Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4741

4478 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن عمارة بن أبي فروة ان محمد بن مسلم حدثه أن عروة حدثه أن عمرة بنت عبد الرحمن حدثته أن عائشة حدثتها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ثم ذكر مثله

عمرہ بنت عبدالرحمن نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهَا ← أَنَّ عُرْوَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4741

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4742

4479 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عبد الأعلى التغلبي عن أبي حميد عن علي قال أخبر النبي صلى الله عليه و سلم بأمة لهم فجرت فأرسلني إليها فقال اذهب فأقم عليها الحد فانطلقت فوجدتها لم تجف من دمها فرجعت إليه فقال لي فرغت فقلت وجدتها لم تجف من دمها فقال إذا هي جفت من دمها فاجلدها قال علي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم قالوا فلما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في الأمة إذا زنت أن تجلد ولم يأمر مع الجلد بنفي وقد قال الله عز و جل فعليهن نصف ما على المحصنات من العذاب فعلمنا بذلك أن ما يجب على الإماء إذا زنين هو نصف ما يجب على الحرائر إذا زنين ثم ثبت ان لا نفي على الأمة إذا زنت كان كذلك أيضا أن لا نفي على الحرة إذا زنت وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما تقدم من كتابنا هذا أنه نهى أن تسافر امرأة ثلاثة أيام إلا مع محرم فذلك دليل أيضا أن لا تسافر المرأة ثلاثة أيام في حد الزنا بغير محرم وفي ذلك إبطال النفي عن النساء في الزنا فإذا انتفى أن يكون يجب على النساء اللاتي غير المحصنات نفي في الزنا انتفى ذلك أيضا عن الرجال وكان درء النبي صلى الله عليه و سلم إياه عن الإماء فيما ذكرنا كان درءا عن الحرائر وفي درئه إياه عن الحرائر دليل على درئه إياه عن الأحرار وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين فإن قال قائل فإن نفي الأمة إذا زنت ستة أشهر مثل ما تنفى الحرة وقال لم ينف النبي صلى الله عليه و سلم النفي فيما ذكرتموه عنه من جلد الأمة إذا زنت ولا بقوله ثم بيعوها في المرة الرابعة فكان هذا القائل يخالف كل من تقدمه من أهل العلم وخرج من أقاويلهم فيقال له بل فيما روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم من قوله إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها ثم قال في الرابعة فليبعها دليل على أن لا نفي عليها لأنه إنما علمهم في ذلك ما يفعلون بإمائهم إذا زنين فمحال أن يكون يقصر في ذلك عن جميع ما يجب عليهن ومحال أن يأمر ببيع من لا يقدر مبتاعه على قبضه من بائعه ولا تصل إلى ذلك إلا بعد مضي ستة أشهر ويقال له أيضا قد زعمت أنت أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لأنيس رضي الله عنه أغد على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها دليل على أن لا جلد عليها مع ذلك وإن كان إبطال الجلد لم يذكر في هذا الحديث وجعلت ذلك معارضا لما قد روي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله الثيب بالثيب جلد مائة والرجم فإذا كان هذا عندك دليلا على ما ذكرنا فما تنكر على خصمك أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها عنده دليلا على إبطال النفي على الأمة فإذا كان ما ذكرنا في السكوت عن نفي الأمة ليس يرفع النفي عنها فيما ذكرت أنت أيضا في السكوت عن الجلد مع الرجم لا يرفع الجلد عن الثيب الزاني مع الرجم وما يلزم خصمك في قول النبي صلى الله عليه و سلم إذا زنت أمة أحدكم فليجلدها شيء إلا لزمك مثله في قول النبي صلى الله عليه و سلم لأنيس رضي الله عنه فإن اعترفت فارجمها ويقال له قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في النفي في غير الزنا ما قد

ابوحمید نے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ کو خبر دی گئی کہ ان کی ایک لونڈی نے زنا کیا ہے پس آپ نے مجھے اس کی طرف بھیج کر فرمایا کہ تم جاؤ اور اس پر حدقائم کرو۔ میں گیا تو اسے اس حالت میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا۔ پس میں آپ کی خدمت میں لوٹا تو آپ نے مجھے فرمایا کیا تم فارغ ہو گئے ہوتو میں نے عرض کیا ابھی اس کا خون خشک نہیں ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا جب وہ اپنے خون سے فارغ ہو جائے تو اس کو کوڑے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے غلاموں ، لونڈیوں پر حدود قائم کیاکرو۔ انہوں نے کہا جب آپ ﷺ نے زانیہ کے متعلق کوڑوں کا حکم دیا ہے مگر کوڑے کے ساتھ جلاوطنی کا علم نہیں فرمایا اور ارشاد الہی ہے فعلیہن نصف اعلی المحصنات من العذاب (النساء۲۵) اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جب لونڈیاں زنا کریں تو آزاد کی ہنسبت ان پرنصف سزا ہے جبکہ وہ زنا کریں پھر روایت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ لونڈی پر زنا کی صورت میں حد کے علاوہ جلا وطنی نہیں ہے۔ آزاد عورت پر جب وہ ارتکاب زنا کرے اسی طرح جلا وطنی لازم ہیں۔ ہم جناب رسول اللہ ﷺ ے پہلے اسی کتاب میں ذکر کر آئے کہ آپ نے عورت کواکیلے تین دن کے سفر سے منع فرمایا مگر اس صورت میں جبکہ ذی رحم محرم اس کے ساتھ ہو۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگیا کہ عورت تین دن کا سفر حد زنا میں بغیر محرم کے نہیں کرسکتی۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ زانیہ کے سلسلہ میں جلاوطنی نہیں ہے پس جب غیر محصنہ عورت پر جلا وطنی زنا میں واجب نہیں تو مردوں میں بھی جلا وطنی نہ ہوگی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے لونڈی سے حد کو دفع کرنا چاہاتو آزاد سے بھی اسی طرح دفع کریں گے اور آزاد عورتوں سے اس کا دور کرنا آزاد مردوں سے دور کرنے کی دلیل ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ ، ابو يوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے لونڈی کی جلاوطنی زنا کی صورت میں چھ ماہ ہے جیسا کہ آزاد عورت کی جلا وطنی کانصف ہو اور جناب نبی اکرم ﷺ نے مذکورہ روایات میں لونڈی کو کوڑے مارنے کا جہاں ذکر فرمایا تو جلا وطنی کی نفی نہیں فرمائی اور بار بار زنا کے باوجود چوتھی مرتبہ اس کو بیچنے کاحکم فرمایامگر اس میں بھی جلا وطنی کی نفی نہیں ہے۔ تو ایسا کہنے والا اپنے سے پہلے تمام اہل علم کی مخالفت کرنے والا اور ان کے اقوال سے نکلنے والا بن جائے گا۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ہم نے جناب نبی اکرم ﷺ سے جو کچھ روایت کیا ہے۔”اذ ازت امتہ احدكم فليجدها‘‘ پھر چوتھی مرتبہ فرمایا فلیبھا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس پر جلا وطنی لازم نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ان کو وہ بات سکھائی جس کو وہ لونڈیوں کے زنا کرنے کی صورت میں اختیار کریں پس یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس سلسلے میں جولازم تھا اس میں کمی کر دی اور بی بھی ناممکن ہے کہ آپ ایسی عورت کی فروخت کا حکم دیں کہ جس کو خریدنے والا اپنے قبضے میں لینے کی قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ اس کو چھ ماہ بعد ملے اور ہم جواباً یہ بھی کہیں گے کہ پھر تمہارے خیال میں تو جناب نبی اکرم ﷺ نے حضرت انیس کو فرمایا کہ تم اس آدمی کی عورت کے پاس جاؤ اگروہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کردو بقول آپ کے اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ساتھ اس پرکوڑے نہیں ہوں گے اگر چہ کوڑوں کی نفی اس حدیث میں مذکور نہیں ہے اور اس طرح تو تم نے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشادگرامی شادی شدہ جوڑاجب زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے جائیں اور سنگسار کیا جائے کے مخالف ومعارض کر دیا پس اگر تمہارے نزدیک اس بات کی دلیل ہے۔ جیسے ہم نے ذکر کیا تو آپ کو اپنے مخالف اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اسے کوڑے لگائے ۔ یہ اس کے نزدیک لونڈی سے جلاوطنی کی نفی کی دلیل ہے۔ تو جو کچھ ہم نے ذکر کیا کہ لونڈی سے جلا وطنی کی نفی سے خاموشی اختیار کی گئی ہے ( یہ خاموشی اس سے جلا وطنی کونہیں اٹھاتی جیسا کہ تم نے بیان کیا کہ رجم کے ساتھ کوڑوں کے تذکرہ سے خاموشی شادی شدہ زانی سے رجم کی سزا کے ساتھ کوڑے مارنے کی نفی نہیں کرتا تو جو کچھ جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے ارشاد سے کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارنے کے سلسلے میں تمہارے مخالف پر لازم ہو گا جو اس طرح آپ ﷺ کے ارشاد سے جو انیس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرمایا گیا تم پر لازم ہوگا کہ جب وہ زنا کا اعتراف کرے توتم اس کورجم کردو ۔ محترم جناب نبی اکرم ﷺ سے تو جلاوطنی کا تذکرہ زنا کے علاوہ بھی مذکور ہے۔

عَلِيٍّ، ← إذا هي جفت من دمها فاجلدها ← لي فرغت فقلت وجدتها لم تجف من دمها ← اذهب فأقم عليها الحد فانطلقت فوجدتها لم تجف من دمها فرجعت إليه ← أخبر النبي صلى الله عليه و سلم بأمة لهم فجرت فأرسلني إليها ← عَلِيٍّ، ← أَبِي حُمَيْدٍ ← أبو الأحوص عبد الأعلى التغلبي ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4742

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 1 باب حد البكر في الزنا ) · حديث 4743

4480 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن عبد العزيز الواسطي قال ثنا إسماعيل بن عياش قال ثنا الأوزاعي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلا قتل عبده متعمدا فجلده النبي صلى الله عليه و سلم مائة ونفاه سنة ومحا أراه سهمه من المسلمين وأمره أن يعتق رقبة فلم يكن ما فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا من نفيه القاتل سنة دليلا عندنا ولا عندك على أن ذلك حد واجب لا ينبغي تركه وإنما كان على أنه للدعارة لا لأنه حد فما تنكر أيضا أن يكون ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم مما أمر به من نفي الزاني على أنه للدعارة لا لأنه حد واجب كوجوب الجلد والرجم

عمرو بن شعیب نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو جناب نبی اکرم ﷺ نے اس کو ایک سو کوڑے مارے اور جلا وطن کر دیا ور میرے خیال میں مسلمانوں سے اس کا حصہ مٹا دیا اور اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اب اس روایت میں مذکور فعل رسول اللہ ﷺ جلا وطنی جو کہ ایک سال کے لئے تھے وہ ہمارے اور تمہارے کسی کے نزدیک بھی حد واجب میں شامل نہیں ہے کہ اس کا ترک نہ ہو سکتا ہو۔ ( بلکہ قاضی کی صوابدید پر موقوف چیزوں سے ہے ) اور اس روایت میں اس کی جلا وطنی فسق کی وجہ سے تھی ۔ حد کی بناء پر نہ تھی۔ پھر اپ کو اس روایت کے سلسلہ میں کیونکر انکار ہے جس میں جناب رسول اللہ ﷺ سے زانی کی جلا وطنی فسق کے سلسلہ میں مروی ہے ۔ نہ کہ حد واجب کے طور پر جیسا کہ کوڑے اور سنگساری حد واجب ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4743

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter