Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23607

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ وَرَجَعَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجِبْ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبْهُ

حضرت ام عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیبہ کو بلایا اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا بیت اللہ میں داخل ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر چلے گئے تو شیبہ بھی واپس چلے گئے اس اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد شیبہ کو بلانے کے لئے دوبارہ آگیا وہ دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے تم اسے وہاں سے غائب کر دو اور ایک روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازیوں کو غافل کر دے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ ← أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23607

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23608

قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّي عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازیوں کو غافل کر دے۔ ی

أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ ← أُمِّي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ ← مَنْصُورٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23609

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَّدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيْ الْكَبْشِ حَيْثُ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا

بنوسلیم کی ایک خاتون " جس نے بنو شبیہ کے اکثر بچوں کی پیدائش کے وقت دائی کا کام کیا تھا " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو قاصد کے ذریعے بلایا یا یہ کہ خود انہوں نے عثمان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیوں بلایا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ میں داخل ہوا تھا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ وہاں دیکھے تھے میں تمہیں یہ کہنا بھول گیا تھا کہ انہیں ڈھانپ دو لہٰذا اب جا کر انہیں ڈھانپ دینا کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو غافل کر دے راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں سینگ خانہ کعبہ ہی میں رہے اور جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے۔

صفية بنت شيبة أم منصور ← خَالَةِ مُسَافِعٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23610

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کاہن (نجومی) کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوگی۔

لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ← «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا ← النَّبِيِّ ← بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ← صَفِيَّةَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23611

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنْ الْحَرِّ أَوْ الْعَطَشِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ''عرج" نامی جگہ پر روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23612

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتْ اللُّقْمَةُ فَقَالَ لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ يَمِينًا أَوْ قَالَ وَقَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ يَمِينَكِ قَالَتْ فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينِي فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ

ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھی میں ایک تنگدست عورت تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا جس سے لقمہ گر گیا اور فرمایا جب اللہ نے تمہارا داہنا ہاتھ بنایا ہے تو بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ چنانچہ میں نے دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا اور اس کے بعد کبھی بھی بائیں ہاتھ سے نہیں کھایا۔

فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينِي فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ ← وَقَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ يَمِينَكِ ← لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ يَمِينًا أَوْ ← آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتْ اللُّقْمَةُ ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← امْرَأَةٍ مِنْهُمْ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23613

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مَوْلًى لَهُمْ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ يُقَالُ لَهُ مِحْرَشٌ أَوْ مُخَرِّشٌ لَمْ يَكُنْ سُفْيَانُ يَقِفُ عَلَى اسْمِهِ وَرُبَّمَا قَالَ مِخْرَشٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا فَاعْتَمَرَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهَا سَبِيكَةُ فِضَّةٍ

حضرت محرش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کے وقت (عمرہ کی نیت سے ) نکلے (رات ہی کو مکہ مکرمہ پہنچے عمرہ کیا (اور رات ہی کو وہاں سے نکلے ) اور جعرانہ لوٹ آئے صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات یہیں گذاری ہے میں نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کو دیکھا وہ چاندی میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ ← مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ← مَوْلًى لَهُمْ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23614

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ

بنوثقیف کے ایک آدمی کی اپنے والد سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لیے۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23615

وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

ابوجبیرہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی " ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو ۔

فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا ← عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ ← أبي جبيرة بن الضحاك الأنصاري. ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23616

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدَنِيٌّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ قَالَ أَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى خَيْرٌ مِنْ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنْ النَّعِيمِ

عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔

كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← مُعَاذِ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ خُبَيْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدَنِيٌّ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23617

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ مُحْتَبٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ لَهُ قُطْنٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ غَيْرُهُ وَهُوَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا

بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متعلق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہنبد باندھ رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں ۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ← الْحَسَنِ، ← عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23618

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبُطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهَا الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَرُكُوبُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَّادًا مِنْ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں (١) وہ گھوڑے جنہیں انسان اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے تیار کرے اس کی قیمت بھی باعث اجر اس کی سواری بھی باعث اجر اسے عاریت پر دینا بھی باعث اجر اور اس کا چارہ بھی باعث اجر ہے (٢) وہ گھوڑے جو انسان کو تکبر کے خول میں جکڑ دیں اور وہ شرط پر انہیں دوڑ میں شریک کرے اس کی قیمت بھی باعث وبال اور اس کا چارہ بھی باعث وبال ہے (٣) وہ گھوڑے جو انسان کے پیٹ کے کام آئیں عنقریب یہ گھوڑے اس کے فقروفاقہ کو دور کرنے کا سبب بن جائیں گے ۔ انشاء اللہ ۔

النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23618

chevron_left Previous
1…2,2722,2732,274…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter