مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18354
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ إيَادًا يُحَدِّثُ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا كَانَ يُسَافِرُ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي وَجْهِ السَّحَرِ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَضَرَبَ الْخَلَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِطَهُورٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَيْدٍ
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر پر نکلا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے پانی منگوایا اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوشامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ ← إيَادًا، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18354
