Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18318

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی ، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ توٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یاباندی ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ نُضِيلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18318

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18319

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وحَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ قَالَ وَرَّادٌ ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ وَيُعَلِّمُهُمُوهُ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا " جوان کے کاتب وراد نے لکھا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا وراد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے برسر منبر انہیں لوگوں کو یہ کلمات کہنے کا حکم دیتے ہوئے سنا وہ لوگوں کو یہ کلمات سکھا رہے تھے۔

إِلَى مُعَاوِيَةَ ← ((أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← رَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18319

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18320

حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَنِيحَ عَلَيْهِ فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ قَالَ مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

علی بن ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ قرطہ بن کعب نامی ایک انصاری فوت ہوگیا اس پر آہ وبکاء شروع ہوگئی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے اور منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کرنے بعد فرمایا اسلام میں یہ کیسا نوحہ ؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے یاد رکھو! جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلینا چاہئے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← قران بن تمام

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18320

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18321

أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا يُنَاحُ بِهِ عَلَيْهِ

یاد رکھو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔

مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا يُنَاحُ بِهِ عَلَيْهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَلَا وَإِنِّي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18321

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18322

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ قَالَ لَا إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور سر اور موزوں پر مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے موزے اتار نہ دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے یہ وضو کی حالت میں پہنے تھے پھر میں انہیں اتار کر نہیں چلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اسی طرح پڑھ لی ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18322

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18323

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ ضَحْوَةً حَتَّى اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُهَا فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً مِنْ الْمَثَانِي ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ رَكَعَ الثَّانِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ إِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَإِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ثُمَّ نَزَلَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَجَعَلَ يَنْفُخُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ إِنَّهُ مَدَّ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّ النَّارَ أُدْنِيَتْ مِنِّي حَتَّى نَفَخْتُ حَرَّهَا عَنْ وَجْهِي فَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ وَالَّذِي بَحَرَ الْبَحِيرَةَ وَصَاحِبَةَ حِمْيَرَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ

عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چاشت کے وقت سورج گرہن ہوگیا اور آسمان اتنہائی تاریک ہوگیا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر اٹھے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے انہوں نے اتنا طویل قیام کیا کہ جس میں " مثانی " کی ایک سورت پڑھی جاسکتی تھی اتنا ہی طویل رکوع کیا رکوع سے سر اٹھا کر اتنا ہی طویل رکوع دوبارہ کیا پھر سرا اٹھا کر اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی ۔ اتنی دیر میں میں سورج بھی روشن ہوگیا پھر انہوں نے سجدہ و نماز سے فاراغت پائی اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو ۔ اس کے بعد انہوں نے منبر سے نیچے اتر کر یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کسوف پڑھا رہے تھے تواسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے پھونکیں مارنا شروع کردیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا جیسے کوئی چیز پکڑنا چاہ رہے ہوں اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ جہنم میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ میں پھونکیں مار کر اس کی گرمی اپنے چہرے سے دور کرنے لگا میں نے جہنم میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا جانوروں کو بتوں کے نام پر چھورنے کی رسم ایجاد کرنےوالے کو بھی ، اور بلی کو باندھنے والی حمیری عورت کو بھی دیکھا۔

عَامِرٍ، ← الْمُجَالِدِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18323

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18324

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ عَنْ عَامِرٍ مِثْلَهُ

عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چاشت کے وقت سورج گرہن ہوگیا اور آسمان اتنہائی تاریک ہوگیا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر اٹھے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے انہوں نے اتنا طویل قیام کیا کہ جس میں " مثانی " کی ایک سورت پڑھی جاسکتی تھی اتنا ہی طویل رکوع کیا رکوع سے سر اٹھا کر اتنا ہی طویل رکوع دوبارہ کیا پھر سرا اٹھا کر اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی ۔ اتنی دیر میں میں سورج بھی روشن ہوگیا پھر انہوں نے سجدہ و نماز سے فاراغت پائی اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو ۔ اس کے بعد انہوں نے منبر سے نیچے اتر کر یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کسوف پڑھا رہے تھے تواسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے پھونکیں مارنا شروع کردیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا جیسے کوئی چیز پکڑنا چاہ رہے ہوں اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ جہنم میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ میں پھونکیں مار کر اس کی گرمی اپنے چہرے سے دور کرنے لگا میں نے جہنم میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا جانوروں کو بتوں کے نام پر چھورنے کی رسم ایجاد کرنےوالے کو بھی ، اور بلی کو باندھنے والی حمیری عورت کو بھی دیکھا۔

عَامِرٍ مِثْلَهُ. ← الْمُجَالِدِ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18324

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18325

حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْعَصَبَةِ وَأَنَّ الْمِيرَاثَ لِلْوَرَثَةِ وَأَنَّ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوہذیل کی دو عورتوں کے بارے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور ورثہ کے لئے میراث کا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرٍ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18325

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18326

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّيْهِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَسِيتَ لَمْ تَخْلَعْ الْخُفَّيْنِ قَالَ كَلَّا بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا وضو سے فارغ ہونے کے بعد خروج ریح کا احساس ہوا تو دوربارہ چلے گئے واپس آکر وضو کیا اور اس مرتبہ موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18326

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18327

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَقَدْ كُنْتُ حَفِظْتُ مِنْ كَثِيرٍ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْمَدِينَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كَانَ يَرْوِي عَنِ الْمُغِيرَةِ أَحَادِيثَ مِنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میت کو غسل دے اسے خود بھی غسل کرلینا چاہئے ۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18327

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18328

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنَعَ وَهَاتِ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال ، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرناحرام قرار دیا ہے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18328

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18329

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْهَا امْرَأَةٌ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ فَقَالَ عَصَبَتُهَا أَنْدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ سَجْعٌ مِثْلُ سَجْعِ الْأَعْرَابِ و قَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُ عُبَيْدًا

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دوعورتوں کی لڑائی ہوئی ، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ توٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یاباندی ہے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ نُضِيلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18329

chevron_left Previous
1…567…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter