Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19182

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ وَهُمْ قِيَامٌ وَهُوَ قَاعِدٌ فَأَتَيْتُهُ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي قَالَ تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ قَالَ نَافِعٌ يَا جَابِرُ أَلَا تَرَى أَنَّ الدَّجَّالَ لَا يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ

حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کے ہمراہ کسی غزوے میں تھا، نبی کے پاس مغرب کی جانب سے ایک قوم آئی، ان لوگوں نے اون کے کپڑے پہن رکھے تھے، ایک ٹیلے کے قریب ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہوا، نبی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور وہ لوگ کھڑے ہوئے تھے، میں بھی آکر ان کے درمیان کھڑا ہوگیا، میں نے گن کر چار باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محفوظ کی ہیں، نبی نے فرمایا تم لوگ جزیرہ عرب کے لوگوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر اہل فارس سے قتال کروگے اور اللہ ان پر بھی فتح دے گا، پھر اہل روم سے قتال کرو گے اور اللہ ان پر بھی فتح دے گا، پھر دجال سے قتال کرو گے اور اللہ اس پر بھی فتح دے گا۔

نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19182

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19183

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللَّهِ الْوَاحِدِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے جو نماز مکمل کرچکا ہے اور تشہد میں یہ کہہ رہا ہے اے اللہ! میں تجھ سے تیرے نام، اللہ، واحد، احد، صمد، جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے، کی برکت سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے، بیشک تو بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے، نبی نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اس کے گناہ معاف ہوگئے۔

حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الْأَدْرَعِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19183

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19184

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ ثَلَاثًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ قَالَ يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَنْظُرُ الْمَدِينَةَ فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ أَتَرَوْنَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْحَرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ

حضرت محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے خطبہ دیتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا یوم الخلاص آنے والا ہے اور یوم الخلاص کیسا دن ہوگا،؟ کسی نے پوچھا کہ یوم الخلاص سے کیا مراد ہے، نبی نے فرمایا دجال آکر احد پہاڑ پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم یہ سفید محل دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسجد ہے، پھر وہ جرف نامی جگہ پر پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اور مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا، جس سے گھبرا کر مدینہ میں کوئی منافق اور فاسق مرد و عورت ایسا نہیں رہے گا جو دجال کے پاس نہ چلا جائے، وہ دن یوم الخلاص ہوگا۔

محجن بن الأدرع ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19184

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19185

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ كَانَ بُرَيْدَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ مِحْجَنٌ عَلَيْهِ وَسُكْبَةُ يُصَلِّي فَقَالَ بُرَيْدَةُ وَكَانَ فِيهِ مُرَاحٌ لِمِحْجَنٍ أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي هَذَا فَقَالَ مِحْجَنٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَصَعِدَ عَلَى أُحُدٍ فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْلُ أُمِّهَا قَرْيَةً يَدَعُهَا أَهْلُهَا خَيْرَ مَا تَكُونُ أَوْ كَأَخْيَرِ مَا تَكُونُ فَيَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا جَنَاحَيْهِ فَلَا يَدْخُلُهَا قَالَ ثُمَّ نَزَلَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي فَقَالَ لِي مَنْ هَذَا فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ قَالَ ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسُرُهُ

رجاء بن ابو رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا، سکبہ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا، حضرت محجن سے کہنے لگے کہ جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے؟ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے ، پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس! اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے، پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا، لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا، پھر نبی میرا ہاتھ پکڑے پکڑے نیچے اترے اور چلتے چلتے مسجد میں داخل ہوگئے، وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، نبی نے مجھ سے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو، اسے مت سناؤ، ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے، پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

مِحْجَنٍ، ← بُرَيْدَةُ وَكَانَ فِيهِ مُرَاحٌ لِمِحْجَنٍ أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي هَذَا ← كَانَ بُرَيْدَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ مِحْجَنٌ عَلَيْهِ وَسُكْبَةُ يُصَلِّي ← رجاء بن أبي رجاء ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19185

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19186

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ عَنْ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ حَجَّاجٌ وَلَا أَبُو النَّضْرِ بِجَنَاحِهِ

رجاء بن ابو رجاء کہتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے کہ وہاں سے حضرت محجن کا گذر ہوا، سکبہ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت بریدہ جن کی طبیعت میں حس مزاح کا غلبہ تھا، حضرت محجن سے کہنے لگے کہ جس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں تم کیوں نہیں پڑھ رہے؟ انہوں نے کہا ایک مرتبہ نبی نے میرا ہاتھ پکڑا اور احد پہاڑ پر چڑھ گئے ، پھر مدینہ منورہ کی طرف جھانک کر فرمایا ہائے افسوس! اس بہترین شہر کو بہترین حالت میں چھوڑ کر یہاں رہنے والے چلے جائیں گے، پھر دجال یہاں آئے گا تو اس کے ہر دروازے پر ایک مسلح فرشتہ پہرہ دے رہا ہوگا، لہذا دجال اس شہر میں داخل نہیں ہوسکے گا، پھر نبی میرا ہاتھ پکڑے پکڑے نیچے اترے اور چلتے چلتے مسجد میں داخل ہوگئے، وہاں ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، نبی نے مجھ سے پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے اس کی تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آہستہ بولو، اسے مت سناؤ، ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے، پھر اپنی کسی زوجہ محترمہ کے حجرے کے قریب پہنچ کر میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور دو مرتبہ فرمایا تمہارا سب سے بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔

مَعْنَاهُ وَلَمْ يَقُلْ حَجَّاجٌ وَلَا أَبُو النَّضْرِ بِجَنَاحِهِ ← مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ ← رَجَاءِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْبَاهِلِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19187

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ بُسْرٍ أَوْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدُ عَنْ أَبِي مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى فَقَالَ لِي أَلَا صَلَّيْتَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ صَلَّيْتُ فِي الرَّحْلِ ثُمَّ أَتَيْتُكَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَاجْعَلْهَا نَافِلَةً قَالَ أَبِي وَلَمْ يَقُلْ أَبُو نُعَيْمٍ وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَاجْعَلْهَا نَافِلَةً

حضرت محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوگئی تو میں ایک طرف کو بیٹھ گیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اگرچہ گھر میں نماز پڑھ لی ہو تب بھی لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوجایا کرو، اور نفل کی نیت کرلیا کرو۔

قُلْتُ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى فَقَالَ لِي أَلَا صَلَّيْتَ ← أَبِيهِ ← أَبِي مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ ← بَعْدُ ← بُسْرٍ أَوْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ ثُمَّ كَانَ ← سُفْيَانُ مَرَّةً ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19187

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19188

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنْ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ

حضرت ضمرہ بن ثعلبہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے تو یمن کے دو حلے پہن رکھے تھے، نبی نے فرمایا ضمرہ،! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ کپڑے تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے؟ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک انہیں اتار نہ دوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمادی کہ اے اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کو معاف فرمادے، پھر وہ جلدی سے واپس چلے گئے اور انہیں اتار دیا۔

لَئِنْ اسْتَغْفَرْتَ لِي ← "يا ضَمْرَةُ! أتَرى ثوبَيْكَ هذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الجنَّةَ؟ ← ضَمْرَةَ بنِ ثَعْلَبَة أنَّه أتى النبيَّ وعليه حُلَّتانِ مِنَ حُلَلِ اليَمَنِ؛ ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19188

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19189

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ لِي دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ

حضرت ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے گھر والوں نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، پھر نبی نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔

لِي دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ ← بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19190

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ رَجُلٍ مِنْ الْحَيِّ قَالَ سَمِعْتُ ضِرَارَ بْنَ الْأَزْوَرِ قَالَ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقْحَةً قَالَ فَحَلَبْتُهَا قَالَ فَلَمَّا أَخَذْتُ لِأُجْهِدَهَا قَالَ لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ

حضرت ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے گھر والوں نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر نبی کے پاس بھیجا، میں حاضر ہوا تو نبی نے مجھے اس کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، پھر نبی نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔

لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ ← فَلَمَّا أَخَذْتُ لأُجْهِدُهَا ← فَحَلَبْتُهَا ← أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ لِقْحَةً ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19190

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلُبُ فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ أَوْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

حضرت ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے پاس سے گذرے، وہ اس وقت دودھ دوھ رہے تھے، نبی نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔

ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْن سِنَانٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19192

قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ أَوْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

حضرت ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے پاس سے گذرے، وہ اس وقت دودھ دوھ رہے تھے، نبی نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔

النَّبِيِّ بِنَحْوِهِ ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الْأَعْمَشُ أَوْ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عبد الله و

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19192

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19193

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيُّ عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ جَعْدَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى لِرَجُلٍ رُؤْيَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ فَجَعَلَ يَقُصُّهَا عَلَيْهِ وَكَانَ الرَّجُلُ عَظِيمَ الْبَطْنِ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ

حضرت جعدہ سے مروی ہے کہ نبی نے ایک آدمی کے متعلق کوئی خواب دیکھا تو اسے بلا بھیجا، وہ آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے وہ خواب بیان کیا، اس آدمی کا پیٹ بہت بڑھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور انگلی چبھو کر فرمایا کہ اگر یہ اس کے علاوہ میں ہوتا تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔

شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ جَعْدَةُ، ← أَبُو إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19193

chevron_left Previous
1…777879…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter