Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24039

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَا يَعْرِفُونَهُ فَقَتَلُوهُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدِيَهُ فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یمان رضی اللہ عنہ پر مسلمانوں کی تلواریں پڑنے لگیں مسلمان انہیں پہچان نہ سکے اور انہیں قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر ہی صدقہ کر دی۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24040

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم" پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔

النعيم ← لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24041

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر جو شخص صبر کرتا ہے اسے صبر ملتا ہے اور جو شخص جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع فزع ہے۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمٍ، ← عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24042

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ

حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی نماز رہ جائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال ودولت تباہ و برباد ہوگیا۔

نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24042

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24043

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَلَيْهِ أَوْ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے ) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

الْعَقِيقَةِ. ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← رجل من قومه ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24043

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24044

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَسُئِلَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ وَلَكِنْ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنَّ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے ) کو پسند نہیں کرتا، گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

الْعَقِيقَةِ. ← شَهِدْتُ النَّبِيَّ بِعَرَفَةَ فَسُئِلَ ← عَمِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ أَوْ ← رَجُلٌ: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24044

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24045

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِضَّةٍ فَقَالَ هَذِهِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَكُونُ مَعَادِنُ يُحْضِرُهَا شِرَارُ النَّاسِ

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ چاندی لے کر آئے اور کہا کہ یہ ہماری کان سے نکلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب بہت سی کانیں ظاہر ہوں گی جہاں بدترین لوگ موجود ہوں گے۔

النَّبِيُّ سَتَكُونُ مَعَادِنُ يُحْضِرُهَا شِرَارُ النَّاسِ ← هذه من معدن لنا. ← جده، أَنه أَتى النبى بفضة، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24045

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24046

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ

ایک نصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پائخانہ کرتے وقت دونوں قبلوں میں سے کسی طرف بھی رخ کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24046

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24047

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَجُلًا وَجَأَ نَاقَةً فِي لَبَّتِهَا بِوَتِدٍ وَخَشِيَ أَنْ تَفُوتَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَوْ أَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا

بنو حارثہ کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں اس کی اونٹنی مر نہ جائے تو اس نے ایک کیل لے کر اس کے سینے میں گھونپ دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24048

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا إِلَّا سَأَلَ إِلْحَافًا

بنو اسد کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس ایک اوقیہ چاندی یا اس کے برابر کچھ موجود ہو اور وہ پھر بھی کسی سے سوال کرے تو اس نے الحاف کے ساتھ (لگ لپٹ کر) سوال کیا۔

لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا إِلَّا سَأَلَ إِلْحَافًا ← النَّبِيِّ ← رجل من بني أسد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24049

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنْ الْحَرِّ أَوْ مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا ۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24049

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24050

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ قَالَ سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِنْ لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا يَقُولُ قَالَهَا فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ

ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہیں کسی جانور نے ڈس لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات کہہ لئے ہوتے "اعوذ بکلمات اللہ التامات کلہن من شر ماخلق" تو صبح تک تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ راوی حدیث سہیل کہتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی جانور ڈس لیتا تو میرے والد صاحب پوچھتے کہ یہ کلمات کہہ لئے ؟ اگر وہ جواب میں " ہاں " کہہ دیتا تو ان کی رائے یہی ہوتی تھی کہ اب اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ ← نَعَمْ ← قَالَهَا فَإِنْ ← سُهَيْلٌ فَكَانَ أَبِي إِنْ لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24050

chevron_left Previous
1…2,3082,3092,310…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter