مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18270
قَالَ قُلْتُ لَهُ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى قَالَ نَعَمْ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
میں نے ان سے کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو " خواہش " کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے کہ ایک بلند آواز والا دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس سے کہا ارے او! آواز نیچی کر، اس کی ممانعت کی گئی ہے اس نے کہا کہ میں تو اپنی آواز پست نہیں کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی بات کرو اور اس انداز میں اسے جواب دیا جیسے اس نے سوال کیا تھا ، اس نے کہا یہ بتائیے کہ اگر ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہو لیکن ان میں شامل نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ← أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ← سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ ← رَسُولُ اللَّهِ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ ← وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي ← ذَلِكَ ← يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ ← نَعَمْ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ ← يَذْكُرُ الْهَوَى ← قُلْتُ لَهُ هَلْ
Hadith 18270
