُمُعَةٍ خَطِيبًا، فَقَالَ: " قُمْ يَا فُلَانُ فَاخْرُجْ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، اخْرُجْ يَا فُلَانُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ ". فَأَخْرَجَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَفَضَحَهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَهِدَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ لِحَاجَةٍ كَانَتْ لَهُ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاخْتَبَأَ مِنْهُمُ اسْتِحْيَاءً أَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ، وَظَنَّ أَنَّ النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا وَاخْتَبَؤُوا هُمْ مِنْ عُمَرَ، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ بِأَمْرِهِمْ، فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا النَّاسُ لَمْ يَنْصَرِفُوا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَبْشِرْ يَا عُمَرُ، فَقَدْ فَضَحَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ، فَهَذَا الْعَذَابُ الْأَوَّلُ، وَالْعَذَابُ الثَّانِي عَذَابُ الْقَبْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’اور تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں اور اہل مدینہ میں سے بھی کچھ لوگ منافق ہیں جو نفاق پر مجھے ہوئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو ہم انہیں جانتے ہیں اور ہم انہیں عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے اور پھر انہیں عظیم عذاب کی طرف لوٹا دیا جائے گا‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا: اے فلاں تم اٹھو اور نکل جاؤ تم منافق ہو اے فلاں تم بھی نکل جاؤ کیونکہ تم بھی منافق ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کا نام لے کر انہیں مسجد سے نکال دیا اور انہیں رسوائی کا شکار کیا اس دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کام کے سلسلے میں جمعہ کی نماز کے لئے جلدی نہیں آ سکے تھے یہ لوگ مسجد سے نکلے تو ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے چھپنے لگے اس بات سے شرماتے ہوئے کہ وہ جمعہ میں پہلے نہیں آئےتھے وہ یہ سمجھے کہ شاید لوگ نماز پڑھ کے واپس جار ہے ہیں اور یہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چھپنے لگے وہ یہ سمجھے کہ ہمارے معاملے کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چل گیا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ابھی نماز پڑھی ہی نہیں تھی ایک شخص نے ان سے کہا: اے عمر آپ کے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آج منافقین کو رسوا کر دیا ہے ۔ (راوی کہتے ہیں :) یہ پہلا عذاب ہے اور دوسر اعذاب قبر کے عذاب کی شکل میں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو بن محمد عنقری ہے ، اور وہ ضعیف ہے۔

ابن عباس في قوله تعالى]

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And those around you among the Arabians are hypocritical} [at-Tawbah: 101]. · Hadith 11053

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ] · حديث 14336

14336 - وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ نَاسًا يَنَالُونَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، فَبَعَثَتْ إِلَى أَزْفَلَةٍ مِنْهُمْ، فَسَدَلَتْ أَسْتَارَهَا، وَعَذَلَتْ وَقَرَّعَتْ، وَقَالَتْ: أَبِي وَمَا أَبِيهِ، أَبِي لَا تُعْطُوهُ الْأَيْدِي. هَيْهَاتَ وَاللَّهِ، ذَاكَ طَوْدٌ مَنِيفٌ، وَظِلٌّ مَدِيدٌ، أَنْجَحَ وَاللَّهِ إِذْ كَذَّبْتُمْ، وَسَبَقَ إِذْ وَنَيْتُمْ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ، فَتَى قُرَيْشٍ نَاشِئًا، وَكَهْفًا كَهْلًا. يَفُكُّ عَانِيَهَا، وَيَرِيشُ مُمْلِقَهَا، وَيَرْأَبُ رَوْعَهَا، وَيَلُمُّ شَعَثَهَا حَتَّى حَلِيَتْهُ قُلُوبُهَا، ثُمَّ اسْتَشْرَى فِي دِينِهِ فَمَا بَرِحَتْ شَكِيمَتُهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ حَتَّى اتَّخَذَ بِفَنَائِهِ مَسْجِدًا يُحْيِي فِيهِ مَا أَمَاتَ الْمُبْطِلُونَ، وَكَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - غَزِيرَ الدَّمْعَةِ، وَقِيدَ الْجَوَانِحِ، شَجِيَّ النَّشِيجِ، فَاصْفَقَّتْ إِلَيْهِ نِسْوَانُ مَكَّةَ وَوِلْدَانُهَا يَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَسْتَهْزِئُونَ بِهِ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فَأَكْبَرَتْ ذَلِكَ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ; فَحَنَتْ قِسِيَّهَا، وَفَوَّقَتْ سِهَامَهَا، وَامْتَثَلُوهُ غَرَضًا فَمَا فَلُّوا لَهُ شَبَاةً، وَلَا قَصَفُوا لَهُ قَنَاةً، وَمَرَّ عَلَى سِيسَائِهِ حَتَّى إِذَا ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ، وَأَلْقَى بَرْكَهُ، وَرَسَتْ أَوْتَادُهُ، وَدَخَلَ النَّاسُ فِيهِ أَفْوَاجًا، وَمِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ أَرْسَالًا وَأَشْتَاتًا ; اخْتَارَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ مَا عِنْدَهُ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ضَرَبَ الشَّيْطَانُ رِوَاقَهُ، وَنَصَبَ حَبَائِلَهُ، وَمَدَّ طُنُبَهُ، وَأَجْلَبَ بِخَيْلِهِ وَرَجِلِهِ ; فَاضْطَرَبَ حَبْلُ الْإِسْلَامِ، وَمَرَجَ عَهْدُهُ، وَمَاجَ أَهْلُهُ، وَعَادَ مَبْرَمُهُ أَنْكَاثًا، وَبَغَى الْغَوَائِلُ، وَظَنَّتِ الرِّجَالُ أَنْ قَدْ أَكْثَبَتْ أَطْمَاعُهُمْ، وَلَاتَ حِينَ [الَّتِي] يَرْجِعُونَ، وَإِنِّي وَالصِّدِّيقُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَامَ حَاسِرًا مُشَمِّرًا، فَرَفَعَ حَاشِيَتَهُ، وَجَمَعَ قَطْرَتَهُ، فَرَدَّ يُسْرَ الْإِسْلَامِ عَلَى غِرَّةٍ، وَلَمَّ شَعَثَهُ بِطَيِّهِ، وَأَقَامَ أَوَدَهُ بِثِقَافِهِ ; فَابْدَعَرَّ النِّفَاقُ بِوَطْأَتِهِ، وَانْتَاشَ الدِّينُ بِنَعْشِهِ. فَلَمَّا رَاحَ الْحَقُّ عَلَى أَهْلِهِ، وَأَقَرَّ الرءُوسَ عَلَى كَوَاهِلِهَا، وَحَقَنَ الدِّمَاءَ فِي أَهَبِهَا، حَضَرَتْ مَنِيَّتُهُ، فَسَدَ ثُلْمَتَهُ بِشَقِيقِهِ فِي الْمَرْحَمَةِ وَنَظِيرِهِ فِي السِّيرَةِ وَالْمَعْدَلَةِ - ذَاكَ ابْنُ الْخَطَّابِ، لِلَّهِ أُمٌُّ حَمَلَتْ بِهِ وَدَرَّتْ عَلَيْهِ لَقَدْ أَوْحَدَتْ بِهِ ; فَفَتَحَ الْكَفَرَةَ وَذَيْخَهَا، وَشَرَّدَ الشِّرْكَ شَذَرَ مَذَرَ، وَبَعَجَ الْأَرْضَ ; فَقَاءَتْ أُكُلَهَا، وَلَفِظَتْ خَبِيئَهَا تَرْأَمُهُ، وَيُصْدِفُ عَنْهَا وَتَصَدَّى لَهُ وَيَأْبَاهَا، ثُمَّ وَرِعَ فِيهَا، ثُمَّ تَرَكَهَا كَمَا صَحِبَهَا، فَأَرُونِي مَاذَا تَقُولُونَ؟ وَأَيَّ يَوْمَيْ أَبِي تَنْقِمُونَ؟! أَيَوْمَ إِقَامَتِهِ إِذْ عَدَلَ فِيكُمْ، أَوْ يَوْمَ ظَعْنِهِ إِذْ نَظَرَ لَكَمْ؟ أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ السَّدُوسِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا ابْنَهُ.

علی بن احمد سدوسی‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تنقید کرتے ہیں‘ سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا‘ انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے‘ یہ ارشاد فرمایا: میرے والد‘ میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے‘ اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے‘ جب تم لوگوں نے جھٹلایا‘ تو اللہ کی قسم! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی‘ جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی‘ تو انہوں نے سبقت حاصل کی‘ ایک ایسی سبقت‘ جو کی شہسوار کی ہوتی ہے‘ جب اس نے دور تک جاتا ہو‘ وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے‘ اور بڑھاپے میں ان کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے‘ انہوں نے (لوگوں) کے قیدیوں کو آزاد کروایا اور ان (لوگوں) کے غریبوں کو مال دیا‘ وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے‘ اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے‘ یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہو گئے‘ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا‘ اور الله کی ذات کے بارے میں‘ ان کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی‘ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی‘ جس میں وہ‘ اس چیز (یعنی عبادت) کو زندہ کرتے تھے‘ جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے‘ وہ ایسے (فرد) تھے کہ ان کے آنسو بہتے رہتے تھے‘ اور ان کا دل نرم تھا‘ غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی‘ مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اُن (کفار) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں ان کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے ہیں‘ یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری‘ انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا‘ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نشانہ بنا لیا‘ تو قریش کے لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا‘ اور نہ ہی ان کے لئے کوئی نیزہ توڑا‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے طریقے پر گامزن رہے‘ یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا‘ دین اپنی جگہ پر جم گیا‘ اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے‘ ہر گروه‘ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا‘ لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے‘ پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا‘ جو اس کے پاس ہے‘ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی‘ تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا‘ اس نے اپنا جال بچھا لیا‘ اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں‘ اور اپنے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا‘ وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا‘ اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا‘ اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے‘ اور ان کا اجتماع‘ انتشار میں بدل گیا‘ تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ‘ یا مقاصد کو حاصل کرلیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کا میابی حاصل نہیں کر سکیں گے‘ لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا‘ جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درمیان موجود تھے‘ وہ آستینیں چڑھا کر‘ اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے‘ انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کوسی لیا‘ اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا (یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا‘ اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا‘ اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا‘ تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی‘ اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے‘ دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا‘ جس کے حوالے سے اندیشہ تھا‘ جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا‘ اور سروں کو کندھوں پر جما دیا‘ اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا‘ تو ان کا آخری وقت آ گیا‘ تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا‘ جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے‘ اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے‘ اور وہ خطاب کے صاحبزادے (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں)۔اس ماں کے کیا کہنے؟ جو اُن کے حوالے سے حاملہ ہوئیں‘ جس نے انہیں دودھ پلایا‘ اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا‘ انہوں نے کافروں کو فتح کیا‘ اور انہیں ذلت کا شکار کیا‘ اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اس کا ٹھکانہ نہ رہا‘ اور انہوں نے زمین کو چیر ويا (یعنی اسے فتح کر لیا) تو اس (زمین) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کوقے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا (یعنی) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے‘ نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں)اس (یعنی دنیا) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس (دنیا) سے اعتراض کیا‘ وہ (دنیا) ان کے سامنے آئی‘ تو انہوں نے اس کوانکار کیا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیز گاری کو اختیار کیا‘ اور پھر اسے اسی حالت میں چھوڑا‘ جس حالت میں وہ اس (دنيا) کے ساتھ رہے تھے۔تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ! کہ تم کیا کہتے ہو؟ تمہیں میرے والد کے‘ دو دنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے؟ ان کی مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا‘ یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی؟(پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے‘ اور میں‘ اپنے لیے اور تمہارے لئے‘ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے‘ احمد سدوسی نامی راوی نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے‘ میں اس کے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں۔

بلغ عائشة ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [A door that brings together its virtue] · Hadith 14336

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ] · حديث 14337

14337 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ ; فَنَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا. قَالَتْ: فَمَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَسِنَانِهَا. ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ: كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا نَسِيجَ وَحْدِهِ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا. قَالَ الرِّيَاشِيُّ: يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْبَارِعِ الَّذِي لَا يُشَبَّهُ بِهِ أَحَدٌ: نَسِيجُ وَحْدِهِ، وَعُيَيْرُ وَحْدِهِ، وَيُقَالُ: جَلِيسُ وَحْدِهِ، وَقَالَ الشَّاعِرُ: جَاءَتْ بِهِ مُعْتَجِرًا بِبُرْدِهِ ... سَفْوَاءَ تُرْدِي بِنَسِيجِ وَحْدِهِ يَقْدَحُ قَيْسًا كُلَّهَا بِزَنْدِهِ ... مَنْ يَلْقَهُ مِنْ بَطَلٍ يَسْرَنْدِهِ. أَيْ يَعْلُوهُ قَالَ الرِّيَاشَيُّ: وَأَنْشَدَنِي الْأَصْمَعِيُّ: مَا بَالُ هَذَا الْيَوْمِ يَغْرَنْدِينِي أَدْفَعُهُ عَنِّي وَيَسْرَنْدِينِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا‘ تو عرب مرتد ہو گئے‘ اور نفاق بلند ہو گیا‘ میرے والد کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا‘ کہ اگر وہ صورتحال مضبوط پہاڑوں پر نازل ہوئی‘ تو انہیں بھی توڑ کے رکھ دیتی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں نے جس بھی نقطہ کے بارے میں خلل کا اظہار کیا‘ تو میرےوالد اس کے تمام تر لوازمات کو لے کر وہاں تک پہنچے‘ جن کے ذریعے اسے ٹھیک کیا جا سکے۔پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے‘ یہ بات کہی: اللہ کی قسم !وہ بڑی ہمت والے تھے‘ اور بے مثل شخصیت کے مالک تھے‘ انہوں نے تمام امور کے لیے مناسب تیاری کی۔یہاں ریاشی نامی راوی نے یہ بات کہی ہے: جب کوئی شخص ایسا ماہر ہو کہ کسی کو اس کے مشابہہ قرار نہ دیا جا سکے‘ تو اس کے لیے یہ لفظ استعمال کیے جاتے ہیں:’’نسیح وحده۔عییر وحده۔ جحیش وحدہ“۔ کسی شاعر نے کہا ہے: ’’و ہ سواری اس شخص کو لے کر آئی‘ جس شخص نے اپنی چادر لپیٹی ہوئی تھی اور وہ سواری چھوٹی پیشانی والی تھی‘ وہ سواری تیزی سے ایک بے مثال شخص کو لے کر آئی‘ وہ پتھر کو رگڑ کر‘ قیس کو آگ لگانے کی کوشش کرتا ہے‘ اور جو بھی سور ما اس کے سامنے آتا ہے‘ وہ اسے سرنگوں کر لیتا ہے‘‘۔راوی بیان کرتے ہیں : یعنی وہ اس پر غالب آ جاتا ہے۔ ریاشی بیان کرتے ہیں : اصمعی نے مجھے یہ اشعار سنائے:’’اس نیند کا کیا معاملہ ہے؟ جو مجھ پر طاری ہو رہی ہے‘ میں اسے اپنے سے پورے کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور وہ مجھ پر غالب آ رہی ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے‘ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔

عَائِشَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [A door that brings together its virtue] · Hadith 14337

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْخِلَافَةِ] ‹ [بَابُ الْخُلَفَاءِ الِاثْنَيْ عَشَرَ] · حديث 8969

8969 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِذَا مَلَكَ اثْنَا عَشَرَ مِنْ بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ كَانَ الْبُغْضُ وَالنِّفَاقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ذُؤَادُ بْنُ عُلَبْةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ ذُؤَادٍ تِلْمِيذُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا أَيْضًا.

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا:بنو مرہ بن کعب میں سے جب بارہ فرادحکمران بن جائیں گے تو پھر قیامت تک بغض اور نفاق (حکومتی معاملات میں) رہے گا۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ز ؤادبن عبلہ ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی اسماعیل بن ذواد ہے جو اس کا شاگرد ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › [Chapter of the Twelfth Caliphs] · Hadith 8969

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزُّهْدِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يَحْتَقِرُهُ الْإِنْسَانُ مِنَ الْكَلَامِ] · حديث 18134

18134 - عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، وَعَنْ زُفَرَ، وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، وَعَنْ سُلَيْكِ بْنِ مِسْحَلٍ قَالُوا: خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتُكَلِّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ ← سُلَيْكِ بْنِ مِسْحَلٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← زفرُ، ← شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of asceticism] › [A section on what a man disdains about speaking] · Hadith 18134

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزُّهْدِ] ‹ [بَابُ عَلَامَةِ الْبَرَاءَةِ مِنَ النِّفَاقِ] · حديث 18219

18219 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «غَدَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ ". قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ. قَالَ: " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! ". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ النِّفَاقَ ". قَالَ: ثُمَّ عَادُوا الثَّانِيَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ ". قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ. قَالَ: " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ ". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ ". قَالَ: ثُمَّ عَادُوا الثَّالِثَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ قَالَ " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ ". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ ". قَالُوا: إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كُنَّا عَلَى حَالٍ، وَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ هَمَّتْنَا الدُّنْيَا وَأَهْلُونَا. قَالَ: " لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي تَكُونُونَ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَكُونُونَ عَلَيْهِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِطُرُقِ الْمَدِينَةِ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ غَسَّانَ بْنِ بُرْزِينَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

غَدَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالُوا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of asceticism] › [Chapter of the sign of innocence from hypocrisy] · Hadith 18219

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ وَفَضْلِهَا] · حديث 9511

9511 - عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - تَحْتَ عَرْشِهِ، لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَمَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ ". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " مقتول تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک وہ مومن شخص جو جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو ان کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے ، جو اللہ کے عرش کے نیچے اس کے خیمے میں موجود ہونے پر فخر کرنے والا ہو گا، اور انبیاء کو صرف نبوت کے مرتبے کے حوالے سے اس پر فضیلت حاصل ہوگی ایک وہ مومن شخص جو گناہوں اور خطاؤں کے حوالے سے اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے پھر وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اس سے جنگ کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جاتا ہے ، تو دہشت اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دے گی، کیونکہ تلوار خطاؤں کو مٹا نے والی ہوتی ہے ، وہ جس دروازے سے چاہے گا، اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور ان میں سے بعض ، دوسروں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ منافق شخص ہے جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ، تو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کے قتل ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جائے گا، کیونکہ تلوار منافقت کو نہیں مٹاتی ہے "۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں " وہ جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اس کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے بعض ، بعض سے افضل ہیں "۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مثنیٰ املوکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter on what came in the testimony and its virtues] · Hadith 9511

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ فِي الدُّعَاءِ إِلَى الْإِسْلَامِ وَفَرَائِضِهِ وَسُنَنِهِ] · حديث 9596

9596 - عَنِ الْجَارُودِ أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ النُّسْخَةَ مِنْ نُسْخَةِ الْعَلَاءِ، «الَّذِي كَتَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرِينِ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ، رَسُولِ اللَّهِ وَنَبِيِّهِ، إِلَى كَافَّةِ خَلْقِهِ لِلْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، وَمَنْ تَبِعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْهِمْ، اتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنِّي قَدْ بَعَثْتُ عَلَيْكُمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ يُلِينَ فِيكُمُ الْجَنَاحَ، وَيُحْسِنَ فِيكُمُ السِّيرَةَ وَيَحْكُمُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ مَنْ لَقِيَهُ مِنَ النَّاسِ بِمَا أَمَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مِنَ الْعَدْلِ، وَأَمَرْتُكُمُ بِطَاعَتِهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ، فَإِنْ حَكَمَ فَعَدَلَ، وَقَسَمَ فَأَقْسَطَ وَاسْتُرْحِمَ فَرَحِمَ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَأَحْسِنُوا مُؤَازَرَتَهُ وَمَعُونَتَهُ، فَإِنَّ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ طَاعَةً وَحَقًّا وَعَظِيمًا لَا تَقْدِرُونَهُ كُلَّ قَدْرِهِ، وَلَا يَبْلُغُ الْقَوْلُ كُنْهَ عَظَمَةِ حَقِّ اللَّهِ وَحَقِّ رَسُولِهِ، وَكَمَا أَنَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ عَلَى النَّاسِ عَامَّةً وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً حَقًّا فِي طَاعَتِهِ وَالْوَفَاءِ بِعَهْدِهِ فَرَضِيَ اللَّهُ عَنْ مَنِ اعْتَصَمَ بِالطَّاعَةِ. حَقٌّ كَذَلِكَ لِلْمُسْلِمِينَ عَلَى وُلَاتِهِمْ حَقٌّ وَاجِبٌ وَطَاعَةٌ، فَإِنَّ الطَّاعَةَ دَرْكُ خَيْرٍ، وَنَجَاةٌ مِنْ كُلِّ شَرٍّ، وَأَنَا أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ مَنْ وَلَّيْتُهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا، فَلْيَسْتَخِيرُوا اللَّهَ عِنْدَ ذَلِكَ، ثُمَّ لِيَسْتَعْمِلُوا عَلَيْهِمْ أَفْضَلَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ. أَلَا وَإِنْ أَصَابَتِ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ، فَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفُ اللَّهِ يَخْلُفُ فِيهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا وَأَحْسِنُوا مُؤَازَرَتَهُ وَطَاعَتَهُ، فَسِيرُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ وَعَوْنِهِ وَنَصْرِهِ وَعَاقِبَةِ رُشْدِهِ وَتَوْفِيقِهِ. مَنْ لَقِيتَهُمْ مِنَ النَّاسِ فَادْعُوهُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّتِهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِحْلَالِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِ وَتَحْرِيمِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَأَنْ يَخْلَعُوا الْأَنْدَادَ وَيَبْرَءُوا مِنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ وَالنِّفَاقِ وَأَنْ يَكْفُرُوا بِعِبَادَةِ الطَّوَاغِيتِ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَأَنْ يَتْرُكُوا عِبَادَةَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَعُزَيْرِ بْنِ حَرْوَةَ وَالْمَلَائِكَةِ وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنِّيرَانِ وَكُلِّ مَنْ يُتَّخَذُ نُصُبًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَأَنْ يَتَبَرَّءُوا مِمَّا بَرِئَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ وَأَقَرُّوا بِهِ فَقَدْ دَخَلُوا فِي الْوَلَايَةِ وَسَمُّوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُمْ إِلَيْهِ، كِتَابِ اللَّهِ الْمُنَزَّلِ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى صَفِيِّهِ مِنَ الْعَالَمِينَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَسُولِهِ وَنَبِيِّهِ أَرْسَلَهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ عَامَّةً، الْأَبْيَضُ مِنْهُمْ وَالْأَسْوَدُ وَالْإِنْسُ وَالْجِنُّ، كِتَابٌ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ لِيَكُونَ حَاجِزًا بَيْنَ النَّاسِ حَجَزَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَهُوَ كِتَابُ اللَّهِ مُهَيْمِنًا عَلَى الْكُتُبِ مُصَدِّقًا لِمَا فِيهَا مِنَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، يُخْبِرُكُمُ اللَّهُ فِيهِ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ مِمَّا فَاتَكُمْ دَرْكُهُ مِنْ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ أَتَتْهُمْ رُسُلُ اللَّهِ وَأَنْبِيَاؤُهُ، كَيْفَ كَانَ جَوَابُهُمْ لِرُسُلِهِمْ؟ وَكَيْفَ تَصْدِيقُهُمْ بِآيَاتِ اللَّهِ؟ وَكَيْفَ كَانَ تَكْذِيبُهُمْ [بِآيَاتِ اللَّهِ؟ فَأَخْبَرَكُمُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ شَأْنَهُمْ وَأَعْمَالَهَمْ وَأَعْمَالَ مَنْ هَلَكَ مِنْهُمْ] بِذَنْبِهِ، فَتَجَنَّبُوا مِثْلَ ذَلِكَ أَنْ تَعْمَلُوا مِثْلَهُ لِكَيْ لَا يَحُلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ سَخَطِهِ وَنِقْمَتِهِ مِثْلُ الَّذِي حَلَّ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءِ أَعْمَالِهِمْ وَتَهَاوُنِهِمْ بِأَمْرِ اللَّهِ. وَأَخْبَرَكُمْ فِي كِتَابِهِ هَذَا بِإِنْجَاءِ مَنْ نَجَا مِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِكَيْ تَعْمَلُوا مِثْلَ أَعْمَالِهِمْ، فَكَتَبَ لَكُمْ فِي كِتَابِهِ هَذَا تِبْيَانَ ذَلِكَ كُلِّهِ رَحْمَةً مِنْهُ لَكُمْ وَشَفَقَةً مِنْ رَبِّكُمْ عَلَيْكُمْ، وَهُوَ هُدًى مِنَ اللَّهِ مِنَ الضَّلَالَةِ وَتِبْيَانٌ مِنَ الْعَمَى وَإِقَالَةٌ مِنَ الْعَثْرَةِ وَنَجَاةٌ مِنَ الْفِتْنَةِ وَنُورٌ مِنَ الظُّلْمَةِ وَشِفَاءٌ مِنَ الْأَحْدَاثِ وَعِصْمَةٌ مِنَ الْهَلَاكِ وَرُشْدٌ مِنَ الْغَوَايَةِ وَبَيَانُ مَا بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فِيهِ كَمَالُ دِينِكُمْ. فَإِذَا عَرَضْتُمْ عَلَيْهِمْ فَأَقَرُّوا لَكُمْ فَقَدِ اسْتَكْمَلُوا الْوَلَايَةَ، فَاعْرِضُوا عَلَيْهِمْ عِنْدَ ذَلِكَ الْإِسْلَامَ - وَالْإِسْلَامُ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَحَجُّ الْبَيْتِ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَالطَّهُورُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ [وَصِلَةُ الرَّحِمِ الْمُسْلِمَةِ، وَحُسْنُ صُحْبَةِ الْوَالِدَيْنِ] الْمُشْرِكَيْنِ - فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمُوا. فَادْعُوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الْإِيمَانِ، وَانْعَتُوا لَهُمْ شَرَائِعَكُمْ، وَمَعَالِمُ الْإِيمَانِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، [وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ] وَأَنَّ مَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ الْحَقُّ، وَأَنَّ مَا سِوَاهُ الْبَاطِلُ، وَالْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَأَنْبِيَائِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْإِيمَانُ بِهَذَا الْكِتَابِ، وَمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا خَلْفَهُ بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَالْإِيمَانُ بِالْبَيِّنَاتِ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالنُّصْحِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ كَافَّةً، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ وَأَقَرُّوا بِهِ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ. ثُمَّ تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْإِحْسَانِ - أَنْ يُحْسِنُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ فِي أَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَعَهْدِهِ الَّذِي عَهِدَ إِلَى رَسُولِهِ وَعَهْدِ رَسُولِهِ إِلَى خَلْقِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَالتَّسْلِيمِ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُلِّ غَائِلَةٍ عَلَى لِسَانٍ وَيَدٍ، وَأَنْ يَبْتَغُوا لِبَقِيَّةِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا كَمَا يَبْتَغِي أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ - وَالتَّصْدِيقِ بِمَوَاعِيدِ الرَّبِّ وَلِقَائِهِ وَمُعَاتَبَتِهِ وَالْوَدَاعِ مِنَ الدُّنْيَا مِنْ كُلِّ سَاعَةٍ، وَالْمُحَاسَبَةِ لِلنَّفْسِ [عِنْدَ اسْتِئْنَافِ] كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَالتَّعَاهُدِ لِمَا فَرَضَ اللَّهُ يُؤَدُّونَهُ إِلَيْهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ. فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ. ثُمَّ انْعَتُوا لَهُمُ الْكَبَائِرَ، وَدُلُّوهُمْ عَلَيْهَا، وَخَوِّفُوهُمْ مِنَ الْهَلَكَةِ فِي الْكَبَائِرِ، إِنَّ الْكَبَائِرَ هُنَّ الْمُوبِقَاتُ أَوَّلُهُنَّ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ)، وَالسِّحْرُ وَمَا لِلسَّاحِرِ مِنْ خَلَاقٍ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ: يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ: يَبُوءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ، وَالْغُلُولُ: فَيَأْتُوا بِمَا غَلُّوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ: جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ: لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَأَكَلُوا مَالَ الْيَتِيمِ: يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا، وَأَكْلُ الرِّبَا: فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. فَإِذَا انْتَهَوْا عَنِ الْكَبَائِرِ فَهُمْ مُسْلِمُونَ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ مُتَّقُونَ فَقَدِ اسْتَكْمَلُوا التَّقْوَى. فَادْعُوهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْعِبَادَةِ، وَالْعِبَادَةُ: الصِّيَامُ، وَالْقِيَامُ، وَالْخُشُوعُ، وَالرُّكُوعُ، وَالسُّجُودُ، وَالْإِنَابَةُ، وَالْإِحْسَانُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّمَجُّدُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالصَّدَقَةُ بَعْدَ الزَّكَاةِ، وَالتَّوَاضُعُ، وَالسَّكِينَةُ، وَالسُّكُونُ، وَالْمُؤَاسَاةُ، [وَالدُّعَاءُ]، وَالتَّضَرُّعُ، وَالْإِقْرَارُ بِالْمَلَكَةِ وَالْعُبُودِيَّةِ لَهُ، وَالِاسْتِقْلَالُ لِمَا كَثُرَ مِنَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ. فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَهُمْ مُؤْمِنُونَ مُحْسِنُونَ مُتَّقُونَ عَابِدُونَ. فَإِذَا اسْتَكْمَلُوا الْعِبَادَةَ فَادْعُوهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الْجِهَادِ، وَبَيِّنُوا لَهُمْ وَرَغِّبُوهُمْ فِيمَا رَغَّبَهُمُ اللَّهُ فِيهِ مِنْ فَضْلِ الْجِهَادِ وَفَضْلِ ثَوَابِهِ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنِ انْتَدَبُوا فَبَايِعُوهُمْ وَادْعُوهُمْ حِينَ تُبَايِعُوهُمْ إِلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، عَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَذِمَّتُهُ وَسَبْعُ كَفَالَاتٍ مِنْهُ، لَا تَنْكُثُوا أَيْدِيَكُمْ مِنْ بَيْعَةٍ وَلَا تَنْقُضُوا أَمْرَ وُلَاتِي - مِنْ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ - فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَبَايِعُوهُمْ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ لَهُمْ فَإِذَا خَرَجْتُمْ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ غَضَبًا لِلَّهِ وَنَصْرًا لِدِينِهِ فَمَنْ لَقِيَهُمْ مِنَ النَّاسِ فَلْيَدْعُوهُمْ إِلَى مِثْلِ الَّذِي دَعَاهُمْ إِلَيْهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَإِسْلَامِهِ [وَإِيمَانِهِ] وَإِحْسَانِهِ وَتَقْوَاهُ وَعِبَادَتِهِ وَهِجْرَتِهِ، فَمَنِ اتَّبَعَهُمْ فَهُوَ الْمُسْتَجِيبُ الْمُؤْمِنُ الْمُحْسِنُ التَّقِيُّ الْعَابِدُ الْمُهَاجِرُ، لَهُ مَا لَكَمَ وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْكُمْ وَمَنْ أَبَى هَذَا عَلَيْكُمْ فَقَاتِلُوهُ حَتَّى يَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ وَيَفِيءَ إِلَى فَيْئَتِهِ. وَمَنْ عَاهَدْتُمْ وَأَعْطَيْتُمُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَوَفُّوا لَهُ بِهَا وَمَنْ أَسْلَمَ وَأَعْطَاكُمُ الرِّضَا فَهُوَ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ وَمَنْ قَاتَلَكُمْ عَلَى هَذَا مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنْتُمُوهُ لَهُ فَقَاتِلُوهُ وَمَنْ حَارَبَكُمْ فَحَارِبُوهُ وَمَنْ كَايَدَكُمْ فَكَايِدُوهُ وَمَنْ جَمَعَ لَكُمْ فَاجْمَعُوا لَهُ أَوْ غَالَكُمْ فَغُولُوهُ أَوْ خَادَعَكُمْ فَخَادِعُوهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْتَدُوا أَوْ مَاكَرَكُمْ فَامْكُرُوا بِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْتَدُوا سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَإِنَّهُ مَنْ يَنْتَصِرْ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَكُمْ يَرَاكُمْ وَيَرَى أَعْمَالَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا عَلَى حَذَرٍ، إِنَّمَا هَذِهِ أَمَانَةٌ ائْتَمَنَنِي عَلَيْهَا رَبِّي أُبَلِّغُهَا عِبَادَهُ عُذْرًا مِنْهُ إِلَيْهِمْ وَحُجَّةً احْتَجَّ بِهَا عَلَى مَنْ يَعْلَمُهُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، فَمَنْ عَمِلَ بِمَا فِيهِ نَجَا وَمَنْ تَبِعَ مَا فِيهِ اهْتَدَى، وَمَنْ خَاصَمَ بِهِ فَلَحَ وَمَنْ قَاتَلَ بِهِ نُصِرَ وَمَنْ تَرَكَهُ ضَلَّ حَتَّى يُرَاجِعَهُ تَعَلَّمُوا مَا فِيهِ وَسَمِّعُوهُ آذَانَكُمْ وَأَوْعُوهُ أَجْوَافَكُمْ وَاسْتَحْفِظُوهُ قُلُوبَكُمْ فَإِنَّهُ نُورُ الْأَبْصَارِ وَرَبِيعُ الْقُلُوبِ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ كَفَى بِهِ أَمْرًا وَمُعْتَبَرًا وَزَجْرًا وَعِظَةً وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَهَذَا هُوَ الْخَيْرُ الَّذِي لَا شَرَّ فِيهِ. كِتَابُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِلْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ، أَمَرَهُمْ أَنْ يَدْعُوَ إِلَى مَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ وَيَنْهَى عَمَّا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ وَيَدُلُّ عَلَى مَا فِيهِ مِنْ رُشْدٍ وَيَنْهَى عَمَّا فِيهِ مِنْ غَيٍّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ دَاوُدَ بْنِ الْمُحَبَّرِ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ دُعَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْإِسْلَامِ وَصَبْرُهُ عَلَى الْأَذَى فِي الْمَغَازِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

جارود بیان کرتے ہیں: انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاء رضی اللہ عنہ کے نسخے سے نقل کیا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تحریر کروایا تھا۔ جب آپ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تھا (اس میں تحریر تھا:) " الله تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے بھیجا گیا مکتوب ہے جو امی نبی ہیں قر یشی ہیں ہاشمی ہیں اور اس کی ساری مخلوق کی طرف اللہ کے رسول اور نبی ہیں یہ علاء بن حضرمی اور اس کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عہد ہے جوان کے ساتھ کیا جارہا ہے اے مسلمانو! جہاں تک تم سے ہو سکےتم اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ میں تم پر علاء بن حضرمی کو امیر بنا کر بھیج رہا ہوں میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے وہ (اللہ) ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کرے تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تمہارے درمیان فیصلہ دے اور جو بھی شخص اس سے ملے اس کے بارے میں اس کے مطابق فیصلہ دے جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ دے میں تم لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیتا ہوں جب وہ ایسا کرلے گا اگر وہ فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لے تقسیم کرتے ہوۓ انصاف سے کام لے جب اس سے رحم مانگا جائے تو رحم کرے تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور اس کی اچھے طریقے سے مدد کرو اور اس کا ساتھ دو کیونکہ میرا تم پر حق ہے جو اطاعت کے حوالے سے ہے حق کے حوالے سے ہے عظمت کے حوالے سے ہے تم اسے مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی قول اللہ اوراس کے رسول کے حق کی عظمت کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول کا تمام لوگوں پرعمومی طور پر اور تم لوگوں پر خاص طور پر حق ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے عہد کو پورا کیا جائے تو جو شخص اطاعت کو مضبوطی سے تھام لے گا اللہ تعالی اس سے راضی ہوجائے گا اور یہ حق اسی طرح تمام مسلمانوں کے لئے ہے جو ان کے حکمرانوں پر ہوگا یہ واجب حق ہے اور فرمانبرداری ہے کیونکہ فرمانبرداری بھلائی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور ہر قسم کی برائی سے نجات کا ذریعہ ہے میں ہر اس شخص کے حوالے سے اللہ تعالی کو گواہ بناتا ہوں جسے میں مسلمانوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بناؤں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو تو ایسی صورت میں انہیں اللہ تعالی سے بھلائی طلب کرنی چاہیے اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے اوپر اپنے میں سے سب سے زیادہ فضیلت والے شخص کو عامل مقرر کرنا چاہیے خبردار! اگر علاء بن حضرمی کو موت کی مصیبت لاحق ہو جاتی ہے تو اللہ کی تلوار خالد بن ولید ان لوگوں میں علاء بن حضرمی کا قائم مقام ہوگا تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اس کی بھر پور طریقے سے فرمانبرداری کرنا اور ساتھ دینا الله تعالی کی برکت اس کی مدد اس کی نصرت اس کی ہدایت اس کی عاقبت اور اس کی تو فیق کی بنیاد پر چلتے ر ہنا لوگوں میں سے جس سے تمہاری ملاقات ہو انہیں اللہ کی کتاب اس کی سنت اس کے رسول کی سنت کی طرف دعوت دینا اور اس چیز کو حلال قرار دینے کی طرف دعوت دینا ہے الله تعالی نے ان لوگوں کے لئے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حرام قرار دینے کی دعوت دینا جس چیز کو اس نے اپنی کتاب میں حرام قراردیا ہے اور کسی کو اللہ کا شر یک ٹھہرانے سے الگ ہوجانا شرک سے کفر سے نفاق سے لاتعلق ہوجانا طواغيب لات اور عزیٰ کی عبادت کا انکار کرنا اور حضرت عیسی بن مریم یا حضرت عزیر بن حروہ یا فرشتوں یا سورج یا چاند یا آگ یا ان کو چھوڑ کر جس کسی کو بھی معبود بنایا گیا ہو ان سب کی عبادت ترک کر دینا اور اس چیز سے لاتعلق ہوجانا جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہو جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت میں داخل ہوجائیں گے اور ان لوگوں کو اس وقت وہ نام دیا جائے گا جو اللہ کی کتاب میں ہے جس کے ساتھ تم انہیں بلاتے ہو وہ اللہ کی کتاب جسے روح الامین لے کر نازل ہوئے تھے جو تمام جہانوں میں سے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے حضرت محمد بن عبد الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر نازل ہوئے تھے جو اللہ کے رسول اور اس کے نبی ہیں اللہ تعالی نے انہیں تمام جہانوں کے لئے عمومی طور پر رحمت بنا کر بھیجا ہے جن میں سفیدفام سیاه فام اور جنات (سب شامل ہیں ) یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلے کی ہر چیز کا واضح بیان ہے اور تمہارے بعد جو کچھ ہوگا اس کا بھی واضح بیان ہے تا کہ یہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ بن جائے اس کے ذریعے اللہ تعالی لوگوں کو ایک دوسرے سے روک لے گا اور یہ اللہ تعالی کی ایسی کتاب ہے جو دیگر کتابوں کی نگران ہے اور اس سے پہلے تورات انجیل اور زبور میں جو کچھ گزر چکا ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے اس میں الله تعالی نے تمہیں ان چیزوں کے بارے میں خبر دی ہے جوتم سے پہلے تھیں جن کا تعلق تمہارے آباؤ اجداد سے تھا تم وہاں تک نہیں پہنچے تھے ان لوگوں کے پاس اللہ کے رسول اور انبیاء آئے تھے تو ان لوگوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور ان لوگوں نے اللہ تعالی کی آیات کی کیسے تصدیق کی تھی اور کیسے انہوں نے اللہ تعالی کی آیات کی تکذیب کی تھی تو الله تعالی نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کے معاملے ان لوگوں کے اعمال اور ان میں سے جو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ان کے اعمال کے بارے میں بتایا ہے تو تم ایسا کرنے سے اجتناب کرنا کہ تم ان کی طرح مل کر ایسا نہ ہو کہ تم پربھی الله تعالی کی ناراضگی اور انتقام حلال ہوجائے جس طرح ان کے برے اعمال کی وجہ سے اور اللہ تعالی کے حکم کو کمتر سمجھنے کی وجہ سے ان پر حلال ہوا تھا الله تعالی نے تمہیں اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے جنہوں نے نجات پائی تھی انہوں نے کیسے نجات پائی تھی تاکہ تم ان لوگوں کے اعمال کے مطابق عمل کرواس نے تمہارے لئے اپنی کتاب میں یہ تمام چیزیں واضح بیان کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ جواس کی طرف سے تمہارے لئے رحمت ہیں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر مہربانی ہیں اور یہ اللہ تعالی کی طرف گمراہی کے مقابلے میں ہدایت ہے اور نابینا پن کے مقابلے میں واضح بیان ہے اور لغزش کے مقابلے میں بچت ہے اور فتنے سے نجات ہے اورظلمت سے نور ہے اور حدث سے شفاء ہے ہلاکت سے بچاؤ ہے گمراہی سے ہدایت ہے اس میں دنیا اور آخرت کے در میان چیزوں کا بیان ہے اور تمہارے دین کی تکمیل ہے جب تم ان لوگوں کے سامنے یہ پیشکش کرو گے وہ تمہارے سامنے اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت کو مکمل کر لیں گے اس وقت تم ان کے سامنے اسلام کی پیشکش کرنا اسلام سے مراد پانچ نمازیں ادا کر ناز کوة دینا بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا نماز سے پہلے وضو کرناوالدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا مسلمانوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا خواہ وہ مشرک ہوں (وہ شامل ہیں) جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں تم انہیں ایمان کی طرف دعوت دینا اور ان کے سامنے اپنے شرعی احکام اور ایمان کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنا ( اور وہ یہ ہیں) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے ان کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کچھ لے کے آئے ہیں وہ حق ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ باطل ہے اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اس کے انبیاء اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنا اس کتاب پر ایمان رکھنا جو اس کے آگے ہے اور جو اس نے پہلے تورات انجیل اورز بورگزرچکی ہیں واضح نشانیوں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے جنت جہنم ( پرایمان رکھنا ) اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے لئے خیر خواہی رکھنا جب وہ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ مسلمان اور مومن ہوں گے۔ پھر اس کے بعد تم انہیں احسان کی طرف دعوت دینا کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان معاملے اور عہد کی ادائیگی جو عہد اس نے اپنے رسول سے لیا اور جوعہد اس کے رسول نے اس کی مخلوق اور مسلمانوں کے حکمرانوں سے لیا اس کی ادائیگی کے بارے میں اچھائی سے کام لے مسلمان حکمرانوں کی زبانی اور عملی طور پر ہر اعتبار سے مدد کریں اور باقی مسلمانوں کے لئے بھلائی چاہیں، جس طرح کوئی شخص اپنی ذات کے لئے بھلائی چاہتا ہے اور وہ اپنے پروردگار کے بیان کردہ مواعید کی تصدیق کریں اس کی بارگاہ میں حاضری اس کی ناراضگی دنیا سے رخصت ہونے اپنی ذات کا محاسبہ کرنے روزانہ نئے سرے سے ایسا کرنے اور جو اللہ تعالی نے چیزیں فرض قرار دی ہیں ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنے جو خفیہ اور اعلانیہ طور پر ہوان سب چیزوں کا دھیان رکھیں جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے اور احسان کرنے والے بھی ہوں گے پھر تم ان کے سامنے کبیرہ گناہوں کو بیان کرنا اور اس حوالے سے ان کی رہنمائی کرنا اور کبیرہ گناہوں سے ہونے والی ہلاکت کے حوالے سے انہیں ڈرانا کیونکہ کبیرہ گناہ ہلاکت کا شکار کرنے والے ہیں ان میں سب سے پہلا الله تعالی کے ساتھ شرک کرنا ہے بے شک الله تعالی اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور ( دوسری چیز ) جادو ہے جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور ایک چیز قطع رحمی ہے اور اللہ تعالی ان لوگوں پرلعنت کرے گا اور ایک چیز میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ایسے لوگ اللہ تعالی کی ناراضگی کے ہمراہ واپس آتے ہیں اور ایک چیز خیانت ہے ان لوگوں نے جو خیانت کی ہوئی ہوگی وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کے آ ئیں گے ان لوگوں کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا اور ایک چیز مومن جان کو قتل کرنا ہے جس کا بدل جہنم ہے اور ایک چیز پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ہے اور ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ایک چیز یتیم کا مال کھانا ہے۔ ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ ڈالتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم تک پہنچ جائیں گے اور ایک چیز سود کھانا ہے ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں جب وہ لوگ کبیرہ گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے احسان کرنے والے بھی ہوں گے اور بچنے والے بھی ہوں گے اور یہ لوگ تقوی کو مکمل کر لیں گے اس کے بعد تم انہیں عبادت کی دعوت دینا اور عبادت روزہ رکھنا نوافل پڑھنا خشوع کرنا رکوع کرناسجود کرنا اور رجوع کرنا احسان کرنا الحمد للہ پڑھنا تمجید تہلیل تکبیر پڑھنا زکوة کے بعد ( نفلی) صدقہ دینا تواضع کرنا سکنیت اختیار کرنا پرسکون رہنا اچھا سلوک کرنا دعا کرناگریہ وزاری کرنا اور اللہ تعالی کی بادشاہی اور اپنی بندگی کا اقرار کرنا اور نیک عمل کی کثرت پرمستقل رہنا (شامل ہیں ) جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مومن بھی ہوں کے احسان کرنے والے بھی ہوں گے پرہیز گار بھی ہوں گے اور عبادت گزار بھی ہوں گے جب وہ لوگ عبادت کو مکمل کر لیں گے تو ایسی صورت نہیں تم انہیں جہاد کی دعوت دینا اور ان کے سامنے اس کو بیان کرنا اور انہیں اس چیز کی رغبت دینا جس کے بارے میں الله تعالی نے رغبت دی ہے جس کا تعلق جہاد کی فضیلت اس کے ثواب کی فضیلت سے ہے جو الله تعالی کی بارگاہ میں حاصل ہوگا اگر وہ اس بات کو مان لیتے ہیں تو تم ان سے بیعت لینا اور انہیں اس چیز کی طرف دعوت دینا کہ تم ان سے اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کی طرف بیعت لے رہے ہو تم پر الله تعالی کے عہد اور اس کے ذمہ کو پورا کرنا لازم ہے اور اس میں سات كفالات ہیں یہ کہ بیعت کے حوالے سے تم اپنے ہاتھوں کو نہ توڑو اور میرے مقرر کردہ مسلمانوں کے نگرانوں کے معاملے کو ختم نہ کرو جب وہ لوگ ایسا کرلیں گے تم ان سے بیعت لے لینا اور اللہ تعالی سے ان کے لئے مغفرت طلب کرنا جب تم لوگ نکلو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جواللہ تعالی کی خاطر غضب کا اظہار کرنے اس کے دین کی مددکرنے کے لئے ہو تو جن بھی لوگوں سے تم ملوان لوگوں کو بھی اس چیز کی دعوت دینا جس چیز کی طرف تم نے ان لوگوں کو دعوت دی تھی جس کا تعلق اللہ تعالی کی کتاب سے ہے اسلام سے ہے ایمان سے ہے احسان سے ہے تقوی سے ہے عبادت گزاری سے ہے ہجرت سے ہے تو جو شخص بھی ان میں سے پیروی کرے گا وہ جواب دینے والا مون اچھائی کرنے والا پرہیز گار عبادت گزار اور مہا جر ہوگا اسے وہ چیز ملے گی جو تمہیں ملتی ہے اور اس پر وہ چیز لازم ہو گی جوتم پر لازم ہوتی ہے اور جو شخص اس بات کا انکار کرے تو تم پر لازم ہے کہ تم اس کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے معاملے کی طرف لوٹ آئے یا پھر مال فئے کی ادائیگی کی طرف لوٹ جائے اور جس شخص کے ساتھ تم معاہد ہ کرو اورتم اسے اللہ کا ذمہ دے دوتو تم اس کو پورا کرو جوش اسلام لے آئے اور تمہیں رضامندی دیدے وہ تم میں سے ہو گا اور تم اس میں سے ہو گے اور جو شخص اس بنیاد پرتمہارے ساتھ اس کے بعد بھی جنگ کرے جو تم نے اس کے سامنے بیان کیا تھا توتم اس کے ساتھ جنگ کرو جو تمہارے ساتھ لڑائی کرے تم اس کے ساتھ لڑائی کرو جو شخص تمہارے ساتھ فریب کرے تم اسے فریب کا جواب دو جو تمہارے لئے (دشمن یا طاقت ) کو جمع کرے توتم اس کے لئے جمع کرو جو شخص تمہیں دھوکہ دے تم اسے دھوکہ کا جواب دو جوشخص تمہیں فریب دے تم اس کے فریب کا جواب دو البتہ تم زیادتی نہ کرنا جو شخص تمہارے خلاف تدبیریں کرے تم اسے جواب دولیکن تم پوشیدہ یا اعلانیہ طور پر زیادتی نہ کرنا کیونکہ جو ظلم کے بعد مدد کا طلبگار ہو گا تو ان لوگوں کے خلاف کوئی راستہ نہیں ہو گا تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی تمہارے ساتھ ہے وہ ہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو جانتا ہے تم اللہ تعالی سے ڈرواور احتیاط کے ساتھ رہنا یہ امانت ہے جس کے بارے میں میرے پروردگار نے مجھے امین بنایا ہے کہ میں اس کی تبلیغ اس کے بندوں تک کردوں یہ اس کی طرف سے ان لوگوں کے لئے عذر ہے اور حجت ہے جس کے ذریعے وہ ان لوگوں کے خلاف حجت فرمائے گا اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے واقف ہوگا اور اس کا تعلق ساری مخلوق سے ہے جو شخص اس بارے میں عمل کرے گا وہ نجات پا جائے گا جو شخص اس بارے میں پیروی کرے گا وہ ہدایت حاصل کر لے گا جوشخص اس (حکم) کی بنیاد پر جھگڑا کرے گاوہ فلاح پائے گا جو شخص اس کی بنیاد پرلڑائی کرے گا اس کی مدد ہوگی جو شخص اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہو گا یہاں تک کہ اس کی طرف واپس آجائے اس میں جو کچھ موجود ہے تم اس کا علم حاصل کر لو اپنے کانوں کو یہ بات سنوا دو اور اپنے ذہنوں میں اسے محفوظ کرلو اپنے دلوں میں اسے یاد کر لو کیونکہ یہ بینائی کا نور ہے دلوں کی بہار ہے سینوں میں موجود چیز کے لئے شفاء ہے معاملے اعتبار زجر نصیحت اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت کے حوالے سے یہ کافی ہے یہی وہ بھلائی ہے کہ جس میں کوئی شر نہیں ہے۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طرف سے یہ مکتوب ہے جوعلاء بن حضرمی کے لئے ہے جو اس وقت تحریر کروایا کہ جب انہوں نے اس کو بحرین کی طرف بھیجا تھا تا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دعوت دے انہوں ن لوگوں کو یہ حکم دیا کہ اس میں جو حلال ہے اس کی طرف وہ دعوت دیں اور اس میں جن حرام چیزوں کا ذکر ہے اس سے منع کرے اور اس میں جس ہدایت کا ذکر ہے اس کی طرف رہنمائی کریں اور جن گمراہیوں کا ذکر ہے اس سے لوگوں کوروکے۔ یہ روایت امام طبرانی نے داؤد بن محبرکی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ( علامہ ہیثمی فر ماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسلام کی طرف دعوت دینا اور اذیتوں پر صبر کرنا اس بارے میں دیگر احادیث مغازی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔

الْجَارُودِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter of it in supplication to Islam, its statutes, and its Sunnahs] · Hadith 9596

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ الْأَعْمَالِ بِالْخَوَاتِيمِ] · حديث 11926

11926 - وَعَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُلَانٌ يَجْرِي فِي الْقِتَالِ، قَالَ: " هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ فُلَانٌ فِي عِبَادَتِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَلِينِ جَانِبِهِ فِي النَّارِ، فَأَيْنَ نَحْنُ؟ قَالَ: " ذَلِكَ إِخْبَاتُ النِّفَاقِ وَهُوَ فِي النَّارِ "، قَالَ: كُنَّا نَتَحَفَّظُ فِي الْقِتَالِ، كَانَ لَا يَمُرُّ بِهِ فَارِسٌ وَلَا رَاجِلٌ إِلَّا وَثَبَ عَلَيْهِ فَكَثُرَ جِرَاحُهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ، قَالَ: " هُوَ فِي النَّارِ "، فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ أَلَمُ الْجِرَاحِ أَخَذَ سَيْفَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ تُدْرِكُهُ الشِّقْوَةُ وَالسَّعَادَةُ عِنْدَ خُرُوجِ نَفَسِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت اکثم بن ابو جون رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ! فلاں شخص لڑائی میں جرات کا اظہار کر رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ جہنمی ہے‘ ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ! اگر فلاں شخص اپنی عبادت اور بھر پور کوشش کے باوجود جہنمی ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس نے نفاق چھپایا ہوا ہے اور وہ جہنمی ہے‘ راوی کہتے ہیں :جنگ کے دوران ہم اس کا خیال رکھتے رہے وہ جس بھی گھڑ سوار یا پیادہ شخص کے پاس سے گزرتا تھا اس پر حملہ کر دیتا تھا وہ خود بھی زخمی ہو گیا‘ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ ! فلاں شخص نے جام شہادت نوش کر لیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ جہنمی ہے‘ راوی کہتے ہیں:جب اس شخص کو زخموں کی تکلیف زیادہ ہو گئی‘ تو اس نے اپنی تلوار لے کر سینے پر رکھی اور پھر اس پر ا پنا وزن ڈالا یہاں تک کہ وہ تلوار پشت کی طرف سے پار ہو گئی‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ میں نے عرض کی :میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ایک شخص بظاہر اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے‘ حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے‘ حالانکہ وہ جنتی ہوتی ہے اور اس کی جان نکلنے کے وقت بدنصیبی یا خوش نصیبی اسے لاحق ہو جاتے ہیں اور اس (مخصوص حال) کے مطابق‘ اس کا خاتمہ ہوتا ہے ۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

قُلْنَا ← وَعَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of works in lasts] · Hadith 11926

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُلَاحَاةِ] · حديث 12707

12707 - وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذُكِرَ عِنْدَهُ الْحَيَاءَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَيَاءُ مِنَ الدِّينِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ - عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ - وَالْعَمَلَ مِنَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَيَنْقُصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَلَمَا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّ الشُّحَّ وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا وَيَنْقُصْنَ مِنَ الْآخِرَةِ، وَلَمَا يَنْقُصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَوَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ کے سامنے حیاء کا ذکر کیا گیا‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا حیاء دین کا حصہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ وہ ساری کی ساری دین ہے ‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حیاء پاکدامنی‘ عاجز ہونا‘ یہاں زبان کا عاجز ہونا مراد ہے دل کا عاجز ہونا مراد نہیں ہے‘ اور عمل ایمان کا حصہ ہیں‘ اور یہ آخرت میں زیادہ ہوں گے‘ اور دنیا میں کم ہوں گے یہ دنیا میں زیادہ نہیں ہوں گے اور بخل اور بد زبانی (یا بے حیائی) نفاق کا حصہ ہے یہ دنیا میں زیادہ ہوں گے‘ تو آخرت میں کمی کر دیں گے‘ اور یہ دنیا میں جتنے زیادہ ہوں گے آخرت میں اس سے زیادہ کمی کریں گے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سوار ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔

كنا عند النبي فذُكرَ عنده الحياءُ، فقالوا: ← وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter on what came in the neighborhood and forbidding the descent] · Hadith 12707

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي حَرْمَلَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -] · حديث 16108

16108 - عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: «أَنَّ رَجُلًا - يُقَالُ لَهُ: حَرْمَلَةُ - أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِيمَانُ هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - وَالنِّفَاقُ هَهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى قَلْبِهِ - وَلَا أَذْكُرُ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّنِي، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى خَيْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

أَبِي الدَّرْدَاءِ: «أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: حَرْمَلَةُ أَتَى النَّبِيَّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter of what came in Haramla - may God be pleased with him -] · Hadith 16108

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي حَرْمَلَةَ بْنِ زَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -] · حديث 16147

16147 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ حَرْمَلَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْإِيمَانُ هَهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ، وَالنِّفَاقُ هَهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ، وَلَا يَذْكُرُ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَرْمَلَةُ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرَفِ لِسَانِ حَرْمَلَةَ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحَبَّ مَنْ يُحِبُّنِي، وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى الْخَيْرِ ". فَقَالَ حَرْمَلَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لِي إِخْوَانًا مُنَافِقِينَ كُنْتُ فِيهِمْ رَأْسًا، أَلَا أَدُلَّكَ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ جَاءَنَا كَمَا جِئْتَنَا اسْتَغْفَرْنَا لَهُ كَمَا اسْتَغْفَرْنَا لَكَ، وَمَنْ أَصَرَّ عَلَى ذَنْبِهِ فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِ، وَلَا نَخْرِقُ عَلَى أَحَدٍ سِتْرًا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › Chapter on what came in the Haramla Bin Zayd - may God be pleased with him -] · Hadith 16147

chevron_left Previous
1…91011…57
Next chevron_right