Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24375

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ الدَّجَّالُ يَقْتُلُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ

ابو طفیل کے واسطہ سے ابو سریحہ سے مروری ہے لیکن مرفوع ہونا روایت نہیں کیا ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول اور دوسرے نے آندھی کا ذکر کیا جو انہیں سمندر میں ڈال دے گی۔

الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ← أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ الدَّجَّالُ يَقْتُلُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ← أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ ← أَبِي سَعْدٍ ← مُخَوَّلٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24375

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24376

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ ضَمْرَةَ وَعَنْ جَدِّهِ وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَجَلَسَ فِيهِ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ وَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسُ غَطَفَانَ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ بِمَكَانِهِ مِنْ خِنْدِفٍ فَتَدَاوَلَا الْخُصُومَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنْ الْحَرِّ مَا ذَاقَ نِسَائِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا قَالَ وَهُوَ يَأْبَى عَلَيْهِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ قَصِيرٌ مَجْمُوعٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ شَبَهًا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أَوَائِلُهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ بَلْ تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا قَالَ فَقَبِلُوا الدِّيَةَ ثُمَّ قَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ ضَرْبٌ طَوِيلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ قَدْ كَانَ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلَّمِ بْنِ جَثَّامَةَ فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ قَالَ فَأَمَّا نَحْنُ بَيْنَنَا فَنَقُولُ إِنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اسْتَغْفَرَ لَهُ وَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا

زیاد بن ضمرہ نے عروہ بن زبیر کو اپنے والد اور دادا سے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے سنا " جو کہ غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے " کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اقراع بن حابس اور عیینہ بن حصین اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عیینہ اس وقت عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کر رہا تھا جو کہ قبیلہ قیس کا سردار تھا اور اقرع بن حابس حندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھگڑنے لگے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم سفر میں دیت کے پچاس اونٹ ہم سے لو اور پچاس واپس پہنچ کر لے لینا عیینہ نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں دیت نہیں لوں گا جس وقت تک کہ میں اس شخص کی عورتوں کو وہی تکلیف اور غم نہ پہنچاؤں جو میری عورتوں کو پہنچا ہے پھر صدائیں بلند ہوئیں اور خوب لڑائی اور شوروغل برپا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عیینہ تم دیت قبول نہیں کرتے ؟ عیینہ نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا یہاں تک کہ اس ایک شخص قبیلہ بنی لیث میں سے کھڑا ہوا کہ جس کو مکیتل کہا کرتے تھے وہ شخص اسلحہ باندھے ہوئے تھا اور ہاتھ میں (تلوار کی ) ڈھال لئے ہوئے تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس قتل کرنے والے شخص کے یعنی محلم کے شروع اسلام میں اس کے علاوہ کوئی مثال نہیں دیکھتا ہوں جس طرح کچھ بکریاں کسی چشمہ پر پانی پینے کے لئے پہنچیں تو کسی نے پہلی بکری کو تو مار دیا کہ جس کی وجہ سے آخری بکری بھی بھاگ کھڑی ہوئی تو آپ آج ایک دستور بنا لیجئے اور کل اس کو ختم کر دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پچاس اونٹ اب ادا کریں اور پچاس اونٹ اس وقت ادا کرے جب ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئیں (چنانچہ آپ نے اس شخص سے دیت ادا کرائی) اور یہ واقعہ دوران سفر پیش آیا تھا محلم ایک طویل قد گندمی رنگ کا شخص تھا وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا لوگ بیٹھے تھے کہ وہ بچتے بچاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے گناہ کیا ہے جس کی آپ کو اطلاع ملی ہے اب میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہوں آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرما دیجئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اسلام کے شروع زمانہ میں اس شخص کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا ہے ؟ اے اللہ ! محلم کی مغفرت نہ کرنا آپ نے یہ بات بآواز بلند فرمائی (راوی) ابو سلمہ نے یہ اضافہ کیا محلم یہ بات سن کر کھڑا ہوگیا اور وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا (راوی ) ابن اسحاق نے بیان کیا کہ محلم کی قوم نے کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لئے بخشش کی دعا فرمائی لیکن ظاہر وہی کیا جو پہلے فرمایا تھا تاکہ لوگ ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں ۔

أَبِيهِ ضَمْرَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← زِيَادَ بْنَ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ السُّلَمِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24376

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24377

حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ مِنْ الْكَاهِنَيْنِ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ

حضرت ابو بردہ ظفری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کاہنین سے ایک آدمی نکلے گا جو اس طرح قرآن کا درس دے گا کہ اس کے بعد کوئی اس طرح درس نہ دے سکے گا۔

يَخْرُجُ مِنْ الْكَاهِنَيْنِ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَتِّبِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ ← أَبُو صَخْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24377

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24378

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمَ فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَمُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمَ مَرَّ بِنَا عَامِرٌ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ مُتَيْعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ فَلَمَّا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَأَخَذَ بَعِيرَهُ وَمُتَيْعَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

حضرت عبداللہ بن ابی حددر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں " اضم" نامی جگہ کی طرف بھیجا میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوا جس میں حضرت ابو قتادہ بن حارث ربعی رضی اللہ عنہ اور محلم بن جثامہ بھی شامل تھے جب ہم " بطن اضم " میں پہنچے تو عامر اشجعی اپنے کچھ اونٹ لے کر ہمارے پاس سے گذرا اس کے ساتھ کچھ سامان اور دودھ کامشکیزہ بھی تھا، اس نے گذرتے ہوئے ہمیں سلام کیا جس پر ہم نے اپنے ہاتھ روک لئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا دراصل ان دونوں کے درمیان پرانی رنجش چلی آ رہی تھی محلم نے اسے قتل کر کے اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کر لیا ہم لوگوں نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے سے آگاہ کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی " اے اہل ایمان ! جب تم زمین پر سفر کیا کرو تو خوب اچھی دیکھ بھال کرلیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کرے اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے "۔

أبيه عبد الله بن أبي حدرد ← الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24378

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24379

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُهُ فِي صَدَاقِهَا فَقَالَ كَمْ أَصْدَقْتَ قَالَ قُلْتُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ قَالَ لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ الدَّرَاهِمَ مِنْ وَادِيكُمْ هَذَا مَا زِدْتُمْ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكُمْ قَالَ فَمَكَثْتُ ثُمَّ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا نَحْوَ نَجْدٍ فَقَالَ اخْرُجْ فِي هَذِهِ السَّرِيَّةِ لَعَلَّكَ أَنْ تُصِيبَ شَيْئًا فَأُنَفِّلَكَهُ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا الْحَاضِرَ مُمْسِينَ قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ بَعَثَنَا أَمِيرُنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ قَالَ فَأَحَطْنَا بِالْعَسْكَرِ وَقَالَ إِذَا كَبَّرْتُ وَحَمَلْتُ فَكَبِّرُوا وَاحْمِلُوا وَقَالَ حِينَ بَعَثَنَا رَجُلَيْنِ لَا تَفْتَرِقَا وَلَأَسْأَلَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمَا عَنْ خَبَرِ صَاحِبِهِ فَلَا أَجِدُهُ عِنْدَهُ وَلَا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ قَالَ فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَحْمِلَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ الْحَاضِرِ صَرَخَ يَا خَضْرَةُ فَتَفَاءَلْتُ بِأَنَّا سَنُصِيبُ مِنْهُمْ خَضْرَةً قَالَ فَلَمَّا أَعْتَمْنَا كَبَّرَ أَمِيرُنَا وَحَمَلَ وَكَبَّرْنَا وَحَمَلْنَا قَالَ فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فِي يَدِهِ السَّيْفُ فَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ لِي صَاحِبِي إِنَّ أَمِيرَنَا قَدْ عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ لَا نُمْعِنَ فِي الطَّلَبِ فَارْجِعْ فَلَمَّا رَأَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ وَاللَّهِ لَتَرْجِعَنَّ أَوْ لَأَرْجِعَنَّ إِلَيْهِ وَلَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّكَ أَبَيْتَ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأَتَّبِعَنَّهُ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُ رَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ عَلَى جُرَيْدَاءِ مَتْنِهِ فَوَقَعَ فَقَالَ ادْنُ يَا مُسْلِمُ إِلَى الْجَنَّةِ فَلَمَّا رَآنِي لَا أَدْنُو إِلَيْهِ وَرَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَأَثْخَنْتُهُ رَمَانِي بِالسَّيْفِ فَأَخْطَأَنِي وَأَخَذْتُ السَّيْفَ فَقَتَلْتُهُ وَاحْتَزَزْتُ بِهِ رَأْسَهُ وَشَدَدْنَا نَعَمًا كَثِيرَةً وَغَنَمًا قَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا قَالَ فَأَصْبَحْتُ فَإِذَا بَعِيرِي مَقْطُورٌ بِهِ بَعِيرٌ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ شَابَّةٌ قَالَ فَجَعَلَتْ تَلْتَفِتُ خَلْفَهَا فَتُكَبِّرُ فَقُلْتُ لَهَا إِلَى أَيْنَ تَلْتَفِتِينَ قَالَتْ إِلَى رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ حَيًّا خَالَطَكُمْ قَالَ قُلْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ صَاحِبِي الَّذِي قَتَلْتُ قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ وَهَذَا سَيْفُهُ وَهُوَ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ الْبَعِيرِ الَّذِي أَنَا عَلَيْهِ قَالَ وَغِمْدُ السَّيْفِ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ بَعِيرِهَا فَلَمَّا قُلْتُ ذَلِكَ لَهَا قَالَتْ فَدُونَكَ هَذَا الْغِمْدَ فَشِمْهُ فِيهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا قَالَ فَأَخَذْتُهُ فَشِمْتُهُ فِيهِ فَطَبَقَهُ قَالَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ بَكَتْ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي مِنْ ذَلِكَ النَّعَمِ الَّذِي قَدِمْنَا بِهِ

حضرت عبداللہ بن ابی حدر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے شادی کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مہر کی ادائیگی میں ان سے مدد کی درخواست کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے اس کا مہر کیا مقرر کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا دو سو درہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس وادی سے دراہم کنکریوں کی طرح اٹھا رہے ہوتے تب بھی اتنا زیادہ مہر مقرر نہیں کرنا چاہئے تھا میرے پاس تو اس وقت تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کچھ عرصے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور نجد کی طرف جانے والے ایک دستے میں شامل کر کے مجھے بھی وہاں بھیج دیا اور فرمایا کہ اس دستے کے ساتھ جاؤ شاید تمہیں کچھ مل جائے اور وہ میں تم ہی کو انعام میں دے دوں چنانچہ ہم لوگ روانہ ہوگئے اور شام کے وقت شہر کے قریب پہنچ گئے جب رات کی سیاہی دور ہوگئی ( اور چاندنی ہوگئی ) تو ہمارے امیر نے ہمیں دو دو آدمی کر کے بھیجنا شروع کر دیا ہم نے لشکر کو گھیر لیا ہمارے امیر نے کہا تھا کہ جب میں تکبیر کہہ کر حملہ کروں تو تم بھی تکبیر کہہ کر حملہ کر دینا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا اور میں تم میں سے ہر ایک سے اس کے ساتھی کے متعلق پوچھوں گا یہ نہ ہو کہ وہ مجھے اپنے ساتھی کے پاس نہ ملے اور دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے بہت زیادہ آگے نہ بڑھ جانا۔ جب ہم نے حملے کا ارادہ کیا تو میں نے شہر سے ایک آدمی کی آواز سنی جو چیخ رہا تھا اے شادابی ! میں نے اس سے یہ فال لی کہ ہمیں ان کی جانب سے شادابی نصیب ہوگی رات گہری ہوئی توہمارے امیر نے تکبیر کہہ کر حملہ کردیا اس کے پیچھے ہم نے بھی تکبیر کہتے ہوئے حملہ کردیا اچانک میرے پاس سے ایک آدمی گذرا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی میں اس کے پیچھے لپکا تو میرا ساتھی کہنے لگا کہ ہمارے امیر نے ہمیں یہ تلقین کی تھی کہ ہم دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ آگے نہ بڑھیں اس لئے واپس آجاؤ جب میں اس کا پیچھاکر نے سے باز نہ آیا تو اس نے کہا کہ بخدایاتم واپس آجاؤور نہ میں انہیں جا کر بتادوں گا کہ تم نے ان کی بات نہیں مانی میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس کا پیچھا ضرور کروں گا اور میں اس کا پیچھا کرتا رہاحتیٰ کہ اس کے قریب پہنچ کر میں نے اس کی کمر پر ایک تیرمارا وہ گرپڑا اور کہنے لگا اے مسلمان ! جنت کے قریب آجا لیکن میں اس کے قریب نہیں گیا اور اسے دوسراتیر بھی دے مارا اور اسے ڈھیلا کردیایہ دیکھ کر اس نے گھما کر اپنی تلوارمجھے دی ماری ۔ لیکن اس کانشانہ خطا گیا اور میں نے وہ تلوارپکڑگراسی سے اسے قتل کردیا اور اس کا سرقلم کردیاچونکہ ہماراحملہ بڑاشدید تھا (اس لئے دشمن بھاگ گیا) اور ہمیں بہت سے جانور اور بکریاں مال غنیمت میں ملیں اور ہم واپس روانہ ہوگئے ۔ صبح ہوئی تو میرے اونٹ کے قریب ایک دوسرا اونٹ کھڑا تھا جس پر ایک خوبصورت جوان عورت سوار تھی وہ بارباربڑی کثرت کے ساتھ پیچھے مڑمڑ کر دیکھ رہی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ تم کسے دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا کہ ایک آدمی کو تلاش کررہی ہوں بخدا! اگر وہ زندہ ہوتا تو وہ تمہیں آپکڑتا میں سمجھ گیا کہ یہ اسی شخص کی بات کررہی ہے جسے میں نے قتل کیا تھا چنانچہ میں نے اسے بتایا کہ اسے تو میں قتل کر چکاہوں ' اور اس کی تلواریہ ہے وہ تلوار میرے اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جبکہ تلوار کے نیام میں جو اس کے اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکا ہوا تھاکچھ نہیں تھاجب میں نے اسے یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی کہ یہ نیام پکڑو اور اگر سچے ہو تو اس سے اندازہ کرو میں نے اس کے ہاتھ سے نیام پکڑا اور دونوں کا موازنہ کیا تو وہ ایک دوسرے کے برابرنکلے یہ دیکھ کروہ عورت رونے لگی اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں میں سے مجھے بھی حصہ دیا جو ہم لے کر آئے تھے۔

ابن أبي حدرد الأسلمي ← جَدَّتِہٖ ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24379

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24380

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ قَالَ بِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آمین کہہ لینے کا موقع دے دیا کریں ۔

بِلَالٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24380

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24381

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ بِلَالٍ قَالَ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔

مسح رسول الله على الخفين والخمار ← بِلَالٍ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24381

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24382

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ أَنْ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ نَعَمْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ

عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے تو بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کس حصے میں نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو باہر نکلنے میں کافی تاخیر کر دی مجھے کوئی ضرورت محسوس ہوئی تو میں چلا گیا پھر جلدی سے واپس آیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آچکے ہیں میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے بتایا ہاں ! دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24382

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24383

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلَالٍ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ قَالَ كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں ہی سلام کر دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے جواب دیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے دست مبارک سے اشارہ فرما دیا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24383

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24384

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوافل کی ممانعت صرف طلوع آفتاب کے وقت ہوا کرتی تھی کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔

الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ ← لَمْ يَكُنْ يَنْهَى ← بِلَالٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24384

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24385

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

بِلَالٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← أَبُو الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24385

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24386

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ بِلَالٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاةِ فَقَامَ يُصَلِّي بِغَيْرِ وُضُوءٍ يُرِيدُ الصَّوْمَ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز کی اطلاع دینے کے لئے بارہ گاہ رسالت میں حاضر ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا خود بھی اس کا پانی نوش فرمایا اور مجھے بھی پلایا پھر نماز کے لئے مسجد تشریف لے آئے اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھا دی ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ أُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ← بِلَالٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24386

chevron_left Previous
1…2,3362,3372,338…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter