Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23473

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي فَمُرْهُ فَلْيَبِعْنِيهَا أَوْ لِيَهَبْهَا لِي قَالَ فَأَبَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلْ وَلَكَ بِهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَأَبَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَبْخَلُ النَّاسِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) فلاں آدمی کا ایک درخت میرے باغ میں ہے اسے کہہ دیجئے کہ یا تو وہ درخت مجھے بیچ دے یا ہبہ کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہاں تک فرمایا کہ تم ایسا کر لو اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا لیکن وہ پھر بھی نہ مانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بخیل انسان ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي صَالِحٍ ذَکْوَانَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23473

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23474

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَمِّهَا قَالَ إِنِّي لَبِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبُهَا قَالَ فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بِمِخْصَرَةٍ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنَّهُ أَبْقَى وَأَنْقَى فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔

فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بِمِخْصَرَةٍ ← إِنِّي لَبِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ عَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبُهَا ← عَمِّهَا ← عَمَّتِهِ ← أَشْعَثَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23474

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23475

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قُرْمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ عَنْ عَمِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے ؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔

قُلْتُ ← أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ ← شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ ← قدمت المدينة ← عَمِّهَا عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ ← عَمَّتِهِ رُهْمٍ ← الْأَشْعَثِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23476

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ

ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔

رجل من أسلم ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23476

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23477

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں وضو کیا ہے۔

حَفِظْتُ لَكَ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَبِي خَالِدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23477

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23478

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا سِتَّ سِنِينَ عَلَيْنَا جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَامَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ أَتَيْنَا رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّاسِ فَشَدَّدْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ أَنْذَرْتُكُمْ الْمَسِيحَ وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ الْيُسْرَى يَسِيرُ مَعَهُ جِبَالُ الْخُبْزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ الْكَعْبَةَ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَ يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ

مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں ) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کی ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جا سکے گا خانہ کعبہ ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔

مُجَاهِدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23478

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23479

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور''عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔

وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ ← بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23479

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23480

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ فَعَثَرَتْ بِهِ دَابَّتُهُ فَقَالَ تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبَلِ وَيَقُولُ بِقُوَّتِي صَرَعْتُهُ وَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّبَابِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہو جائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہو جائے گا۔

لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبَلِ ← تَعِسَ الشَّيْطَانُ ← رِدْفِ النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ فَعَثَرَتْ بِهِ دَابَّتُهُ ← رِدْفِ النَّبِيِّ أَوْ مَنْ ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23480

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23481

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً فَجَلَسْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے ۔

خرجتُ مع أهْلي أريدُ النبيَّ وإذا ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23481

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23482

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔

أَنَسٍ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23482

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23483

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَ إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ

ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نماز عشاء کب پڑھا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات ہر وادی پر چھا جائے۔

إذَا مَلأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ. ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ← رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23484

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّفَرِ فَتُدْرِكُهُمْ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَقَالَ لَهُمْ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر اسے پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کر سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی ) حلال ہے۔

أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ ← يَحْيَى ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23484

chevron_left Previous
1…2,2592,2602,261…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter