Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23979

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ قَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ

مرثد بن عبداللہ یزنی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے بعد حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟

شغلنا. ← ما هذه الصلاة يا عقبة ← عقبة بن عامر يومئذ على مصر، فأخر المغرب، فقام إليه أبو أيوب ← قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23980

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ

عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر'' تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔

مَنْ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23981

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِلَّربِيعِ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ مِمَّنْ سَمِعْتَهُ فَقَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى مِمَّنْ سَمِعْتَهُ قَالَ مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر'' تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔

النَّبِيِّ ← مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ ← فَقَالَ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى مِمَّنْ ← فَقَالَ مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ مِمَّنْ ← فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ مِمَّنْ ← رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23981

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23982

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَصَالِحٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کےلئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھرمنہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← ابْنِ شِھَابِ اَنَّ عَطَاءَ بْنَ یَزِیْدَ ← مَالِكٌ وَصَالِحٌ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23983

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنْ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ

داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان چلا آرہا تھا اس نے ایک قبر پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر) ایک آدمی کو اپنا چہرہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کر رہے ہو؟ وہ آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دین پر اس وقت آنسو نہ بہانا جب اس کے اہل اس کے ذمے دار ہوں البتہ جب اس پر نا اہل لوگ ذمہ دار ہوں تو اس پر آنسو بہانا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ ← أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ ← أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23983

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23984

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کے نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔

أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23984

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23985

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلْ الَّذِي يُشَمِّتُهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے "الحمدللہ علی کل حال" کہنا چاہئے جواب دینے والے کو "یرحمک اللہ" کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو "یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23986

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ قَالَ وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ أَوْ قَالَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے "الحمدللہ علی کل حال" کہنا چاہئے جواب دینے والے کو "یرحمک اللہ" کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو "یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔

يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‏.‏ ← وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ أَوْ ← النَّبِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ ← أَخِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← شُعْبَةُ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23986

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23987

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے اس لئے اگر میرے پاس مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نشانہ نہیں بناؤں گا۔

أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا ← صَبْرِ الدَّابَّةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ← أَبِيهِ ← بُكَيْرٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23988

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنْ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ

ابن تعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو دشمن کے چار جنگلی گدھے پکڑ کر لائے گئے انہوں نے حکم دیا اور ان چاروں کو باندھ کر تیروں سے قتل کر دیا گیا، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23988

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23989

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ تِعْلَى حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

صَبْرِ الدَّابَّةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا أَيُّوبَ ← أَنَّهُ ← أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ تِعْلَى ← بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عتاب

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23989

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23990

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ فَكَانَتْ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ أَخَذْتُهَا فَقَالَتْ لِي إِنِّي لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا فَقَالَ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا أَعُودُ وَيَجِيءُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ فَيَقُولُ أَخَذْتُهَا فَيَقُولُ لَا أَعُودُ فَيَقُولُ إِنَّهَا عَائِدَةٌ فَأَخَذَهَا فَقَالَتْ أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے خیمے میں ہوتے تھے ایک جن عورت آتی اور انہیں پکڑ لیتی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جب تم اسے دیکھو تو یوں کہنا " بسم اللہ اجیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ اگلی مرتبہ جب وہ آئی تو انہوں نے اسے یہی کہا اور اسے پکڑ لیا اس نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ آپ کے پاس نہیں آؤں گی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے پکڑ لیا تھا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئے گی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر آئے گی ، چنانچہ میں نے اسے دو تین مرتبہ پکڑا اور وہ ہر مرتبہ یہی کہتی تھی کہ آئندہ نہیں آؤں گی بالآخر ایک مرتبہ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک چیز سکھاتی ہوں تم اسے کہہ لیا کرو کوئی چیز تمہارے قریب نہیں آسکے گی اور وہ آیت الکرسی ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بتائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَخِيهِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23990

chevron_left Previous
1…2,3032,3042,305…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter