Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19278

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑ جاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں ۔

عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19279

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسًا يَقُولُ سَمِعْتُ الصُّنَابِحِيَّ الْأَحْمَسِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے یاد رکھو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا اور تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا لہٰذا میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔

أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي ← رَسُولِ اللَّهِ ← الصُّنَابِحِيِّ الأَحْمَسِيِّ ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19280

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الصُّنَابِحِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا وَيُقَارِنُهَا حِينَ تَسْتَوِي فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَصَلُّوا غَيْرَ هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٌ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19280

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19281

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِحَدِيثِ الشَّمْسِ

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو ۔

أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِحَدِيثِ الشَّمْسِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19281

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19282

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَلَمَّا فَصَلَ سَرَى لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي نِصْفِ اللَّيْلِ فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ وَرِجْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ حَسِّ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ سَلْ فَقَالَ فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطُّوَالُ الْقِطَاطُ أَوْ قَالَ الْقِصَارُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ قَالَ فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُ أَحَدُ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَادْعُوا هَلْ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنْ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ وَأَسْلَمَ وَغِفَارٍ

حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ جو بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے " کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہواجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے تو رات کے وقت سفر شروع کیا میں چلتے چلتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا مجھے باربار اونگھ آرہی تھی میں جاگنے کی کوشش کرنے لگا کیونکہ میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی اور مجھے اس سے اندیشہ ہورہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں جو رکاب میں ہے کہیں میری سواری کے قریب ہونے سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے اس لئے میں اپنی سواری کو پیچھے رکھنے لگا اسی کشمکش میں آدھی رات کو مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سوگیا۔ اچانک میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر چڑھ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پاؤں رکاب میں تھا اسے چوٹ لگ گئی لیکن میں اسی وقت بیدار ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے احساس دلایا میں نے سر اٹھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے بخشش کی دعاء فرمادیجئے (مجھ سے یہ حرکت جان بوجھ کر نہیں ہوئی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء خود مانگو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان لوگوں کے متعلق پوچھنے لگے جو بنوغفار میں سے تھے اور اس غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ سرخ رنگ کے ان دراز قد لوگوں کا کیا بنا جن کی بھنوئیں باریک ہیں ؟ میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کے متعلق بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان سیاہ فام لوگوں کا کیا بنا جو گھنگریالے بالوں والے ہیں جن کے پاس " شظیہ شرخ " میں جانور بھی ہیں ؟ میں نے بنوغفار میں ان صفات کے لوگوں کو یاد کیا تو مجھے کوئی گروہ یاد نہیں آیا بالآخر مجھے قبیلہ اسلم کا ایک گروہ یاد آگیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پتہ نہیں ان لوگوں کو جو پیچھے رہ جاتے ہیں کون سی چیز اس بات سے روکتی ہے کہ وہ کسی چست آدمی کوہی اللہ کے راستہ میں اپنے کسی اونٹ پر سوار کردیں ؟ کیونکہ میرے اہل خانہ کے نزدیک یہ بات انتہائی اہم ہے کہ وہ مہاجرین قریش ، انصار، اسلم اور غفار سے پیچھے رہیں

أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ ← ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19282

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19283

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَقَالَ مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ قَالَ فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا

حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ جو بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے " کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہواجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکلے تو رات کے وقت سفر شروع کیا میں چلتے چلتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا مجھے باربار اونگھ آرہی تھی میں جاگنے کی کوشش کرنے لگا کیونکہ میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی اور مجھے اس سے اندیشہ ہورہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں جو رکاب میں ہے کہیں میری سواری کے قریب ہونے سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے اس لئے میں اپنی سواری کو پیچھے رکھنے لگا اسی کشمکش میں آدھی رات کو مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سوگیا۔ اچانک میری سواری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر چڑھ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پاؤں رکاب میں تھا اسے چوٹ لگ گئی لیکن میں اسی وقت بیدار ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے احساس دلایا میں نے سر اٹھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے بخشش کی دعاء فرمادیجئے (مجھ سے یہ حرکت جان بوجھ کر نہیں ہوئی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعاء خود مانگو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان لوگوں کے متعلق پوچھنے لگے جو بنوغفار میں سے تھے اور اس غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتا رہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ سرخ رنگ کے ان دراز قد لوگوں کا کیا بنا جن کی بھنوئیں باریک ہیں ؟ میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کے متعلق بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان سیاہ فام لوگوں کا کیا بنا جو گھنگریالے بالوں والے ہیں جن کے پاس " شظیہ شرخ " میں جانور بھی ہیں ؟ میں نے بنوغفار میں ان صفات کے لوگوں کو یاد کیا تو مجھے کوئی گروہ یاد نہیں آیا بالآخر مجھے قبیلہ اسلم کا ایک گروہ یاد آگیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پتہ نہیں ان لوگوں کو جو پیچھے رہ جاتے ہیں کون سی چیز اس بات سے روکتی ہے کہ وہ کسی چست آدمی کوہی اللہ کے راستہ میں اپنے کسی اونٹ پر سوار کردیں ؟ کیونکہ میرے اہل خانہ کے نزدیک یہ بات انتہائی اہم ہے کہ وہ مہاجرین قریش ، انصار، اسلم اور غفار سے پیچھے رہیں

ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19283

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19284

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ ابْنُ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ يَقُولُ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَطَفِقْتُ أُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي عَنْهُ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَقَالَ مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا حَتَّى قَالَ بَلَى الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ قَالَ فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حِلْفًا فِينَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَنَا

حضرت ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ جو بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے " کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں اپنی سواری کو پیچھے رکھنے لگا اسی کشمکش میں آدھی رات کو مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان سیاہ فام لوگوں کا کیا بنا جو گھنگریالے بالوں والے ہیں جن کے پاس " شظیہ شرخ " میں جانور بھی ہیں ؟ میں نے بنوغفار میں ان صفات کے لوگوں کو یاد کیا تو مجھے کوئی گروہ یاد نہیں آیا بالآخر مجھے قبیلہ اسلم کا ایک گروہ یاد آگیا، اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ قبیلہ اسلم کا ایک گروہ ہے جو ہماراحلیف تھا۔

ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19284

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19285

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ثَوْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ النَّفْرِ وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ قَالُوا قَالَ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ

حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے عظیم ترین دن دس ذی الحجہ پھر آٹھ ذی الحجہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قربانی کے لئے پانچ چھ اونٹوں کو پیش کیا گیا جن میں سے ہر ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اسے ذبح کریں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ذبح کرچکے تو آہستہ سے ایک جملہ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا تو اس نے وہ جملہ بتایا کہ جو چاہے کاٹ لے۔ "

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ1 ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ثَوْرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19285

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19286

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ زُرْعَةَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ

حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ عرض کیا شیطان بن قرط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام عبداللہ بن قرط ہے۔

لَهُ النَّبِيُّ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ ← جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ، ← بَكْرِ بْنِ زُرْعَةَ الْخَوْلَانِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19286

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19287

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے جبرائیل نے بتائی ہے۔

مَا لِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19288

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى الْهِلَالِيِّينَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت جب وہ واپس جانے کےلئے مڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے جبرائیل نے بتائی ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى الْهِلَالِيِّينَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19289

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ

حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں ۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ ← عبد الرحمن بن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19289

chevron_left Previous
1…858687…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter