Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24315

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ إِمَّا يُعِزُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا جس میں اللہ اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے خواہ لوگ اسے عزت کے ساتھ قبول کر کے معزز ہو جائیں یا ذلت اختیار کر لیں جنہیں اللہ عزت عطا فرمائے گا انہیں تو کلمہ والوں میں شامل کر دے گا اور جنہیں ذلت دے گا وہ اس کے سامنے جھک جائیں گے ( اور اس کے تابع فرمان ہوں گے ٹیکس ادا کریں گے )

رَسُولِ اللَّهِ ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24315

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24316

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حکمران لوگوں میں شک تلاش کرے گا تو انہیں فساد میں مبتلا کر دے گا۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24316

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24317

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ لَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ خَيْرًا وَلَا شَرًّا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يُخْتَمُ لَهُ يَعْنِي بَعَدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَمَا سَمِعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنْ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْيًا

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنی ہے میں کسی آدمی کے متعلق اچھائی یا برائی کا فیصلہ نہیں کرتا کسی نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ بدلتا ہے جو خوب کھول رہی ہو۔

سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← الْفَرَجُ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24317

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24318

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدُعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی مجھ پر تلوار سے حملہ کرے اور میرا ہاتھ کاٹ دے پھر مجھ سے بچنے کے لئے ایک درخت کی آڑ حاصل کرلے اور اسی وقت " لا الہ الا اللہ " پڑھ لے تو کیا میں اسے قتل کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے دو تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ورنہ کلمہ پڑھنے سے پہلے وہ جیسا تھا تم اس کی طرح ہو جاؤ گے اور اس واقعے سے پہلے تم جس طرح تھے وہ اس طرح ہو جائےگا۔

عطاء بن يزيد الليثي ثم الجندعي ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24318

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24319

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدُعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک گھر میں دس دس آدمیوں میں تقسیم کر دیا میں ان دس لوگوں میں شامل تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ہمارے پاس صرف ایک ہی بکری تھی جس سے ہم دودھ حاصل کرتے تھے اگر کسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آنے پر تاخیر ہو جاتی تو ہم اس کا دودھ پی لیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےل ئے بچا کر رکھ لیتے ۔ ایک مرتبہ رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر سے واپس تشریف لائے ہم اس وقت تک سو چکے تھے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر زیادہ ہوگئی تھی اور میرا خیال نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئیں گے ہوسکتا ہے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت پر بلا لیا ہو یہ سوچ کر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رکھا ہوا دودھ بھی پی لیا لیکن رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ادھر مجھے بھی نیند نہیں آرہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آ کر آہستہ سے سلام کیا اور پیالے کی طرف بڑھے لیکن جب اس میں کچھ نظر نہ آیا تو خاموش ہو گئے پھر فرمایا اے اللہ ! جو شخص آج رات ہمیں کھلائے تو اسے کھلا یہ سن کر میں اٹھا چھری پکڑی اور بکری کی طرف بڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا میں نے عرض کیا کہ اسے ذبح کرنے جا رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح نہ کرو بلکہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تھوڑا سا دودھ نکلا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوش فرما کر لیٹ گئے اور سوگئے ۔

عطاء بن يزيد الليثي ثم الجندعي ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24319

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24320

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنْ امْرَأَتِهِ فَيُمْذِي قَالَ إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدٌ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ قَالَ يَعْنِي يَغْسِلُهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا ہے " اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کر لے۔

يَعْنِي يَغْسِلُهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ← إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدٌ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ ← الرَّجُلِ يَدْنُو مِنْ امْرَأَتِهِ فَيُمْذِي ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← مَالِكٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24320

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24321

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنِي الْمُهَلَّبُ بْنُ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيُّ عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ وَالْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی ستون ، لکڑی یا درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی دائیں یا بائیں بھوؤں کی جانب رکھا ہوتا تھا عین سامنے نہیں رکھتے تھے۔

أَبِيهَا، أَنَّهُ ← ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ← الْمُهَلَّبِ بْنِ حُجْرٍ الْبَهْرَانِيِّ ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ الْبَجَلِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24321

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24322

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ عَنِ الْحُجْرِ أَوْ عَنْ أَبِي الْحُجْرِ بْنِ الْمُهَلَّبِ الْبَهْرَانِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي ضُبَيْعَةُ بِنْتُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى إِلَى عَمُودٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شِبْهِ ذَلِكَ لَا يَجْعَلُهُ نُصْبَ عَيْنَيْهِ وَلَكِنَّهُ يَجْعَلُهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْسَرِ

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی ستون ، لکڑی یا درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی دائیں یا بائیں بھوؤں کی جانب رکھا ہوتا تھا عین سامنے نہیں رکھتے تھے۔

أَبِيهَا ← حَدَّثَتْنِي ضُبَيْعَةُ بِنْتُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ ← أَبِي الْحُجْرِ بْنِ الْمُهَلَّبِ الْبَهْرَانِيِّ ← الْحُجْرِ أَوْ ← الْوَلِيدِ بْنِ كَامِلٍ، ← بَقِيَّةُ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24322

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24323

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ فَذَهَبَ بِنَا إِلَى مَنْزِلِهِ وَعِنْدَهُ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ فَقَالَ احْتَلِبْهُنَّ يَا مِقْدَادُ وَجَزِّئْهُنَّ أَرْبَعَةَ أَجْزَاءٍ وَأَعْطِ كُلَّ إِنْسَانٍ جُزْأَهُ فَكُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ فَرَفَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزْأَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاحْتَبَسَ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي فَقَالَتْ لِي نَفْسِي إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَوْ قُمْتَ فَشَرِبْتَ هَذِهِ الشَّرْبَةَ فَلَمْ تَزَلْ بِي حَتَّى قُمْتُ فَشَرِبْتُ جُزْأَهُ فَلَمَّا دَخَلَ فِي بَطْنِي وَتَقَارَّ أَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَقُلْتُ يَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائِعًا ظَمْآنًا وَلَا يَرَى فِي الْقَدَحِ شَيْئًا فَتَسَجَّيْتُ ثَوْبًا عَلَى وَجْهِي وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمًا يُسْمِعُ الْيَقْظَانَ وَلَا يُوقِظُ النَّائِمَ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَال اللَّهُمَّ اسْقِ مَنْ سَقَانِي وَأَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي فَاغْتَنَمْتُ دَعْوَتَهُ وَقُمْتُ فَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَدَنَوْتُ مِنْ الْأَعْنُزِ فَجَعَلْتُ أَجُسُّهُنَّ أَيُّهُنَّ أَسْمَنُ لِأَذْبَحَهَا فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى ضَرْعِ إِحْدَاهُنَّ فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ فَنَظَرْتُ إِلَى الْأُخْرَى فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ فَنَظَرْتُ كُلَّهُنَّ فَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ فَحَلَبْتُ فِي الْإِنَاءِ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَقُلْتُ اشْرَبْ فَقَالَ الْخَبَرَ يَا مِقْدَادُ فَقُلْتُ اشْرَبْ ثُمَّ الْخَبَرَ فَقَالَ بَعْضُ سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ اشْرَبْ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ أَخَذْتُهُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيهْ فَقُلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ بَرَكَةٌ نَزَلَتْ مِنْ السَّمَاءِ أَفَلَا أَخْبَرْتَنِي حَتَّى أَسْقِيَ صَاحِبَيْكَ فَقُلْتُ إِذَا شَرِبْتُ الْبَرَكَةَ أَنَا وَأَنْتَ فَلَا أُبَالِي مَنْ أَخْطَأَتْ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرے دو ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہمیں سخت بھوک لگ رہی تھی ، ہم نے اپنے آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہم پر پیش کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) چار بکریاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مقداد! ان بکریوں کا دودھ نکالو، اسے چار حصوں میں تقسیم کر لو چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات واپسی میں تاخیر ہو گئی میرے دل میں خیال آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی انصاری کے پاس جا کر کھا پی لیا ہوگا اور سیراب ہوگئے ہوں گے اگر میں نے ان کے حصے کا دودھ پی لیا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں اسی طرح سوچتا رہا حتٰی کہ کھڑے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کا دودھ پی گیا اور پیالہ ڈھک دیا جب میں دودھ پی چکا تو میرے دل میں طرح طرح کے خیالات ابھرنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی حالت میں تشریف لائے اور انہیں کچھ نہ ملا تو کیا ہوگا ؟ میں نے اپنی چادر اورڑھ لی اور اپنے ذہن میں یہ خیالات سوچنے لگا ابھی میں انہی خیالات میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آہستہ سے سلام کیا جو جاگنے والا تو سن لے لیکن سونے والا نہ جاگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے (میں نے اس دعاء کو غنیمت سمجھا اور چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے ایک برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ وہ بھر گیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ دودھ پئیں پھر آپ کو واقعہ بتاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر آپ نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ سیر ہوگئے ہیں تو میں نے بھی اسے پی لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ واقعہ بتاؤ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ واقعہ ذکر کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے رحمت کے اور کچھ نہ تھا تم نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا جب آپ کو اور مجھے یہ برکت حاصل ہوگئی ہے اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کسے اس کا حصہ نہیں ملا۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24323

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24324

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ قَالَ جَعَلَ يَمْدَحُ عَامِلًا لِعُثْمَانَ فَعَمَدَ الْمِقْدَادُ فَجَعَلَ يَحْثُو التُّرَابَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا هَذَا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ

میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔

لَهُ عُثْمَانُ مَا هَذَا ← جَعَلَ يَمْدَحُ عَامِلًا لِعُثْمَانَ فَعَمَدَ الْمِقْدَادُ فَجَعَلَ يَحْثُو التُّرَابَ فِي وَجْهِهِ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24324

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24325

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنْ الْعِرَاقِ إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ احْثُوا فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ

میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ ایک عامل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کے منہ پر مٹی پھینکنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جب تم کسی کو تعریف کرتے ہوئے دیکھا کرو تو اس کے چہرے پر مٹی پھینکا کرو۔

مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24325

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24326

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْحٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ قَالَ تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذْيَ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ تَحْتِي فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا لِعَمَّارٍ أَوْ لِلْمِقْدَادِ قَالَ عَطَاءٌ سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ذَاكَ الْمَذْيُ لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ قُلْتُ مَا ذَاكَ مِنْهُ قَالَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأْ فَيُحْسِنْ وُضُوءَهُ أَوْ يَتَوَضَّأْ مِثْلَ وُضُوئِهِ لِلصَّلَاةِ وَيَنْضَحْ فِي فَرْجِهِ أَوْ فَرْجَهُ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا " ہے اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کر لے۔

ذَاكَ الْمَذْيُ لِيَغْسِلْ ذَاكَ مِنْهُ قُلْتُ مَا ذَاكَ مِنْهُ ← عَطَاءٌ سَمَّاهُ لِي عَائِشٌ فَنَسِيتُهُ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ ← لِأَحَدِهِمَا لِعَمَّارٍ أَوْ لِلْمِقْدَادِ ← عَلِيٌّ إِنِّي رَجُلٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ تَحْتِي ← تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَعَمَّارٌ وَالْمِقْدَادُ الْمَذْيَ ← عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ الْبَكْرِيِّ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24326

chevron_left Previous
1…2,3312,3322,333…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter