Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18642

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَارِبُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ يَعْنِي سَوُّوا بَيْنَهُمْ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ ← حَاجِبُ بْنُ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18642

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18643

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18643

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18644

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18645

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقَعَدْتُ قَالَ فَجَاءَتْ الْأَعْرَابُ فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَدَاوَى قَالَ نَعَمْ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ قَالَ وَكَانَ أُسَامَةُ حِينَ كَبِرَ يَقُولُ هَلْ تَرَوْنَ لِي مِنْ دَوَاءٍ الْآنَ قَالَ وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا قَالَ عِبَادَ اللَّهِ وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَضَى امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهُلْكٌ قَالُوا مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کرکے بیٹھ گیا اسی دوران کچھ دیہاتی لوگ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری 'بڑھاپے " کے اسی وجہ سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑھاپے میں لوگوں سے کہتے تھے کہ اب تمہیں میرے لئے کوئی دوا مل سکتی ہے ؟ پھر ان آنے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا کہ کیا فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندگان خدا! اللہ نے حرج کو ختم فرمادیا ہے سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی ظلماً آبروریزی کرتا ہے کہ یہ گناہ اور باعث ہلاکت ہے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! انسان کوسب سے بہترین کون سی چیز دی گئی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن اخلاق ۔

فَجَاءَتْ الْأَعْرَابُ فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا ← فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقَعَدْتُ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18645

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18646

حَدَّثَنَا ابْنُ زِيَادٍ يَعْنِي الْمُطَّلِبَ بْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری 'بڑھاپے " کے ۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← ابْنُ زِيَادٍ يَعْنِي الْمُطَّلِبَ بْنَ زِيَادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18646

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18647

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَدَاوَى قَالَ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو جو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے بہترین انسان کون ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← الأَجْلَحِ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18648

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ

حضرت عمروبن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو مضبوطی کے ساتھ اسی طرح قرآن پڑھنا پسند ہو جسے وہ نازل ہواہے تو اسے چاہئے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح قرآن کریم کی تلاوت کرے۔

عمرو بن الحارث بن المصطلق ← أَبِيهِ ← عِيسَی بْنِ دِينَارٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18648

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18649

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَإِسْحَاقَ يَعْنِي الْأَزْرَقَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ الْمُصْطَلِقِ يَقُولُ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَةً بَيْضَاءَ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً

حضرت عمربن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں صرف اپنا ہتھیار، سفید رنگ کا ایک خچر اور وہ زمین چھوڑی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کردیا تھا ۔

مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَةً بَيْضَاءَ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً ← إِسْحَاقُ بْنُ الْمُصْطَلِقِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ وَإِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18649

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18650

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ فَدَخَلْتُ فِيهِ وَأَقْرَرْتُ بِهِ فَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ فَمَنْ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنْ الزَّكَاةِ فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لَهُ وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ فَدَعَا بِسَرَوَاتِ قَوْمِهِ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَقَّتَ لِي وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنْ الزَّكَاةِ وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُلْفُ وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى الْحَارِثِ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنْ الزَّكَاةِ فَلَمَّا أَنْ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرِقَ فَرَجَعَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ إِذْ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنْ الْمَدِينَةِ لَقِيَهُمْ الْحَارِثُ فَقَالُوا هَذَا الْحَارِثُ فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ قَالُوا إِلَيْكَ قَالَ وَلِمَ قَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً وَلَا أَتَانِي فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ وَلَا أَتَانِي وَمَا أَقْبَلْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ فَنَزَلَتْ الْحُجُرَاتُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ إِلَى هَذَا الْمَكَانِ فَضْلًا مِنْ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

حضرت حارث بن ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں اسلام میں داخل ہوگیا اور اس کا اقرار کرلیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوۃ دینے کی دعوت دی جس کا میں نے اقرار کرلیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنی قوم میں واپس جا کر انہیں اسلام قبول کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں جو میرے اس دعوت کو قبول کرلے گا میں اس سے زکوۃ لے کر جمع کرلوں گا پھر فلاں وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اپنا قاصد بھیج دیں تاکہ میں نے زکوۃ کی مد میں جو روپیہ جمع کر رکھا ہو وہ آپ تک پہنچادے ۔جب حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے اپنی دعوت قبول کرلینے والوں سے زکوۃ کا مال جمع کرلیا اور وہ وقت آگیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے قاصد بھیجنے کی درخواست کی تھی تو قاصد نہ آیاحارث رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی ہے چنانچہ انہوں نے اپنی قوم کے چند سربرآوردہ لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک وقت متعین کرکے بتایا تھا کہ اس میں وہ اپنا قاصد بھیج دیں گے جو میرے پاس جمع شدہ زکوۃ کا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ خلافی نہیں ہوسکتی ، میرا تو خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے قاصد کو روکنا شاید اللہ کی کسی ناراضگی کی وجہ سے ہے لہٰذا تم میرے ساتھ چلو تاکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں ۔ ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو بھیجا کہ حارث نے زکوۃ کا جو مال جمع کر رکھا ہے وہ لے آئیں جب ولید روانہ ہوئے تو راستے میں ہی انہیں خوف آنے لگا اور وہ کسی انجانے خوف سے ڈر کر واپس آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بہانہ بنادیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حارث نے مجھے زکوۃ دینے سے انکار کردیا اور وہ مجھے قتل کرنے کے درپے ہوگیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ حارث کی طرف سے ایک دستہ روانہ فرمایا ادھرحارث اپنے ساتھیوں کے ساتھ آرہے تھے کہ اس دستے سے آمنا سامنا ہوگیا اور دستے کے لوگ کہنے لگے یہ رہاحارث، جب وہ قریب پہنچے تو حارث نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں بھیجے گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری ہی طرف حارث نے پوچھا وہ کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے پاس ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا ان کا کہنا ہے کہ تم نے انہیں زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور انہیں قتل کرنا چاہا تھا ؟ حارث نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تو اسے کبھی دیکھا ہی نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا۔ پھر جب حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم نے زکوۃ روک لی اور میرے قاصد کو قتل کرنا چاہا؟ حارث نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے تو اسے دیکھا تک نہیں اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا اور میں تو آیا ہی اس وجہ سے ہوں کہ میرے پاس قاصد کے پہنچنے میں تاخیر ہوگئی تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ اور اس کی طرف سے ناراضگی نہ ہو اس موقع پر سورت حجرات کی یہ آیات " اے اہل ایمان ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خوب جاننے والاحکمت والا ہے " نازل ہوئیں ۔

الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ ← أَبِي أَنَّهُ ← عِيسَی بْنِ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18650

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18651

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ أَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَسُئِلَ عَنْهَا شَهْرًا فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا ثُمَّ سَأَلُوهُ فَقَالَ أَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِي فَإِنْ يَكُ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ وَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ لَهَا صَدَقَةُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالَ أَشْهَدُ لَقَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ ابْنَةِ وَاشِقٍ قَالَ فَقَالَ هَلُمَّ شَاهِدَاكَ فَشَهِدَ لَهُ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ

عبداللہ بن عقبہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک مسئلہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اس آدمی کا انتقال ہوگیا ابھی اس نے اپنی بیوی کا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا اور اس سے تخلیہ کی ملاقات بھی نہیں کی تھی ، اس کا کیا حکم ہے ؟ یہ سوال ان سے ایک ماہ تک پوچھا جاتا رہا لیکن وہ اس کے بارے میں کوئی جواب نہ دیتے تھے بالآخر انہوں نے فرمایا کہ میں اس کا جواب اپنی رائے سے دیتا ہوں اگر وہ جواب غلط ہوا تو وہ میرے نفس کا تخیل اور شیطان کا وسوسہ ہوگا اور اگر وہ جواب صحیح ہوا تو اللہ کافضل سے ہوگا، اس عورت (بیوہ ) کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے وہ دیا جائے گا اسے اپنے شوہر کی وراثت بھی ملے کی اور اس کے ذمے عدت بھی واجب ہوگی یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس مسئلے کا وہی فیصلہ فرمایا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے متعلق فرمایا تھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا گواہ پیش کرو توقبیلہ اشجع کے دو آدمیوں حضرت جراح رضی اللہ عنہ اور ابوسنان رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی دی ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← خِلَاسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18651

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18652

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ قَالَ أَتَى قَوْمٌ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالُوا مَا تَرَى فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ فَقَالَ فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ فَخَرَجَ مَخْرَجًا فَدَخَلَ فِي بِئْرٍ فَأَسِنَ فَمَاتَ وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمَهْرِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بروع بنت واشق رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تفصیل بھی مذکور ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی نے بنو رؤس اس کی ایک عورت بروع بنت واشق سے نکاح کیا اتفاقاً اسے کہیں جانا پڑگیا راستے میں وہ ایک کنوئیں میں اترا وہ اسی کنوئیں کی بدبو سے چکرا کر گر اور اسی میں مرگیا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا ، وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہوگی اسے میراث بھی ملے گی اور اس ذمے عدت بھی واجب ہوگی،۔

منصور أراه سلمة بن يزيد ← رَجُلٍ مِنْ أَشْجَعَ، ← الْحَدِيثَ. ← ما ترى في رجل تزوج امرأة ← أَتَى قَوْمٌ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18653

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَتُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَسُئِلَ عَنْهَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا صَدَاقُ إِحْدَى نِسَائِهَا وَلَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَقَامَ أَبُو سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فِي رَهْطٍ مِنْ أَشْجَعَ فَقَالُوا نَشْهَدُ لَقَدْ قَضَيْتَ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ

علقمہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک مسئلہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی اس آدمی کا انتقال ہوگیا ابھی اس نے اپنی بیوی کا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا اور اس سے تخلیہ کی ملاقات بھی نہیں کی تھی ، اس کا کیا حکم ہے ؟ یہ سوال ان سے ایک ماہ تک پوچھا جاتا رہا لیکن وہ اس کے بارے میں کوئی جواب نہ دیتے تھے بالآخر انہوں نے فرمایا کہ میں اس کا جواب اپنی رائے سے دیتا ہوں اگر وہ جواب غلط ہوا تو وہ میرے نفس کاتخیل اور شیطان کا وسوسہ ہوگا اور اگر وہ جواب صحیح ہوا تو اللہ کافضل سے ہوگا، اس عورت (بیوہ ) کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے وہ دیا جائے گا اسے اپنے شوہر کی وراثت بھی ملے کی اور اس کے ذمے عدت بھی واجب ہوگی یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس مسئلے کا وہی فیصلہ فرمایا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے متعلق فرمایا تھا۔

عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18653

chevron_left Previous
1…323334…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter