Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19170

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ مَدِينِيٌّ قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ عَنْ أَبِيهِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَّبَيْنَ فَهَجَمَ عَلَيْهِ شَوَائِلُ لَهُ فَسَقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَةَ إِنَاءٍ فَامْتَلَأَ بِهِ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتُ لَأَشْرَبُ السَّبْعَةَ فَمَا أَمْتَلِئُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَإِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ

حضرت نضلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرین نامی جگہ میں نبی سے ان کی ملاقات ہوئی، ان کے پاس جب ان کی گابھن بکریاں یا اونٹنیاں جمع ہوئیں تو انہوں نے نبی کو دودھ پلایا اور جو باقی بچا وہ خود پی لیا، اور اسی میں ان کا پیٹ بھر گیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پہلے میں سات پیالے پی جاتا تھا لیکن سیراب نہیں ہوتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔

نضلة بن عمرو الغفاري ← أبيه معن بن نضلة ← جدي محمد بن معن ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ مَدِينِيٌّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19171

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ وَصَحِبْتُهُ إِلَى وَاسِطٍ وَكَانَ يُسَمِّي فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ وَفِي آخِرِ لُقْمَةٍ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ تُسَمِّي فِي أَوَّلِ مَا تَأْكُلُ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي آخِرِ مَا تَأْكُلُ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ قَالَ أُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ جَدِّي أُمَيَّةَ بْنَ مَخْشِيٍّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ طَعَامِهِ لُقْمَةٌ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ حَتَّى سَمَّى فَلَمْ يَبْقَ فِي بَطْنِهِ شَيْءٌ إِلَّا قَاءَهُ

جابر بن صبح کہتے ہیں کہ مثنی بن عبدالرحمن جن کی رفاقت مجھے واسط تک نصیب ہوئی ہے، کھانے کے آغاز اور آخری لقمے پر بسم اللہ فی اولہ و آخرہ کہتے تھے، ایک مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کھانے کے آغاز میں تو بسم اللہ پڑھ لیتے ہیں، پھر آخری لقمے پر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں، میں نے اپنے دادا حضرت امیہ بن مخشی کو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی، جب آخری لقمے پر پہنچا تو (اسے یاد آیا کہ بسم اللہ تو پڑھی نہیں، لہذا) اس نے یوں کہہ دیا، بسم اللہ اولہ و آخرہ، یہ سن کر نبی نے فرمایا شیطان اس کے ساتھ مسلسل کھانا کھاتا رہا، پھر جب اس نے بسم اللہ پڑھی تو اس کے پیٹ میں جو کچھ گیا، تھا، اس نے اس سب کی قئ کردی۔

جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19172

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِي قَالَ مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، آپ نے مؤذن کو اشہد ان لا الہ الا اللہ کہتے ہوئے سنا تو خود بھی فرمایا اشھد ان لا الہ الا اللہ، پھر جب اس نے اشھد ان محمد رسول اللہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشھد ان محمد رسول اللہ، پھر فرمایا معلوم کرو یہ آدمی بکریوں کا چرواہا ہوگا یا اپنے اہل خانہ سے کنارہ کش ہوگا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی سے نیچے اترے تو ایک مردار بکری کے پاس سے گذر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہوگئی ہے؟ جتنی یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہے، ساری دنیا اللہ کی نظر میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← النَّبِيُّ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← مُؤَذِّنًا ← كَانَ النَّبِيُّ فِي سَفَرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19173

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ

حضرت فرات بن حیان سے مروی ہے کہ نبی نے ان کے قتل کا حکم جاری کردیا کیونکہ وہ ابوسفیان کے جاسوس اور حلیف تھے، فرات کا گذر انصار کے ایک حلقے پر ہوا تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں مسلمان ہوں، انہوں نے جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بعض آدمی ایسے ہیں جن کی قسم پر ہم اعتماد کر کے انہیں ان کی قسم کے حوالے کردیتے ہیں، ان ہی میں فرات بن حیان بھی ہے۔

فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19174

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ زِيَادِ بْنِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا

حضرت حذیم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام وحرمت ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے۔

جَدِّهِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ زِيَادِ بْنِ حِذْيَمٍ السَّعْدِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19174

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19175

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت حذیم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام وحرمت ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے۔

جَرِيرٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19175

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19176

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ قَاضِي وَاسِطٍ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقَالُوا هَذَا خَادِمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ← حَدِيثًا ← فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ ← مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقَالُوا هَذَا خَادِمُ النَّبِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبِي عَقِيلٍ قَاضِي وَاسِطٍ ← شُعْبَةُ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19177

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ عَنْ سَابِقٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا حِينَ يُمْسِي ثَلَاثًا وَحِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابو سلام کہتے ہیں کہ نبی کے ایک خادم سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔

مَنْ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← خَادِمِ النَّبِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← سَابِقٌ، ← أَبِي عَقِيلٍ ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19177

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19178

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو النَّضْرِ الْحَبَشِيُّ قَالَ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقِيلَ هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ

ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔

ما مِنْ عبْدٍ ← النَّبِيِّ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَکَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ← حَدِيثًا ← مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَقِيلَ هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ فَقَامَ إِلَيْهِ ← أَبُو النَّضْرِ الْحَبَشِيُّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19178

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19179

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَاجْتَبَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ

نبی کے ایک خادم جنہوں نے آٹھ سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے مروی ہے کہ نبی کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تونے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی، تونے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی، تیری بخششوں پر تیری تعریف واجب ہے۔

«اللهُمَّ أَطْعَمْتَ، وَأَسْقَيْتَ، وَأَغْنَيْتَ، وَأَقْنَيْتَ، وَهَدَيْتَ، وَاجْتَبَيْتَ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ» ← «بِسْمِ اللهِ»، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ ← رَجُلٌ خَدَمَ النَّبِيَّ ثَمَانِ سِنِينَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← رشدين بن سعد ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19179

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19180

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ

حضرت ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے وقت نبی کی چوکیداری کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے نکلے، تو مجھے دیکھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم لوگ چل پڑے، راستے میں ہمارا گذر ایک آدمی پر ہوا جو نماز میں بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید یہ دکھاوے کے لئے ایسا کر رہا ہے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو نماز میں بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا ہے۔ اس پر نبی نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا تم اس معاملے کو غالب گمان سے نہیں پاسکتے۔ ایک مرتبہ پھر اسی طرح میں رات کو چوکیداری کر رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے نکلے اور میرا ہاتھ پکڑ کر چل پڑے، راستے میں پھر ہمارا گذر ایک آدمی پر ہوا جو بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا ، میں نے اس مرتبہ پہل کرتے ہوئے کہا شاید یہ دکھاوے کے لئے ایسا کر رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعا نہیں، یہ تو بڑا رجوع کرنے والا ہے، میں نے معلوم کیا تو وہ عبداللہ ذوالبجادین تھے۔

قُلْتُ ← النَّبِيُّ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَائِيًا ← فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ ← كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ← ابن الأَدرع. ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19180

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19181

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقَاتِلُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ وَتُقَاتِلُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهُمْ اللَّهُ وَتُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهُمْ اللَّهُ وَتُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ

حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا تم لوگ جزیرہ عرب کے لوگوں سے قتال کرو گے اور اللہ تمہیں ان پر فتح عطاء فرمائے گا، اور پھر اہل فارس سے قتال کروگے اور اللہ ان پر بھی فتح دے گا، پھر اہل روم سے قتال کرو گے اور اللہ ان پر بھی فتح دے گا، پھر دجال سے قتال کرو گے اور اللہ اس پر بھی فتح دے گا۔

نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19181

chevron_left Previous
1…767778…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter