Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19110

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ

حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں والنخل باسقات " کی تلاوت کرتے ہوئے سناہے

رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ ← عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ: ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرٍ، ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19110

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19111

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْشِرُ قَوْمِي فَقَالَ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْإِسْلَامِ عُشُورٌ

بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

قُلْتُ ← خَاله ← رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ← عطاء يعني ابن السائب ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19111

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19112

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ بِلَقْحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا ثُمَّ قَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ لَا تُجْهِدَنَّهَا

حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے گھر والوں نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاٍس بھیجا، میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا دودھ دوہنے کا حکم دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کرسکو۔

أَبُو مُعَاوِيَةَ لَا تُجْهِدَنَّهَا ← دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ بِلَقْحٍ إِلَى النَّبِيِّ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا ثُمَّ ← بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَکِیعٌ، وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19112

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19113

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ

حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلاہوئے تو میں مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ وہاں موجود تھا اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لئے اذان دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھادے میں باہر نکالا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے اور حضرت ابوبکر صدیق موجود نہ تھے میں نے کہا کہ عمر! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے جب انہوں نے تکبیر کہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز بلند تھی تو فرمایا کہ ابوبکر کہاں ہیں ؟ اللہ اور مسلمان اس سے انکار کرتے ہیں اللہ ، اور مسلمان اس سے انکار کرتے ہیں ، پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیج کر انہیں بلایا جب وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو وہ نماز پڑھاچکے تھے پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا ہائے افسوس! اے ابن زمعہ ! یہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ بخدا! جب تم نے مجھے آگے بڑھنے کے لئے کہا تو میں یہی سمجھا کہ اس کا حکم تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اگر ایسا نہیں تھا تو میں لوگوں کو کبھی بھی نماز نہ پڑھاتا میں نے ان سے کہا کہ واللہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ مجھے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دئیے تھے تو میں نے حاضرین میں آپ سے بڑھ کر کسی کو امامت کا مستحق نہیں پایا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى ← فقام فلما كبر عمر ← قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ ← فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا ← مُرُوا مَنْ يُصَلِّي ← دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ ← عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ← لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19113

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19114

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنِ الْمِسْوَرِ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ يَخْطُبُ ابْنَتَهُ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُ فَلْيَلْقَنِي فِي الْعَتَمَةِ قَالَ فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ الْمِسْوَرُ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ وَاللَّهِ مَا مِنْ نَسَبٍ وَلَا سَبَبٍ وَلَا صِهْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَبَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي يَقْبِضُنِي مَا قَبَضَهَا وَيَبْسُطُنِي مَا بَسَطَهَا وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي وَعِنْدَكَ ابْنَتُهَا وَلَوْ زَوَّجْتُكَ لَقَبَضَهَا ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقَ عَاذِرًا لَهُ

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حسن بن حسن رحمتہ اللہ علیہ نے ان کے پاس ان کی بیٹی سے اپنے لئے پیغام نکاح بھیجا انہوں نے قاصد سے کہا کہ حسن سے کہنا کہ وہ عشاء میں مجھ سے ملیں جب ملاقات ہوئی تو مسور رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور امابعد کہہ کر فرمایا اللہ کی قسم ! تمہارے نسب اور سسرال سے زیادہ کوئی حسب نسب اور سسرال مجھے محبوب نہیں ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس چیز سے وہ تنگ ہوتی ہے میں بھی تنگ ہوتا ہوں اور جس چیز سے وہ خوش ہوتی ہے میں بھی خوش ہوتا ہوں اور قیامت کے دن میرے حسب نسب اور سسرال کے علاوہ سب نسب ناطے ختم ہوجائیں گے آپ کے نکاح میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی پہلے سے ہے اگر میں نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنگ ہوں گے یہ سن کر حسن نے ان کی معذرت قبول کرلی اور واپس چلے گئے ۔

الْمِسْوَرِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرِ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19115

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ عَنِ الْمِسْوَرِ قَالَ مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ فَقَالَ ارْفَعْ أَوْ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ قَالَ فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ الْمَاءِ

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی میرے پاس سے گذرا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے اس نے کہا کہ ان کا کپڑا ان کی پشت پر سے ہٹادو میں ہٹانے کے لئے آگے بڑھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ پر پانی کا چھینٹادے مارا۔

فَنَضَحَ النَّبِيُّ فِي وَجْهِي مِنْ الْمَاءِ ← فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ ← ظَهْرِهِ. ← فَقَالَ ارْفَعْ أَوْ اكْشِفْ ثَوْبَهُ ← مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ وَالنَّبِيُّ يَتَوَضَّأُ ← الْمِسْوَرِ ← أُمِّ بَكْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19115

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19116

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا

حضرت مسور رضی اللہ عنہ اور مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے اوپر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوساتھ لے کر نکلے ذوالحلیفہ پہنچ کرہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھا اس کا شعار کیا اور وہاں سے احرام باندھ لیا اور اپنے آگے ایک جاسوس بھیج کر خود بھی روانہ ہوگئے۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19117

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يُرِيدُ زِيَارَةَ الْبَيْتِ لَا يُرِيدُ قِتَالًا وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ سَبْعِينَ بَدَنَةً وَكَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَةِ رَجُلٍ فَكَانَتْ كُلُّ بَدَنَةٍ عَنْ عَشَرَةٍ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ لَقِيَهُ بِشْرُ بْنُ سُفْيَانَ الْكَعْبِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِيرِكَ فَخَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي خَيْلِهِمْ قَدِمُوا إِلَى كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا وَيْحَ قُرَيْشٍ لَقَدْ أَكَلَتْهُمْ الْحَرْبُ مَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ خَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَ سَائِرِ النَّاسِ فَإِنْ أَصَابُونِي كَانَ الَّذِي أَرَادُوا وَإِنْ أَظْهَرَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ وَهُمْ وَافِرُونَ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِهِمْ قُوَّةٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَيْشٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَا أَزَالُ أُجَاهِدُهُمْ عَلَى الَّذِي بَعَثَنِي اللَّهُ لَهُ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ لَهُ أَوْ تَنْفَرِدَ هَذِهِ السَّالِفَةُ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَكُوا ذَاتَ الْيَمِينِ بَيْنَ ظَهْرَيْ الْحَمْضِ عَلَى طَرِيقٍ تُخْرِجُهُ عَلَى ثَنِيَّةِ الْمِرَارِ وَالْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ قَالَ فَسَلَكَ بِالْجَيْشِ تِلْكَ الطَّرِيقَ فَلَمَّا رَأَتْ خَيْلُ قُرَيْشٍ قَتَرَةَ الْجَيْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِيقِهِمْ نَكَصُوا رَاجِعِينَ إِلَى قُرَيْشٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمِرَارِ بَرَكَتْ نَاقَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ خَلَأَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَأَتْ وَمَا هُوَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ عَنْ مَكَّةَ وَاللَّهِ لَا تَدْعُونِي قُرَيْشٌ الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يَسْأَلُونِي فِيهَا صِلَةَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ انْزِلُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بِالْوَادِي مِنْ مَاءٍ يَنْزِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَأَعْطَاهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ فِي قَلِيبٍ مِنْ تِلْكَ الْقُلُبِ فَغَرَزَهُ فِيهِ فَجَاشَ الْمَاءُ بِالرَّوَاءِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ عَنْهُ بِعَطَنٍ فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ فِي رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَةَ فَقَالَ لَهُمْ كَقَوْلِهِ لِبُشَيْرِ بْنِ سُفْيَانَ فَرَجَعُوا إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَأْتِ لِقِتَالٍ إِنَّمَا جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لَحَقِّهِ فَاتَّهَمُوهُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ خُزَاعَةُ فِي غَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْلِمُهَا وَمُشْرِكُهَا لَا يُخْفُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كَانَ بِمَكَّةَ قَالُوا وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا جَاءَ لِذَلِكَ فَلَا وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُهَا أَبَدًا عَلَيْنَا عَنْوَةً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذَلِكَ الْعَرَبُ ثُمَّ بَعَثُوا إِلَيْهِ مِكْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَفِ أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَجُلٌ غَادِرٌ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِمَّا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَأَخْبَرَهُمْ بِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ الْحِلْسَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْكِنَانِيَّ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ الْأَحَابِشِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا مِنْ قَوْمٍ يَتَأَلَّهُونَ فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ فَبَعَثُوا الْهَدْيَ فَلَمَّا رَأَى الْهَدْيَ يَسِيلُ عَلَيْهِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِي فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ رَجَعَ وَلَمْ يَصِلْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِعْظَامًا لِمَا رَأَى فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَدْ رَأَيْتُ مَا لَا يَحِلُّ صَدُّهُ الْهَدْيَ فِي قَلَائِدِهِ قَدْ أَكَلَ أَوْتَارَهُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّهِ فَقَالُوا اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِيٌّ لَا عِلْمَ لَكَ فَبَعَثُوا إِلَيْهِ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى مِنْكُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلَى مُحَمَّدٍ إِذَا جَاءَكُمْ مِنْ التَّعْنِيفِ وَسُوءِ اللَّفْظِ وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّكُمْ وَالِدٌ وَأَنِّي وَلَدٌ وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِي نَابَكُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى آسَيْتُكُمْ بِنَفْسِي قَالُوا صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّهَمٍ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِهِمْ لِبَيْضَتِكَ لِتَفُضَّهَا إِنَّهَا قُرَيْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَهَا الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ يُعَاهِدُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عَنْوَةً أَبَدًا وَأَيْمُ اللَّهِ لَكَأَنِّي بِهَؤُلَاءِ قَدْ انْكَشَفُوا عَنْكَ غَدًا قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فَقَالَ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَنْكَشِفُ عَنْهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ قَالَ وَاللَّهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَكَافَأْتُكَ بِهَا وَلَكِنَّ هَذِهِ بِهَا ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيدِ قَالَ يَقْرَعُ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ أَمْسِكْ يَدَكَ عِنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَاللَّهِ لَا تَصِلُ إِلَيْكَ قَالَ وَيْحَكَ مَا أَفَظَّكَ وَأَغْلَظَكَ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا يَا مُحَمَّدُ قَالَ هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ أَغُدَرُ هَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَكَ إِلَّا بِالْأَمْسِ قَالَ فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَا كَلَّمَ بِهِ أَصْحَابَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ يُرِيدُ حَرْبًا قَالَ فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَأَى مَا يَصْنَعُ بِهِ أَصْحَابُهُ لَا يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوهُ وَلَا يَسْقُطُ مِنْ شَعَرِهِ شَيْءٌ إِلَّا أَخَذُوهُ فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي جِئْتُ كِسْرَى فِي مُلْكِهِ وَجِئْتُ قَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيَّ فِي مُلْكِهِمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِي أَصْحَابِهِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ قَوْمًا لَا يُسْلِمُونَهُ لِشَيْءٍ أَبَدًا فَرُوا رَأْيَكُمْ قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَيَّةَ الْخُزَاعِيَّ إِلَى مَكَّةَ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الثَّعْلَبُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ عَقَرَتْ بِهِ قُرَيْشٌ وَأَرَادُوا قَتْلَ خِرَاشٍ فَمَنَعَهُمْ الْأَحَابِشُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا عُمَرَ لِيَبْعَثَهُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَخَافُ قُرَيْشًا عَلَى نَفْسِي وَلَيْسَ بِهَا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ أَحَدٌ يَمْنَعُنِي وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَيْشٌ عَدَاوَتِي إِيَّاهَا وَغِلْظَتِي عَلَيْهَا وَلَكِنْ أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ هُوَ أَعَزُّ مِنِّي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ إِلَى قُرَيْشٍ يُخْبِرُهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّهُ جَاءَ زَائِرًا لِهَذَا الْبَيْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِهِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ وَلَقِيَهُ أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَحَمَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَدِفَ خَلْفَهُ وَأَجَارَهُ حَتَّى بَلَّغَ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتَّى أَتَى أَبَا سُفْيَانَ وَعُظَمَاءَ قُرَيْشٍ فَبَلَّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرْسَلَهُ بِهِ فَقَالُوا لِعُثْمَانَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَطُفْ بِهِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاحْتَبَسَتْهُ قُرَيْشٌ عِنْدَهَا فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ فَقَالُوا ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْهُ وَلَا يَكُونُ فِي صُلْحِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ عَنَّا عَامَهُ هَذَا فَوَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّهُ دَخَلَهَا عَلَيْنَا عَنْوَةً أَبَدًا فَأَتَاهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِينَ بَعَثُوا هَذَا الرَّجُلَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَا وَأَطَالَا الْكَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتَّى جَرَى بَيْنَهُمَا الصُّلْحُ فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكِتَابُ وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ عُمَرُ وَأَنَا أَشْهَدُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَ نُعْطِي الذِّلَّةَ فِي دِينِنَا فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَهُ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي ثُمَّ قَالَ عُمَرُ مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّي وَأَعْتِقُ مِنْ الَّذِي صَنَعْتُ مَخَافَةَ كَلَامِي الَّذِي تَكَلَّمْتُ بِهِ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ خَيْرًا قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَا أَعْرِفُ هَذَا وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَوْ شَهِدْتُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُقَاتِلْكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِينَ يَأْمَنُ فِيهَا النَّاسُ وَيَكُفُّ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ عَلَى أَنَّهُ مَنْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِهِ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَى قُرَيْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرُدُّوهُ عَلَيْهِ وَإِنَّ بَيْنَنَا عَيْبَةً مَكْفُوفَةً وَإِنَّهُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ وَكَانَ فِي شَرْطِهِمْ حِينَ كَتَبُوا الْكِتَابَ أَنَّهُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ فِيهِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ فِيهِ فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَةُ فَقَالُوا نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَكْرٍ فَقَالُوا نَحْنُ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ وَأَنَّكَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا هَذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَيْنَا مَكَّةَ وَأَنَّهُ إِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْكَ فَتَدْخُلُهَا بِأَصْحَابِكَ وَأَقَمْتَ فِيهِمْ ثَلَاثًا مَعَكَ سِلَاحُ الرَّاكِبِ لَا تَدْخُلْهَا بِغَيْرِ السُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ إِذْ جَاءَهُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحَدِيدِ قَدْ انْفَلَتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجُوا وَهُمْ لَا يَشُكُّونَ فِي الْفَتْحِ لِرُؤْيَا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنْ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفْسِهِ دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ حَتَّى كَادُوا أَنْ يَهْلَكُوا فَلَمَّا رَأَى سُهَيْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ لُجَّتْ الْقَضِيَّةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكَ هَذَا قَالَ صَدَقْتَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ بِتَلْبِيبِهِ قَالَ وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ أَتَرُدُّونَنِي إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ فَيَفْتِنُونِي فِي دِينِي قَالَ فَزَادَ النَّاسُ شَرًّا إِلَى مَا بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا فَأَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَأَعْطَوْنَا عَلَيْهِ عَهْدًا وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِهِمْ قَالَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِي جَنْدَلٍ فَجَعَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يَقُولُ اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا هُمْ الْمُشْرِكُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِهِمْ دَمُ كَلْبٍ قَالَ وَيُدْنِي قَائِمَ السَّيْفِ مِنْهُ قَالَ يَقُولُ رَجَوْتُ أَنْ يَأْخُذَ السَّيْفَ فَيَضْرِبَ بِهِ أَبَاهُ قَالَ فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِيهِ وَنَفَذَتْ الْقَضِيَّةُ فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ الْكِتَابِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحَرَمِ وَهُوَ مُضْطَرِبٌ فِي الْحِلِّ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا قَالَ فَمَا قَامَ أَحَدٌ قَالَ ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتَّى عَادَ بِمِثْلِهَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلَهُمْ مَا قَدْ رَأَيْتَ فَلَا تُكَلِّمَنَّ مِنْهُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلَى هَدْيِكَ حَيْثُ كَانَ فَانْحَرْهُ وَاحْلِقْ فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَعَلَ النَّاسُ ذَلِكَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدًا حَتَّى أَتَى هَدْيَهُ فَنَحَرَهُ ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ يَنْحَرُونَ وَيَحْلِقُونَ قَالَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فِي وَسَطِ الطَّرِيقِ فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ

حضرت مسوربن مخرمہ اور مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال مدینہ سے چلے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب ایک ہزار چند سو آدمی تھے عسفان کے قریب پہنچے تھے کہ جاسوس " جس کا نام بشر بن سفیان کعبی تھا " واپس آیا اور عرض کیا کہ قریش نے آپ کے مقابلہ کے لئے بہت فوجیں جمع کی ہیں اور مختلف قبائل کو اکٹھا کیا ہے وہ آپ سے لڑنے کے لئے تیار ہیں اور خانہ کعبہ میں داخل ہونے سے آپ کو روک دیں گے اور خالد بن ولید بھی اپنے ساتھیوں کو لے کر کراع غمیم تک بڑھ آئے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمراہیان کو مخاطب کرکے فرمایا لوگو! کیا مشورہ ہے کیا میں ان کے اہل وعیال کی طرف مائل ہوجاؤں اور جو لوگ خانہ کعبہ سے مجھے روکنا چاہتے ہیں میں ان کے اہل و عیال کو گرفتار کرلوں اگر وہ لوگ اپنے بال بچوں کی مدد کو آئیں گے تو ان کا گروہ ٹوٹ جائے گا ورنہ ہم ان کو مفلس کرکے چھوڑ دیں گے بہرحال ان کا نقصان ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ خانہ کعبہ کی نیت سے چلے ہیں لڑائی کے ارادے سے نہیں نکلے آپ کو خانہ کعبہ کا رخ کرنا چاہئے پھر جو ہم کو روکے گا ہم اس سے لڑیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا (توخدا کا نام لے کر چل دو) چنانچہ سب چلے دئیے۔ اثنا راہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خالد بن ولید قریش کے (دوسو) سواروں کے لئے (مقام ) غمیم میں ہمارا راستہ روکے پڑا ہے لہٰذا تم بھی داہنی طرف کوہی (خالد کی جانب ) چلو سب لوگوں نے داہنی طرف کا رخ کرلیا اور اس وقت تک خالد کو خبر نہ ہوئی جب تک لشکر کا غبار اڑتا ہوا انہوں نے دیکھ نہ لیا،غبار اڑتا دیکھ کر خالد نے جلدی سے جاکر قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے ڈرایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسب معمول چلتے رہے یہاں تک کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جس کی طرف سے لوگ مکہ میں اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے بہت کوشش کی لیکن اونٹنی نہ اٹھی وہیں جم گئی لوگ کہنے لگے کہ قصواء (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام تھا) اڑگئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قصواء خود نہیں اڑی ہے اس کی یہ عادت ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اس نے روک دیا ہے جس نے اصحاب فیل کو روکا تھا ۔ پھر فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مکہ والے عظمت حرم برقرار رکھنے کےلئے مجھ سے جو کچھ خواہش کریں گے میں دے دوں گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو جھڑکا اونٹنی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں کی راہ سے بچ کر دوسری طرف کا رخ کرکے چلے اور حدیبیہ سے دوسری طرف اس جگہ اترے جہاں تھوڑا تھوڑا پانی تھا۔ لوگوں نے وہی تھوڑا پانی لے لیاجب سب پانی کھینچ چکے اور پانی بالکل نہ رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی نہ ہونے کی شکایت آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر صحابہ رضی اللہ عنہم کودیا اور حکم دیا کہ اس کو پانی میں رکھ دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حکم کی تعمیل کی ۔ جونہی تیر کو پانی میں رکھا فوراً پانی میں ایسا جوش آیا کہ سب لوگ سیراب ہو کر واپس ہوئے اور پانی پھر بھی بچ رہا۔ اسی دوران بدیل بن ورقہ خزاعی جو رسول اللہ کا راز دار تھا اپنی قوم کے آدمیوں کو ہمراہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ میں خاندان کعب بن لوی اور قبائل عامر بن لوی حدیبیہ کے جاری پانی پر چھوڑ کر آیا ہوں ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں بھی ہیں اور ان کے اہل وعیال بھی ہیں اور تعداد میں حدیبیہ کے پانی کے قطروں کے برابر ہیں وہ آپ سے لڑنے کے لئے اور آپ کو خانہ کعبہ سے روک دینے کے لئے تیار ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے صرف عمرہ کرنے آئے ہیں ۔ انہی لڑائیوں نے قریش کو کمزور کردیا ہے اور نقصان پہنچائے ہیں ۔ اگر وہ صلح کرنا چاہیں تو میں ان کے لئے مدت مقرر کردوں گا کہ اس میں نہ ہم ان سے لڑیں اور نہ وہ ہم سے لڑیں ۔ باقی دیگر کفار عرب کے معاملہ میں وہ دخل نہ دیں اس دوران اگر کافر مجھ پر غالب آگئے تو ان کی مرادحاصل ہوجائے گی اور اگر میں کافروں پر غالب آگیا تو قریش کو اختیار ہے اگر وہ اس (دین ) میں داخل ہونا چاہیں گے جس میں اور لوگ داخل ہوگئے تو داخل ہوجائیں اور اگر مسلمان ہونا نہ چاہیں تو مدت صلح میں تو ان کو تکلیف اٹھانی ہی نہیں پڑے گی ۔ اگر قریش ان باتوں میں سے کسی کو نہ مانیں گے تو اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اپنے امر (دین) پر ان سے اس وقت تک برابر لڑتا رہوں گا جب تک میری گردن تن سے جدا نہ ہوجائے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غلبہ عطاء فرمائے گا۔ بدیل بولا میں آپ کی بات قریش کو پہنچادوں گا۔یہ کہہ کربدیل چلا گیا اور قریش کے پاس پہنچ کر ان سے کہا ہم فلاں آدمی کے پاس سے تمہارے پاس آئے ہیں اس نے ہم سے ایک بات کہی ہے اگر تم چاہو توہم تمہارے سامنے اس کا اظہار کردیں قریش کے بیوقوف آدمی تو کہنے لگے ہم کو کوئی ضرورت نہیں کہ تم اس کی باتیں ہمارے سامنے بیان کرو لیکن سمجھ دار لوگوں نے کہا تم ان کا قول بیان کرو۔ بدیل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام فرمان نقل کردیا یہ سن کر عروہ بن مسعود کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے قوم کیا میں تمہارا باپ نہیں ہوں ۔ سب نے کہا بے شک ہو، کہنے لگا کیا تم میری اولاد نہیں ہو سب نے کہا ہیں عروہ بولا کیا تم مجھے مشکوک آدمی سمجھتے ہو؟سب نے کہا نہیں عروہ بولا کیا تم کو معلوم نہیں اہل عکاظ کو میں نے ہی تمہاری مدد کے لئے بلایا تھا اور جب وہ نہ آئے تو میں اپنے اہل وعیال اور متعلقین وزیردست لوگوں کو لے کر تم سے آکر مل گیا سب نے کہا بے شک عروہ بولا اس شخص نے سب سے پہلے ٹھیک بات کہی ہے تم اس کو قبول کرلو اور مجھ کو اس کے پاس جانے کی اجازت ۔ لوگوں نے کہا جاؤ۔عروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی کلام کیا جو بدیل سے کیا تھا ۔ عروہ بولا محمد! دیکھو اگر تم (غالب ہوجاؤگے اور) اپنی قوم کی بیخ کنی کردو گے تو کیا اس سے پہلے تم نے کسی کے متعلق سناہے کہ اس نے اپنی ہی قوم کی جڑ کاٹی ہو اور اگر دوسری بات ہو (قریش غالب آئے) تو اللہ کی قسم مجھے بہت سے چہرے ایسے نظر آرہے ہیں کہ تم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے کیونکہ مختلف قوموں کی اس میں بھرتی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غصہ میں آکر فرمایا کیا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ؟ عروہ بولا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں عروہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بولا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہارا گزشتہ احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا میں بدلہ نہ دے سکا ہوں توضرور میں اس کا جواب دیتا یہ کہہ کر پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور بات کرتے ہوئے بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی پکڑ لیتا تھا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلوار لئے زرہ پہنے (نگرانی کے لئے ) کھڑے تھے عروہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پکڑنے کے لئے ہاتھ جھکاتا تھا مغیرہ تلوار کے قبضہ کی نوک عروہ کو مار کر کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے ہاتھ ہٹالے عروہ ہاتھ ہٹالیتا تھا آخر کار عروہ نے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں عروہ بولا او دغا باز کیا میں نے تیری دغا بازی کے مٹانے میں تیری لئے کوشش نہیں کی تھی ۔ واقعہ یہ تھا کہ مغیرہ بن شعبہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک قوم کے پاس جاکر رہے تھے اور دھوکے سے ان کو قتل کرکے مال لے کر چلتے ہوئےتھے اور پھر آکر مسلمان ہوگئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت لیتے وقت فرمادیا تھا کہ اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن مال والے معاملے میں مجھے کوئی تعلق نہیں ، حاصل کلام یہ ہے کہ عروہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھنے لگا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جولعاب دہن منہ سے پھینکتے تھے تو زمین پر گرنے سے قبل جس شخص کے ہاتھ لگ جاتا تھا وہ اس کو اپنے چہرہ پر مل لیتا تھا اور جو بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرتا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زمین پر گرنے سے قبل اس کو لے لیتے تھے جس کام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تھے ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کے کرنے کو تیار ہوجاتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی پر کشت وخون کے قریب نوبت پہنچ جاتی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کلام کرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست آواز سے باتیں کرتے تھے اور انتہائی عظمت کیوجہ سے تیز نظر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ دیکھتے تھے۔یہ سب باتیں دیکھنے کے بعد عروہ واپس آیا اور ساتھیوں سے کہنے لگا اے قوم اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس قاصد بن کر گیا ہوں ۔ قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی رہاہوں لیکن میں نے کبھی کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے آدمی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی تعظیم کرتے ہیں اللہ کی قسم جب وہ تھوک پھینکتا ہے تو جس شخص کے ہاتھ وہ لگ جاتا ہے وہ اس کو اپنے چہرہ اور بدن پر مل لیتا ہے اگر وہ کسی کام کا حکم دیتا ہے تو ہر ایک دوسرے سے پہلے اس کی تعمیل کرنے کو تیار ہوجاتا ہے جس وقت وہ وضو کرتا ہے تو اس کے وضو کے پانی پر لوگ کشت و خون کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اس کے سامنے کلام کرتے وقت سب آوازیں پست رکھتے ہیں اور اس کی تعظیم کے لئے کوئی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھتا اس نے تمہارے سامنے بہترین بات پیش کی ہے لہٰذا تم اس کو قبول کرلو۔عروہ جب اپنا کلام ختم کرچکا تو قبیلہ بنی کنانہ کا ایک آدمی بولا مجھے ذرا ان کے پاس جانے کی اجازت دو سب لوگوں نے اس کو جانے کی اجازت دی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا جب سامنے سے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں شخص فلاں قوم میں سے ہے اس کی قوم قربانی کے اونٹوں کی بہت عزت و حرمت کرتی ہے لہٰذا قربانی کے اونٹ اس کی نظر کے سامنے کردو حسب الحکم قربانی کے اونٹ اس کے سامنے پیش کئے گئے اور لوگ لبیک کہتے ہوئے اس کے سامنے آئے جب اس نے یہ حالت دیکھی تو کہنے لگا کہ ان لوگوں کو کعبہ سے روکنا کسی طرح مناسب نہیں یہ دیکھ کر وہ واپس آیا اور اپنی قوم سے کہنے لگا میں نے ان کے اونٹوں کے گلے میں ہار پڑے دیکھے ہیں اور اشعار کی علامت دیکھی ہے ، میرے نزدیک مناسب نہیں کہ خانہ کعبہ سے ان کو روکا جائے ۔ اس کی تقریر سن کر مکرز نامی ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا ذرا مجھے ان کے پاس اور جانے دو سب نے اجازت دے دی اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے چل دیا صحابہ کے سامنے نمودار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مکرز ہے اور شریر ہے مکرز خدمت میں پہنچ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ گفتگو کی ، گفتگو کر ہی رہا تھا کہ قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو آگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اب تمہارا مقصد آسان ہوگیا سہیل نے آکر عرض کیا لائیے ہمارا اپنا ایک صلح نام لکھئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل بولا اللہ کی قسم میں رحمن کو تو جانتا ہی نہیں کہ کیا چیز ہے ؟ یہ نہ لکھو بلکہ جس طرح پہلے باسمک اللہم لکھا کرتے تھے وہی اب لکھو مسلمان بولے اللہ کی قسم ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باسمک اللہم ہی لکھ دو اس کے بعد فرمایا لکھو یہ صلح نامہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے سہیل بولا اللہ کی قسم اگر ہم کو یہ یقین ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر کعبہ سے آپ کو نہ روکتے اور نہ آپ سے لڑتے اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھو بلکہ محمد بن عبداللہ لکھوحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اگرچہ مجھے نہ مانو لیکن اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں (اچھا) محمد بن عبداللہ ہی لکھ دو۔زہری کہتے ہیں یہ نرمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے کی کہ پہلے فرماچکے تھے کہ جس بات میں حرم الہٰی کی عزت وحرمت برقرار رہے گی اور قریش مجھ سے اس کا مطالبہ کریں گے تو میں ضرور دے دوں گاخیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صلح نامہ اس شرط پر ہے کہ تم لوگ ہم کو خانہ کعبہ کی طرف جانے دوتاکہ ہم طواف کرلیں سہیل بولا اللہ کی قسم عرب اس کا چرچا کریں گے کہ ہم پردباؤ ڈال کر مجبور کیا گیا (اس لئے اس سال نہیں ) آئندہ سال یہ ہوسکتا ہے کاتب نے یہ بات بھی لکھ دی پھر سہیل نے کہا کہ صلح نامہ میں یہ شرط بھی ہونی چاہئے کہ جو شخص ہم میں سے نکل کر تم سے مل جائے گا وہ خواہ تمہارے دین پر ہی ہولیکن تم کو واپس ضرور کرنا ہوگا مسلمان کہنے لگے سبحان اللہ جو شخص مسلمان ہو کر آجائے وہ مشرکوں کو کیسے دیا جاسکتا ہے۔ لوگ اسی گفتگو میں تھے کہ سہیل بن عمرو کا بیٹا ابوجندل بیڑیوں میں جکڑا ہوا آیا جو مکہ کے نشیبی علاقہ سے نکل کربھاگ آیا تھا ، آتے ہی مسلمانوں کے سامنے گر پڑا سہیل بولا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ سب سے پہلی شرط ہے جس پر میں تم سے صلح کروں گا اس کو تم ہمیں واپس دے دو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو ہم صلح نامہ مکمل نہیں لکھ پائے ہیں سہیل بولا اللہ کی قسم پھر میں کبھی کسی شرط پر صلح نہیں کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی تو مجھے اجازت دے دو سہیل نے کہا میں اجازت نہ دوں گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ تو کر دو سہیل بولا نہیں کروں گا مکرز بولا ہم اس کی تو تم کو اجازت دیتے ہیں (لیکن مکرز کا قول تسلیم نہیں کیا گیا) ابوجندل بولے مسلمانو! میں مسلمان ہو کر آگیا پھر مجھے مشرکوں کو واپس دیا جائے گا حالانکہ جو تکلیفیں میں نے ان کی طرف سے برداشت کیں وہ تم دیکھ رہے ہو یہ واقعہ ہے کہ ابوجندل کو کافروں نے سخت عذاب دیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہے ؟ فرمایا ہوں ، کیوں نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہیں کیوں نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدا نہ ہونے دیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا وہی میرا مدد گار ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ نے ہم سے نہیں کہا تھا کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ تو میں نے کہا تھا لیکن کیا تم سے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال ہم وہاں پہنچ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو بس تم کعبہ کو پہنچو گے اور طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا ابوبکر! یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ضرور ہیں ۔ میں نے کہا کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ضرور ہیں کیوں نہیں ، میں نے کہا تو ہم اپنے دین میں ذلت پیدا نہ ہونے دیں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اے شخص وہ ضرور اللہ کے رسول ہیں اپنے رب کی نافرمانی نہیں کریں گے وہی ان کا مددگار ہے ان کے حکم کے موافق عمل کر اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا وہ ہم سے نہیں کہا تھا کہ عنقریب ہم خانہ کعبہ پہنچ کر طواف کریں گے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بے شک انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اسی سال تم کعبہ میں پہنچو گے میں نے کہا نہیں ابوبکربولے تو تم کعبہ کو پہنچ کرضرور اس کا طواف کروگے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قصور (تعمیل حکم میں توقف ) کے تدارک کے لئے میں نے کئی نیک عمل کئے راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ مکمل ہوگیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا اٹھ کر جانور ذبح کرو اور سرمنڈاؤ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص نہ اٹھا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا لیکن پھر بھی کوئی نہ اٹھا جب کوئی نہ اٹھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اندر تشریف لے گئے اور لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا اس کا تذکرہ فرمایا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر معلوم ہوتا ہے کہ آپ چپکے سے اٹھ کربغیر کسی سے سے کچھ کہے ہوئے جا کر خود قربانی کریں اور حجام کو بلا کر سرمنڈا دیں ، جب مشورہ کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور بغیر کسی سے کچھ کہے ہوئے جاکر قربانی کی اور حجام کو بلاکر سرمنڈایا لوگوں نے جو یہ دیکھا تو خود اٹھ کر قربانیاں کیں اور باہم ایک دوسرے کا سرمونڈنے لگے اور ہجوم کی وجہ سے قریب تھا کہ بعض بعض کو مار ڈالیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں ہی سورت فتح نازل ہوگئی ۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزهري محمد بن مسلم بن شهاب ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19118

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَوَعَدَ بِالنِّكَاحِ فَأَتَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَأَنَّ عَلِيًّا قَدْ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَكْثَرَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ وَقَالَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ ابْنَةِ نَبِيِّ اللَّهِ وَبِنْتِ عَدُوِّ اللَّهِ فَرَفَضَ عَلِىٌّ ذَلِكَ

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی موجودگی میں ) ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور نکاح کا وعدہ کرلیا اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عنہا کہنے لگیں آپ کی قوم کے لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی غصہ نہیں آتا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجاہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتاکہ اسے آزمائش میں مبتلا کیا جائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بڑے دامادحضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی خوب تعریف فرمائی ، پھر فرمایا کہ اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتی چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ترک کردیا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19118

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19119

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخَبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا قَالَ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی موجودگی میں ) ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور نکاح کا وعدہ کرلیا اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں آپ کی قوم کے لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی غصہ نہیں آتا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ اسے آزمائش میں مبتلا کیا جائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بڑے داماد حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی خوب تعریف فرمائی ، پھر فرمایا کہ اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتی چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ترک کردیا۔

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19119

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19120

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ لَهُ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا

امام زین العابدین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعدجب وہ لوگ یزید کے پاس سے مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور فرمایا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہو تو بتائیے ؟میں نے کہا نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے سکتے ہیں کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ پر غالب آجائیں گے واللہ اگر آپ وہ مجھے دے دیں تو میری جان سے گذر کر ہی کوئی آدمی اس تک پہنچ سکے گا ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی موجودگی میں ) ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور نکاح کا وعدہ کرلیا اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں عنہا کہنے لگیں آپ کی قوم کے لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے معاملے میں بھی غصہ نہیں آتا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے پاس پیغام نکاح بھیجا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ اسے آزمائش میں مبتلا کیا جائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بڑے داماد حضرت ابوالعاص بن الربیع رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی خوب تعریف فرمائی ، پھر فرمایا کہ میں کسی حلال کو حرام یاحرام کو حلال تو نہیں کرتا البتہ اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتی چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ترک کردیا۔

محمد بن عمرو بن حلحلة الدؤلي ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19120

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19121

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوا أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيُ وَإِمَّا الْمَالُ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَجَمَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ

حضرت مروان رضی اللہ عنہ اور مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنوہوازن کے مسلمانوں کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان لوگوں نے درخواست کی کہ ان کے قیدی اور مال و دولت واپس کردیا جائے (کیونکہ اب وہ مسلمان ہوگئے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ جتنے لوگ ہیں تم انہیں دیکھ رہے ہو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے دو میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلو یا قیدی یا مال؟ میں تمہیں سوچنے کا وقت دیتا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی کے بعد دس سے کچھ اوپر راتیں انہیں سوچنے کی مہلت دی جب انہیں یقین ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو وہ کہنے لگے کہ ہم قیدیوں کو چھڑانے والی صورت کو ترجیح دیتے ہیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء اس کے شایان شان کی پھر امابعد کہہ کر فرمایا کہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آئے ہیں میری رائے یہ بن رہی ہے کہ انہیں ان کے قیدی واپس لوٹادوں سو تم میں سے جو شخص اپنے دل کی خوشی سے ایسا کرسکتا ہو تو وہ ایسا ہی کرلے؟ لوگ کہنے لگے کہ ہم خوشی سے اس کی اجازت دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں کیا معلوم کہ تم میں سے کس نے اپنی خوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں ؟ اس لئے اب تم لوگ واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ تمہارے بڑے ہمارے سامنے تمہاری اجازت کا معاملہ پیش کریں چنانچہ لوگ واپس چلے گئے پھر ان کے بڑوں نے ان سے بات کی اور واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سب نے اپنی خوشی سے ہی اجازت دی ہے بنوہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے۔

وزعم عروة بن الزبير أن مروان والمسور بن مخرمة أخبراه ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19121

chevron_left Previous
1…717273…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter