Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23511

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمٍ أَوْ بِيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ وَأَخَذُوا ثَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ

مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کر جاتا ہے۔

رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23512

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ

ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔

رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ← عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23513

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالرُّومِ فَأَوْهَمَ فِيهَا فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بِمُتَنَظِّفِينَ

حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو ۔

شُعْبَةُ فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بِمُتَنَظِّفِينَ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالرُّومِ فَأَوْهَمَ فِيهَا فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23514

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ

ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں ) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔

تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ ← عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23515

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَأَلِجُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُولِي لَهُ فَلْيَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ قَالَ فَأَذِنَ أَوْ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ بِمَ أَتَيْتَنَا بِهِ قَالَ لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَأَنْ تَصُومُوا مِنْ السَّنَةِ شَهْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ قَالَ فَقَالَ هَلْ بَقِيَ مِنْ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ قَالَ قَدْ عَلِمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا وَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

بنوعامر کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتے ہوئے عرض کیا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ اس کے پاس جاؤ کہ یہ اچھے انداز میں اجازت نہیں مانگ رہا اور اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہئے" السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سن لیا چنانچہ میں نے عرض کیا السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور میں اندر چلا گیا میں نے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو تمہارے پاس صرف خیر کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات وعزیٰ کو چھوڑ دو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھو، سال میں ایک مہینے کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اپنے مالداروں کا مال لے کر اپنے ہی فقراء پر واپس تقسیم کر دو میں نے پوچھا کیا کوئی چیز ایسی بھی ہے جسے آپ نہیں جانتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہی خیر کا علم عطاء فرمایا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23516

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ أَوْ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ مَنْصُورٌ الشَّاكُّ إِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23516

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23517

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حُذَيْفَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ و قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ و قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِنَّمَا يَكُونُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شب قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا تو وہ آدھے پیالے کی طرح تھا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ چاند کی یہ صورت ٢٣ویں شب کو ہوتی ہے۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23517

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23518

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي كَبْشَةَ يَخْطُبُ بِالشَّامِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْخَمْرِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْخَمْرِ إِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ

حضرت شرجیل بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو تیسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کر دو۔

فِي الْخَمْرِ ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ أَنَّهُ ← رجلاً من أصحاب النبي ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، يَخْطُبُ بِالشَّامِ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23518

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23519

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ الضُّعَفَاءُ الْمُتَظَلِّمُونَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ النَّارِ قَالُوا بَلَى قَالَ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہو اور اسے دبایا جاتا ہو، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔

كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ ← بَلٰی ← أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ النَّارِ ← الضُّعَفَاءُ الْمُتَظَلِّمُونَ ثُمَّ ← بَلٰی ← أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ← النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23519

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23520

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَمَشَّطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا

حمید حمیری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت پائی تھی ، انہوں نے تین باتوں سے زیادہ کوئی بات مجھ سے نہیں کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے بچائے ہوئے پانی سے غسل کرسکتا ہے لیکن عورت مرد کے بچائے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور روزانہ کنگھی (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔

لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ کَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23520

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23521

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جسم کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کو چمٹاتے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔

((اللهم إني أحبهما فأحبهما)). ← أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ← عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلاً ← محمد يعني إبن أبي حرملة ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23521

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23522

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23522

chevron_left Previous
1…2,2642,2652,266…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter