Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18366

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَسُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَادَهُ عِنْدِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ مِنْ السَّحَرِ ضَرَبَ عَقِبَ رَاحِلَتِي فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً فَعَدَلْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى بَرَزْنَا عَنْ النَّاسِ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ قُلْتُ مَا لِي حَاجَةٌ فَقَالَ هَلْ مَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ نَعَمْ فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ أَوْ قَالَ سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا قَالَ وَأَشُكُّ أَقَالَ دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ أَمْ لَا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدِهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمِّ فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ قَالَ فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثُمَّ رَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا

عمرو بن وہب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی، اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔

عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18366

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18367

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔

إِلَى مُعَاوِيَةَ ← وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18368

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ أَبِي شَبِيبٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔

مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ, فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ. ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← ابْنُ جَعْفَرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18368

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18369

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہم سے فرمایا نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔

كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← شَرِيکٍ ← إسحاق بن يوسف الأزرق

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18369

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18370

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ فَقَالَ يَا سُفْيَانُ بْنَ أَبِي سَهْلٍ لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ آخِذًا بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَرِيکٍ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18370

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18371

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

الْمُغِيرَةِ، ← حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18371

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18372

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

الْمُغِيرَةِ، ← قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18372

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18373

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

الْمُغِيرَةِ، ← حُصَيْنٍ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18373

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18374

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ لِي يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ قَالَ فَأَخَذْتُهَا قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ قَالَ فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْهَا فَضَاقَتْ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ مَسَحَ خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مغیرہ پانی کا برتن پکڑ لو میں اسے پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیرگذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور پانی منگوایا۔ اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوشامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔

فَأَخَذْتُهَا ← لِي يَا مُغِيرَةُ خُذْ الْإِدَاوَةَ ← کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18374

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18375

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ سَوْقَةَ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ قَالَ فَأَمْلَى عَلَيَّ وَكَتَبْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ فَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهُنَّ فَقِيلَ وَقَالَ وَإِلْحَافُ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةُ الْمَالِ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اس میں آپ کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی راوی نہ ہو؟ انہوں نے جواباً لکھوا بھیجا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل و قال کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال دراز کرنا حرام قرار دیا ہے۔

وَإِلْحَافُ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةُ الْمَالِ ← ثَلَاثٍ فَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهُنَّ فَقِيلَ ← إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا وَنَهَی ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَأَمْلَى عَلَيَّ وَكَتَبْتُ ← من رسول الله ليس بينك وبينه أحد ← مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ‏:‏ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ← وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← ابْنِ سُوقَةَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18375

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18376

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کربھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ إِنِّي ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ ← وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← غَيْرُ وَاحِدٍ، مِنْهُمْ مُغِيرَةُ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18376

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18377

وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ ← وَكَانَ يَنْهَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18377

chevron_left Previous
1…91011…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter