Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24351

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَاءٍ مِنْ الطُّورِ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ قَالَ مِنْ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ قَالَ أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت میں مروی ہے کہ ان کی ملاقات حضرت ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جبل طور سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی روانگی سے پہلے آپ کی ملاقات ہو جاتی تو آپ کبھی وہاں کا سفر نہ کرتے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سواریوں کو تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لئے تیار نہیں کرنا چاہیے مسجد حرام ، میری مسجد، مسجد بیت المقدس۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ إِنِّي ← مِنْ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ ← مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ← لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَاءٍ مِنْ الطُّورِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← شَيْبَانَ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24351

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24352

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو تَمِيمٍ فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَقَالَ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ عَمْرٌو قَالَ أَبُو بَصْرَةَ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوبصرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی نماز ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔

إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ← ابن هبيرة ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24352

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24353

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي أُبَيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کر دیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہو جانا۔

وَقْتِهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا ← سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حجاج، ← أَبِي أَُبَِي ابن امرَأَة عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْمُثَنَّی ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24353

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24354

حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ عَنْ آخَرَ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ مَا أَرَدْتُ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي قَالَ لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَهَا كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ أَوْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ شَكَّ يَحْيَى وَلْيَقُلْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ

ایک صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر میں حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے " السلام علیکم " کہہ دیا حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھ پر اور تیری ماں پر بھی ہو کچھ دور چلنے کے بعد انہوں نے اس سے پوچھا کہ شاید تمہیں مجھ پر غصہ آیا ہو؟ اس نے کہا کہ آپ نے میری والدہ کا تذکرہ کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جملہ کہنے کی طاقت ہی نہیں تھی کیونکہ ایک مرتبہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا اور ایک آدمی کو چھینک آئی تھی ، اس نے بھی " السلام علیکم" کہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے یہی جواب دیا تھا پھر فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے " الحمدللہ علی کل حال " یا " الحمدللہ رب العالمین" کہہ لینا چاہئے اور سننے والے کو "یرحمکم اللہ" کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ اللہ میرے اور تمہارے گناہ معاف فرمائے۔

«مَا أَرَدْتَ؟» ← لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ؟ ← عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ سَارَ ← السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. ← كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ ← آخَرَ، ← رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24354

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24355

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرَةِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ بدکاری کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ قیامت تک حرام رہے گی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے لئے دس عورتوں سے بدکاری کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے پھر پوچھا کہ چوری کے متعلق تم لوگ کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ حرام رہے گی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دس گھروں میں چوری کرنا اپنے پڑوسی کے یہاں چوری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24356

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَنْبَأَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ذَبَحْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ بَطْنِهَا فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بکری ذبح کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اس کا تھوڑا ساحصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے درمیان میں تازہ وضو نہیں کیا۔

أَبِي رَافِعٍ ← أَبِي غَطَفَانَ ← عباد بن عبيد الله بن أَبى رافع ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24356

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24357

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان (مرد) کو اس حال میں نماز پڑھنے سے روکا ہے کہ اس کے سر کے بالوں کی چوٹی بنی ہوئی ہو۔

نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ ← أَبِي رَافِعٍ ← رَجُلٌ: ← مُخَوَّلٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24357

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24358

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَخِيسُ الْبِرَّ وَارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِيهِ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اسلام میرے دل میں گھر کر گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اب میں قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خلاف عہد نہیں کرسکتا اور ایلچیوں کو اپنے پاس نہیں روک سکتا اس لئے اب تو تم واپس چلے جاؤ اگر تمہارے دل میں وہی ارادہ باقی رہے جو اب ہے تو پھر میرے پاس آجانا (چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا پھر واپس آکر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور مشرف با اسلام ہوگیا)

فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ ← بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ ← جده أَبى رافع ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عمرو بن الحارث؛ أن بكير بن عبد الله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24358

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24359

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ بِرَايَتِهِ فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْحِصْنِ خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فَقَاتَلَهُمْ فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ بَابًا كَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ فَتَرَّسَ بِهِ نَفْسَهُ فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ حِينَ فَرَغَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ نَجْهَدُ عَلَى أَنْ نَقْلِبَ ذَلِكَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُ

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) جب علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جھنڈا دے کر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ نکلے تھے جب وہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ باہر آئے اور لڑائی شروع ہوگئی ایک یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال ان کے ہاتھ سے گر گئی تھی انہوں نے قلعہ کا دروازہ اکھیڑ کر اس سے ڈھال کا کام لیا اور دوران قتال وہ مستقل ان کے ہاتھ میں رہا حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرما دی اور جنگ سے فارغ ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا میں نے دیکھا کہ سات آدمیوں کی ایک جماعت نے " جن کے ساتھ آٹھواں میں بھی تھا " اس دروازے کو ہلانے میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن ہم اسے ہلا نہیں سکے۔

أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← بعض أَهله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24359

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24360

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی دستی نکال کر دو چنانچہ میں نے نکال دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دستی طلب فرمائی میں نے وہ بھی دے دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دستی طلب فرمائی میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک میں تم سے مانگتا رہتا۔

يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ ← يَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ ← لِي يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ← صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا ← أَبِي رَافِعٍ ← عَمَّتِهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24360

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24361

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت اور خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی اور فرمایا ان میں سے ایک تو ہر شخص کی جانب سے تھا جو اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے تھا روای کہتے ہیں کہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کفایت فرمائی ۔

فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَفَانَا ← أَهْلِ بَيْتِهِ» ← أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ ← ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ ← أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← شَرِيکٍ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24361

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24362

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں تم میں سے جس کے پاس میری کوئی حدیث پہنچے اور وہ اپنے صوفے پر ٹیک لگائے کہتا ہے کہ مجھے تو یہ حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا۔

مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ← لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبُو النَّضْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24362

chevron_left Previous
1…2,3342,3352,336…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter