Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الأدب المفرد

Al Adab Al Mufrad

by Imam Bukhari

1,325 Hadith114 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 728

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ُحَمْیٌد ، عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ، قَالَ: ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ یَقُوْلُ: اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ، قَالَ: ((سُبْحَانَ اللہِ! لَا تَسْطَیْعُہُ۔أَوَ لَا تَسْتَطْیْعُوْا۔أَلَا قُلْتَ: اللَّھُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً ، وَفِي الْآ خِرَۃِ حَسَنَۃً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ))، وَدَعَالَہُ، فَشَفَاہُ اللہُ عَزَّوَجْلَّ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرنده ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔“ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔

اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ← ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ ← نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ← دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 728

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 729

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِيْ قَالَ: حَدَّثَنَا ْالَٔا عْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِيْ مُجَاھِدٌ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ: یَقُوْلُ الرَّجُلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَعُوْذُبِکَ مَنْ جَھْدِ الْبَلاءِ ، ثُمَّ یَسْکُتُ ، فَاإِذَا قَالَ ذَلِکَٔ فَلْیَقُلْ: إِلَّا بَلاءَ فَیْہِ عَلَاءٌ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: آدمی کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے سخت مصیبت میں مبتلا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر چپ ہو جاتا ہے۔ جب یہ دعا کرے تو یوں بھی کہے: مگر ایسی مصیبت جو درجات کی بلندی کا باعث ہو، وہ مطلوب ہے۔

ذَلِکَٔ فَلْیَقُلْ: إِلَّا بَلاءَ فَیْہِ عَلَاءٌ ← الرَّجُلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَعُوْذُبِکَ مَنْ جَھْدِ الْبَلاءِ ثُمَّ یَسْکُتُ فَاإِذَا ← عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْروؓ ← مُجَاهِدٍ ← اْلَٔا عْمَشِ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 729

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 730

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَنْۃََ، عَنْ سُمَيَّ ، عَنْ أَبَيْ صَالِحِ، عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَتَعَوَّذُ مَنْ جَھْدِالْبَلاءِ، وَدَرَکْٔ الشَّفَاءِ، وَشَمَاتَۃِ اْلَٔا عْدَاءِ، وَسُوْءِ الْقَضَاءِ

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت مصیبت سے، بدبختی کے پا لینے سے، دشمنوں کی خوشی سے، اور برے فیصلے سے پناہ مانگتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← سُفْیَانُ بْنُ عُیَنْۃََ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 730

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 731

حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِيْ بَکْرٍ، وَمُسْلِمٌ نَحْوَہُ قَّالَا: حَدَّثَنَا اْلَٔا سْوَدُبْنُ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِيْ نَوْفَلٍ بْنِ أَبِيْ عَقْرَبَ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ: ((صُمْ یَوْمًا مِنْ کُلَّ شَھْرٍ))، قُلْتُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمْیْ! زِدْنِیْ ، قَالَ: ((زِدْنِیْ ، صُمْ یَوْمَیْنِ مَنْ کُلَّ شَھْرٍ))، قُلْتُ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأَمَّیْ! زِدْنِیْ ، فاَإِنَّيْ أَجِدُنِيْ قَوِیَّا، فَقَالَ: (( إِنَّيْ أَجِدُنِيْ قَّوِیَّا، إِنَّيْ أَجِدُنِي قَّویًّا))، فَأَفْحَمَ، حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَہُ لَنْ یَزِیْدَنِیْ، ثُمَّ قَالَ: ((صُمْ ثلَاَثًا مِنْ کُلَّ شَھْرٍ۔))۔

ابونوفل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا ابوعقرب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اور زیادہ کی اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور زیادہ، اور زیادہ، ہر مہینے میں دو روزے رکھ لو۔“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اور زیادہ کی اجازت دیجیے، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ میں زیادہ کی طاقت ہے، مجھ میں زیادہ کی طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپ کرا دیا یہاں تک کہ میں نے گمان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو۔“

الصوم ← أَبِيْ نَوْفَلٍ بْنِ أَبِيْ عَقْرَبَ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← اْلَٔا سْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ← عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِيْ بَکْرٍ، وَمُسْلِمٌ نَحْوَہُ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 731

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 732

حَدَّثَنَا أَبُوْ مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَرِثِ، عَنْ وَاصِلِ مَوْلَی أَبِيْ عُیَنْۃَ َقَالَ: حَدَّثَنِيْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَّ، عَنْ طَلْعَۃَ بْن نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ ؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَارْتَفَعَتْ رِیْحٌ خَبِیْثَۃٌ مُتِنْۃٌ، فَقَالَ ﷺ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ھَذِہِ؟ ھَذِہِ رِیْحُ الَّزِیْنَ یَغْتَابُوْنَ الْمُوْمِنْینَ۔)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک بدبودار ہوا اٹھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبودار ہوا ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے تھے۔“

((أَتَدْرُوْنَ مَا ھَذِہِ؟ ھَذِہِ رِیْحُ الَّزِیْنَ یَغْتَابُوْنَ الْمُوْمِنْینَ۔) ← کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ وَارْتَفَعَتْ رِیْحٌ خَبِیْثَۃٌ مُتِنْۃٌ، ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← طَلْعَۃَ بْن نَافِعٍ، ← خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ← وَاصِلِ مَوْلَی أَبِيْ عُیَنْۃَ ← عبدالورث. ← أَبُو مَعْمَرٍ،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 732

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 733

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضِ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِيْ سُفْیَانَ، عَنْ جَابِرِ ؓ قَالَ: ھَاجَتْ رِیْحٌ مُنْتِنَۃٌ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ نَاسًا مَنَ الْمُنَافِقِیْنَ اغْتَابُوْا أُنَاساً مَنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَبُعِثَتْ ھَذِہِ الرَّیْحُ لِذَ لِکَ۔))

ابوسفیان بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بدبودار ہوا پھوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ منافق لوگوں نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے تو اس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے۔“

ھَاجَتْ رِیْحٌ مُنْتِنَۃٌ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَیْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُسَدَّدٌ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 733

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 734

حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ صَالِحِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الشَّامِيَّ، سَمِعْتُ ابْنَ أُمَّ عَبْدِ ؓ یَقُوْلُ: مَنْ اُغْتِیْبَ عَنْدَہُ مُوْمِنٌ فَنِصَرہُ جَزَاہُ اللہُ بِھَا خَیْرَافِي الدُّنْیَا وَاْلَا خِرَۃِ، وَمَنْ اُغْیِبَ عَنْدَہُ مُوْمِنٌ فَلَمْ یَنْصُرْہُ، جَزَاہُ اللہِ بِھَا فِي الدَّنْیَا وَاْلَا خِرَۃِ شَرَّا، وَمَا الْتَقَمَ أَحَدٌ لُقْمَۃً شَرَّا مَنَ اغْتِیَابِ مُؤْمَنٍ ، إِنْ قَالَ فِیْہِ مَایَعْلَمُ،فَقَدِ اغْتَابَہُ، وَإِنْ قَالَ فَیْہِ بِمَا َلا یَعْلَمُ فَقَدْ بَھَتَّہَ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جس کی موجودگی میں کسی مومن کی غیبت کی گئی اور اس نے اس کی مدد کی اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں جزا دے گا۔ اور جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے مدد نہ کی، یعنی دفاع نہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں برا بدلہ دے گا۔ اور کسی نے مومن کی غیبت سے بڑھ کر کوئی برا لقمہ منہ میں نہیں لیا۔ اگر اس نے ایسی بات کی جو وہ جانتا ہے تو اس نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس نے ایسی بات کی جو اس کو معلوم نہیں تو اس نے اس پر بہتان لگایا۔

ابن أم عبد ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الشَّامِيَّ، ← كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عبداللہ بن صالح،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 734

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا الَّنضْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ َعْبدُالْعَزِیْزِ بْنُ رَبِیْعٍ الْبَاھِلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ مُحَمَّدٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ ؓ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللِہ ﷺ ، فَأَتی عَلَی قَبْرَیْنِ یُعَذَّبُ صَاحِبَا ھُمَا، فَقَالَ : ((إِنَّھُمَا لَا یُعَدَّبَانِ فِيْ کَبْیرٍ ، وَبَلَی ، أَمَّا أَ حَدُھمُاَ فَکَانَ نَغْتَابُ النَّاسَ،وَأَمَّا ا لْاْخَرُ عَلَی قَبْرٍ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ:((أَمَا إِنَّہُ سَیُحَھَوَّنُ مَنْ عَذَ ابِھمَاِ، مَا کَا نَتَا رَطْبَتَیْنِ،أَوْلَمْ یَتَبْسَا))۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس آئے جن قبروں والوں کو عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔ کیوں نہیں، وہ واقعی بڑا ہے (لیکن یہ بڑا نہیں سمجھتے تھے)۔ ان میں سے ایک لوگوں کی غیبت کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب سے تکلیف محسوس نہیں کرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دو تازہ ٹہنیاں منگوائیں اور ان دونوں کو توڑا، پھر ہر ٹکڑے کے متعلق حکم دیا تو ہر ایک کو قبر پر گاڑ دیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ان سے عذاب کو ہلکا کر دیا جائے گا جب تک وہ سبز رہیں گی یا خشک نہیں ہوں گی۔“

کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللِہ فَأَتی عَلَی قَبْرَیْنِ یُعَذَّبُ صَاحِبَا ھُمَا، ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللہِ ← أَبُو الزُّبَیْرِ مُحَمَّدٌ ← أَبُو الْعَوَّامِ َعْبدُالْعَزِیْزِ بْنُ رَبِیْعٍ الْبَاھِلِيُّ ← النَّضْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 735

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 736

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِيْ قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ : کَانَ عَمْرُ وْ بْنُ الْعَاصِ ؓ یَسِیْرُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَمَرَّ عَلَی بَغْلِ مَیَّتٍ قَدِ انْتَفَخَ، فَقَالَ : وَاللہِ الأَن یَأُکُلْ أَحَدُکُمْ ھَذَا حَتَّی یَمْلَأ بَطْنَہُ ، خَیْرٌ مَنْ أَنْ یَأُکُلً لَحممْسْلِمِِ

قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک مردہ خچر کے پاس سے ان کا گزر ہوا جو (زیادہ دیر مردہ حالت میں پڑا رہنے کی وجہ سے) پھول چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم تم میں سے کوئی یہ کھائے یہاں تک کہ اپنا پیٹ بھر لے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ مسلمان کا گوشت کھائے۔“

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 736

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 737

حَدَّثَنَا عَمْرُ وْبْنَ خَالِدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عْنْ أبِيْ عَبْدِالرَّحِیْمِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِيْ أُنَیْسَۃَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْھَضْھَاضِ الدَّوْسِيَّ ، عْنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: جَاءَ مَا َعزُبْنُ مَالَکٍ اْلَأسْلَمِيٌؓ ، فَرَجَمَہُ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ عِنْدَ الرَّابِعَۃِ ، فَمَرَّ بِہِ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابَہِ، فَقَالَ رَجلُاَ ن مَنْھُمْ : إِنَّ ھَذَا الْخَائِنَ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ مِرَارًا ، کُلَّ ذَلِکَ یَرُدُّہُ ، حَتَّی قُتِلَ کَمَا یُقْتَلُ الْکَلْبُ ، فَسَکَتَ عَنْھُمُ البَنَّيَّ ﷺ حَتَّی مَرَّ بِجِیْفَۃِ حِمَارِ شَائِلَۃٌ رِجْلُہُ ، فَقَالَ : ((کُلَا مِنْ ھَذَا ))، قَالَا: مِنْ جِیْفَۃِ حِمَارٍ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ: (( فَالَّذِيْ نِلْتُمَا مَنْ عِرْضِ أَخِیْکُمَا آنِفًا أَکْثَرُ ، وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! إِنَّہُ لَفِيْ نَھْرٍ مَنْ أَنُھَارِ الْجَنَّۃِ یَتَغَمَّصُ))

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے اور زنا کی وجہ سے سزا نافذ کرنے کی درخواست کی۔ چوتھی مرتبہ آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کر دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ان کے پاس سے گزرے تو صحابہ میں سے دو آدمیوں نے کہا: یہ خائن خود بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار اسے واپس کرتے رہے حتی کہ کتے کی موت مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے، پھول جانے کی وجہ سے اس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں اس میں سے کھاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: (کیا) مردہ گدھے میں سے کھائیں؟ اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جو تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی غیبت کی ہے، وہ اس سے زیادہ برا کام ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں غوطے مار رہا ہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْھَضْھَاضِ الدَّوْسِيَّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أبي عبدِالرحيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَمْرُ وْبْنَ خَالِدٍ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 737

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 738

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ : أَخْیَرَ َنا حَنْظَلَۃُ بْنُ عَمْرٍ و الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ قَالَ: أَبُوْ حَزْرَۃَ قَالَ: أَخْیَرَ نِيْ عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِيْ وَأَنَا غُلَا مٌ شَابٌ ، فَتَلْقَّی شَیْخّا ، قُلْتُ : أيْ عَمَّ ! مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تُعْطِيَ غُلَامَکَٔ ھَذِہِ الَنِمَرۃَ ، وَتَأُخُذَ الْبُرْدَۃَ ، فَیَکُوْنُ عَلَیْکَ بُرْدَتَیْنِ ، وَعَیَلْہِ نَمِرَۃٌ ؟ فَأَقْیَلَ عَلَی أَبِي فَقَالَ : ابْنُکَ ھَذَا ؟ قَالَ: نَعَمْ ، فَمَسَحَ عَلَی رَأُسِیْ وَقَالَ : بَارَکَٔ اللہُ فِیْکَٔ ، أَشْھَدْ لَسَمَعْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ : (( أَطْعِمُوْ ھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ ، وَاکْسُوْھُمْ مِمَّا تَکْتَسُوْنَ))، یَا ابْنَ أَخِی ! ذَھَابُ مَتَاعِ الدُّنَیا أَحَبٌ إِلَيَّ مَنْ أنْ یَأْخُذَمَنْ مَتَاعِ اْلَاخِرَۃَ ، قُلْتُ : أَيْ أَبَتَاہُ ! مَنْ ھَذَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ : أَبُو الْیَسَرِ بْنُ عَمْرِو

حضرت عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے ساتھ باہر نکلا۔ میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا۔ ہم ایک بزرگ سے ملے جنہوں نے ایک چادر اور معافری کپڑا زیب تن کیا ہوا تھا، اور ان کے غلام نے بھی ان جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ میں نے کہا: چچا جان! اس میں کیا رکاوٹ ہے کہ آپ یہ دھاری دار چادر اپنے غلام کو دے دیتے اور اس سے دوسری چادر لے لیتے۔ اس طرح آپ پر دو ایک طرح کی چادریں ہو جاتیں اور غلام پر دھاری دار چادر ہو جاتی۔ یہ سن کر وہ میرے والد کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا: یہ آپ کا بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے برکت دے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو خود کھاتے ہو وہ ان غلاموں کو کھلاؤ، اور جو خود پہنو انہیں بھی پہناؤ۔“ میرے بھتیجے! دنیا کے سامان کا مجھ سے چلے جانا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ وہ میرے آخرت کے سامان سے کچھ لے لے۔ میں نے کہا: ابا جان! یہ آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ابوالیسر (کعب) بن عمرو ہیں۔

خَرَجْتُ مَعَ أَبِي ← أَخْیَرَ نِيْ عُبَادَۃُ بْنُ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ← أبو حزرة ← حَنْظَلَۃُ بْنُ عَمْرٍ و الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ ← أَخْیَرَ ← إِسْحَاقُ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 738

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 739

حَدَّثَنَا عْبْدَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ قَالَ: أِدْرَکْتُ الَّسلَفَ ، وَإِنَّھُمْ لَیکُوْنُوْنَ فِي الْمَنْزِلِ الْوَاحِدِ بِأَھاَلِیْھِمْ ، فَرُبَّمَا نَزَلَ عَلَی بَعْضِھُمُ الَّضیْفُ ، وَقِدْرُ أَحَدِھِمْ عَلَی النَّارِ ، فَیَأُ خُذُھَا صَاحِبُ الضَّیْفِ لِضَیْفِہِ، فَیَفْقِدُ الْقِدْرَ صَاحَبُھَا ، فَیَقُوْلَ : مَنْ أَخَذَ الْقِدْرَ ؟ فَیَقُوْلُ صَاحِبُ الضَّیْفُ : نَحْنُ أَخَذْنَا ھَا لِضَیْفِنَا ، فَیَقُوْلُ صَاحِبُ الْقِدْرِ : بَارَکَٔ اللہُ لَکُمْ فِیْھَا۔أَوْ کَلِمَۃَ نَحْوَھَا ۔ قَالَ بَقِیَّۃُ : وَقَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْخُبْزُ إِذَا خبزوْا مِثْلُ ذَلِکَٔ ، وَلَیْسَ بیَنْھَمُ إِلَّا جُدُرُ الْقَصَبِ ۔ قَالَ بَقِیَّۃُ : وَأَدْرَکْتُ أَنَا ذَلِکَ : مُحَمَّدَ بْنَ زِیَادٍ وَأَصْحَابَہُ

محمد بن زیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سلف (صحابہ و تابعین) کو پایا کہ وہ ایک ہی مکان میں اہل و عیال کے ساتھ رہتے تھے۔ جب کبھی ان میں سے کسی کا مہمان آ جاتا اور ان کی ہنڈیا پک رہی ہوتی تو مہمان والا اسے اپنے مہمان کے لیے لے لیتا۔ ہانڈی والا جب ہانڈی غائب پاتا تو پوچھتا کہ ہانڈی کس نے لی ہے؟ مہمان والا کہتا: ہم نے مہمان کے لیے لی ہے۔ ہانڈی والا کہتا: اللہ تمہیں اس میں برکت دے یا اس طرح کے کلمات کہتا۔ بقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد نے کہا: اور جب وہ روٹی پکاتے تو بھی اسی طرح ہوتا اور ان کے گھروں کے درمیان صرف بانس کی دیوار ہوتی۔ بقیہ رحمہ اللہ نے کہا: اور میں نے بھی اپنے استاد محمد اور ان کے ساتھیوں کو اسی طریقے پر پایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← بَقِيَّةُ ← عَبْدَةُ

Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 739

chevron_left Previous
1…909192…111
Next chevron_right
All Chapters
1. The Parents' Book
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. My loyal book
    0. Chapter
4. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
5. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
6. The book of the neighbor
    0. Chapter
7. The Book of Generosity and Orphan
    0. Chapter
8. Child Death Book
    0. Chapter
9. Child Death Book
    0. Chapter
10. Care book
    0. Chapter
11. The Book of Good News
    0. Chapter
12. The book of extensions to the people
    0. Chapter