Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
الأدب المفرد

Al Adab Al Mufrad

by Imam Bukhari

1,325 Hadith114 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 716

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ قَالَ: حَدَّثَنَا لَیْتٌ قَالَ: أَخْبَرَنِيْ رَجُلٌ مَنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ ؓ یَقُوْلُ: انْطَلَقْتُ مَعَ أبِيْ بَکْرٍ الصَّدَّیْقِ ؓ إِلَی النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ الَلَّثرْکُ فِیْکُمْ أَخْفَی مَنْ دَبْیبِ النَّمُلِ))، فَقَالَ أبُوْبَکْرِ: وَھَلِ الشَّرْکُ إِلَّا مَنْ جَعَلَ مَعَ اللہِ إِلَھَا آخَرَ؟ فَقَالَ النَّبِيَّ ﷺ ((وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ! لَلشَّرْکُ أَخْفَی مَنْ دَبِیْب النَّمْلِ ، أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی شَيْءٍ إِذَا قُلْتَہُ ذَھَبَ عَنْکَ قَّلِیْلُہُ وَکَثِیْرُہُ؟)) قَالَ: ((قُلِ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَوْعُوْذُبِکَ أنْ أُشْرِکَ بِکَٔ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکِٔ لَمَا لَا أَعْلَمُ))۔

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! يقيناً شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی پوشیدہ ہو کر آتا ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے علاوہ بھی شرک ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ پوشیدہ طریقے سے داخل ہو جاتا ہے۔ کیا میں تیری راہنمائی ایسے کلمات کی طرف نہ کروں کہ جب تم وہ کہہ لو تو چھوٹا بڑا تمام شرک تجھ سے ختم ہو جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے تیرے ساتھ شرک کروں اور جو میں نہیں جانتا اس کے بارے میں استغفار کرتا ہوں۔“

((یَا أَبَا بَکْرٍ الَلَّثرْکُ فِیْکُمْ أَخْفَی مَنْ دَبْیبِ النَّمُلِ))، ← انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَى النَّبِيِّ ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← لَیْتٍ، ← عبدالواحد ← عَبَّاسُ النَّرْسِيُّ،

Hadith 716

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 717

حَدَّثَنَا خَلیْفَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَھْدِيَّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی۔ھُوَ ابْنُ سَعِیْدٍ ۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَاھَا جَتْ رِیْعٌ شَدِیْدَۃٌ قَالَ: ((اللُّھُمَّ إِنَّي ْأَسْأَلُکَ مَنْ خَیْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِہِ ، وَأَعُوْذُ بِکَٔ مَنْ شَرَّمَا أُرْسِلَتْ بَہِ ))

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو یہ ہوا دے کر بھیجی گئی ہے، اور اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو یہ ہوا دے کر بھیجی گئی ہے۔“

کَانَ النَّبِيُّ إِذَاھَا جَتْ رِیْعٌ شَدِیْدَۃٌ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّی۔ھُوَ ابْنُ سَعِیْدٍ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← خَلِيفَةُ،

Hadith 717

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 718

حَدَّثَنَا أَحْمَدۃ بْنُ أَبِيْ بَکْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِیْرَ ۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ یَزِیْدَ، عَنْ سَلَمَۃَ ؓ قَالَ: کَانَ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا اشْتَدَّتِ الرَّیْحُ یَقُوْلُ: ((اللَّھُمَّ لَا فِحِاً، لَا عَقِیْمًا۔))

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے: ”اے اللہ! اس کو بارش لانے والی بنا، بانجھ اور بے فائدہ نہ بنا۔“

((اللَّھُمَّ لَا فِحِاً، لَا عَقِیْمًا۔)) ← کَانَ النَّبِيَّ إِذَا اشْتَدَّتِ الرَّیْحُ ← سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ: ← مُغِیْرَ ۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَحْمَدۃ بْنُ أَبِيْ بَکْرِ

Hadith 718

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 719

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِيْ شَیْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ، عَنِ اْلَٔا عْمَشِ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِيْ ثَابِتِ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنِ أبْذَی، عَنْ أَبَیْہِ، عَنْ أُبيَّ ؓ قَالَ: لَا تَسُبُّوْا الرَّیْعَ، فاإِذا رأیْتُمْ منْھا مَا تَکْرَھُوْنَ فَقُوْ لُوْا: اللھُّمُ ََّ إِنَّا نَسْأَلُکَ خَیْرَ ھَذِہِ الرَّیْحِ، وَخَیْرَ مَا ِفیْھَا، وَخَیْرَ مَا أُرْسِلَتْ بَہِ، وَنَعُوْذُبِکَٔ مَنْ شَرَھَذِہِ الرَّیْح، وَشَرَّمَا فِیْھَا، وَشَرَّ مَا أُرْسِلَتْ بَہِ۔

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا مت کہو، بلکہ جب تم اس میں ایسی چیز دیکھو جسے تم پسند نہیں کرتے تو یوں کہو: اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کے خیر کا سوال کرتے ہیں، اور جو خیر اس میں ہے، اور جس خیر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے، اس کا بھی سوال کرتے ہیں۔ اور اس ہوا کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں، اور جو شر اس میں ہے، اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے، اس سے بھی تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔

لَا تَسُبُّوْا الرَّیْعَ، فاإِذا رأیْتُمْ منْھا مَا تَکْرَھُوْنَ فَقُوْ لُوْا: اللھُّمُ ← أَبِي ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنِ أبْذَی، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← اْلَٔا عْمَشِ، ← أَسْبَاطٍ ← ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Hadith 719

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 720

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنِ اْلَأ ْوْزَاعِيَّ قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّھْرِيُّ قَالَ : حَدَّثَنِيْ ثَابَتٌ الزُّرَقِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ؓ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: (( الرَّیْحُ مَنْ رَوْحِ اللہِ ، تَأَتِيْ بِالرَّحْمَۃِ وَالْعَذَابِ ، فَلَا تَسُبُّوُھَا ، وَلکَنُ سَلُوْا اللہَ مَنْ خَیْرِ ھَا، وَتَعَوَّذُوْا بِاللہِ مَنْ شَرَّھَا))

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت اور عذاب کے ساتھ آتی ہے، لہٰذا اسے برا بھلا مت کہو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کے خیر کا سوال کرو، اور اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگو۔“

أَبَا هُرَيْرَةَ ← ثَابَتٌ الزُّرَقِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← اْلَأ ْوْزَاعِيَّ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ

Hadith 720

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 721

حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحَدِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ قَالَ: حَدَّثَنِيْ أَبُوْ مَطَرٍ، أَنَہُ سَمَعَ سَالَمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِیْہِ ؓ قَالَ: کَانَ النَّبِيَّ ﷺ إِذَاسَمِعَ الرَّعْدَوَالصَّوَاعَقَ قَالَ: ((اللَّھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بَغَضَبِکَ ، وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَٔ، وَعَافَنَا قَبْلَ ذَلِکَ))۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل گرجنے اور بجلی چمکنے کی آواز سنتے تو دعا فرماتے: ”اے اللہ! ہمیں اپنی کڑک سے قتل نہ کرنا، اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کرنا، اور اس سے پہلے ہمیں عافیت دے۔“

((اللَّھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بَغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَٔ، وَعَافَنَا قَبْلَ ذَلِکَ))۔ ← کَانَ النَّبِيَّ إِذَاسَمِعَ الرَّعْدَوَالصَّوَاعَقَ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُوْ مَطَرٍ، أَنَہُ ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُالْوَاحَدِ بْنُ زِیَادٍ ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ

Hadith 721

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 722

حَدَّثَنَا بَشْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ قَالَ: حَدَّثَنَيِ الْحَکَمُ قَالَ: حَدَّثَنِيْ عِکْرِمَۃُ، أَنَُ ابْنَ عَبَّاسِؓ کَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِيْ سَبَّحْتُ لَہُ۔ قَالَ: إِنَّ الرَّعْدَ مَلَکٌ یَنْعِقُ بِالْغَیْثِ، کَمَا یَنِعْقُ الرَّاعِيْ بِغَنَمِہِ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب وہ بادل گرجنے کی آواز سنتے تو فرماتے: پاک ہے وہ ذات جس کی تو نے پاکی بیان کی۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کو چلانے کے لیے زور سے چیختا ہے، جس طرح چرواہا اپنی بکریوں کو چرانے کے لیے زور سے پکارتا ہے۔

إِنَّ الرَّعْدَ مَلَکٌ یَنْعِقُ بِالْغَیْثِ، کَمَا یَنِعْقُ الرَّاعِيْ بِغَنَمِہِ ← سُبْحَانَ الَّذِيْ سَبَّحْتُ لَہُ۔ ← صَوْتَ الرَّعْدِ ← عِکْرِمَۃُ، أَنَُ ابْنَ عَبَّاسِؓ کَانَ إِذَا ← الْحَكَمِ ← مُوْسَی بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ ← بِشْرٌ،

Hadith 722

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 723

حَدَّثَنَا إِسْمَاعَیْلُ قَالَ: حَدَّثَنِيْ مَالِکُ بْنُ أَنَسِ، عَنْ عَامَرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ؓ، أَنّہُ کَانَ إِذَاسَمِعَ الرَّعْدَتَرَکَ الْحَدِیْثَ وَقَالَ: سُبْحَانَ الَّذِيْ یُسَبَّحُ الرعْدُ بِحَمْدِہِ وَالْمَلَانکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: إِنَّ ھَذَا الَوَ عِیْدٌ شَدِیْدٌ لَٔا ھْلِ اْلَٔارْضِ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ بادل گرجنے کی آواز سنتے تو گفتگو بند کر دیتے اور فرماتے: پاک ہے وہ ذات کے بادل جس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کر رہے ہیں، اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے ...... پھر فرماتے: یہ گرج زمین والوں کے لیے سخت وعید ہے۔

إِنَّ ھَذَا الَوَ عِیْدٌ شَدِیْدٌ لَٔا ھْلِ اْلَٔارْضِ ← سُبْحَانَ الَّذِيْ یُسَبَّحُ الرعْدُ بِحَمْدِہِ وَالْمَلَانکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہِ، ثُمَّ ← عَبْدِاللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنّہُ کَانَ إِذَاسَمِعَ الرَّعْدَتَرَکَ الْحَدِیْثَ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مالک بن أنس ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 723

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 724

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خُمَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَ بْنَ عَامَرِ، عَنْ أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ ؓ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَامَ أَوَّلَ مَقَامِيْ ھَذَا۔ثُمَّ بَکَی أَبُوْبَکْرِ۔ثُمَّ قَالَ:((عَلَیْکُمْ باِلصَّدْقِ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْبِرَّ، وَھمُاَ فِي الْجَنَّۃِ، وَإِیَّا کُمْ وَالْکَذِبَ، فَاإِنَّہُ مَعَ الْفُجْوْرِ، وَھمُاَ فِي النَّارِ، وَسَلُوْا اللہَ الْمَعَافَاۃَ، فَاإِنَّہُ لَمْ یُوْتَ،بَعْدَ الْیَقِیْنِ۔خَیْرٌ مَنَ الْمُعَافِاۃِ، وَلَا تَقَاطَعُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللہِ إِخْوَانًا))۔

اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال اس جگہ پر کھڑے ہوئے جس جگہ میں کھڑا ہوں، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر فرمایا: ”سچائی کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہے، اور وہ دونوں (سچائی اور نیکی) جنت میں لے جانے والی ہیں۔ اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور کے ساتھ ہے، اور یہ دونوں آگ میں لے جانے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ آپس میں قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پشت نہ پھیرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض رکھو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔“

أَبَابَکْرِ الصَّدَّیْقَ بَعْدَ وَفَاۃَ النَّبِيَّ ← أَوْسَطَ ابْنِ إِسْمَاعِیْلَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ،

Hadith 724

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 725

حَدَّثَنَا قَبِیْصَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الْجُرَیْرِيَّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذٍ ؓ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی رَجُلِ یَقُوْلُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرِيْ مَا تَمَامُ النَّعْمَۃِ؟)) قَالَ: ((تَمَامُ النَّعْمَۃِ دُخُوْلُ الْجَنَّۃِ، وَالْفَوُزُ مَنَ النَّارِ))۔ثُمَّ مَرَّ عَلَی رَجُلِ یَقُوْل ُ: اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، قَالَ: ((قَدْ سَأَلْتَ رَبَّکَ الْبَلَاءَ ، فَسَلْہُ الْعَافَیَۃََ))۔وَمَرَّ عَلَی رَجُلِ یَقُوْلُ: یَا ذَا الْجَلَالِ واَالإِْا کْرَامِ افَقَالَ:((سَلْ))

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے پوری نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو پوری نعمت کیا ہے؟“ اس نے کہا: پوری نعمت یہ ہے کہ بندہ جنت میں داخل ہو جائے اور دوزخ سے بچ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے رب سے مصیبت کا سوال کیا ہے، اس کے بجائے عافیت کا سوال کرو۔“ ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے بزرگی و اکرام والے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے کچھ مانگو۔“

یَا ذَا الْجَلَالِ واَالإِْا کْرَامِ افَقَالَ:((سَلْ)) ← ((قَدْ سَأَلْتَ رَبَّکَ الْبَلَاءَ فَسَلْہُ الْعَافَیَۃََ))۔وَمَرَّ عَلَی رَجُلِ ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، ← ((تَمَامُ النَّعْمَۃِ دُخُوْلُ الْجَنَّۃِ، وَالْفَوُزُ مَنَ النَّارِ))۔ثُمَّ مَرَّ عَلَی رَجُلِ ← ((ھَلْ تَدْرِيْ مَا تَمَامُ النَّعْمَۃِ؟)) ← اللَّھُمَّ إِنَّيْ أَسْأَلُکَ تَمَامَ النَّعْمَۃِ، ← مَرَّ النَّبِيُّ عَلَی رَجُلِ ← مُعَاذٌ، ← اللَّجْلَاجِ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ،

Hadith 725

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 726

حَدَّثَنَا فَرْوَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ، عَنْ یَزِیْدِ بْنِ أَبِي زِیَادِ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ الْحَارَثِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ؓ ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ! عَلَّمْنِيْ شَیٔاً أَسْأَلُ اللہَ بَہِ، فَقَالَ: ((یَا عَبِّاسُ! اسَلِ اللہَ الْعَافَیَۃَ))، ثُمَّ َمَکْثتُ ثَلاثَا، ثُمَّ جِنْتُ فَقُلْتُ: عَلَّمْنِي شَیْأً أَسْأَلُ اللہَ بِہِ یَا رَسُوْل َاللہِ !فَقَالَ: ((یَاعبَاَّسُ! یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللہِ! سَلِ اللہَ الْعَافِیَۃَ فَي الدُّنْیَا وَالْاَ خِرَۃِ))۔

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو۔“ کچھ عرصہ ٹھہرنے کے بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جس کے ذریعے سے میں مانگوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! الله تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔“

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قُلْتُ ← عَبْدِاللہِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عُبَيْدَةُ ← فَرْوَۃُ

Hadith 726

الأدب المفرد · كتاب الدعاء ‹ باب · حديث 727

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُوْبکْرِ ، عَنْ حُمَیْدِ ، عَنْ أَنَسِ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ عَنْدَ النَّبِيَّ ﷺ :اللُّھُمَّ! لَمْ تُعْطِنَيْ مَالَا فَأَ تَصدَّقْ بِہِ، فَابْتَلِنِيْ بِبَلاءِ یَکُوْنُ۔أَوْ قَالَ۔ فَیْہِ أَجْرٌ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللہِ، لَا تُطِیْقُہُ، أَلَا َقْلتَ: اللَّھُمَّ آمَنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃًً، وَفِي الْاَ خِرَۃِ حَسَنَۃًً، وَقَنَا عَذَابَ النَّارِ))

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھے مال نہیں دیا جس سے میں صدقہ کرتا، لہٰذا مجھے کسی مصیبت ہی میں مبتلا کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! تم مصیبت برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یوں دعا کیوں نہیں کی: اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“

فَیْہِ أَجْرٌ، ← رَجُلٌ عَنْدَ النَّبِيَّ :اللُّھُمَّ! لَمْ تُعْطِنَيْ مَالَا فَأَ تَصدَّقْ بِہِ، فَابْتَلِنِيْ بِبَلاءِ یَکُوْنُ۔أَوْ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُوْبَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،

Hadith 727

chevron_left Previous
1…899091…111
Next chevron_right
All Chapters
1. The Parents' Book
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. My loyal book
    0. Chapter
4. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
5. The Book of Girls' Awal
    0. Chapter
6. The book of the neighbor
    0. Chapter
7. The Book of Generosity and Orphan
    0. Chapter
8. Child Death Book
    0. Chapter
9. Child Death Book
    0. Chapter
10. Care book
    0. Chapter
11. The Book of Good News
    0. Chapter
12. The book of extensions to the people
    0. Chapter