Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24471

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي قَالَ ادْخُلْ كُلُّكَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا فَقَالَ لِي يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ أَعْدِدْ سِتًّا قَبْلَ السَّاعَةِ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ خُذْ إِحْدَى ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مَوْتٌ يَأْخُذُكُمْ تُقْعَصُونَ فِيهِ كَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ ثُمَّ تَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْمَالُ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا ثُمَّ يَأْتِيكُمْ بَنُو الْأَصْفَرِ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چنانچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کر لینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہو جائے پھر بیت المقدس فتح ہو جائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال ودولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔

ادْخُلْ كُلَّك فَدَخَلْت عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ← اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَقُلْتُ أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24471

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24472

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ قَالَ دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ فَقَالَ عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کر سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

«لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ» ← عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ ← لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ ← دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24472

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24473

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالُوا لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا قَالَ بَلَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔

بَلَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ← إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَيْسَ ← يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← النهاس، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24473

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24474

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ ذِي الْكَلَاعِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعظ گوئی وہی کر سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ذِي الْكَلاعِ، ← أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24474

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24475

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنْ النَّارِ وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سمجھ میں آئی اے اللہ ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما۔

عَوْفٌ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24476

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ قَالَ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي قَالَ فَقُلْتُ اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ قَالَ وَكُنَّا نَقُولُ إِنَّ هَذَا لَلَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ هِيَ الْكَرَاكِيُّ

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کر سکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24476

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24477

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَارَ بِهِمْ يَوْمَهُمْ أَجْمَعَ لَا يَحُلُّ لَهُمْ عُقْدَةً وَلَيْلَتَهُ جَمْعَاءَ لَا يَحُلُّ عُقْدَةً إِلَّا لِصَلَاةٍ حَتَّى نَزَلُوا أَوْسَطَ اللَّيْلِ قَالَ فَرَقَبَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعَ رَحْلَهُ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا إِلَّا نَائِمًا وَلَا بَعِيرًا إِلَّا وَاضِعًا جِرَانَهُ نَائِمًا قَالَ فَتَطَاوَلْتُ فَنَظَرْتُ حَيْثُ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحْلَهُ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَكَانِهِ فَخَرَجْتُ أَتَخَطَّى الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ إِلَى النَّاسِ ثُمَّ مَضَيْتُ عَلَى وَجْهِي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ فَسَمِعْتُ جَرَسًا فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَالْأَشْعَرِيِّ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمَا فَقُلْتُ أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الرَّحَا فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الصَّوْتِ قَالَا اقْعُدْ اسْكُتْ فَمَضَى قَلِيلًا فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزِعْنَا إِذْ لَمْ نَرَكَ وَاتَّبَعْنَا أَثَرَكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ فَقُلْنَا نُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ قَالَ أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثُمَّ مَضَيْنَا فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي أَخْبَرَنَا بِهِ فَيُذَكِّرُونَهُ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِهِ فَيَقُولُ فَإِنَّكُمْ مِنْهُمْ حَتَّى انْتَهَى النَّاسُ فَأَضَبُّوا عَلَيْهِ وَقَالُوا اجْعَلْنَا مِنْهُمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرہے تھے ۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے ، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہو جائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے ، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ ی

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِيهِ ← زياد بن أبي المليح، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24477

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24478

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا فَقُلْتُ أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فَتُطْعِمُونِي مِنْهَا فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَاكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کر دیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چنانچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کر دیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← مَالِكِ بْنِ (هِدْمٍ)، ← ربيعة بن لقيط ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24478

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24479

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَسَأَلْتُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ فَقُلْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ ادْخُلْ قُلْتُ كُلِّي قَالَ كُلُّكَ قَالَ فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چنانچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔

فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ← كُلُّكَ ← فَسَأَلْتُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ فَقُلْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ ادْخُلْ قُلْتُ كُلِّي ← قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← إسحاق بن راشد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24479

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24480

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مسواک کی پھر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کر دی اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا اور رکوع میں " سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ" کہتے رہے پھر دوسری رکعت میں سورت آل عمران پڑھی اور اس میں بھی اسی طرح کیا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ: ← مُعَاوِيَةَ، ← لَيْثٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24480

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24481

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي زُرَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَا مَا أَقَامُوا لَكُمْ الصَّلَاةَ أَلَا وَمَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ أَمِيرٌ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيُنْكِرْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے اور وہ تم سے محبت کرتے ہوں گے تم ان کے لئے دعائیں کرتے ہوگے اور وہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہوں گے اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرتے ہوگے اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوگے تم ان پر لعنت کرتے ہوگے اور وہ تم پر لعنت کرتے ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ایسے حکمرانوں کو باہر نکال کر پھینک نہ دیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پر قائم رہیں البتہ جس پر حکمران کوئی گورنر مقرر کر دے اور وہ اسے اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام کرتے ہوئے دیکھے تو اس نافرمانی پر نکیر کرے لیکن اس کی اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ وَكَانَ ابْنَ عَمِّ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ← زريق مولى بني فزارة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24481

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24482

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ الْفَقْرَ تَخَافُونَ أَوْ الْعَوَزَ أَوَتُهِمُّكُمْ الدُّنْيَا فَإِنَّ اللَّهَ فَاتِحٌ لَكُمْ أَرْضَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغُكُمْ بَعْدِي إِنْ أَزَاغَكُمْ إِلَّا هِيَ

حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ فقروفاقہ یا تنگدستی سے ڈرتے ہو کیا تم دنیا کو اس درجہ اہمیت دیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سر زمین فارس و روم کو فتح کروا دے گا اور تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی حتیٰ کہ تمہیں میرے بعد کوئی چیز ٹیڑھا نہ کر سکے گی اگر کوئی چیز ٹیڑھا کرے گی تو وہ دنیا ہی ہوگی ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24482

chevron_left Previous
1…2,3442,3452,346…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter