Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20607

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو النَّضْرِ وَعَفَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں کبھی واپس نہیں آئیں گے وہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ وَأَبُو النَّضْرِ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20607

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20608

قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعًا قَالَ بَهْزٌ أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن صامت کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت رافع سے ملا اور یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← وَأَنَا أَيْضًا قَدْ ← بَهْزٌ أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ ← ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعًا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20609

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا فَأُتِيَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ وَكُلْ مَا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ

حضرت رافع سے مروی ہے کہ میں اور ایک لڑکا انصار کے باغ میں درختوں پر پتھر مارتے تھے باغ کا مالک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہاں ایک لڑکا ہے جو ہمارے درختوں پر پتھر مارتا ہے پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے لڑکے تم درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا پھل کھانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے پھل گرجائے انہیں کھا لیا کرو پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔

غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأُتِيَ النَّبِيُّ فَقِيلَ ← كُنْتُ ← عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ← حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، ← ابن أبي الحكم الغفاري ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20610

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ يَقُولُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ أَوْ قَالَ الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ فِي الْجَنَّةِ شَكَّ الْمُشْمَعِلُّ

حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور درخت صخرہ بیت المقدس جنت سے آئے ہیں۔

الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ فِي الْجَنَّةِ شَكَّ الْمُشْمَعِلُّ ← الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، ← عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيَّ ← الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20611

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنْ الْجَنَّةِ

حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت میں خدمت گذاری کی عمر میں تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور صخرہ بیت المقدس جنت سے آئے ہیں۔

الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنْ الْجَنَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ← الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20612

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں کبھی واپس نہیں آئیں گے وہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20613

قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعًا فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن صامت کہتے ہیں پھر میں حضرت رافع سے ملا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعًا فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ وَأَنَا أَيْضًا قَدْ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20614

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ قَالَ مِحْجَنُ بْنُ الْأَدْرَعِ بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ثُمَّ عَرَضَ لِي وَأَنَا خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَوْمَ يَدَعُهَا أَهْلُهَا قَالَ يَزِيدُ كَأَيْنَعِ مَا تَكُونُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَتَهَا قَالَ عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعُ قَالَ وَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا تَلَقَّاهُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ مُصْلِتًا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي قَالَ أَتَقُولُهُ صَادِقًا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ قَالَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ صَلَاةً قَالَ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِنَّكُمْ أُمَّةٌ أُرِيدَ بِكُمْ الْيُسْرُ

رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے ۔ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑ ھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

«عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعُ»، ← قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ يَأْكُلُ ثَمَرَتَهَا، ← يَزِيدُ: «كَأَيْنَعِ مَا تَكُونُ»، ← «وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَوْمَ يَدَعُهَا أَهْلُهَا»، ← فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى صَعِدْنَا أُحُدًا، فَأَقْبَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ، ← خَارِجٌ مِنْ طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، ← مِحْجَنُ بْنُ الْأَدْرَعِ: بَعَثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ فِي حَاجَةٍ، ثُمَّ عَرَضَ لِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← كَهْمَسٍ، ← كَهْمَسٌ، وَيَزِيدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20615

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے ۔ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑ ھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20616

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ عَنْ مِحْجَنٍ قَالَ عَفَّانُ وَهُوَ ابْنُ الْأَدْرَعِ

رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے ۔ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑ ھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

عَفَّانُ وَهُوَ ابْنُ الْأَدْرَعِ ← مِحْجَنٍ، ← رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20617

قَالَ وَحَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ قَالَ رَجَاءٌ أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا قَالَ وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ سُكْبَةُ يُطِيلُ الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرَيْدَةُ قَالَ وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ قَالَ يَا مِحْجَنُ أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ مِحْجَنٌ شَيْئًا وَرَجَعَ قَالَ وَقَالَ لِي مِحْجَنٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا كَأَعْمَرِ مَا تَكُونُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَلَا يَدْخُلُهَا قَالَ ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ فَأَخَذْتُ أُطْرِيهِ لَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا وَهَذَا قَالَ اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ حُجْرَةٍ لَكِنَّهُ رَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ

رجاء بن ابی رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزارح کا غلبہ تھا حضرت محجن سے کہنے لگے کہ جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کریہاں رہنے والے چلے جائیں گے پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہردروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہے میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

محجن بن الأدرع ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20618

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ يَزِيدُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هُوَ قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ

ایک انصاری صحابی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کررہے ہیں واللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کی نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کررہے تھے حتی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ قرار دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں ضرور جواب دیتے۔

بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً ← خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ فَإِذَا ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← يَزِيدُ: ← الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← هِشَامٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20618

chevron_left Previous
1…2,2572,2582,259…2,352
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter