مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطَّلَاقِ] ‹ بَابُ الْإِيلَاءِ] · حديث 7832
7832 - «وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: 4] فَكُنْتُ أَهَابُهُ، حَتَّى حَجَجْنَا مَعَهُ حَجَّةً فَقُلْتُ: لَئِنْ لَمْ أَسْأَلْهُ فِي الْحَجَّةِ لَا أَسْأَلُهُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا حَجَّنَا أَدْرَكْنَاهُ وَهُوَ بِبَطْنِ مُرٍّ وَقَدْ تَخَلَّفَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ: شَيْءٌ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَكُنْتُ أَهَابُكَ، فَقَالَ: سَلْنِي عَمَّا شِئْتَ، فَإِنَّا لَمْ نَكُنْ نَعْلَمُ شَيْئًا حَتَّى تَعَلَّمْنَاهُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: 4] مَنْ هُمَا؟ قَالَ: لَا تَسْأَلُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِذَلِكَ مِنِّي، كُنَّا بِمَكَّةَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ إِنَّمَا هِيَ خَادِمُ الْبَيْتِ، فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ، سَفَعَ بِرِجْلِهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ تَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْنَ يُكَلِّمْنَنَا وَيُرَاجِعْنَنَا، وَإِنِّي أَمَرْتُ غِلْمَانًا لِي بِبَعْضِ الْحَاجَةِ، فَقَالَتْ امْرَأَتِي: بَلِ اصْنَعْ كَذَا وَكَذَا، فَقُمْتُ إِلَيْهَا بِقَضِيبٍ فَضَرَبْتُهَا بِهِ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، تُرِيدُ أَنْ لَا تُكَلَّمَ؟! فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُكَلِّمُهُ نِسَاؤُهُ، فَخَرَجْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا بُنَيَّةُ انْظُرِي لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تَسْأَلِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ يُعْطِيكَهُنَّ، فَمَا كَانَتْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ حَتَّى دَهْنِ رَأْسِكِ فَسَلِينِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ، وَجَلَسَ النَّاسُ حَوْلَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ امْرَأَةً امْرَأَةً يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ إِحْدَاهُنَّ جَلَسَ عِنْدَهَا، وَإِنَّهَا أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ عَكَّةُ عَسَلٍ مِنَ الطَّائِفِ - أَوْ مِنْ مَكَّةَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهَا حَبَسَتْهُ حَتَّى تُلْعِقَهُ مِنْهُ أَوْ تَسْقِيَهُ مِنْهَا، وَأَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتِ احْتِبَاسَهُ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ لِجُوَيْرِيَةٍ عِنْدَهَا حَبَشِيَّةٍ، يُقَالُ لَهَا: خَضْرَاءُ: إِذَا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَادْخُلِي عَلَيْهَا فَانْظُرِي مَا يَصْنَعُ، فَأَخْبَرَتْهَا الْجَارِيَةُ بِشَأْنِ الْعَسَلِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى صَوَاحِبَاتِهَا فَأَخْبَرَتْهُنَّ، وَقَالَتْ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكُنَّ فَقُلْنَ: إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، ثُمَّ إِنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَعِمْتَ شَيْئًا مُنْذُ الْيَوْمُ؟ فَإِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدُّ شَيْءٍ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحُ شَيْءٍ، فَقَالَ: " هُوَ عَسَلٌ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا " حَتَّى [إِذَا] كَانَ يَوْمُ حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي حَاجَةً إِلَى أَبِي، إِنَّ نَفَقَةً لِي عِنْدَهُ، فَأْذَنْ لِي أَنْ آتِيَهُ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ، فَأَدْخَلَهَا بَيْتَ حَفْصَةَ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَتْ حَفْصَةُ فَوَجَدَتِ الْبَابَ مُغْلَقًا، فَجَلَسَتْ عِنْدَ الْبَابِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فَرْعٌ وَوَجْهُهُ يَقْطُرُ عَرَقًا وَحَفْصَةُ تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ " فَقَالَتْ: إِنَّمَا أَذِنْتَ لِي مِنْ أَجْلِ هَذَا، أَدْخَلْتَ أَمَتَكَ بَيْتِي، ثُمَّ وَقَعْتَ عَلَيْهَا عَلَى فِرَاشِي، مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا بِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ!! أَمَا وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لَكَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! فَقَالَ: " وَاللَّهِ مَا صَدَقْتِ أَلَيْسَ هِيَ جَارِيَتِي قَدْ أَحَلَّهَا اللَّهُ لِي؟ أُشْهِدُكِ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ، أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ رِضَاكِ، انْظُرِي لَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ امْرَأَةً مِنْهُنَّ فَهِيَ عِنْدَكِ أَمَانَةٌ " فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَعَتْ حَفْصَةُ الْجِدَارَ الَّذِي بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: أَلَا أَبْشِرِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَرَّمَ أَمَتَهُ، فَقَدْ أَرَاحَنَا اللَّهُ مِنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَرِيبُنِي أَنَّهُ كَانَ يُقْتَلُ مِنْ أَجْلِهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَهِيَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، وَزَعَمُوا أَنَّهُمَا كَانَتَا لَا تَكْتُمُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى شَيْئًا. وَكَانَ لِي أَخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا حَضَرْتُ وَغَابَ فِي بَعْضِ ضَيْعَتِهِ حَدَّثْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا غِبْتُ فِي بَعْضِ ضَيْعَتِي حَدَّثَنِي، فَأَتَانِي يَوْمًا وَقَدْ كُنَّا نَتَخَوَّفُ جَبَلَةَ بْنَ الْأَيْهَمِ الْغَسَّانِيَّ فَقَالَ: مَا دَرَيْتَ مَا كَانَ؟ فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ لَعَلَّهُ جَبَلَةُ بْنُ الْأَيْهَمِ الْغَسَّانِيُّ تَذْكُرُ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الصُّبْحَ فَلَمْ يَجْلِسْ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَزْوَاجِهِ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ، وَقَدِ اعْتَزَلَ فِي مَشْرَبَتِهِ، وَقَدْ تَرَكَ النَّاسَ يَمُوجُونَ، وَلَا يَدْرُونَ مَا شَأْنُهُ، فَأَتَيْتُ وَالنَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ يَمُوجُونَ وَلَا يَدْرُونَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كَمَا أَنْتُمْ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَشْرَبَتِهِ قَدْ جُعِلَتْ لَهُ عَجَلَةٌ فَرَقَى عَلَيْهَا، فَقَالَ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ وَكَانَ يَحْجُبُهُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ لِي، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَشْرَبَتِهِ فِيهَا حَصِيرٌ وَأَهَبٌ مُعَلَّقَةٌ، وَقَدْ أَفْضَى لِجَنْبِهِ إِلَى الْحَصِيرِ فَأَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوَّةٌ لِيفًا، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ؟ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُ وَالرُّومُ يَضْطَجِعُ أَحَدُهُمْ فِي الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ، وَالْآخِرَةُ لَنَا " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُكَ؟ فَإِنِّي تَرَكْتُ النَّاسَ يَمُوجُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَعَنْ خَبَرٍ أَتَاكَ، فَقَالَ: أَعْتَزِلْهُنَّ فَقَالَ: " لَا وَلَكِنْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي شَيْءٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا " ثُمَّ خَرَجْتُ عَلَى النَّاسِ فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْجِعُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِ شَيْءٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَعْتَزِلَ. ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا بُنَيَّةُ أَتُكَلِّمِينَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَغِيظِينَهُ وَتَغَارِينَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَتْ: لَا أُكَلِّمُهُ بَعْدُ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَكَانَتْ خَالَتِي، فَقُلْتُ لَهَا كَمَا قُلْتُ لِحَفْصَةَ فَقَالَتْ: عَجَبًا لَكَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ كُلُّ شَيْءٍ تَكَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى تُرِيدَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِ، وَمَا يَمْنَعُنَا أَنْ نَغَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَزْوَاجُكُمْ يَغَرْنَ عَلَيْكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 28] حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا». قُلْتُ: لِعُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں چاہتا تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کروں : " اگر ان دونوں نے اس بارے میں ایک دوسرے کی اعانت کی "۔ لیکن میں ان سے ہیبت زدہ تھا یہاں تک کہ میں ان کے ساتھ حج کرنے کے لئے گیا میں نے سوچا کہ اگر میں نے اس حج کے دوران ان سے دریافت نہ کیا، تو پھر ان سے کبھی نہیں پوچھ سکوں گا، جب ہم نے حج کر لیا تو میں ایک مرتبہ ان کے پاس پہنچا وہ اس وقت " مر " کے نشیبی حصے میں موجود تھے اور قضائے حاجت کے لئے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے فرمایا: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد تمہیں خوش آمدید ہے تمہیں کیا کام ہے میں نے کہا: ایک چیز ہے جس کے بارے میں ، میں آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا اے امیر المومنین ! لیکن میں آپ سے ہیبت زدہ بھی تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جو چاہو اس کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ ہمیں بھی کسی چیز کا اس وقت تک علم نہیں ہوا جب تک ہم نے اسے سیکھا نہیں میں نے کہا: آ پ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے " اگر ان دونوں نے " ان دونوں خواتین سے مراد کون ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کسی ایسے شخص سے دریافت نہیں کرو گے ، جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہو جب ہم لوگ مکہ میں رہا کرتے تھے ، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ کلام نہیں کیا کرتا تھا وہ عورت گھر کی نوکرانی ہوتی تھی جب آدمی کو اس سے حاجت ہوتی تھی، تو اس کے پاس آ کر اپنی حاجت پوری کر لیتا تھا جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو ہماری بیویوں نے انصار کی خواتین سے سیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنا اور ہمیں جواب دینا شروع کر دیا میں نے ایک مرتبہ لڑکوں کو کوئی کام کہا تو میری بیوی نے کہا بلکہ اس کو اس اس طرح کر لیں میں چھڑی لے کر اس کی طرف بڑھا میں نے وہ چھڑی اسے ماری ، تو اس نے کہا: اے خطاب کے صاحبزادے ! آپ پر حیرت ہوتی ہے آپ یہ چاہتے ہیں آپ کے ساتھ کلام نہ کیا جائے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کلام کر لیتی ہیں ۔میں نکلا اور میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے میرے بیٹی ! تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ کلام نہ کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز نہ مانگنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس نہ دینار ہوتے ہیں: اور نہ درہم ہوتے ہیں جو وہ تمہیں دیں اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو یہاں تک کہ اگر سر میں لگانے کے لئے تیل کی بھی ضرورت ہو ، تو تم مجھے کہہ دینا ۔ نبی اکرم جب صبح کی نماز پڑھتے تھے، تو آپ جائے نماز پر تشریف فرما رہتے تھے اور لوگ آپ کے ارد گرد بیٹھ جاتے تھے اور سورج طلوع ہونے تک تشریف فرما رہتے تھے پھر اپنی ازواج میں سے ایک خاتون کے پاس تشریف لے جاتے تھے انہیں سلام کرتے انہیں دعا دیتے تھے اور جس خاتون کی مخصوص باری کا دن ہوتا تھا ان کے ہاں ٹھہر جایا کرتے تھے ایک مرتبہ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کو طائف سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) مکہ سے شہد کی شیشی تحفے کے طور پر دی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اندر تشریف لائے ، اور انہیں سلام کیا ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روک لیا اور آپ کو شہد کھانے کے لئے یا پینے کے لئے دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات پر حیرانگی ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہاں کیوں ٹھہرے ہیں انہوں نے اپنی حبشی کنیز جس کا نام خضراء تھا اس سے یہ کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حفصہ کے پاس جائیں ، تو تم اس کے گھر جانا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں : اس کنیز نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا کہ وہاں شہد پیتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساتھی خواتین (یعنی دیگر ازواج مطہرات ) کو پیغام بھیجا اور انہیں اس بارے میں بتایا اور یہ کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے پاس تشریف لائیں ، تو تم نے یہ کہنا ہے ہمیں آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ نے آج کوئی چیز کھائی ہے مجھے آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے راوی کہتے ہیں:۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو شدید ناپسند کرتے تھے کہ آپ سے کسی چیز کی بو محسوس ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو صرف شہد تھا اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں کھاؤں گا راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ جب سیدہ حفصہ کی مخصوص باری کا دن آیا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !مجھے اپنے والد سے ایک کام ہے میرا خرچ ان کے پاس موجود ہے اگر آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں ان کے پاس چلی جاتی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خاتون کو اجازت دے دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کنیز ماریہ کو پیغام بھیجا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا اسی دوران سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا واپس آ گئیں ، تو انہوں نے دروازے کو بند پایا وہ دروازے کے پاس بیٹھ گئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ " فرع" تھے اور آپ کا پسینہ ٹپک رہا تھا ، سیدہ حفصہ رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اسی مقصد کے لئے اجازت دی تھی کہ آپ اپنی کنیز کو میرے گھر لے آئیں اور پھر میرے بستر پر اس کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں آپ نے دیگر ازواج میں سے کسی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا تھا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کے لئے ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم ! تم ٹھیک نہیں کہہ رہی ہو کیا وہ میری کنیز نہیں ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حلال قرار دیا ہے میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ وہ مجھے پر حرام ہے، اور میں اس کے ذریعے تمہاری رضا مندی حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ دیگر ازواج میں سے کسی خاتون کو اس بارے میں نہ بتانا یہ بات تمہارے پاس امانت ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے درمیان والی دیوار کو کھٹکھٹایا اور کہا تم خوشخبری سنو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کنیز کو حرام قرار دے دیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس حوالے سے راحت نصیب کر دی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ ، تو شک ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کنیز کی وجہ سے پریشان ہو جائیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : " اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے "۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : " اے نبی ! تم اپنی ازواج سے فرما دو کہ اگر تم دنیا اور اس کی آرائش و زیبائش کی طلب گار ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دیتا ہوں اور تمہیں اچھے طریقے سے الگ کر دوں گا"۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ دونوں خواتین ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں چھپاتی تھیں ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) انصار سے تعلق رکھنے والا میرا ایک بھائی تھا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ) موجود ہوتا اور وہ زمینوں وغیرہ پر گیا ہوتا تو میں اسے وہ چیزیں بیان کر دیتا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہوتی تھیں اور جب میں کام کے سلسلے میں غیر موجود ہوتا تھا تو وہ مجھے بیان کر دیتا تھا ایک دن وہ میرے پاس آیا ہم دونوں جبلہ بن ایہم غسانی کے حوالے سے اندیشے کا شکار تھے اس نے کہا : آپ کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا : کیا ہوا ہے شاید جبلہ بن ایہم غسانی آنے والا ہے اس نے کہا جی نہیں اس سے بھی زیادہ پریشانی والی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی اور پہلے کی طرح تشریف فرما نہیں ہوئے ، اور اپنے عام معمول کے مطابق اپنی ازواج کے پاس بھی تشریف نہیں گئے آپ نے بالا خانے میں علیحدگی اختیار کر لی ہے ، اور لوگوں کو پریشان چھوڑ دیا ہے انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا معاملہ ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آیا لوگ مسجد میں پریشان تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو! جیسے تم ہو ویسے ہی رہو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بالا خانے میں موجود تھے آپ کے لئے ایک سیڑھی بنائی گئی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر چڑھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سیاہ فام غلام سے جو دربان کے فرائض سر انجام دے رہا تھ اس سے یہ کہا: عمر بن خطاب کے لئے اجازت مانگو اس نے میرے لئے اجازت مانگی میں اندر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بالا خانے میں موجود تھے جس میں ایک چٹائی تھی اور کچھ کھالیں لٹکی ہوئی تھیں چٹائی کا نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو پر لگ گیا تھ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا تو میں رو پڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کی : اہل فارس اور اہل روم دیباج اور حریر پر لیٹتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کی پاکیزہ چیزیں انہیں جلدی ( یعنی دنیا میں ) دے دی گئیں اور ہمیں آخرت میں ملیں گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کا کیا معاملہ ہے میں نے لوگوں کو پریشان چھوڑا ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے کوئی اطلاع ملے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان خواتین کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی ہے ( شاید یہاں یہ الفاظ ہونے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں طلاق دے دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں بلکہ میرے اور میری ازواج کے درمیان کچھ ناراضگی ہے ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نکل کر لوگوں کے پاس آیا میں نے کہا: اے لوگو ! تم لوگ واپس چلے جاؤ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی ازواج کے درمیان کوئی معاملہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علیحدہ رہنے کو پسند کیا ہے پھر میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے میری بیٹی ! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ کلام کرتی ہو ( یعنی انہیں جواب دیتی ہو ) اور ان کے سامنے غصے کا اظہار کرتی ہو اور مزاج کی شدت کا اظہار کرتی ہو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ناپسند ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پا س گیا جو میری خالہ لگتی تھیں میں نے ان سے بھی وہی بات کہی جو میں نے حفصہ سے کہی تھی ، تو انہوں نے کہا : اے عمر بن خطاب ! تم پر حیرانگی ہوتی ہے تم ہر چیز کے بارے میں بات شروع کر دیتے ہو، یہاں تک کہ اب تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی ازواج کے درمیان بھی دخل دو کیوں اللہ کے رسول کو غصہ کرکے نہ دکھائیں جبکہ تم لوگوں کی بیویاں بھی تم لوگوں کو غصہ دکھاتی ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : " اے نبی تم اپنی ازواج سے فرما دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو ، تو آگے آؤ میں تمہیں سا ز و سامان دیتا ہوں ، اور تمہیں مناسب طریقے سے الگ کر دیتا ہوں " ۔ یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے ( یعنی آپ نے یہ پوری آیت تلاوت کی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث " صحیح " میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں یہ ثقہ اور مامون ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Divorce Book] › Section of the Evil] · Hadith 7832
