Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24171

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ اس میں یوں ہے کہ نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا ، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24172

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصْمِتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا شَتَمَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانے چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ← معاوية السلمى ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24173

قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوهُمْ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ قَالَ فَإِنَّ ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ كَانَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ

پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مثلاً ہم میں سے بعض لوگ زمین پر لکیریں کھنچتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی اس طرح لکیریں کھینچتے تھے سو جس کا خط اس کے موافق آجائے وہ صحیح ہو جاتا ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24174

قَالَ وَبَيْنَمَا جَارِيَةٌ لِي تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ مِنْهَا بِشَاةٍ وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ يَأْسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً قَالَ فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ابْعَثْ إِلَيْهَا قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَجَاءَ بِهَا فَقَالَ أَيْنَ اللَّهُ قَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ فَمَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک باندی تھی جو احد اور جوانیہ کے قرب میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن میں اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا اس کے ریوڑ میں سے ایک بکری لے کر بھاگ گیا ہے میں بھی ایک انسان ہوں اور مجھے بھی عام لوگوں کی طرح افسوس ہوتا ہے چنانچہ میں نے غصے میں آکر اسے ایک طمانچہ رسید کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے حوالے سے یہ بات بہت بوجھ بنی یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لے کر آؤ میں اسے لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا آسمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں ؟ اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔

أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ← أَنْتُ رَسُولُ اللَّهِ ← فمن ← فِي السَّمَاءِ ← «أَيْنَ اللَّهُ؟» ← فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَجَاءَ بِهَا ← ابْعَثْ إِلَيْهَا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24174

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24175

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتِ

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو ۔

لِرَسُولِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24175

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24176

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ قَالَ ذَاكَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي أَنْفُسِكُمْ فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ قَالُوا وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوا كَاهِنًا

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو ۔

مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24177

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَالسُّيُولُ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِي فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَمَرَّ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَتْبَعَهُ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَاسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ وَهُوَ قَائِمٌ أَيْنَ تُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَشَرْتُ لَهُ حَيْثُ أُرِيدُ قَالَ ثُمَّ حَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ قَالَ فَسَمِعَ أَهْلُ الْوَادِي يَعْنِي أَهْلَ الدَّارِ فَثَابُوا إِلَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ وَرُبَّمَا قَالَ مَالِكُ بْنُ الدُّخَيْشِنِ فَقَالَ رَجُلٌ ذَاكَ رَجُلٌ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَلَا رَسُولَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُ هُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا نَحْنُ فَنَرَى وَجْهَهُ وَحَدِيثَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا لَا تَقُولُ هُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَنْ يُوَافِيَ عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَالَ فَآلَيْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ مَعْمَرٌ فَكَانَ الزُّهْرِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ثُمَّ نَزَلَتْ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ نَرَى أَنَّ الْأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَفْتُرَ فَلَا يَفْتُرْ

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر روک لیا انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئےگا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا ہے محمود کہتے ہیں کہ یہ حدیث جب میں نے ایک جماعت کے سامنے بیان کی جن میں ایوب بھی تھے تو وہ کہنے لگے میں نہیں سمجھتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہوگا میں نے کہا کہ جس وقت میں مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عتبان رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں ان سے یہ سوال ضرور کروں گا، چنانچہ میں وہاں پہنچا تو وہ نابینا ہوچکے تھے اور اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث اس طرح سنا دی جیسے پہلے سنائی تھی اور یہ بدری صحابی تھے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24177

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24178

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ فَحَدِّثْنِي قَالَ كَانَ فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَجِيءَ إِلَى مَنْزِلِي تُصَلِّيَ فِيهِ فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ وَيَذْكُرُونَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يَلْقَوْنَ مِنْهُمْ وَيُسْنِدُونَ عِظَمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ الدُّخَيْشِنِ وَوَدُّوا أَنْ لَوْ دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصَابَ شَرًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَتَطْعَمَهُ النَّارُ أَوْ تَمَسَّهُ النَّارُ

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھرکے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر روک لیا انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئےگا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا ہے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24178

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24179

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ ثُمَّ حَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ لَنَا صَنَعْنَاهُ لَهُ فَسَمِعَ بِهِ أَهْلُ الْوَادِي يَعْنِي أَهْلَ الدَّارِ فَثَابُوا إِلَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ الدُّخَيْشِنِ

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کی مسجد اور میرے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر میرے گھر میں نماز پڑھ دیں تو میں اسے ہی اپنے لئے جائے نماز منتخب کر لوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا چنانچہ ایک دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا تم کس جگہ کو جائے نماز بنانا چاہتے ہو؟ میں نے گھرکے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے ہم نے ان کے پیچھے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر روک لیا انصار کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے آنے لگے سارا گھر بھر گیا، ایک آدمی کہنے لگا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے نہ کہو وہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اس نے کہا کہ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اس کی توجہ اور باتیں منافقین کی طرف مائل ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ دہرایا دوسرے آدمی نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا قیامت کے دن آئےگا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیا ہے۔

الدُّخَيْشِنِ ← وَرُبَّمَا ← رَجُلٌ أَيْنَ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُنِ ← بِهِ أَهْلُ الْوَادِي يَعْنِي أَهْلَ الدَّارِ فَثَابُوا إِلَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ ← ثُمَّ حَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرٍ لَنَا صَنَعْنَاهُ لَهُ ← نَحْوَهُ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ‏:‏ ← عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24179

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24180

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ سُبْحَةَ الضُّحَى فَقَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ

حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ، صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے۔

عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ: ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24180

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24181

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ بِأَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منی میں رہتے ہوئے اونٹوں کے چرواہوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ ایک دن رمی کر لیں اور ایک دن چھوڑ دیں (دو دن اکٹھے رمی کرلیں )

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24181

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24182

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ عَنْ مِنًى يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ الْيَوْمَيْنِ ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منی میں رہتے ہوئے اونٹوں کے چرواہوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ ایک دن رمی کر لیں اور ایک دن چھوڑ دیں (دو دن اکٹھے رمی کرلیں )

أَبِيهِ ← أبي البداح بن عاصم بن عدي ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24182

chevron_left Previous
1…2,3192,3202,321…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter