Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23489

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي سَلْمٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ فَحَدَّثَنِي صَاحِبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ تَبًّا لِلذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَاذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان ، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی ۔

صَاحِبٌ لِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← سلم ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23489

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23490

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔

مَنْ رَأَى النَّبِيَّ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبَا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23491

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ عَامٍ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَقَالَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ مِائَةِ عَامٍ قَالَ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ هُمْ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بُعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ وَهُمْ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنْ الْأَبْوَابِ

متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین جنت میں مالداروں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے حتیٰ کہ مالدار مسلمان کہیں گے کاش ! میں دنیا میں تنگدست رہتا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں ان کا نام بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب پریشان کن حالات آئیں تو انہیں بھیج دیا جائے ، اگر مال غنیمت آئے تو دوسروں کو بھیجا جائے اور انہیں ، چھوڑ دیا جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے دروازوں سے دور رکھاجاتا ہے۔

قُلْنَا ← الْغَنِيُّ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا ← حَتَّى ← النَّبِيِّ أَرْبَعُ مِائَةِ عَامٍ ← أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← فقلتُ: إنَّ الحَسَنُ يَذْكُرُ: "أرْبَعينَ عاماً". فقال: ← يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ عَامٍ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الصديق ← زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23492

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ غَالِبًا الْقَطَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً علیک وعلی ابیک السلام فرمایا۔

النَّبِيُّ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ ← إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ. ← جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ ← غَالِبا الْقطَّان ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23492

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23493

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ

حضرت ابن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23493

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23494

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ يَقُولُ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ وَلَوْلَا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ

زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔

زُهَيْرِ بْنِ الأَقْمَرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23494

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23495

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

سعید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں ۔

نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فَشَهِدُوا ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23496

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ كَانَ يَقُصُّ فَقَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَأَنْ أَجْلِسَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ يَعْنِي الْقَصَصَ

ایک بدری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھناچار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← رَجُلٌ، مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، ← كَانَ يَقُصُّ ← كُرْدُوسٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23497

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ حَيَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ

قبیصہ بن مسعود سے مروی ہے کہ مجاہدین کے ایک گروہ نے فجر کی نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان میں سے ایک نوجوان کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرق و مغرب فتح ہو جائیں گے لیکن اس کے عمال و گورنر جہنم میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← شاب منهم: ← صلى هذا الحي من (محارب) الصبحَ، فلما صلوا ← مسعودِ بن قَبيصةَ -أو قَبيصةَ بن مسعودٍ- ← شَقِيقَ بْنَ حَيَّانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23497

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23498

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ قَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا

ابو عمران رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے ، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے ، اس لئے تم اس سے بچو۔

قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلاءِ, يَعْنِي: ابْنَ الزُّبَيْرِ, وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23499

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَقِيلٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبِحُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔

مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا ← بِمَا ← فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ ← هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ ← كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ← أَبِي سَلَّامٍ ← سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أبا عقيل ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23499

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20643

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ وَكَانَا يُغَازِيَانِ فَحَدَّثَانِي حَدِيثًا وَلَمْ يَشْعُرْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ قَالُوا نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَلَيْكُمْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ أَوْ اتَّبِعُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ قَالَ فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَيِيتُ فَلَحِقْتُ الرَّجُلَ فَقُلْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذَا فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ هَذَا وَأَصْحَابُهُ وَذَكَرَهُ

حضرت مرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت کیا کرو گے جب گائے کے سینگوں کی طرح اکناف عالم میں فتنے پھیل پڑیں گے لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم اس وقت کیا کریں؟ اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس سن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے میں اس کے پیچھے چلا گیا اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کرکے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی تھے۔

أُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ وَكَانَا يُغَازِيَانِ فَحَدَّثَانِي حَدِيثًا وَلَمْ يَشْعُرْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ← هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← كَهْمَسٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20643

chevron_left Previous
1…2,2622,2632,264…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter