Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18450

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُسَيَّرِ الطَّائِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحِلٌّ الطَّائِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ مَنْ أَمَّنَا فَلْيُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَإِنَّ فِينَا الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ وَذَا الْحَاجَةِ هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص ہماری امامت کرے وہ رکوع سجدے مکمل کرم کیونکہ ہم میں کمزور بوڑھے بیمار، راہ گیر اورضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں اور ہم اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نماز پڑھتے تھے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُحِلٌّ الطَّائِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُسَيَّرِ الطَّائِيِّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18450

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18451

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِىَّ بْنَ حَاتِمٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ يَعْنِي الذِّكْرَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً قُلْتُ أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أُذَكِّيهِ بِهِ فَأَذْبَحَهُ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت') تھا جو اس نے پالیا میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتا ہوں جسے میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو میں نے عرض کیا کہ اگر میں اپنا کتا شکار پر چھوڑوں ، وہ شکار کو پکڑ لے لیکن میرے پاس اسے ذبح کرنے کے کوئی چیز نہ ہو تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر اور لاٹھی کی دھار سے ذبح کرسکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو، اور اس پر اللہ کا نام لے لو.

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18451

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18452

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ الطَّائِيَّ وَقَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ قَالَ سِمَاكٌ يَعْنِي الذِّكْرَ

حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت') تھا جو اس نے پالیا میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتا ہوں جسے میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو میں نے عرض کیا کہ اگر میں اپنا کتا شکار پر چھوڑوں ، وہ شکار کو پکڑ لے لیکن میرے پاس اسے ذبح کرنے کے کوئی چیز نہ ہو تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر اور لاٹھی کی دھار سے ذبح کرسکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو، اور اس پر اللہ کا نام لے لو.

سِمَاكٌ يَعْنِي الذِّكْرَ ← مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ الطَّائِيَّ وَقَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ ← شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18452

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18453

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ مِنْ مَوْضِعِ الصَّيْدِ وَقَالَ أَمْرِرْ الدَّمَ

حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت') تھا جو اس نے پالیا میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتا ہوں جسے میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو میں نے عرض کیا کہ اگر میں اپنا کتا شکار پر چھوڑوں ، وہ شکار کو پکڑ لے لیکن میرے پاس اسے ذبح کرنے کے کوئی چیز نہ ہو تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر اور لاٹھی کی دھار سے ذبح کرسکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو، اور اس پر اللہ کا نام لے لو.

سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ مِنْ مَوْضِعِ الصَّيْدِ وَقَالَ أَمْرِرْ الدَّمَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18453

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18454

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ فَقَالَ تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلَيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان سے سو درہم مانگے انہوں نے فرمایا کہ تو مجھ سے صرف سو درہم مانگ رہا ہے جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹا ہوں ، واللہ میں تجھے کچھ نہیں دوں گا پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بات پر قسم کھائے پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرے تو وہی کام کرے جس میں بہتری ہو ( اور قسم کا کفارہ دے دے)

رَسُولِ اللَّهِ ← لَوْلَا أَنِّي ← ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيکَ ثُمَّ ← تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ ← عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18454

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18455

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابَنَا مُعَلَّمَاتٍ قَالَ كُلْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كِلَابٌ غَيْرُهَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّا نَرْمِي بِمِعْرَاضٍ قَالَ إِنْ خَزَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھالیا کرو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے مار دے ؟ نبی کریم نے فرمایا ہاں ! بشرطیکہ دوسرے کتے اس کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں میں نے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے مارا ہو تو اسے کھاسکتے ہولیکن جسے تیر کی چوڑائی سے مارا ہو اسے مت کھاؤ۔

سَأَلْتُ النَّبِيَّ قُلْتُ: ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18455

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18456

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّيْدِ أَصِيدُهُ قَالَ أَنْهِرُوا الدَّمَ بِمَا شِئْتُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم جب شکار کرتے ہیں تو بعض اوقات چھری نہیں ملتی تو کیا کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر جس چیز سے بھی چاہوخون بہادو۔ اور اسے کھا لو

أَنْهِرُوا الدَّمَ بِمَا شِئْتُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ← الصَّيْدِ أَصِيدُهُ ← سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18456

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18457

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ يَعْنِي كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لَا أَسْأَلُ عَنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَعَمْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بُعِثَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھا جب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبر ملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی میں اپنے علاقے سے نکل کر روم کے ایک کنارے پہنچا اور قیصر کے پاس چلا گیا لیکن وہاں پہنچ کر مجھے اس سے زیادہ شدید ناگواری ہوئی جو بعثت نبوت کی اطلاع ملنے پر ہوئی تھی ، میں نے سوچا کہ میں اس شخص کے پاس جاکر تو دیکھوں اگر وہ جھوٹا ہو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اگر سچا ہوا تو مجھے معلوم ہوجائے گا۔چنانچہ میں واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں پہنچا تو لوگوں نے " عدی بن حاتم ، عدی بن حاتم " کہنا شروع کر دیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا اے عدی! اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا میں نے عرض کیا کہ میں تو پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے زیادہ تمہارے دین کو جانتا ہوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زیادہ میرے دین کو جانتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھا جاتے ہیں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آگے جو بات فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کون سی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکار کمزور اور بے مایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکار دیا ہے یہ بتاؤ کہ تم شہر حیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ دیکھا تو نہیں ہے البتہ سناضرور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر آئے گی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے میں نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمز کے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کسریٰ بن ہرمز کے اور عنقریب اتنا مال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعی اب ایک عورت حیرہ سے نکلتی ہے اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر جاتی ہے اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو فتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تیسری بات بھی وقوع پذیر ہو کر رہے گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔

الْحَدِيثَ. ← نَعَمْ بُعِثَ النَّبِيُّ حِينَ بُعِثَ ← حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لَا أَسْأَلُ عَنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ ← يَعْنِي كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ ← رَجُلٌ: ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18457

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18458

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ أُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَلَوْ أَتَيْتُهُ وَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي كُنْتُ أُحَدَّثُ عَنْكَ حَدِيثًا فَأَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْكَ قَالَ لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى الرُّومِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھا جب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبر ملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی میں اپنے علاقے سے نکل کر روم کے ایک کنارے پہنچا اور قیصر کے پاس چلا گیا لیکن وہاں پہنچ کر مجھے اس سے زیادہ شدید ناگواری ہوئی جو بعثت نبوت کی اطلاع ملنے پر ہوئی تھی ، میں نے سوچا کہ میں اس شخص کے پاس جاکر تو دیکھوں اگر وہ جھوٹا ہو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اگر سچا ہوا تو مجھے معلوم ہوجائے گا۔چنانچہ میں واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں پہنچا تو لوگوں نے " عدی بن حاتم ، عدی بن حاتم " کہنا شروع کر دیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا اے عدی! اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا میں نے عرض کیا کہ میں تو پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے زیادہ تمہارے دین کو جانتا ہوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زیادہ میرے دین کو جانتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھا جاتے ہیں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آگے جو بات فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کون سی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکار کمزور اور بے مایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکار دیا ہے یہ بتاؤ کہ تم شہر حیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ دیکھا تو نہیں ہے البتہ سناضرور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر آئے گی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے میں نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمز کے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کسریٰ بن ہرمز کے اور عنقریب اتنا مال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعی اب ایک عورت حیرہ سے نکلتی ہے اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر جاتی ہے اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو فتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تیسری بات بھی وقوع پذیر ہو کر رہے گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔

الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي كُنْتُ أُحَدَّثُ عَنْكَ حَدِيثًا فَأَرَدْتُ ← فَقُلْتُ هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَلَوْ أَتَيْتُهُ وَكُنْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← كُنْتُ أُحَدِّثُ حَدِيثًا ← ابْنِ حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18459

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ بَيَانٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ وَإِنْ قَتَلَتْ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے، (اس حوالے سے مجھے کچھ بتائیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو، اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھالیا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اسے اپنے لئے پکڑا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے کس نے شکار کیا ہے۔

قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْکِلَابِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← بَيَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18459

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18460

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ قَالَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفرت سے اس طرح منہ پھیرلیا گویا جہنم کو دیکھ رہے ہوں ، دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر فرمایا جہنم کی آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے عوض ہی ہو اگر وہ بھی نہ مل سکے تواچھی بات ہی کرلو۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← ابْنِ مَعْقِلٍ، ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18460

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18461

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے عوض ہی ہو۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18461

chevron_left Previous
1…161718…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter