Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18270

قَالَ قُلْتُ لَهُ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى قَالَ نَعَمْ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

میں نے ان سے کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو " خواہش " کاتذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے کہ ایک بلند آواز والا دیہاتی آیا اور کہنے لگا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اس سے کہا ارے او! آواز نیچی کر، اس کی ممانعت کی گئی ہے اس نے کہا کہ میں تو اپنی آواز پست نہیں کروں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی بات کرو اور اس انداز میں اسے جواب دیا جیسے اس نے سوال کیا تھا ، اس نے کہا یہ بتائیے کہ اگر ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہو لیکن ان میں شامل نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ← أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ← سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ ← رَسُولُ اللَّهِ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ ← وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي ← ذَلِكَ ← يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ ← نَعَمْ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ ← يَذْكُرُ الْهَوَى ← قُلْتُ لَهُ هَلْ

Hadith 18270

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18271

قَالَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى قَالَ إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ لَبَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ عَامًا فَتَحَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلتَّوْبَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ

پھر وہ ہمیں مسلسل حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ فرمایا مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے اللہ نے اسے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن کھولا تھا وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔

ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى

Hadith 18271

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18272

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ لِآخَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ قَالَ لَا تَقُلْ هَذَا فَإِنَّهُ لَوْ سَمِعَهَا كَانَ لَهُ أَرْبَعُ أَعْيُنٍ قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَفِرُّوا مِنْ الزَّحْفِ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تُدْلُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ فَقَالَا نَشْهَدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ! اس نبی کے پاس چل کر اس آیت کے متعلق ان سے پوچھتے ہیں کہ " ہم نے موسیٰ کو نوواضح نشانیاں دی تھیں " اس نے کہا کہ انہیں نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے یہ بات سن لی ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی ، بہرحال ! انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ چوری مت کرو، زنا مت کرو، کسی ایسے شخص کو ناحق قتل مت کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، جادو مت کرو، سود مت کھاؤ کسی نے بے گناہ کو کسی طاقتور کے پاس مت لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کردے کسی پاکدامن پر بدکاری کی تہمت نہ لگاؤ (یایہ فرمایا کہ میدان جنگ سے راہ فراراختیار نہ کرو) اور اے یہودیو! تمہیں خصوصیت کےساتھ حکم ہے کہ ہفتہ کے دن کے معاملے میں حد سے تجاوز نہ کر و. یہ سن کر وہ دونوں کہنے لگے کہ ہم آپ کے نبی ہونے کی گواہی دیتے ہیں ۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 18272

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18273

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْغَرِيفِ قَالَ عَفَّانُ أَبُو الْغَرِيفِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ کرتے ہوئے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں روانہ ہوجاؤ اللہ کے دشمنوں سے قتال کرو، خیانت کرو نہ دھوکہ دو نہ اعضاء کاٹو اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کرو۔

بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةٍ ← صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَفَّانُ أَبُو الْغَرِيفِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَلِيفَةَ ← أَبُو الْغَرِيفِ، ← أَبُو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Hadith 18273

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18274

لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثٌ مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اور مسافر کے لئے اجازت ہے کہ وہ تین دن رات تک اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے اور مقیم کے لئے ایک دن رات کی اجازت ہے۔

عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثٌ مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ

Hadith 18274

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18275

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا طَلَبَ

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے فرشتے طالب علم کے لئے " طلب علم پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے " اپنے پر بچھا دیتے

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← يُونُسَ

Hadith 18275

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18276

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ أَبِي رَوْقٍ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ کرتے ہوئے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں روانہ ہوجاؤ اللہ کے دشمنوں سے قتال کرو، خیانت کرو نہ دھوکہ دو نہ اعضاء کاٹو اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کرو۔

بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةٍ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ← صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَبِي رَوْقٍ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← سُرَيْجٌ

Hadith 18276

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18277

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

زربن حبیش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی پاس حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا حصول عمل کے سلسلے میں حاضر ہوا ہوں انہوں فرمایا اللہ کے فرشتے طالب علم کے لئے " طلب علم پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے " اپنے پر بچھا دیتے ہیں.

الْحَدِيثَ. ← لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ ← مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، ← أتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Hadith 18277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18278

فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے.

لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»

Hadith 18278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18279

قَالَ فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا

پھر وہ ہمیں مسلسل حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ فرمایا مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے اللہ نے اسے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن کھولا تھا وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے، یہی مطلب ہے اس ارشادباری تعالیٰ یوم تاتی بعض آیات ربک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الآیہ

فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى

Hadith 18279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18280

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتْ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ قُلْتُ نَعَمْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ قَالَ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حالت احرام میں حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے مشرکین نے ہمیں گھیر رکھا تھا (حرم میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے) میرے سر کے بال بہت بڑے تھے اس دوران میرے سر سے جوئیں نکل نکل کر چہرے پر گرنے لگیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے تو فرمایا کیا تمہیں جوئیں تنگ کر رہی ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سرمنڈ والو، اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دہ چیز ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی دے کر اس کا فدیہ ادا کرے۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ

Hadith 18280

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18281

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ قَمِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ قَالَ احْلِقْ وَنَزَلَتْ الْآيَةُ قَالَ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے سر میں اتنی جوئیں ہوگئیں کہ میرا خیال تھا میرے سرکے ہربال میں جڑ سے لے کر شاخوں تک جوئیں بھری پڑی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیفیت دیکھ کر مجھے حکم دیا کہ بال منڈوالو، اور مذکورہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجوریں کھلادو۔

قَمِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ

Hadith 18281

chevron_left Previous
1234…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter