Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23787

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَسْبِقَنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے انہیں پانی کی قلت کا پتہ چلا تو منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی ۔

خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ ← حُذَيْفَةَ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ جُمَيْعٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23787

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23788

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بِتُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔

الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← يُونُسَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23788

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23789

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا قَالَ سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ قَالَهَا أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل نجران سے دو سے زائد مرتبہ فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23789

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23790

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْرَأُ كِتَابًا قَطُّ قَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء" نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23790

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23791

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَامَ يُصَلِّي فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ النِّسَاءَ ثُمَّ آلَ عِمْرَانَ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کر لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے ۔

حُذَيْفَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23791

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23792

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔

هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ ← قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23792

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23793

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ أَوْ عِلْجٍ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ بِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ اعْتَذَرَ اعْتِذَارًا وَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بِهِ عَمْدًا لِأَنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَنَا فِي الْآخِرَةِ

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چنانچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23793

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23794

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي فَقَالَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے ۔

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَضَلَةِ سَاقِي، ← حُذَيْفَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23794

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23795

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيَّ زَعَمُوا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہ میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ نے " لوگ کہتے ہیں " اس جملے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔

بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ‏.‏ ← فِي زَعَمُوا‏؟‏ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ مَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23795

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23796

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ طَرَفُهُ عَلَيْهِ وَطَرَفُهُ عَلَى أَهْلِهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔

بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ طَرَفُهُ عَلَيْهِ وَطَرَفُهُ عَلَى أَهْلِهِ ← حُذَيْفَةَ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← يُونُسَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23796

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23797

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کر دیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔

قام فينا رسول الله مقاما ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23797

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23798

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا جَلَسَ وَسْطَ حَلْقَةِ قَوْمٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسْطَ الْحَلْقَةِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔

حُذَيْفَةُ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ أَوْ ← أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا جَلَسَ وَسْطَ حَلْقَةِ قَوْمٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23798

chevron_left Previous
1…2,2872,2882,289…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter