Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19962

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْأَشْيَبَ قَالَ ثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ الْأَعْرَجُ قَالَ عَبْد اللَّهِ يَعْنِي أَظُنُّهُ الشَّنِّيَّ قَالَ ثَنَا حَمْزَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْفَرٍ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ بَعْضَ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ بَارِزًا أَطْلُبُهُ وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ قَالَ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ الْحَاجَةُ قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ فَقَامَ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى أَوْ حَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَخَيَّرَنِي أَنْ يَدْخُلَ شَطْرُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ شَفَاعَتِي لَهُمْ فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي لَهُمْ وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ لَهُمْ فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ قَالَ فَدَعَا لَهُمَا ثُمَّ إِنَّهُمَا نَبَّهَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ وَيَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ فَيَدْعُوَ لَهُمْ قَالَ فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَكَثُرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے کسی سفر پر روانہ ہوئے رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا ایک مرتبہ میں رات کو اٹھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا مجھے طرح طرح کے خدشات اور وساوس پیش آنے لگے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی ان کی بھی وہی کیفیت تھی جو میری تھی اسی دوران سامنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جنگ کے علاقے میں ہیں ہمیں آپ کی جان کا خطرہ ہے جب آپ کو کوئی ضرورت تھی تو آپ اپنے ساتھ کسی کو کیوں نہیں لے کر گئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے یا جیسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہو جائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعاء کر دی بعد میں ان دونوں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کے متعلق بتایا تو وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ہمیں بھی آپ کی شفاعت میں شامل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعاء فرما دیتے جب یہ سلسلہ زیادہ ہی بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔

يَزِيدَ الأَعْرَجِ ← سكين بن عبد العزيز ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْأَشْيَبَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19962

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19963

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّالَحِينِيَّ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن أَبِي سِنَانٍ قَالَ دَفَنْتُ ابْنًا لِي وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ إِذْ أَخَذَ بِيَدَيَّ أَبُو طَلْحَةَ فَأَخْرَجَنِي فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا مَلَكَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ قَالَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ

ابوسنان کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو دفن کرنے کے بعد ابھی قبر میں ہی تھا کہ ابوطلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور کہا کہ میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرماتا ہے اے ملک الموت ! کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ کیا تم اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگر کے ٹکڑے کو لے آئے ؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں ! اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی اور اناللہ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں اس شخص کے لئے گھر بنا دو اور " بیت الحمد" اس کا نام رکھو۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُلْتُ بَلَى ← أَلَا أُبَشِّرُكَ ← دَفَنْتُ ابْنًا لِي وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ إِذْ أَخَذَ بِيَدَيَّ أَبُو طَلْحَةَ فَأَخْرَجَنِي ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّالَحِينِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19963

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19964

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ وَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ

ابوسنان کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو دفن کرنے کے بعد ابھی قبر میں ہی تھا کہ ابوطلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور کہا کہ میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرماتا ہے اے ملک الموت ! کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ کیا تم اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگر کے ٹکڑے کو لے آئے ؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں ! اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی تعریف بیان کی اور اناللہ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں اس شخص کے لئے گھر بنا دو اور " بیت الحمد" اس کا نام رکھو۔

أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ وَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19964

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19965

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ ثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَن مُطَرِّفٍ عَن عَامِرٍ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَةً ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا لَهُ أَجْرَانِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19965

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19966

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19966

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19967

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ ثَنَا أَبِي قَالَ ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَن صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ قَالٍَ أَبُو مُوسَى إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ اللَّهُ مِنْهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے ، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔

صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19968

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ ثَنَا أَبِي قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ عَن هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنْ السَّاعِي فَاكْسِرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمْ الْحِجَارَةَ فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ بَيْتَهُ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے آگے تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے آرہے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا ، اس زمانے میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے ، کھڑا ہوا چلنے والے سے ، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۔ تم اپنی کمانیں توڑ دینا تانتیں کاٹ دینا اپنے گھروں کے ساتھ چمٹ جانا اور اگر کوئی تمہارے گھر میں آئے تو حضرت آدم علیہ السلام کے بہترین بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جانا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19968

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19969

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ ثَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ الْإِيَادِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ عَن أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَن أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جِنَانُ الْفِرْدَوْسِ أَرْبَعٌ ثِنْتَانِ مِنْ ذَهَبٍ حِلْيَتُهُمَا وَآنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَثِنْتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَحِلْيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا وَلَيْسَ بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَشْخَبُ مِنْ جَنَّةِ عَدْنٍ ثُمَّ تَصْدَعُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْهَارًا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت الفردوس کے چار درجے ہیں ان میں سے دو جنتیں (باغ) چاندی کی ہوں گی ان کے برتن اور ہر چیز چاندی کی ہوگی دو جنتیں سونے کی ہوں گی اور ان کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہوگی اور جنت عدن میں اپنے پروردگار کی زیارت میں لوگوں کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہی حائل ہوگی جو اس کے رخ تاباں پر ہے اور یہ نہریں جنت عدن سے پھوٹتی ہیں اور نہروں کی شکل میں جاری ہو جاتی ہیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ← أبو قدامة الحارث بن عبيد الإيادي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19969

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19970

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَارِسٍ صَاحِبُ الْجَوْرِ قَالَ ثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى عَن أَبِي مُوسَى أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

أَبِي مُوسَى أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی ← أَبُو دَارِسٍ صَاحِبُ الْجَوْرِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19970

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19971

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ ثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى عَن أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ انْتَصَفَ النَّهَارُ أَوْ لَمْ يَنْتَصِفْ وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنْ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ وَأَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ وَأَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے حوالے سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب طلوع فجر ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب زوال شمس ہوگیا اور کوئی کہتا تھا کہ آدھا دن ہوگیا کوئی کہتا تھا نہیں ہوا لیکن وہ زیادہ جانتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج روشن تھا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج غروب ہوگیا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غروب ہوگئی پھر اگلے دن فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ کہنے لگے کہ سورج طلوع ہونے ہی والا ہے ظہر کو اتنا مؤخر کیا کہ وہ گذشتہ دن کی عصر کے قریب ہو گئی عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگ کہنے لگے کہ سورج سرخ ہوگیا ہے مغرب کو سقوط شفق تک مؤخر کر دیا اور عشاء کو رات کی پہلی تہائی تک مؤخر کر دیا پھر سائل کو بلا کر فرمایا کہ نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔

أَبِيهِ ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← بدر بن عثمان مولى لآل عثمان ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19971

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19972

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ ثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَن أَبِيهِ عَن مَكْحُولٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَائِشَةَ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَقَالَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَقَالَ أَبُو مُوسَى كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ وَصَدَّقَهُ حُذَيْفَةُ فَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ قَوْلَهُ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ وَأَبُو عَائِشَةَ حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ

ابو عائشہ رحمتہ اللہ علیہ " جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعید بن عاص نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی میں کتنی تکبیرات کہتے تھے ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس طرح جنازے پر چار تکبیرات کہتے تھے عیدین میں بھی چار تکبیرات کہتے تھے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کی ابوعائشہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں اب تک ان کی ہی بات نہیں بھولا کہ " نماز جنازہ کی تکبیرات کی طرح " یاد رہے کہ ابو عائشہ رحمتہ اللہ علیہ اس وقت سعید بن عاص کے پاس موجود تھے ۔

أَبُو عَائِشَةَ حَاضِرٌ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ← أَبُو عَائِشَةَ فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ قَوْلَهُ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ ← أَبُو مُوسَى كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ وَصَدَّقَهُ حُذَيْفَةُ ← كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكَبِّرُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ← حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ← كَانَ جَلِيسًا لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ ← أَبُو عَائِشَةَ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19972

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19973

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً وَإِنِّي أَخْبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مجھے ہر سرخ وسیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ، میرے لئے ساری زمین کو باعث طہارت قرار دے دیا گیا اور مسجد بنا دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، ایک مہینے کی مسافت رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے خود سے شفاعت کا سوال نہ کیا ہو میں نے اپنا حق شفاعت محفوظ کر رکھا ہے اور ہر اس امتی کے لئے رکھ چھوڑا ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19973

chevron_left Previous
1…142143144145146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter