الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 728
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ُحَمْیٌد ، عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ، قَالَ: ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ یَقُوْلُ: اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ، قَالَ: ((سُبْحَانَ اللہِ! لَا تَسْطَیْعُہُ۔أَوَ لَا تَسْتَطْیْعُوْا۔أَلَا قُلْتَ: اللَّھُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً ، وَفِي الْآ خِرَۃِ حَسَنَۃً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ))، وَدَعَالَہُ، فَشَفَاہُ اللہُ عَزَّوَجْلَّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرنده ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔“ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔
اللَّھُمَّ مَا أَنْتَ مُعَدَّبِيْ بِہِ فِي اْلَا خِرَۃِ، فَعَجَّلْہُ فِي الدُّنیَا ← ((ادْعُ اللہَ بِشَيْ ءٍ أَوْ سَلْہُ))، فَجَعَلَ ← نَعَمْ۔عَلَی رَجُلٍ قَدْ جَھدَ مَنَ انْمَرَضِ، فَکَأَنَۃُ فَرْخٌ مَنْتُوْفٌ ← دَخَلَ۔قُلْتُ لِحُمِیْدِ: النَّبِيَّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،
Al Adab Al Mufrad · The book of supplication › Chapter · Hadith 728
