Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18378

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کربھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18378

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18379

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ رَفَعَهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَزَ ظَهْرِي أَوْ كَتِفِي بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَتَبِعْتُهُ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ وَمَعِي سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَرَفَعَ الْجُبَّةَ عَلَى عَاتِقِهِ وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ قَالَ وَذَكَرَ النَّاصِيَةَ بِشَيْءٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا فَأَدْرَكْنَا الْقَوْمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دورچلے گئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا ۔

وَتَبِعْتُهُ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ ← كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فَغَمَزَ ظَهْرِي أَوْ كَتِفِي بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ ← ابْنِ سِيرِينَ رَفَعَهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18379

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18380

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ فَأَدْرَكَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا ۔

((أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← حديث عباد بن زياد أن عروة بن المغيرة بن شعبة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18380

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18381

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ وَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا ۔

الْمُغِيرَةُ وَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ النَّبِيُّ دَعْهُ ← حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18381

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18382

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔

کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18382

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18383

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاهُ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کیا اور موزے کے نچلے اور اوپر والے حصے پر مسح فرمایا۔

الْمُغِيرَةِ، ← كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← ثَوْرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18383

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18384

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ فَقَالَ أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دئیے ہیں پھر اتنی محنت ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18384

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18385

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدَةَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعَا وَرَّادًا كَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ ← إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ← إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ ← عَبْدَةَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعَا وَرَّادًا ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18385

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18386

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّتَيْنِ أَوْ اكْتَوَى

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔

أَبِيهِ ← الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18386

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18387

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ قَالَ فَقَالُوا أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " نجران " کی طرف بھیجا وہاں کے عیسائی مجھ سے کہنے لگے کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو" اے ہارون کی بہن " (حضرت مریم علیہا السلام کو لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش پر اس طرح مخاطب کیا تھا ) حالانکہ حضرت موسیٰ (جن کے بڑے بھائی حضرت ہارون تھے ) تو حضرت عیسیٰ سے اتنا عرصہ پہلے گذر چکے تھے ( تو حضرت مریم علیہا ان کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں؟) جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے انہیں یہ جواب کیوں نہ دیا کہ پہلے کے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے ۔

أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ← فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى نَجْرَانَ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← أبي يذكره ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18387

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18388

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ شَهِدْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَرَجَ يَوْمًا فَرَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ هَذَا النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ وَكَانَ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَنِيحَ عَلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

علی بن ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے اور منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا اسلام میں یہ کیسا نوحہ ؟ دراصل ایک انصاری فوت ہوگیا تھا جس پر نوحہ ہو رہا تھا " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا عام آدمی جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے یاد رکھو! جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلینا چاہئے ۔

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18388

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18389

سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔

إِنَّهُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ← رَسُولِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18389

chevron_left Previous
1…101112…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter